Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 05

“کوئی چاند رکھ۔۔۔ میری شام پر۔۔
میرا دل جلے۔۔تیرے نام پر۔۔۔”
۔
“آج بھی بات نہیں کی آپ نے مجھ سے بہروز حاکم۔۔ آپ تو ترسا رہے ہیں۔۔۔
اب تو گھر میں بھی سب کو پتہ چل گیا ہمارے رشتے کا۔۔۔ سب کی مبارک باد موصول ہوگئی پر آپ کی مبارکباد نہیں ملی۔۔۔”
کھڑکی پر کھڑی وہ بےچین لڑکی خود سے باتیں کررہی تھی۔۔
۔
“روکھے روکھے سے لمحے۔۔۔ آرارہ پن کا صلہ
سوکھے سوکھے سے رشتے۔۔ بھیگا بھیگا گلہ۔۔۔”
۔
“ابھی بھی یقین نہیں آرہا میری شادی آپ سے ہونے والی۔۔۔”
۔
“شب و رو ز کا ملنا تھا۔۔ مرجھا کے یوں کھلنا تھا کیا۔۔۔
دل تھا میرا ٹوٹا ہوا۔۔۔ کہتا تھا بجھتا ہوا۔۔۔۔
۔
کوئی چاند رکھ میری شام پر۔۔۔
میرا دل جلے تیرے نام پر۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ول یو میری مئ مس رابیعہ افتخار۔۔۔”
“وٹ دا۔۔۔۔۔ جسٹ وااااوو۔۔۔۔ بہروز حاکم آپ کو گھٹنوں کے بل بیٹھے دیکھ کہیں میں خوشی سے مر ہی نہ جاؤں۔۔۔۔”
“لڑکی ہاں تو کردو۔۔۔ وہ اٹھ گیا تو پرپوزل بھی گیا۔۔۔”
سب دوست چلائے تھے۔۔۔
“یس یس یس۔۔۔۔ بہروز۔۔۔۔”
بہروز نے اسکی انگلی میں جیسے ہی رنگ پہنائی اور بہروز کے گلے سے لگ گئی تھی
“اووو گوڈ۔۔۔۔ بہروز کہیں میں خوشی سے۔۔۔”
“شش۔۔۔”
لوووو برڈز۔۔۔۔ ہمارے یہ دونوں دوست اب بیچلر نہیں رہے۔۔۔ لیٹس سیلیبریٹ۔۔۔
انکی غلامی۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا۔۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ابراہیم بھائی۔۔۔ اب بہروز کے بارے میں سوچنا والا کچھ نہیں رہا۔۔۔آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ اب آپ کچھ نہیں کہیں گے۔۔۔”
“میں بھی مجبور ہوں شاہزین نے ہی مجھے بلایا ہے یہاں۔۔۔”
“میں ابھی بات کرتا ہوں۔۔”
“چپ کرکے بیٹھ جاؤ شاہ زیب۔۔۔اگر اب تم نے شاہزین سے بات کی تو تم بھی جانتے ہو بات بہت آگے بڑھ جائے گی۔۔ شاہزین اس حالت میں ہے کہ اپنی بیٹی کے لیے وہ کوئی فیصلہ لے لے گی۔۔۔”
اور شاہ زیب صاحب بیٹھ گئے تھے۔۔
آج انکی ملاقات آفس میں یا گھر میں نہیں ایک انجان کیفے میں ہورہی تھی۔۔
“ابراہیم میری بات۔۔۔”
“چاندنی کی شادی کی اتنی جلدی کیوں ہے شاہ زیب۔۔؟؟ کیوں کررہے ہو اتنی جلدی۔۔
کیا بہروز کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔۔؟؟”
“کیا بات کررہے ہیں آپ ابراہیم بھائی۔۔؟؟ وہ میرا بھتیجا ہے۔۔۔ اس پر مجھے خود سے بھی زیادہ یقین ہے۔۔۔”
“اتنا یقین انسان کو لے ڈوبتا ہے۔۔”
“وہ میرا یقین کبھی نہیں توڑے گا۔۔ میں جانتا ہوں۔۔۔”
“میرا سوال ابھی بھی وہی ہے۔۔۔کیوں اتنی جلدی شادی کرنا چاہتے ہو۔۔؟؟”
آج ابراہیم صاحب بھی نہیں ٹل رہے تھے۔۔ بلا ہی لیا تھا شاہ زیب صاحب کو اس کیفے میں اور زبردستی پاس بٹھا لیا تھا۔۔۔
وہ دونوں میں انڈرسٹینڈنگ اتنی زیادہ تھی کہ شاہ زیب صاحب اپنی بیوی کے بھائی کو سالے کے رشتے سے بڑھ کر اہمیت دیتے تھے۔۔۔ ہر مشورہ لیتے تھے ہر فیصلہ کرنے سے پہلے۔۔۔اور ابراہیم صاحب بھی پہلی بار آبجیکشن کررہے تھے کسی فیصلے پر۔۔۔
“سچ پوچھو تو میرا بھی دل نہیں مان رہا شاہ زیب۔۔ ہم کچھ سال رک جاتے ہیں۔۔”
“میری زندگی مجھے مہمان کی طرح لگ رہی ہے۔۔ آپ نہیں جانتے کاروبار کی وجہ سے کچھ ایسے دشمن بن چکے ہیں دھمکیاں مل رہی ہیں۔۔۔”
“تو چھوڑ کیوں نہیں دیتے رئیل اسٹیٹ کے بزنس۔۔۔”
“یہ میرے کاروبار کی وجہ سے نہیں ہورہا۔۔۔ اپ کو یاد ہے کچھ سال پہلے میں ایک میٹنگ کے لیے گیا تھا معراج بھائی کا جب ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔۔؟؟”
“مجھے کھل کر بتاؤ۔۔ میں تمہاری ڈھال بن کر کھڑا ہوں یہاں شاہ زیب۔”
“بس میری بات کا مان رکھیں میں جلد از جلد شادی کروانا چاہتا ہوں چاندنی کی اور بہروز سے بہتر میری نظر میں کوئی نہیں۔۔”
شاہ زیب صاحب بات کو ٹال گئے تھے۔۔
“ہمم۔۔۔اگر تم ابھی نہیں بتانا چاہتے تو وقت لے لو شاہ زیب۔۔ پر اس پریشانی کو اپنے تک مت رکھو۔۔۔اور جہاں رہی شاہزین کی بات تو میں اسے کہوں گا بلکہ اسے مناؤں گا۔۔
تم گھر جاکر میرے آنے کا زکر مت کرنا۔۔۔”
۔
وہ گلے مل کر باہر پارکنگ کی طرف بڑھے تھے جب شاہ زیب اپنی گاڑی کی طرف جانے لگے تھے انکی گاڑی سے ایک ریڈ ڈاٹ جو ایک چھوٹا سا نقطہ گاڑی کے روف ٹاپ سے ہوتے ہوتے شاہ زیب صاحب کے ماتھے تک آگیا تھا۔۔۔
سنیپر نے ٹریگر پر انگلی رکھنے کی کی اور۔۔۔
“صاحب بچوں کے لیے کھلونے لے جاؤ۔۔۔”
“ہاہاہاہا انکے بچے اب بڑے ہوگئے۔۔”
یہ کہتے ہی ابراہیم اپنی گاڑی میں بیٹھ چکے تھے
“شٹ۔۔۔”
شاہ زیب کے پیچھے مڑ کر اس کھلونے دینے والے بچے کو پیسے دینے کے لیے جھکتا دیکھ اس کا نشانہ ایک دم سے ڈس بیلنس ہوگیا
دوسری گاڑی کا شیشہ ٹوٹا تو سب ہکے بکے رہ گئے۔۔۔
“یہ کیا تھا۔۔؟؟”
انہوں نے زیادہ غور نہیں کیا اور اس بچے سے جو کھلونے تھے لیکر گاڑی میں رکھ دئیے۔۔
“ہمارے گھر میں ایک بڑی بچی ہے جسے یہ پسند آئے گے۔۔”
اس بچے کو پیسے دے کر وہ بھی گاڑی میں بیٹھ گئے تھے اور کار سٹارٹ کردی تھی۔۔
۔
“گھر جانے سے پہلے کمشنر سے مل لیتا ہوں۔۔ حامد نے کہا تھا کہ ملنا ضروری ہے۔۔”
انہوں نے گاڑی مور دی تھی۔۔۔ ڈیش بورڈ کے لاک کو ان لاک کرکے وہ ضروری فائل بھی سیٹ پر رکھ دی تھی۔۔۔
“اس شخص کو پکڑوا دوں تو شاہزین اور چاندنی دونوں کو لونگ ٹریپ پر لے جاؤں گا۔۔۔”
۔
وہ آگے کی پلاننگ کئیے بیٹھے تھے جنہیں معلوم تھا کہ بھروسہ ایک پل کا نہیں۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ہم جارہے روڈ ڈرائیو پر۔۔۔”
“ہاہاہا بابا تو ہم باقی سب کو ساتھ۔۔۔”
“واپس دروازہ بند کر دو گاڑی کا ہم تینوں جارہے ہیں۔۔”
“آپ دونوں بہت بور کرتے اور میں تھرڈ ویل بن جاؤں گی۔۔”
“ہاہاہاہا ۔۔۔بس کرجائیں آپ سٹارٹ کریں ۔۔۔”
۔
ہنستے مسکراتے باتیں شروع کرتے ہوئے دو گھنٹے ہوگئے تھے
جب شاہزیب نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو چاندنی سو چکی تھی
“شاہ زیب۔۔ آج اچانک سے لونگ ڈرائیو۔۔۔؟؟”
“آج دل کررہا تھا تم دونوں کو ساتھ لے جاؤں ۔۔”
شاہزین کا ہاتھ جیسے ہی انہوں نے اپنے ہاتھ میں لیا تھا ڈرائیو کرتے ہوئے چاندنی کی آنکھیں کھل گئی تھی
“آہمم۔۔۔ دیکھا میں نے کہا تھا نہ تھرڈ ویل آپ دونوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ چھوڑ دیا”
“لو تمہاری ماں ہی گھبرا گئی ورنہ میں تو ہاتھ نہ چھوڑوں۔۔”
شاہ زیب صاحب نے پھر سے ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔۔
۔
انکی ہنسی تھم گئی تھی جب گاڑی کو پیچھے سے ٹکر ماری تھی دوسری گاڑی نے۔۔
“وٹ دا۔۔۔”
وہ برا لفظ کہتے کہتے چپ ہوئے تھے اپنی بیٹی کو دیکھتے ہوئے۔۔ اور غصے سے بریک لگانے کی کوشش کی جو نہ لگ سکی۔۔۔
“شاہ زیب بریک لگائیں۔۔۔شاہ۔۔”
“بریک نہیں لگ رہی۔۔۔ بریک۔۔۔یا اللہ۔۔ مجھے کیوں لگا کہ میں نے ان لوگوں سے پیچھا چھڑا لیا۔۔؟؟”
وہ خود سے بڑبڑائے تھے۔۔
“ناؤ لیسن ٹو مئ کئر فلی۔۔ بیوٹی فل لیڈیز۔۔۔”
وہ سپیڈ تیز کرکے ان دونوں سے مخاطب ہوئے تھے
“شاہ زیب کیا ہورہا ہے کون ہے وہ لوگ۔۔ اور۔۔”
“کچھ نہیں۔۔۔ میں گاڑی کو ہائی وے پر ڈال رہا ہوں۔۔۔۔ سپیڈ جیسے ہی کم کروں تم دونوں نے جمپ کرجانا ہے۔۔ہری اپ۔۔”
“ہم کہیں نہیں جا رہے آپ کو چھوڑ کر بابا۔۔ پلیز۔۔”
“تم دونوں کو میری قسم۔۔ بیگم میں بھی آجاؤں گا۔۔ ابھی گاڑی سے جمپ کر جاؤ۔۔ جلدی۔۔”
“چاندنی۔۔۔بیٹا میں بابا کے ساتھ ہوں۔۔ پلیز جمپ کرو۔۔۔”
“شاہزین۔۔۔”
اس گاڑی کے اندر جیسے وہ شور تھم گیا تھا۔۔ جب شاہزین نے مظبوطی سے شاہ زیب کا ہاتھ تھاما تھا۔۔
“میں بھی کہیں نہیں جاؤں گی۔۔۔”
“آپ سپیڈ کم کریں۔۔۔ میں دیکھتی ہوں ۔۔”
شاہزین بیک سیٹ پر آگئی تھی۔۔۔اب کے پیچھے کوئی گاڑی انہیں فالو نہیں کررہی تھی۔۔ اور انہوں نے چاندنی کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لیا تھا
“چاندنی بیٹا ہمیں کچھ نہیں ہوگا۔۔ جیسا بابا کہہ رہے ویسا کرو۔۔ ہم ون بائے ون جمپ کریں گے۔۔ اوکے۔۔۔”
“وعدہ کیجئے۔۔۔”
“وعدہ میری بچی”
“بابا۔۔۔ “
“میں یہیں ہوں۔۔۔”
شاہزین نے اسکے ماتھے پر بوسہ دیا تھا۔۔۔
کچھ لمحوں میں وہ تپتی سڑک پر گری ہوئی تھی۔۔ وہ جلدی سے اٹھی اور گاڑی کی طرف دیکھنے لگی۔۔
“جلدی سے جمپ کریں ماں۔۔ بابا۔۔۔”
وہ وہ گاڑی میں سے تو کوئی نہ نکلا۔۔۔ پر پیچھے سے آتی گاڑی نے چاندنی کو ٹکر مار کر دور پھینک دیا تھا۔۔۔
۔
“بابا۔۔۔ماں۔۔۔”
اسکے ہاتھ اسی طرف تھے اور سامنے بہت دور۔۔۔ وہ گاڑی جو ایک بلاسٹ کی طرح اڑ گئی تھی۔۔۔۔
“نوووو۔۔۔۔”
اور آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا تھا اسکے۔۔۔
۔