Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 08

“کچھ سال بعد۔۔۔۔پیرس۔۔۔”
۔
۔
زمین سے بہت اونچائی پر انیسویں فلور پر ایک اپارٹمنٹ ایسا بھی تھا جہاں کچھ منٹ پہلے جتنی خاموشی سے اس بچے کے جاگ جانے کے بعد اتنا ہی شور۔۔۔
۔
“بابا اٹھ جائیں اب۔۔۔”
شایان کمرے میں داخل ہوتے ہی بیڈ پر جمپ مارتے ہوئے آیا
“ابھی نہیں بیٹا۔۔ آج چھٹی ہے سو جاؤ۔۔۔”
شایان کو اپنے ساتھ کمفرٹ میں کھینچ لیا تھا بہروز نے۔۔
“نووو۔۔۔ جلدی سے اٹھ جائیں آج چاچو بھی آرہے ہیں پلیزز۔۔ “
بہروز کی آنکھیں کھلی تھی شایان کے چہرے کو دیکھ کر اس نے اپنے سینے سے لگا لیا تھا
“میرے بچے۔۔ “
شایان کا اداس چہرہ دیکھ کر بہروزبھی پریشان ہوا تھا
وہ جانتا تھا شایان کو یہ لائف سٹائل دینے کے بعد بھی اس کا بیٹا اکیلا تھا۔۔
بالکل اسکی طرح۔۔۔
ایک دھوکا۔۔۔ جو اس نے اپنوں کو دیا تھا۔۔ اب اسے بھی دہ دیا کسی نے۔۔۔
اسکی گرفت جیسے ہی شایان کے چھوٹے سے وجود میں شایان کی چیخ نے اسے اس ماضی سے باہر نکال دیا تھا
“آہ۔۔۔ بابا مجھے سانس نہیں آرہا۔۔۔”
“ہاہاہا اچھا۔۔؟؟ اب آرہا۔۔؟؟”
بہروز نے اسے گدگدی کرنا شروع کردی تھی۔۔دونوں باپ بیٹے کی ہنسنے کی آوازیں پورے کمرے میں گونج رہی تھی
“تو کیا کھائیں گے آج آپ بریک فاسٹ میں شہزادہ شایان۔۔؟؟”
“ہاہاہاہا جو آپ کھلا دیں بابا۔۔۔ آہ۔۔۔ اہاہاہاہا۔۔۔۔”
شایان کو کندھے پر اٹھائے بہروز روم سے باہر لے گیا تھا وہ جیسے ہی ہال میں داخل ہوا سب گنتی کے جتنی ملازم تھے سب ایکٹو ہوگئے تھے
“سر کیا لیں گے آپ۔۔؟؟ چھوٹے صاحب کے لیے بریک فاسٹ تیار کردیا گیا ہے۔۔”
“نہیں ریہا آج ہم دونوں ناشتہ بنائیں گے کیوں شیف شایان۔۔؟؟”
“یس شیف بہرو۔۔۔بابا۔۔۔”
“ہاہاہاہا کم آن۔۔۔”
کچن کاؤنٹر پر بٹھائے بہروز نے اپروون سے خود کو کور کرلیا تھا
باہر ملازم جو کچن کے دروازے پر کھڑے ان دونوں باپ بیٹے کو دیکھ رہے تھے وہ ایک دم سے چھپ گئے تھے
۔
“بابا چاچو کب آرہے۔۔۔؟؟”
“تم نے بلایا اور ہم چلے آئے۔۔۔”
ایک جانی پہچانی آواز نے ان دونوں کی توجہ حاصل کرلی تھی
“زرقان چاچو۔۔۔ واوووو آپ آگئے۔۔۔”
وہ جمپ کرتے ہوئے دروازے پر کھڑے بہروز کے کزن کی طرف بھاگا تھا جو سب سے چھوٹے چچا وجدان کا بیٹا تھا۔۔۔
“میں نے وعدہ کیا تو آنا تو تھا۔۔۔۔ کم آن گیو مئ آ ہگ۔۔۔”
وہ گھٹنوں کے بل جیسے ہی بھاگا شایان بھاگتے ہوئے اسکے گلے لگا تھا ۔۔۔اور زرقان نے اسے گود میں اٹھا لیا تھا
“آج ہم لیکر آئے ہیں اپنے چیمپ کے لیے پی ایس فور۔۔ ڈھیر ساری چاکلیٹس اور خوب سارے گفٹس۔۔۔”
“واووو۔۔ کہاں ہے۔۔۔سب۔۔۔؟؟”
زرقان نے جیسے ہی اشارہ کیا ےتو وہ بھاگ گیا تھا وہاں سے اور اسی وقت بہروز نے کچن سے باہر آکر اسے گلے سے لگایا۔۔۔
بہروز نے کچھ دیر تو اسے گلے سے لگا کر رکھا تھا۔۔۔وہ جیسے محسوس کرنا چاہتا تھا اپنے سارے خاندان کی مہک اس میں۔۔
“اور کیسے ہو زرقان۔۔؟؟ بڑے ہوگئے ہو۔۔؟؟ باڈی بھی بنا لی ہے۔۔؟؟ کوئی شادی کا سین بنا۔۔؟؟”
“ہاہاہاہا۔۔۔بس دعائیں آپ کی۔۔۔ آ پ کیسے ہیں۔۔؟؟ آپ کے اسسٹنٹ کو فون کیا تو پتہ چلا آپ بیمار ہوگئے تھے۔۔؟؟ اب ٹھیک ہیں نہ۔۔؟؟”
وہ بات کرتے کرتے لیونگ روم میں چل کر بیٹھ گئے سامنے ہی شایان اپنے گفٹس کو اوپن کرتے ہوئے ان دونوں کو دیکھا رہا تھا۔۔۔
“بابا دیکھیں مجھے سب نے گفٹ بھیجے۔۔ زرقان چاچو۔۔ مس چاندنی کا گفٹ نہیں ہے۔۔؟؟ اس بار انہوں نے نہیں بھیجا۔۔؟؟”
بہروز نے ایک دم سے اپنے بیٹے اور پھر زرقان کو حیرانگی سے دیکھا۔۔
“وہ ہر بار تحفہ بھیجتی تھی۔۔؟؟ میں نہیں مانتا۔۔۔”
اس نے آہستہ آواز میں پوچھا۔۔۔
“خیر جو آپ کرکے آئے ہیں تھے کسی کو بھی نہیں بھیجنا چاہیے تھا۔۔۔ آپ اس کے حقدار نہیں مگر وہ معصوم بچہ ہے جو اپنے ہر خط میں پورے خاندان سے نہ ملنے کا گلہ کرتا رہتا ہے۔۔اتفاق سے ایک خط چاندنی کے بھی گوش گزار ہوا۔۔۔۔”
بہروز نے مٹھی بند کرلی تھی اچانک سے۔۔۔
“آپ نے پوچھا شادی کی۔۔؟؟ خیر سے بچیوں کی شادیاں ہورہی ہیں۔۔ پر گھر کے مردوں کی نہیں لوگوں کو لگتا ہے ہم حاکم خاندان کے مرد عین نکاح والے دن انکار کردیں گے جیسے چاندنی باجی کے ساتھ ہوا۔۔۔”
اب بہروز کی برداشت سے باہر تھا وہ سیٹ سے اٹھ گیا تھا۔۔۔
۔
“میں۔۔۔ میں رات کو ڈنر پر ملتا ہوں ایک ضرروی میٹنگ ہے۔۔۔”
“سنڈۓ ے کو بھی آفس کھلتا آپ کا۔۔؟”
“ہاہااہاہا۔۔۔”
شایان ہنسا تو ان دونوں کو پتہ چلا کہ وہ سب باتیں سن رہا تھا۔۔۔
“ہاں سنڈے کو بھی کھلتا ہے۔۔۔ “
“پر بابا آپ تو سنڈے کو نہیں جاتے۔۔۔”
“آج جا رہا ہوں۔۔۔ اور زرقان جانے کی ہمت بھی مت کرنا یہاں سے۔۔۔ میں آکر بات کرتا ہوں۔۔۔”
“بہروز بھائی میں کچھ دیر میں چلا جاؤں گا تائی امی کی طبیعت ٹھیک نہیں اس لیے یہاں ایک ڈاکٹر سے مشورہ کرنے کے بعد ساتھ لے جاؤں گا۔۔۔”
اپنی والدہ کی بیماری کا سن کر وہ ایک منٹ بھی وہاں ٹک نہ پایا تھا اور چلا گیا تھا اپنے روم میں تیار ہونے کے لیے۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ہیے ہینڈسم۔۔۔ او سوری مسٹر ورک ہولک۔۔۔”
وہ کیبن میں داخل ہوئی تو بنا کسی تکلف کے بہروز کی کرسی کے پاس چلی گئی تھی جس کا دھیان اسکے لیپ ٹاپ کی طرف تھا۔۔۔
کی بورڈ پر ٹائیپنگ کرتے اسکی انگلیوں پر جب اپنی انگلیاں رکھی تو اسکے ہونٹ بہروز کے کان کی لو کو چھو رہے تھے۔۔۔
۔
“وٹ دا ہیل نتاشہ۔۔۔ کتنی بار کہا ہے اپنی لمٹ میں رہا کرو۔۔۔”
“اور میری لمٹ کیا ہیں بہروز۔۔۔؟؟”
بہروز کی شرٹ پر انگلیاں رکھتے ہوئے اس نے ٹائی سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچا۔۔۔
“میں تمہیں آفس میں اس لیے برداشت کرتا ہوں کہ تم ایک پوٹینشل ورکر ہو۔۔ اگر یہ حد دوبارہ پار کی تو باہر نکال دوں گا کمپنی سے۔۔”
“بہروز۔۔۔کیا ہوا تم۔۔۔”
بہروز کا بےرخا رویہ دیکھ کر وہ شاک ہوئی۔۔
“بس جاؤ یہاں سے۔۔۔”
“پر۔۔۔”
“آؤٹ۔۔۔۔”
وہ جیسے ہی باہر گئی اس نے اپنی فائلز کو بھی غصے سے پھینک دیا تھا۔۔۔
“عورت ذات۔۔۔بس یہی کرسکتی ۔۔مردوں کو سیڈیوس کرسکتی۔۔ شادی تک لے جاسکتی اور پھر آگے چل کر وہی جھوٹ دھوکا ول فریب۔۔۔”
۔
اس نے ڈرار سے سگار پیک نکالا تھا۔۔۔ آج کے دن وہ اپنے بیٹے کے ساتھ گزارتا تھا پر آج۔۔ بہت دن کے بعد وہ نام سن رہا تھا۔۔۔
“چاندنی۔۔۔”
۔
اس نام پر جانے وہ کتنی بار خود کو ملامت کرچکا اس لڑکی کا روتا ہوا چہرے ان چار سالوں میں ایک بار بھی نہیں دھندلایا تھا اسکے ذہن سے۔۔۔
۔
پر اب اسے نفرت ہوچکی تھی لڑکی ذات سے محبت سے شادی سے۔۔۔یہ پاکیزہ رشتہ اب ایک داغ بن کررہا گیا تھا اس کی یاداشت میں۔۔۔
رابیعہ کے دھوکے نے اسے وہ بنا دیا تھا جو وہ کبھی بننے کی سوچ بھی نہیں سکتا تھا
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بہروز بھائی مجھے جانا ہوگا تائی امی کو۔۔۔شٹ۔۔۔ ایم سوری۔۔۔”
“کیا ہوا ہے ماں کو۔۔؟؟”
“مجھے بتانے سے منع کیا گیا تھا۔۔۔میں۔۔ آپ کو کچھ نہیں بتا سکتا۔۔”
کھانے کی میز ےسے اٹھ کر جانے کو تھا جب شایان نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
“آپ مجھے تو بتا سکتے ہیں دادو کو کیا ہوا۔۔؟ پلیز۔۔۔”
“بیٹا۔۔ پریشان نہیں ہو۔۔ معمولی سا ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔۔۔ بہروز بھائی آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں چار سال پہلے جس طرح ٹھکرا کرآئے تھے اب بھی ویسے ہی نظریں بند کرلیں۔۔۔ہم سمجھ جائیں گے۔۔
پر۔۔۔”
بہروز نے آنکھیں پھیر لی تھی۔۔۔وہ جانتا تھا اب جو زرقان کہے گا اس سے برداشت نہیں ہوگا۔۔۔
“پر آپ کی ماں آپ کا راستہ تکتی رہتی ہے۔۔۔ اتنی بیمار ہوگئی کہ ہم نے تو امید ہی چھوڑ۔۔۔”
“بس زرقان بس۔۔۔ میں۔۔میں اور شایان بھی ساتھ چل رہے ہیں۔۔ اب کوئی اور بات مت کرنا۔۔۔پلیز۔۔۔”
وہ جلدی سے اٹھ کر روم میں چلا گیاتھا۔۔۔
۔
“واااوووو چاچو ۔۔ بابا ساتھ چل رہے ہیں۔۔۔میں بھی جارہا ہوں پاکستان۔۔۔”
“ہاں۔۔ بس پیکنگ شروع کرو جاکر میں نینی کو بھیجتا ہوں آپ کے روم میں۔۔۔”
۔
زرقان بہروز کے پاکستان آنے کی خبر حویلی دینے کے لیے اپنے والد کو فون ملا چکا تھا
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بہروز میرے بچے۔۔۔”
وہ حویلی داخل ہوتے ہیں سب سے نظر چرائے اندر داخل ہونے لگا تھا جب دادا جی نے اسے للکارتے ہوئے روکا
“بہروز حاکم وہیں اسی جگہ رک جاؤ۔۔ تمہیں یہاں آنے کی اجازت نہیں ہے۔۔
واپس پلٹ جاؤ۔۔۔”
“مگر ہم بہت دور سے آئے ہیں بڑے دادا جی۔۔تھک چکے ہیں آرام تو کرنے دیں۔۔۔”
شایان جو بہروز کے پیچھے چھپاہوا تھا وہ ایک دم سے سامنے کھڑا ہوگیا معراج حاکم کے۔۔ دادا جی کے غصے سے زیادہ تو اس بچے کی موجودگی نے سب کو حیران کردیا
“وٹ دا۔۔۔”
شاہنواز ایک دم سے اٹھ گئے اور انکے ساتھ دادی بھی۔۔۔
سب اس چھوٹے بہروز کو دیکھ کر جیسے اپنا غصہ بھول گئے ہوں۔۔۔
دادی جی جیسے ہی اسکی طرف بڑھنے لگی معراج صاحب نے روک دیا۔۔جس پر دادی کا غصہ بھی دیکھنے کوملا
“معراج صاحب مجھے روکئیے گا مت۔۔۔”
اور وہ شایان کے پاس چلی گئی تھی
“اب میں جھک کر تمہیں گلے نہیں لگا سکتی۔۔ کیوں نہ ہم اندر لیونگ روم میں چل کر بیٹھ کر بات کریں۔۔۔”
“میرے بابا بھی ساتھ آئیں گے میرے۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا بلا لو بابا کو بھی۔۔۔”
“کم بابا۔۔۔”
اور وہ ہاتھ پکڑ کر اندر لے آیا تھا۔۔۔جیسے اسکی ماں ہاتھ پکڑ کر بہروز حاکم کو باہر لے گئی تھی
“ایک منٹ بیٹا۔۔ آپ بڑی دادی کے ساتھ جاؤ میں ابھی آیا۔۔”
“پر بابا۔۔ یہ مجھے کھڑوس لگ رہے ہیں۔۔ اگر زیادہ ڈانٹا تو مجھے آواز دہ دینا۔۔۔”
شایان نے آواز تو آہستہ کی پر سنائی سب کو دیا تھا۔۔
معراج حاکم نے اس پدے سے بچے کو آنکھیں دیکھائی تھی۔۔
“معراج صاحب بچے کو مت ڈرائیں۔۔”
اور دادی آنکھیں نکالے اسے لیونگ روم میں لے گئی سب لوگ ہی انکے پیچھے چلے گئے سوائے شاہنوار اور معراج صاحب کے۔۔
“دا۔۔دادا جی۔۔ میں بس ماں کو دیکھنے ان سے ملنے آیا ہوں۔۔ مجھے ایک بار ان سے ملنے دیں۔۔میں واپس چلا جاؤں گا۔۔۔”
“یاد آگئی۔۔؟؟ کیا کہہ کر گئے تھے برخردار۔۔؟ کہ میں مر نہیں جاؤں گا۔۔ پیسہ دولت بزنس سب کچھ ہے۔۔۔ اگر ہے تو ماں بھی خرید لینی تھی اور باقی سب رشتے بھی۔۔
شاہنواز سمجھا دینا اپنے بیٹے کو۔۔ اپنی ماں سے ملے اور جائے یہاں سے۔۔
اور ایک بات چاندنی کے سامنے آنے کا سوچے بھی مت۔۔ میں نے اگر اس کی وجہ سے اسے تکلیف میں دیکھا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔”
اور وہ چلے گئے تھے وہاں سے۔۔۔ شاہنواز نے ایک نظر اپنے بیٹے کو دیکھا تھا جبکہ بار بار انکی نظریں لیونگ روم میں بیٹھے بیٹے کے بیٹے پر جارہی تھی۔۔جو باری باری سب سے مل رہا تھا۔۔ اور ایسے مل رہا تھا جیسے یہ پہلی ملاقات نہ ہو۔۔۔
۔
“تمہاری ماں اوپر کمرے میں ہے۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“اب آپ نے جھوٹ بولا نہ کہ دوائی کھا لی تو میں خوب ڈانٹوں گی آپ کو سزا بھی دوں گی۔۔”
“ہاہا۔۔”
ہنستے ہوئے زینب صاحبہ کو کھانسی آنے لگی۔۔اور چاندنی نے جلدی سے پانی کا گلاس آگے کیا۔۔۔
اسی وقت انکی نظر پیچھے کھڑے بہروز پر پڑی۔۔
“شش۔۔ آپ خاموش رہیں گی مسز شاہنواز۔۔۔ایک دم چپ۔۔۔”
“پر بیٹا۔۔۔”
“نہیں پیچھے کیا۔۔؟؟ میں ڈرنے والی نہیں ہوں اب چپ ہو کر لیٹ جائیں۔۔۔ قسم سے پانچ سال کی بچی لگ رہی ہیں۔۔”
اور وہ کمفرٹ دے کر ٹرے اٹھائے جیسے ہی پلٹی تھی جب بہروز سے ٹکرائی تو اس ٹرے کو گرنے سے پہلے تھام لیا تھا اور دوسرے ہاتھ سے چاندنی کی ویسٹ پر ہاتھ رکھے اسے ۔۔
۔
“آپ۔۔۔”
وہ ایک نظر دیکھتے ہی نظریں چرا گئی تھی۔۔۔ اس نے نگاہیں جیسے ہی پھیریں بہروز کو ایک الگ ہی غصہ آیا تھا اسکی گرفت چاندنی کی ویسٹ پر جیسے ہی مضبوط ہوئی چاندنی نے احتجاجا اسکی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔
نگاہوں کی تکرار پر وہ پرانا احساس ایک پل کو جاگا تھا بہروز حاکم جو اسکی پہلی محبت تھا
اور اتنے سالوں کے بعد اپنے سامنے اسی جوبن میں دیکھ کر جیسے پرانے زخم تازہ ہوئے۔۔
“لئیو مئ۔۔۔چھوڑئیے۔۔۔”
اور زبردستی وہ خود کو چھڑوا کر وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
“آہمم۔۔۔”
زینب بئگم نے جیسے ہی گلہ صاف کرکے بہروز کی توجہ حاصل کی وہ ایک دم سے سٹریٹ کھڑا ہو گیا بوکھلا گیا تھا وہ۔۔ کبھی وہ اس کھلے دروازے کو دیکھ رہا تھا جہاں سے وہ لڑکی گئی تو کبھی اپنے کھلے ہاتھوں کو جن کی گرفت میں تھی کچھ لمحے پہلے وہ لڑکی۔۔
“ماں۔۔۔”
“اووہ۔۔۔ ماں یاد ہے۔۔؟؟ آگئے۔۔؟؟ مجھے لگا تھا میرے جنازے پر۔۔”
“اللہ نہ کرے۔۔۔ پلیز۔۔۔”
وہ والدہ کے گلے لگ گیا تھا۔۔ اور جیسے گلے لگا تھا اسکی آنکھیں بھیگ چکی تھی۔۔
گزرے ہوئے چار سالوں نے ایک طوفان برپا کردیا تھا۔۔
وہ اور زور سے ماں کی آغوش میں رو دیا تھا۔۔
“بہروز۔۔۔ کیا ہوا ہے بچے۔۔۔تم۔۔”
زینب بیگم نے جب بہروز کے چہرے کو ہاتھوں میں لیا توآنکھوں میں غصب کی ویرانی تھی
“بہروز بیٹا تم مجھے ڈرا رہے ہو۔۔ کہاں ہے وہ لڑکی۔۔ تنگ کرتی ہے تمہیں۔۔؟؟ بتاؤ میں اسکی کلاس۔۔۔”
“وہ ساتھ نہیں آئی ماں۔۔۔ ہم علیحدہ ہو چکے ہیں۔۔۔”
اس نے سرجھکا لیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کیوں چھین گئی ہونٹوں سے دعا۔۔۔ ہونٹوں سے دعا۔۔۔
کیوں حال میرا پوچھے نہ خدا۔۔۔ پوچھے نہ خدا۔۔۔”
۔
رات کے اس پہر چادر اوڑھے وہ لان میں آبیٹھی تھی آج حویلی کے اندر اسے ماضی کاٹ رہا تھا اور اس شخص کی موجودگی۔۔ جس نے کسی اور سے شادی کرنے سے پہلے ایک بار نہ سوچا۔۔۔ ایک بار بھی۔۔۔
آنکھیں اٹھی تو پلکیں بھاری ہوگئی تھی ایک ایک کرکے آنسو چھلکتے گئے اور چار سال اسے یاد دلاتے گئے۔۔۔
۔
ماضی کے وہ طعنے جو بہروز حاکم نے نکاح والے دن اسے دئیے تھے۔۔۔ سب برادری ک سامنے وہ اس دن سر اٹھائے کھڑی تھی وہ شرمندہ کیوں ہوتی۔۔۔
اسے کہیں نہ کہیں لگتا تھا بہروز اپنا خون ہے تایا زاد ہے ایک بار تو پشیمان ہوگا ایک لفظ تو بولے گا۔۔
پر آج بھی وہ شخص ویسا ہی رہا اکڑ۔۔ مطلب پرست۔۔۔ خود غرض۔۔۔
۔
“ہیے۔۔۔مس چاندنی۔۔۔ہائے۔۔۔”
اس آواز پر چاندنی نے چادر سے اپنا چہرہ صاف کرلیا تھا۔۔۔وہ نظریں پھیر رہی تھی اور شایان سامنے آکر کھڑا ہوگیا تھا۔۔۔
اس بچے کو دیکھ کر بےساختہ اسکی آنکھیں بھر آئی بار بار ایک ہی سوال رعکس کررہا تھا اسکے دل و دماغ میں۔۔۔
“اگر ان دونوں کی شادی ہوجاتی توسامنے کھڑا یہ خوبصورت بچہ ان کا ہوتا۔۔”
۔
“مس چاندنی یہ سب پیٹس آپ کے ہیں۔۔؟؟ میں کافی دن سے آرہا ہوں انکے پاس۔۔۔کیا میں یہاں بیٹھ جاؤں۔۔۔”
“رات بہت ہوچکی۔۔”
“مجھے نیند نہیں آرہی تھی ہمیں حویلی آئے پورا ہفتہ ہوگیا اور آپ آج نظر آرہی ہیں۔۔
میں پسند نہیں آیا۔۔۔؟”
وہ چاندنی کا ہاتھ پکڑ چکا تھا۔۔۔
“دیکھو۔۔۔ بی۔۔۔بیٹا ایسی بات نہیں مجھے نیند۔۔”
“سب بتا رہے تھے آپ لیٹ تک جاگتی۔۔۔”
“اففف۔۔۔ یہ کون میری ڈائیریاں دیتا ہے۔۔؟؟”
وہ واپس بیٹھ گئی پر بیٹھے سے پہلے شایان کو سامنے والی کرسی پر بٹھایا تھا اس نے۔۔
“ہاہاہا۔۔۔ میں پورا دن آپ کو ڈھونڈتا رہتا ہوں تو دادی اور بڑی دادی بتاتی ہیں۔۔”
“دونوں جاسوس ہیں میری۔۔۔”
“ہاہاہاہا ۔۔۔”
“آپ ہنستی ہوئی بہت اچھی لگتی ہیں۔۔۔”
شایان کے کہنے کہ دیر تھی اسکی ہنسی بھی غائب ہوگئی تھی۔۔۔
اور بالکونی پر کھڑے شخص کے ماتھے پر شکن آگئے تھے جو کچھ منٹ پہلے ہی اپنے بیٹے کو ایسے کئیر فری باتیں کرتے دیکھ رہا تھا۔۔۔
اس دن کے بعد آج وہ اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا۔۔ جو پچھلے دنوں سے اسے مکمل اگنور کررہی تھی۔۔۔جہاں جاتا تھا وہاں سے غائب ہوجاتی تھی۔۔۔ حتی کہ پوری حویلی میں اسکا نام و نشان نظر نہیں آتا تھا وہ اس بات پر یقین کرنے لگا تھا کہ وہ اب حویلی نہیں رہتی جیسے اس نے نکاح والے دن کہا تھا کہ وہ چلی جائے گی۔۔۔
۔
“کیا آپ مجھے بھی کھیلنے دیں گی انکے ساتھ۔۔؟؟”
“ہممم سوچنے دیں مسٹر۔۔۔؟؟”
“شایان بہروز حاکم۔۔۔”
اسکے پورے نام نے ایک چھبن چھوڑ دی تھی پر وہ مسکرا دی تھی۔۔
“اوکے تو مسٹر شایان۔۔۔ آپ کھیل سکتے ہیں پر صبح۔۔۔ اس وقت میرے بےبیز سو رہے۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔۔ہاہاہاہا آپ کے بچے ہیں۔۔۔واااو۔۔۔”
وہ اٹھ کر چاندنی کے پاس آیا تھا اور گال پر بوسہ دینے کے بعد اسکے گلے سے لگا تھا ہنستے ہوئے۔۔۔چاندنی کے دونوں ہاتھ وہیں رک گئے تھے اس میں ہمت نہیں رہی تھی اس بچے کو گلے سے لگانے کی۔۔۔
“آئی لائک یو مس چاندنی۔۔۔ گڈ نائٹ۔۔۔ بابا ویٹ کررہے۔۔۔
آرہا ہوں بابا۔۔۔”
وہ اوپر دیکھ کر شاؤٹ کرتا ہے اور ایک بار پھر چاندنی کے گال پر بوسہ دے کر اندر چلا گیا تھا۔۔
اور چاندنی پتھر بنی رہ گئی تھی۔۔۔
“ٹھنڈ بہت ہورہی ہے۔۔ امی بلا رہی ہیں کمرے میں جائیں۔۔۔”
بہروز بالکونی سے چلایا تھا۔۔پر چاندنی نے نظر انداز کردی اسکی بات۔۔ اور وہ وہیں بیٹھی رہی۔۔۔وہ مڑ کر اس شخص کی طرف ایک نظر نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔
اور وہ وہیں کھڑا رہ گیا تھا اس بالکونی میں۔۔۔
۔