Dusri Aurat by Sidra Sheikh readelle50012 Last updated: 15 June 2025
No Download Link
54.3K
41
Rate this Novel
Episode 01Episode 02Episode 03Episode 04Episode 05Episode 06Episode 07Episode 08Episode 09Episode 10Episode 11Episode 12Episode 13Episode 14Episode 15Episode 16Episode 17Episode 18Episode 19Episode 20Episode 21Episode 22Episode 23Episode 24Episode 25Episode 26Episode 27Episode 28Episode 29Episode 30Episode 31Episode 32Episode 33Episode 34Episode 35Episode 36Episode 37Episode 38Episode 39Episode 40Last Episode
Dusri Aurat by Sidra Sheikh
"تمہیں کیا لگا تھا۔۔؟ میری بیوی کے چلے جانے کے بعد تمہیں موقع مل جائے گا مجھے پانے کا۔۔؟"
"یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ۔۔؟؟"
"کیا کہہ رہا ہوں۔۔؟ انجان بن رہی ہو۔۔؟ میرے بیٹے کو اپنے جال میں پھنسا کر تم نے مجھ سے شادی کی ہے۔۔
اسکی ماں تو بن گئی اب میری بیوی نہیں بنو گی۔۔؟؟ وائفی۔۔؟؟"
وہ پھولوں سے سجے بیڈ سے جلدی سے اٹھ گئی تھی مگر وہ اس سے بھی زیادہ جلدی میں آگے بڑھا تھا
کندھے سے پکڑ کر اس نے جیسے ہی اپنی نئی نویلی دلہن کو بیڈ پر پھینکا تھا وہ ڈر کر پھر سے اٹھی تھی۔۔
"کیا ہوا گھبرا گئی ہو۔۔؟؟ ابھی تو ہماری ویڈنگ نائٹ شروع ہوئی ہے۔۔۔"
دونوں ہاتھوں کو سر کے ساتھ پن کئیے وہ اسکی طرف جھکا تھا۔۔
اسکے لب اس لڑکی کی گردن پر جیسے ہی لگے تھے وہ پنز لگے دوپٹے کو اس نے کھینچ کر
نیچے پھینک دیا تھا جس کی پن چبھ جانے سے انکی گردن پر زخم ہوا تھا۔۔۔
"تم دوسری عورت ہی رہو گی۔۔۔ میں تمہیں کبھی اپنی بیوی تسلیم نہیں کروں گا۔۔۔
اس رات کے بعد۔۔۔"
وہ اسکے چہرے کی طرف جھکا تھا کہ اپنا آپ چھڑاتی اس لڑکی نے ایک زور دار تھپڑ اس شخص کو دے مارا تھا۔۔۔
"بہروز حاکم۔۔۔ سنا تھا ظالم ہو مگر اتنے ظالم۔۔؟؟'
اپنے ہونٹوں کو کسی حقارت کی طرح صاف کر کے وہ پیچھے ہٹی تھی۔۔۔
"منہ توڑ دوں گی۔۔۔ یہ ہاتھ توڑ دوں گی تمہارے اگر میری مرضی کے بغیر مجھے چھونے کی کوشش کی تو۔۔۔"
بہروز اسکے چیخنے کی آواز سے شاکڈ ہوکر کھڑا ہوگیا تھا
"تمہاری جرات کیسے ہوئی مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی۔۔میں تمہارا وہ حال۔۔"
"کیا کرو گے۔۔؟ تم اپنی مردانگی مجھے ابھی دیکھا چکے ہو۔۔ تھپڑ مارنے کے بعد کیا کرو گے۔۔۔؟؟"
بہروز نے اسے کندھوں سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا اور اس لڑکی نے اس کے گریبان کو زور سے پکڑ ا تھا اس وقت
"میں ۔۔ تمہیں۔۔ برباد کردوں گا۔۔۔ "
"کیسے۔۔؟؟ میرے عزت خراب کر کے۔۔؟؟ یا مجھے مار پیٹ کر۔۔؟؟ میں نے تو سوچا تھا کسی مرد سے نکاح ہوا ہے تم۔۔۔"
"بس۔۔۔۔"
بہروز کا ہاتھ اٹھ گیا تھا
"بس۔۔؟؟ کیا بس۔۔؟؟ ابھی مجھے اپنی طاقت دیکھاتے ہوئے آپ کو شرم نہ آئی اور میرے کہنے پر غصہ آگیا۔۔؟؟
بہروز حاکم۔۔ میری عزت میرے وجود میں چھپی نہیں ہوئی جسے تم داغدار کرکے مجھے برباد کردو گے۔۔۔
یہ لڑکی بیوی ہے تمہاری اسے بستر تک کھینچ کرلے جاؤ گے تو مرد نہیں کہلاؤ گے۔۔۔
میں تمہیں برباد کردوں گی اگر دوبارہ مجھے ہاتھ لگانے کی کوشش کی۔۔۔"
پیچھے دھکیل دیا تھا اس نے بہروز کو جو اس قدر ششدر رہ گیا تھا اس پدی سی لڑکی کی باتیں سن کر۔۔۔
"یو۔۔۔"
"کیا میں اندر آجاؤں بابا سائیں۔۔؟؟"
اس چھوٹے بچے نے دروازے سے اندر سر ڈال کر کہا تھا
"شایان بیٹا۔۔۔"
"کیا میں مس چاندی اور آپ کے ساتھ سو سکتا ہوں بابا۔۔۔؟؟ پلیز۔۔۔
مس چاندنی۔۔؟؟"
چاندنی جھک کر اپنا دوپٹہ اوڑھا تھا اور آگے بڑھ کر شایان کو اپنی گود میں اٹھا لیا تھا
"ایک شرط پر آج کہانی آپ سنائیں گے۔۔۔"
"اوکے ڈن۔۔۔ پھر اسکے بعد آپ سنائیں گی۔۔"
چاندنی بہروز کے کندھے کو ٹکر مار کر شایان کو بیڈ پر لے گئی تھی۔۔۔
