Dusri Aurat by Sidra Sheikh readelle50012

Dusri Aurat by Sidra Sheikh readelle50012 Last updated: 15 June 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dusri Aurat by Sidra Sheikh

"تمہیں کیا لگا تھا۔۔؟ میری بیوی کے چلے جانے کے بعد تمہیں موقع مل جائے گا مجھے پانے کا۔۔؟"
"یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ۔۔؟؟"
"کیا کہہ رہا ہوں۔۔؟ انجان بن رہی ہو۔۔؟ میرے بیٹے کو اپنے جال میں پھنسا کر تم نے مجھ سے شادی کی ہے۔۔
اسکی ماں تو بن گئی اب میری بیوی نہیں بنو گی۔۔؟؟ وائفی۔۔؟؟"
وہ پھولوں سے سجے بیڈ سے جلدی سے اٹھ گئی تھی مگر وہ اس سے بھی زیادہ جلدی میں آگے بڑھا تھا
کندھے سے پکڑ کر اس نے جیسے ہی اپنی نئی نویلی دلہن کو بیڈ پر پھینکا تھا وہ ڈر کر پھر سے اٹھی تھی۔۔
"کیا ہوا گھبرا گئی ہو۔۔؟؟ ابھی تو ہماری ویڈنگ نائٹ شروع ہوئی ہے۔۔۔"
دونوں ہاتھوں کو سر کے ساتھ پن کئیے وہ اسکی طرف جھکا تھا۔۔
اسکے لب اس لڑکی کی گردن پر جیسے ہی لگے تھے وہ پنز لگے دوپٹے کو اس نے کھینچ کر
نیچے پھینک دیا تھا جس کی پن چبھ جانے سے انکی گردن پر زخم ہوا تھا۔۔۔
"تم دوسری عورت ہی رہو گی۔۔۔ میں تمہیں کبھی اپنی بیوی تسلیم نہیں کروں گا۔۔۔
اس رات کے بعد۔۔۔"
وہ اسکے چہرے کی طرف جھکا تھا کہ اپنا آپ چھڑاتی اس لڑکی نے ایک زور دار تھپڑ اس شخص کو دے مارا تھا۔۔۔
"بہروز حاکم۔۔۔ سنا تھا ظالم ہو مگر اتنے ظالم۔۔؟؟'
اپنے ہونٹوں کو کسی حقارت کی طرح صاف کر کے وہ پیچھے ہٹی تھی۔۔۔
"منہ توڑ دوں گی۔۔۔ یہ ہاتھ توڑ دوں گی تمہارے اگر میری مرضی کے بغیر مجھے چھونے کی کوشش کی تو۔۔۔"
بہروز اسکے چیخنے کی آواز سے شاکڈ ہوکر کھڑا ہوگیا تھا
"تمہاری جرات کیسے ہوئی مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی۔۔میں تمہارا وہ حال۔۔"
"کیا کرو گے۔۔؟ تم اپنی مردانگی مجھے ابھی دیکھا چکے ہو۔۔ تھپڑ مارنے کے بعد کیا کرو گے۔۔۔؟؟"
بہروز نے اسے کندھوں سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا اور اس لڑکی نے اس کے گریبان کو زور سے پکڑ ا تھا اس وقت
"میں ۔۔ تمہیں۔۔ برباد کردوں گا۔۔۔ "
"کیسے۔۔؟؟ میرے عزت خراب کر کے۔۔؟؟ یا مجھے مار پیٹ کر۔۔؟؟ میں نے تو سوچا تھا کسی مرد سے نکاح ہوا ہے تم۔۔۔"
"بس۔۔۔۔"
بہروز کا ہاتھ اٹھ گیا تھا
"بس۔۔؟؟ کیا بس۔۔؟؟ ابھی مجھے اپنی طاقت دیکھاتے ہوئے آپ کو شرم نہ آئی اور میرے کہنے پر غصہ آگیا۔۔؟؟
بہروز حاکم۔۔ میری عزت میرے وجود میں چھپی نہیں ہوئی جسے تم داغدار کرکے مجھے برباد کردو گے۔۔۔
یہ لڑکی بیوی ہے تمہاری اسے بستر تک کھینچ کرلے جاؤ گے تو مرد نہیں کہلاؤ گے۔۔۔
میں تمہیں برباد کردوں گی اگر دوبارہ مجھے ہاتھ لگانے کی کوشش کی۔۔۔"
پیچھے دھکیل دیا تھا اس نے بہروز کو جو اس قدر ششدر رہ گیا تھا اس پدی سی لڑکی کی باتیں سن کر۔۔۔
"یو۔۔۔"
"کیا میں اندر آجاؤں بابا سائیں۔۔؟؟"
اس چھوٹے بچے نے دروازے سے اندر سر ڈال کر کہا تھا
"شایان بیٹا۔۔۔"
"کیا میں مس چاندی اور آپ کے ساتھ سو سکتا ہوں بابا۔۔۔؟؟ پلیز۔۔۔
مس چاندنی۔۔؟؟"
چاندنی جھک کر اپنا دوپٹہ اوڑھا تھا اور آگے بڑھ کر شایان کو اپنی گود میں اٹھا لیا تھا
"ایک شرط پر آج کہانی آپ سنائیں گے۔۔۔"
"اوکے ڈن۔۔۔ پھر اسکے بعد آپ سنائیں گی۔۔"
چاندنی بہروز کے کندھے کو ٹکر مار کر شایان کو بیڈ پر لے گئی تھی۔۔۔