Dusri Aurat by Sidra Sheikh readelle50012 Episode 28
No Download Link
Rate this Novel
Episode 28
“میں نے دیکھا تھا اس عورت کو اس ظالم عورت کو میرے بچے کو مارتے ہوئے۔۔۔”
۔
رابیعہ ہر جھوٹ کا الزام چاندنی پر لگا رہی تھی اور چاندنی جو اپنے نئے وکیل کو دیکھ رہی تھی تو کبھی دروازے پر مہرما کو۔۔۔
“مہرما کہاں ہے۔۔؟؟”
اس نئے وکیل کو ایک بار پھر سے پوچھا تھا۔۔۔
“میڈم وہ کسی ضروری کام میں بیزی ہوگئی اس لیے انہوں نے مجھے بھیجا۔۔۔”
چاندنی سمجھ گئی تھی اس وکیل کے جھوٹ کو مگر وہ کیا کرتی ہیرنگ شروع ہوگئی تھی۔۔۔
“میں انکی ساس کو بلانا چاہوں گا۔۔۔”
۔
ایک ایک کرکے وہ لوگ وہ سچ بتا رہے تھے جو ان تین ماہ میں ہوئے تھے وکیل کے سوال رابیعہ کے کہنے کے مطابق چل رہے تھے۔۔۔ اور اس نے ان تین مہینوں میں جو سازشیں چاندنی کے خلاف کی اب ان پر چاندنی کا نام لگا کر اپنا نام کلئیر کرچکی تھی۔۔۔
“میں مسٹر بہروز حاکم کو بلانا چاہوں گا۔۔۔”
اور چاندنی کی نظریں اٹھی تھی۔۔۔
“مسٹر آپ بتانا پسند کریں گے کہ آپ کی دوسری بیوی نے ایسا کیوں کیا۔۔؟؟”
“کیوں کیا ایسا۔۔؟؟ کوئی اتنا نیچے کب گرتا ہے۔۔۔؟؟ جب وہ خود اس مقام پر نہیں پہنچ سکتا۔۔۔ وہ خود ماں نہیں بن سکتی تھی۔۔ وہ۔۔۔
میں اپنی پہلی بیوی کی طرف مائل ہونا شروع ہوگیا تھا پھر سے شاید اس لیے۔۔؟؟”
بہروز نے چاندنی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا تھا گویا چاندنی کے شک کو سچ ثابت کردیا تھا اس نے۔۔۔
پر کیا یہ سچ واقع سچ تھا یا چاندنی کو مکمل تباہ کرنے کے لیے بولا گیا ایک نیا جھوٹ۔۔؟؟
“چاندنی۔۔۔ ان تین مہینوں میں میں سچ مچ قائل ہوگیا تھا رابیعہ کی طرف اور ہوتا بھی کیوں نہ۔۔؟؟ اس میں وہ سب کچھ تھا جو تم میں نہیں تھا۔۔۔اور۔۔۔”
“بہروز۔۔۔ بات مکمل کرکے ختم کریں۔۔ یہ عدالت کا کمرہ ہے اچھا نہیں لگ رہا ہمارے میاں بیوی کے رشتے کو اس طرح پامال ہوتے دیکھ۔۔۔
جو جھوٹ سچ بولنا ہے جلدی بولیں ۔۔۔”
“میں بس اتنا چاہتا ہوں میرے بیٹے کو انصاف ملے۔۔۔ اور اس عورت کو عمر قید کی سزا دی جائے۔۔ اور اس بچی کو اس سے ملنے نہ دیا جائے کیا پتہ یہ غصے میں اسے بھی مار دے۔۔”
۔
“عدالت اپنا فیصلہ کچھ دیر میں سنائے گی۔۔۔”
۔
بریک جیسے ہی ہوئی چاندنی پھر سے ویٹنگ روم میں بھی اسکی نظریں گیٹ پر جارہی تھی
“مہرما کہاں رہ گئی ہو تم۔۔۔؟؟ تم نے وعدہ کیا تھا ۔۔۔”
وہ ابھی بات کررہی تھی جب رابیعہ اسکے سامنے آکر کھڑی ہوئی تھی
“کچھ دیر اور مس چاندنی پھر دیکھنا تم۔۔۔”
“مجھے اپنے رب اور اپنی سچائی پر یقین ہے۔۔۔”
“دیکھا بہروز۔۔۔ اسکے چہرے کی معصومیت پر تو کوئی بھی یقین کرلے۔۔۔”
“پر تمہارا شوہر یقین نہیں کررہا ۔۔ اسے تمہاری معصومیت پر سب سے زیادہ یقین ہے رابیعہ۔۔، مبارک ہو۔۔۔ تم شوہر کا یقین نہیں یہ دنیا جیتی ہو۔۔۔ پر کب تک۔۔؟؟”
۔
بہروز آگے بڑھ کر آیا تھا اور چاندنی کی آنکھوں میں دیکھا تھا۔۔
“میں تمہیں اس سزا کے ساتھ ایک اور تحفہ دینا چاہتا تھا چاندنی۔۔۔
ہماری طلاق کا تحفہ۔۔۔”
چاندنی پیچھے بینچ پر گر گئی تھی اور بہروز اسکی جانب جھکا تھا۔۔۔
اسے پیچھے سے اسکی فیملی والے روک رہے تھے۔۔۔ اسے منع کررہے تھے۔۔۔
“میں بہروز حاکم اپنے مکمل ہوش حواس میں تمہیں طلا۔۔۔”
“جج صاحب آگئے چلیں۔۔۔”
وکیل کی بات سن کر رابیعہ نے غصے سے دیکھا تھا اسے۔۔۔اور بہروز بنا بات مکمل کئیے اندر چلا گیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آپ کو بہت چوٹ آئی ہے مس مہرما۔۔۔”
“میں ٹھیک ہوں بس مجھے کورٹ لے جائیں پلیز۔۔۔”
“دیکھیں ڈاکٹر نے آپ کو ریسٹ کا کہا ہے۔۔”
وہ انجان شخص اسکے کندھے پر ہاتھ رکھے اسے لٹا چکا تھا۔۔۔
“نہیں مجھے جانا ہے۔۔۔پلیز۔۔۔”
ہاتھ سے نیڈل اتار کر پھینک دی تھی اور اٹھ کر وہ بمشکل ہے کھڑی ہوئی تھی۔۔۔
“اوکے۔۔۔اوکے۔۔۔ میں لے چلتا ہوں آپ نے جہاں جانا ہے۔۔۔ کم سے کم اتنا بتا دیں آپ اس سڑک پر زخمی حالت میں کیسے آئی۔۔؟؟”
“میں کچھ نہیں جانتی بس اتنا جانی ہوں میری گاڑی کے ساتھ کس گاڑی کی ٹکر ہوئی وہ پری پلینڈ تھا۔۔۔۔بس جلدی لے جائیں۔۔۔”
وہ شخص اپنے کوٹ کے بٹن کلوز کئیے مہرما کی جانب ہاتھ بڑھاتا ہے۔۔۔
“ہاہاہا اتنا مت سوچیں آپ کی منزل تک پہنچانے تک سہارا دوں گا۔۔۔”
اور مہرما نے اسکے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“عدالت اس فیصلے پر پہنچی ہے۔۔۔”
“جج صاحب۔۔۔۔۔۔”
ایک آواز آئی تھی معراج صاحب ویل چئیر کو سہارا دیتے ہوئے اندر تک لے آئے تھے۔۔۔
۔
“دادی۔۔۔۔”
سب نے حیرانگی سے دیکھا تھا۔۔۔
“جج صاحب ۔۔۔ہم نے بہت دیر کردی۔۔۔ مگر جو ثبوت ہمارے پاس ہیں وہ کسی بے گناہ کو سزا سے بچانے کے لیے کافی ہیں۔۔۔”
معراج صاحب سے وہ نیا وکیل اینولوو لینے لگا تھا جب مہرما کورٹ میں داخل ہوئی تھی۔۔۔
“میں دیر سے آنے کے لیے معافی چاہتی ہوں۔۔۔”
“مگر آپ کی جگہ آپ کا بھیجا ہوا وکیل۔۔”
“میں نے کسی کو نہیں بھیجا تھا۔۔”
اور گہما گہمی میں سب مہرما اور نئے وکیل کو دیکھنے لگے تھے۔۔۔
“آپ وکیل صاحب آپ سے تو بعد میں نمٹوں گی پہلے جج صاحب کو یہ کچھ ثبوت دیکھا دوں۔۔”
مہرما کا ہاتھ دادی نے پکڑ لیا تھا۔۔۔
“بس۔۔۔ یہ کافی ہوگا بیٹا۔۔۔”
دادی نے ٹیک لگا لی تھی اور چاندنی کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
“بیٹا میں۔۔۔۔ کیا کہوں چاندنی۔۔۔؟؟ بس اتنا کہنا چاہوں گی تم اکیلی نہیں ہو۔۔ یتیم نہیں ہو میں ہوں۔۔۔ چاہے کوئی نہ ہو۔۔۔”
معراج صاحب نے وٹنس باکس کے ساتھ دادی کی چئیر رکھ دی تھی اجازت لینے کے بعد۔۔۔
“مجھے بس واپس جانا ہے۔۔۔ میری بیٹی میرا انتطار کررہی ہوگی۔۔۔ اگر آپ نے سچ میں اپنے بیٹے سے پیار کیا ہے تو کہیں انہیں کیس واپس۔۔۔”
“تم جب اس کورٹ سے باہر جاؤ گی تو ایک عزت دار خود دار بیوی اور ماں کے روپ میں جاؤ گی۔۔۔”
اور پھر سے کاروائی شروع ہوئی تھی
“ہم اس ویڈیو ٹیپ کی اجازت نہیں دے سکتے یہ فیک بھی تو ہوسکتی ہے نہ۔۔؟؟”
رابیعہ نے اپکے وکیل کے کان میں کچھ کہا تھا جس پر اس نے بھی اونچی آواز میں آبجیکشن لگا دیا تھا۔۔۔
“فورینزک رپورٹ بھی ساتھ ہے سر۔۔۔”
جو دادی کے ساتھ عدالت میں داخل ہوا تھا اس نوجوان نے اٹھ کر جواب دیا تھا۔۔۔
۔
بہروز سوائے چاندنی کے سب کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ دادی پر اسے غصے بھی آرہا تھا مگر ضبط کئیے بیٹھا تھا اور رابیعہ کو دلاسے دہ رہا تھا
“دیکھا آپ کی دادی نے کیا کیا۔۔؟ ویسے تو کومہ میں تھی۔۔۔ بہروز ہمارے سازش کررہے ہیں یہ لوگ ہم۔۔۔”
رابیعہ کی بات کٹ گئی تھی جب ایک کارنر پر رکھی ہوئی سکرین جگمگائی تھی اور سامنے آرہے تھے سین نے ہر کسی کو اسکےی جگہ پر ساکن کردیا تھا۔۔۔
چونکہ یہ کورٹ کا پرائیویٹ سیکشن تھا کورٹ تو باہر کے لوگ نہیں تھے یہاں۔۔۔
بہروز جس نے رابیعہ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اسکی گرفت کمزور پڑ گئی تھی۔۔۔ہاتھ ٹھنڈے پڑنا شروع ہوگئے تھے اسکے۔۔۔
شایان کی آواز ایک دم سے کورٹ روم میں گونجی تھی۔۔۔
۔
۔
“رابیعہ ہاتھ چھوڑو اس کا۔۔۔”
مگر رابیعہ نے شایان کو بیڈ کی طرف پھینک دیا تھا
“بدتمیزی کررہی ہو۔۔؟ وہ بچہ ہے۔۔۔”
رابیعہ کو پیچھے کرکے چاندنی شایان کی طرف جھکی تھی۔۔ اور شایان روتے ہوئے اسکے گلے لگ گیا تھا
“کچھ نہیں ہوا بیٹا۔۔۔”
“ماں مجھے یہاں سے یہ جائیں مجھے آپ کے روم میں رہنا ہے۔۔”
“میں تمہارا منہ توڑ دوں گی واپس بیڈ پر چلو۔۔”
“آپ بہت بری ہیں بہت گندی ہیں آئی ہیٹ یو۔۔۔”
شایان اونچی آواز میں جیسے ہی چلایا تھا رابیعہ نے اسکے منہ پر تھپڑ مارا تھا جس کی وجہ سے وہ ٹیبل پر جا کر لگا تھا
دور کھڑی چاندنی اتنی زیادہ شاک ہوئی کہ اسے کچھ سمجھ نہ آئی رابیعہ نے ایک بار پھر شایان کو مارا جس پر چاندنی نے اسے کندھے سے پکڑ کر شایان سے دور کیا تھا اور رابیعہ کے منہ پر زور دار تھپڑ مارا تھا۔۔۔
“تمہیں شرم نہیں آتی۔۔؟ وہ بچہ ہے۔۔۔ اس قدر مار رہی ہو۔۔۔ ماں ہو یا جانور۔۔؟؟”
چاندنی نے شایان کو اپنے سینے سے لگا لیا تھا پر رابیعہ کے سر پر جنون سوار تھا اسے برداشت نہیں ہورہا تھا شایان کا چاندنی کی طرف پھر سے مائل ہونا۔۔۔
اس نے پھر شایان کو اپنی طرف کھینچا تھا۔۔۔
“وہ میرا بیٹا ہے اسے ماروں یا جان سے ماروں۔۔۔ وہ میرا بیٹا ہے۔۔”
“آپ میری ماما نہیں ہیں۔۔”
اس نے خود کو رابیعہ کی گرفت سے چھڑانے کی کوشش کی تھی
“شایان بیٹا۔۔۔پلیز چپ کرجاؤ۔۔میں بات کرتی ہوں۔۔”
رابیعہ کے چہرے پر شایان کے لیے غصہ دیکھ کر وہ خود بھی ڈر گئی تھی۔۔۔
وہ شایان کو ایک بار رابیعہ کی گرفت سے چھڑانا چاہتی تھی بس۔۔۔
“دیکھو رابیعہ وہ بچہ ہے۔۔۔”
“وہ میرا بچہ ہے۔۔۔ بولو مجھے ماما۔۔۔”
“نہیں بولوں گا۔۔۔ آپ نے چاندنی ماں سے دور کیا مجھے اب آپ کی کوئی بات نہیں مانوں گا۔۔۔”
اور ایک اور تھپڑ مارا تھا اتنی زور سے کہ وہ شیشے کے ٹیبل پر جاکر گرا تھا اور وہ شیشہ اس ننھے سے جسم میں چبھ گیا تھا۔۔۔
“پاگل عورت۔۔۔”
رابیعہ کو جیسے ہی دھکا دیا تھا دروازے پر جلدی سے آتے بہروز نے حیرانگی سے اندر کا منظر دیکھا تھا۔۔۔
چاندنی شایان کے زخمی وجود کو اپنے سینے سے لگائے بیٹھی تھی
“کچھ نہیں ہوگا بچے۔۔”
“ماں آئی لوو یو۔۔۔”
شایان نے چاندنی کے گال پر جیسے ہی بوسہ دیا تھا اسکا ہاتھ پیچھے گر گیا تھا
اسکا وجود ساکت ہوکر رہ گیا تھا۔۔
“شایان۔۔نووو پلیز نہیں۔۔۔”
“رابیعہ یہ سب۔۔شایان۔۔۔”
سب گھر والوں کو دیکھ کر رابیعہ کی جان نکل گئی ہو جیسے۔۔۔
“اور اس نے اونچی اونچی روتے ہوئے چاندنی کی طرف اشارہ کیا۔۔
“بہروز۔۔۔دیکھو۔۔۔ اس نے ہمارے بیٹے کے ساتھ کیا کیا۔۔۔ اسے زبردستی اپنے ساتھ لیکر جانے کی کوشش کررہی تھی اور اور جب شایان نے جانے سے انکار کیا۔۔۔
اس نے شایان پر ہاتھ اٹھایا اور مجھ پر بھی یہ دیکھو۔۔۔”
رابیعہ کی باتیں سب کو سنائی دی تھی پر چاندنی وہ تو ایک الگ دنیا میں گم ہوگئی تھی شایان کے بےجان جسم کو آغوش میں لئیے۔۔۔
“چاندنی۔۔۔؟؟”
بہروز نے جلدی سے شایان کو کھینچ لیا تھا
“بہروز جلدی سے ہسپتال لیکر چلو۔۔۔”
۔
“ماں آئی لو یو۔۔۔”
۔
وہ ایک سین بار بار چل رہا تھا مہرما کے پاس ریموٹ تھا۔۔۔
وہ بھی اشکبار تھی باقی سب کی طرح۔۔۔
۔
