Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 35

“نہیں شاہ زیب۔۔ آپ کو میری قسم ابھی چاندنی کو کچھ نہیں بتائیے گا۔۔۔ “
“نہیں نائلہ یہ تمہارے ساتھ زیادتی ہوگی۔۔ میں کب سے نوٹ کررہا ہوں چاندنی کافی روڈلی بات کررہی ہے۔۔”
“کیونکہ اسے نظر آرہی ہے اپنی ماں کی ریپلیس منٹ کوئی بھی اولاد یہ برداشت نہیں کرسکتی۔۔۔”
“پر تم اس طرح انسلٹ ہوتی رہو گی۔۔؟ میں یہ بات ہرگز۔۔۔”
“شش بس کراجائیں۔۔ اگر چاندنی چاہے گی تو میں چلی جاؤں گی۔۔۔”
وہ اتنے قریب کھڑے تھے جب بیڈروم کا دروازہ کھلا تھا چاندنی کے ہاتھوں سے ٹرے گر گئی تھی جس میں چائے کے کپ تھے۔۔۔
“بابا۔۔۔؟؟ خالہ۔۔؟؟ یا اللہ۔۔ اس لیے۔۔۔ آپ نہیں جارہی تھی خالہ۔۔؟؟”
“چاندنی بیٹا میری بات سنو۔۔۔”
“سننے کو کیا رہ گیا ہے خالہ۔۔؟؟ آپ چیٹ کررہی ہیں اپنے ہسبنڈ کو بھی ہمیں بھی اور اپنی بہن کو بھی۔۔۔ڈسگسٹنگ۔۔۔”
“چاندنی۔۔۔”
شاہ زیب صاحب اونچی آواز میں بولے تو نائلہ نے انکا ہاتھ پکڑ کر روک دیا تھا۔۔ بس یہ دیکھنے کی دیر تھی چاندنی اور زیادہ طیش میں آگئی
“چاندنی بیٹا ہماری بات سن لو۔۔”
“کچھ نہیں سننا مجھے۔ ۔چلی جائیں آپ یہاں سے۔۔پلیز لئیو۔۔۔ میرے ابو تو مجبور تھے پر آپ کی کیا مجبوری تھی۔۔؟؟ آپ کو زرا سی شرم بھی نہ آئی خالہ۔۔؟؟ یہ آپ کی بہن کے شوہر ہیں۔۔ انکی محبت جن کی جگہ آپ لینے کی کوشش کررہی۔۔۔”
“چاندنی۔۔”
“ابو انہیں کہیں چلی جائیں یہاں سے۔۔”
“بس بیٹا۔۔ میں ایسا کچھ نہیں کہوں گا۔۔”
“اگر یہ نہ گئی تو میں چلی جاؤں گی۔۔۔”
شاہ زیب کی آنکھوں میں مایوسی چھا گئی تھی۔۔۔چاندنی انکے روم سے باہر چلی گئی تھی بنا کچھ سنے۔۔
“اٹس اوکے شاہ زیب وہ ابھی غصے میں ہے۔۔”
“تم کہیں نہیں جارہی۔۔ میں ابھی اسے سچائی بتا دیتا ہوں ہمارے نکاح کی۔۔”
“ابھی وہ مجھ سے نفرت کررہی پھر اپنے باپ سے بھی کرنے لگے گی۔۔ آپ کو میری قسم آپ ایسا کچھ نہیں کریں گے۔۔”
“نائلہ۔۔۔”
وہ جھکی تھی ان شاہ زیب صاحب کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا۔۔ انکے آنسو ایک ایک کرکے شاہ زیب کے چہرے پر گر رہے تھے۔۔
“بس۔۔ پھر ملیں گے۔۔ یہ الوداع نہیں ہے شاہ زیب۔۔۔”
“نائلہ۔۔۔”
مگر وہ اپنے کمرے میں جا کر دروازہ لاک کرچکی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ دن بعد۔۔۔”
۔
۔
“شاہ زیب بیٹا۔۔۔۔ ایک بار اپنی ماں کی عیادت کرلو وہ بہت بیمار ہے۔۔۔”
دروازہ بند کرتے کرتے وہ تو رکے تھے ساتھ ساتھ چاندنی کے کچن میں جاتے پاؤں بھی تھم گئے تھے
“اللہ پاک انہیں صحت تندرستی عطا فرمائے آمین اب آپ جا سکتے ہیں۔۔۔”
“بہروز بیٹا رحم کرو ہم پر۔۔۔۔”
“دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں میری بچی پر رحم کیا گیا تھا ۔۔۔؟ ایک بار معراج حاکم ایک بار بھی آپ نے کسی سے کہا کہ مت لگاؤ الزام یہ میرے شاہ زیب کا خون ہے میری پسندیدہ بہو کی تربیت گندی نہیں ہوسکتی تم لوگوں کے الزامات گندے ہیں ‘ ایک بار للکار کر ایسا کہا ۔۔۔؟؟؟”
“بابا آہستہ ڈاکٹر نے۔۔۔”
“تم جاؤ اندر ۔۔۔ خبردار جو اب تم ان لوگوں کے سامنے آئی پھر سے نظریں لگ جائیں گی بیٹا۔۔۔”
دادا جی جیسے ہی چاندنی کی جانب بڑھے بیٹے کی آواز نے انہیں گہرا زخم دہ ڈالا اور وہ مجبور ہوگئے واپس مڑنے کے لیے
اور جب وہ نظروں سے اوجھل ہوگئے تو انہوں نے ملازم کو اشارہ کیا تھا جس نے دروازہ بند کردیا اور واپس کام پر لگ گیا۔۔۔
“ابو یہ کچھ زیادہ نہیں ہورہا ۔۔۔؟؟ آپ انہیں آرام سے بھی کہہ سکتے تھے۔۔۔”
پر شاہ زیب تو اپنے کمرے کی جانب چلے گئے۔۔۔
یہی ہورہا تھا پچھلے ایک ماہ سے جب سے اس نے نائلہ خالہ کو انسلٹ کرکے جانے کا بولا تب
سے اسکے بابا غصے میں رہتے اور سارا غصہ باہر والوں پر اتر رہا تھا۔۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بہروز میں نہیں مانتا حمدان نے یہ سب کیا۔۔”
“بس کیا بتاؤں انکل آپ کے سامنےہی سب۔۔ داداجان کی میری ہم سب کو بہت چالاکی سے دھوکا دیا انہوں نے۔۔۔”
بہروز اٹھنے لگا تھا جب بازو میں بندھی پٹی پر درد ہوا ۔۔۔اور وہ پھر سے بنچ پر بیٹھ گیا۔۔
“بہروز بیٹا خون نکل رہا ہے۔۔۔”
“انکل سٹیچز کھل گئے ہیں۔۔”
بہروز نے چہرے پر درد عیاں کیا تھا اس بزرگ شخص کے سامنے جو پارک میں واک کرنے آیا تھا اور بہروز کو دیکھ کر رک گیا واپس جاتے جاتے
جو شاہ زیب کا جگری دوست بھی تھا اور اپنا فیملی فرینڈ بھی۔۔۔
۔
تو بیٹا ڈاکٹر کو دیکھاؤ۔۔۔”
“انکل اب تو دو وقت کی روٹی جتنے پیسے نہیں۔۔۔ہیں۔۔ دادا جان کی طبیعت خراب رہتی ہے بابا اور حمدان چچا کام کررہے باقی کزن نوکری ڈھونڈ رہے۔۔ہم تو برباد ہوگئے ہیں۔۔۔”
“بیٹا ہوش کرو۔۔۔ ہمت نہ ہارو۔۔”
“وہی کررہے ہیں انکل۔۔۔ وہی کررہے۔۔۔بددعا لگ گئی ہے شاہ زیب چچا کے ساتھ جتنا برا ہم نے کیا۔۔۔
جس ایک کمرے کے گھر میں رہتے چھت سے پانی ٹپکتا اور وہ محلہ بھی توبہ۔۔”
بہروز باتیں کرکے پاس بیٹھے شخص کو حیران و پریشان کررہا تھا۔۔۔اور کچھ دیر بعد جب وہ اپنے گھر جانے کے بجائے سیدھا شاہ زیب صاحب کے گھر گئے تو بہروز نے درخت کے پیچھے چھپے ہوئے دونوں کزن کو خوشی خوشی باہر بلایا تھا
“بہروز بھائی ہم نے جھوٹ بول تو دیا۔۔ کیا شاہ زیب چچا ہماری باتوں میں آئے گے۔۔؟؟”
“جتنامیں انہیں جانتا وہ شام سے پہلے پہلے ہم سب کو لینے آجائیں گے۔۔بس گھر میں سب کو کہہ دو کہ بری سے بری حالت میں رہیں۔۔۔”
۔
“بہروز بھائی یہ غلط نہیں ہوگا۔۔؟؟ جھوٹ بولنا۔۔؟؟”
“یہ غلط نہیں ہوگا۔۔۔ اگر ہم خاموش ہوگئے تو یہ غلط ہوگا۔۔ اب وقت ہے اپنی غلطیوں کو سدھارنے کا میں نے جو کیا اسے ٹھیک کرنے کا
اب ان دونوں کے پاس رہ کر ان کا دل جیتنا ہے۔۔۔”
۔
“بہروز بھائی آپ نے سگریٹ کب سے پینا شروع کردیا۔۔۔؟”
بہروز سگار ہونٹوں کو لگائے بنچ پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔ ساتھ کزن ایک کے بعد ایک سوال پوچھ رہے تھے پر وہ کسی اور دنیا میں مگن تھا۔۔۔ چاندنی کے ساتھ اس دن قبرستان میں ہوئی ملاقات نے اسے ایک پل بھی چین لینے نہ دیا تھا اور وہ اس دن سے ہی تلاش میں تھا اب اسے موقع ملا تھا اور اب وہ پورا پورا فائدہ اٹھائے گا۔۔
وہ پھر سے ان باپ بیٹی کے دل میں خاندان کے لیے اپنے لیے وہی محبت جگائے گا جو پہلے تھی۔۔۔
۔
“چچا جان میں آپ کو اور آپ کی بیٹی کو منا لوں گا۔۔۔ آپ دونوں پھر سے خاندان والوں پر یقین کریں گے انہیں پیار کریں گے۔۔چاہے میں اور برا ہی کیوں نہ بن جاؤں۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آپ لوگوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔۔۔ آپ سب قصور وار ہیں۔۔”
چاندنی کے موبائل میں وہ ویڈیو بار بار چل رہی تھی
“جنید تم نے اچھا نہیں کیا یہ مجھے بھیج کر۔۔۔ آخر سب اس شخص کو بےگناہ ثابت کرنے پہ تلے ہوئے جو اپنے قول و فعل کا ذمہ دار خود ہے۔۔ جس نے۔۔۔”
منہ صاف کئیے اس نے وہ ویڈیو ڈیلیٹ کرکے موبائل نمبر بلاک کردیا تھا اپنے کزن کا۔۔
لائٹس آف کرکے وہ کھڑکی جانب بڑھی تھی ونڈو کرٹنز ہٹا کرچاندکی آتی وہ روشنی کمرے کے اندھیرے کو تو کم کررہی تھی پر چاندنی کے اندھیرے وہ اندھیرا مسلسل بڑھتا ہی جارہا تھا
“چاہت میں کبھی اس شخص کو معاف نہیں کروں گی۔۔۔”
کھڑکی کے سامنے رکھے صوفہ پر وہ کب بیٹھی کب سو گئی اسے خبر نہ ہوئی۔۔۔
“ماما ۔۔۔ بابا کو معاف کردیں پلیز۔۔۔ وہ دیکھیں کتنے اداس بیٹھے ہیں۔۔۔اگر آپ نے انہیں معاف نہ کیا تو میں بھی آپ سے ناراض ہوجاؤں گی پھر کبھی ملنے نہیں آؤں گی۔۔”
“چاہت۔۔۔۔”
ایک چیخ نکلی تھی جب خواب میں اپنی بیٹی کو دور جاتے دیکھا تھا اس نے۔۔۔
اور جب آنکھ کھلی تو باہر سے شو شرابے کی آواز نے اسے اور حیران کردیا تھا جیسے جیسے دروازے پر جارہی تھی اسے یہ سنائی دینے والی ساری آوازیں شناسا سی لگی۔۔۔
پر اپنے گھر میں وہ لوگ کیسے داخل ہوسکتے ہیں۔۔؟؟”
خود سے سوال جواب کررہی تھی اور جیسے ہی دروازہ کھلا تو یہ چھوٹا سا گھر اور چھوٹا لگنے لگا اپنا بڑا سا خاندان دیکھ کر۔۔
“چاندنی بیٹی۔۔۔۔تھینک یو سو مچ بیٹا۔۔۔”معراج صاحب نے آگے بڑھ کر اسکے سر پر پیار دیا تھا۔۔۔ اور سب ہی اسکا شکریہ ادا کررہے تھے۔۔۔درمیان میں شاہ زیب صاحب کی ویل چئیر دیکھ کر اس نے ایک نظر اپنے والد کو دیکھا تھا
“بیٹا بہت شکریہ ہمیں اس گھر میں جگہ دینے کے لیے۔۔۔”
فرحین چچی نے ماتھے پر بوسہ دیا وہ ساکن کھڑی رہ گئی تھی جن لوگوں کے پاس سے بھی گزرنا نہیں چاہتی تھی وہ لوگ اسے پیار کررہے تھے اسکے سامنے اسکے گھر میں موجود تھے۔۔۔
دور بیٹھے تین لوگوں کو دیکھا تھا اس نے
دادا جان دادی جی اور زینب بیگم۔۔۔ ان تینوں کی آنکھوں کا تارا بنی رہی تھی وہ ایک وقت۔۔۔
اب انہی لوگوں سے نفرت ہوگئی تھی اسے۔۔۔
۔
“ابو آپ سے بات کرنی تھی۔۔۔”
“ہممم۔۔۔”
شاہ زیب صاحب جو کچھ دیر پہلے ہی اپنی فیملی کو اس جگہ سے لیکر آئے اب اپنی بیٹی کے ساتھ جانے سے ڈر رہے تھے
چاندنی نے ویل چئیر پکڑی اور بیک یارڈ کی طرف لے گئی تھی جہاں کوئی موجود نہ تھا
“آپ لیکر آئے انہیں۔؟ یہ جانتے ہوئے کہ انہوں نے مجھے رہنے کو جگہ نہ دی تھی ابو۔۔۔
جب جب میں نے اپنی بات کی مجھے دھتکارا گیا ذلیل کیا تھا۔۔۔ دادا جان نے بہروز کے سامنے سب کے سامنے واضح کہا تھا کہ میری پرواہ نہیں انہیں اگر فکر ہے تو بس گھر کی عزت کی۔۔۔
ابو سب کے سامنے بہروز سے معافی مانگنے کا کہا تھا انہوں نے۔۔۔ زخم اتنے گہرے ہیں اور آپ نے پھر سے تازہ کردئیے۔۔؟؟”
۔
“آپ نے ایک بار بھی مجھ سے پوچھنا ضروری نہیں سمجھا ابو۔۔۔؟؟”
اب کے اسکی آواز قدے ہلکی ہوگئی۔۔وہ مایوسی نظروں سے دیکھنے لگی تھی اپنے والد کو،،،
“مجھے بھی کل رات معلوم ہوا تھا میرے بچے۔۔۔ جہاں میں گیا وہاں یہ لوگ ان غنڈے موالیوں میں رہ رہے تھے۔۔والد سبزی والی ریڑھی کھینچ رہے تھے اور والدہ برتن دھونے کا کام کرنا چاہتی تھی۔۔
اس ماحول میں کیسے بچیوں کو چھوڑ اتا۔۔۔؟؟”
“جیسے ان لوگوں نے آپ کی اکلوتی بچی کو چھوڑا تھا۔۔جیسے وہ پتھر دل بن گئے تھے آپ بھی بن جاتے۔۔۔”
چاندنی کی اونچی آواز کوئی سن نہ لے اسے کوئی پرواہ نہیں تھی وہ چاہتی تھی کہ سب سنے
“چاندنی بیٹا۔۔۔ میری غیرت یہ گنوارا نہیں کررہی تھی۔۔۔ وہ میرے ماں باپ ہیں۔۔ میں ان سے ناراض ہوں اور رہوں گا انہوں نے میری بچی کا نہیں میرا دل توڑا۔۔مجھے مجبور کردیا انہیں چھوڑنے پر حویلی چھوڑنے پر جس کا مجھے پچھتاوا نہیں۔۔۔ پر بیٹا تمہارا باپ اب بھی ایک بیٹا ہے۔۔ وہ بیٹا اپنی ذمہ داریوں سے منہ نہیں موڑ سکتا۔۔۔
پھر بھی اگر تم نہیں چاہتی و ان سب کو بھیج دو واپس۔۔۔”
“اور آپ کو میں اتنی بےحس لگتی ہوں۔۔؟؟ جو نکال دوں گی۔۔۔؟؟”
“تو تم چاہتی ہو میں بےحس بند جاؤں۔۔۔؟؟”
“ابو۔۔۔”
اور اس نے ہتھیار ڈال دئیے تھےوہ باہر ان سب لوگوں کی حالت دیکھ کر آئی تھی
“تو انہیں کہیں نہ اپنے اس بیٹے کے پاس آکسفورڈ ڈگری ہولڈر بزنس ٹائیکون۔۔۔”
وہ کہتے کہتے دوسری طرف ہوئی پر شاہ زیب صاحب کی بات سن کر ایک ہی جھٹکے سے اس نے انہیں دیکھا
“وہ بھی باہر کھڑا ہے میں نے کہہ دیا تھا کہ تم اجازت دو گی تب ہی بلاؤں گا۔۔وہ بھی۔۔ اب اسکے پاس بھی کچھ نہیں رہا بیٹا۔۔۔ حمدان بہت کامیا ب ہوگیا سب لینے میں۔۔۔”
“یااللہ۔۔۔ “
سر پر ہاتھ رکھ لیا تھا اس نے۔۔
“تھینک یو بیٹا میں اسے بلا لیتا ہوں۔۔۔”
ویل چئیر کچھ قدم ہی آگے گئی تھی جب چاندنی نے روک لیا
“ابو ابھی تو میں نے اجازت بھی نہیں دی تھی”
“تمہاری خاموشی سمجھ سکتا ہوں بیٹا۔۔۔ اور فکر نہ کرو بہت جلدی چلیں جائیں گے یہ۔۔۔”
وہ جیسے ہی گئے تھے چاندنی کی آنکھوں میں پھر سے غصہ ابھر آیا تھا
“بہروز حاکم۔۔۔تم ابو کو بیوقوف بنا سکتے ہو مجھے نہیں آنے دو زرا۔۔”
۔