Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 40

“آپ لوگ مجھے لیکر نہیں جائیں گے ۔۔۔؟؟”
ننھے شایان کی آواز نے جاتے ہوئے لوگوں کے قدم روک دئیے تھے پر کسی نے بھی شایان کو مڑ کر نہیں دیکھا تھا
“شایان بیٹا۔۔ ہم آج آئس کریم کھانے چلت گئے”
شاہ زیب صاحب ویل چیئر شایان کے سامنے لے گئے تھے پر وہ بچہ ان سب کو جاتے دیکھ آب دیدہ ہوچکا تھا
“نانو آپ کہیں انہیں میں انکے ساتھ یہاں آیا تھا ساتھ حویلی جانا چاہتا ہوں۔۔۔”
“شایاں بیٹا۔۔۔”
چاندنی نیچے بیٹھ کر اپنے بازو کھول کر اس بچے کو اپنے پاس بلاتی ہےاور وہ روتے ہوئے اسکے گلے لگ گیا تھا
“ماں مجھے بہت یاد آئے گی انہیں روک لیں۔۔۔”
اٹس اوکے بچے انہیں جانے دو ۔۔۔”
اور یہ سننے کی دیر تھی سب چلے گئے تھے۔۔۔
اور جب پاس سے بہروز جانے لگا تھا اسکا بازو پکڑ لیا تھا چاندنی نے وہ خاموشی سے بہروز کو اپنا پیغام دینے کی کوشش کررہی تھی وہ اسے کہنے کی کوشش کررہی تھی کہ بہروز جانے سے پہلے اس بچے کو گلے لگالے اسے مل کر جائے۔۔۔
“ایم سوری ۔۔۔۔”
چاندنی کی گرفت سے اپنا ہاتھ چھڑائے بہروز وہاں سے چلا گیا تھا پر شاہ زیب صاحب کا ہاتھ چومنے کے بعد۔۔۔۔۔
۔
وہ تینوں اس گھر میں اس دروازے کو دیکھتے رہ گئے تھے اور شایان کی رونے کی آوازیں اور بلند ہوئی تھی فضا میں
“کوئی مجھ سے محبت نہیں کرتا آپ بھی ایک دن مجھے چھوڑ دیں گی میں اتنا برا ہوں۔۔۔۔”
وہ روتے ہوئے اوپر کمرے کی طرف بھاگا تھا
۔
“شایان بیٹا ۔۔۔”
“چاندنی بیٹا اسے ابھی وقت دو۔۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آپ نے اس بچی کو نہیں مجھے مار دیا موم۔۔ میرا قصور کیا تھا۔۔؟؟ چاندنی کو سچ معلوم ہوگیا ہے پتہ چل گیا ہے اسے سب۔۔ختم کردیا ہے اس نے ہر رشتہ مجھ سے۔۔۔”
“وٹ۔۔۔؟؟ موم سلیمان کیا کہہ رہا ہے آپ نے چاندنی کی بیٹی چاہت کو۔۔؟؟”
مہرما اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔ والدہ اور سلیمان کی بات سن کر اس کے قدم ہی نہیں سانسیں بھی رک گئی تھی
“موم کہیں یہ جھوٹ ہے۔۔”
“یہ سچ ہے۔۔ بس بہت ہوگیا۔۔ جب سے وہ لڑکی آئی ہماری زندگیوں میں میرے دونوں بچے دور ہوگئے مجھ سے۔۔ پہلے چاندنی چاندنی لگائی ہوتی تھی پھر چاہت چاہت ہونا شروع ہوگیا۔۔۔میں کیسے اپنے بچے خود سے دور جاتے دیکھتی۔۔۔”
“میں آپ کے سپرد کرکے گئی تھی موم۔۔۔”
مہرما نے سرگوشی کی تھی۔۔۔
“بس یہی موقع چاہیے تھا مجھے۔۔۔ اس بچی کی کہانی یہاں ختم اور چاندنی کی کہانی وہاں ختم۔۔ پر سارا کھیل خراب ہوگیا۔۔ وہ سزا سے بچ گئی اور۔۔۔”
“اور بلا وجہ جان لے لی آپ نے۔۔؟؟ آپ کو شرم نہیں آئی۔۔؟؟ میں اب تک چپ تھا ڈیڈ کی وجہ سے پر آپ۔۔۔”
“موم آپ اتنی ظالم کیسے ہوگئی۔۔”
“جب تمہاری اولاد ہوگی اور وہ تم سے دور جائے گی پھر پوچھوں گی۔۔۔ “
“میں شرمندہ ہوں کی آپ ماں ہیں میری۔۔۔ چلی جائیں میری زندگی سے دور۔۔۔”
“کیسے دور چلی جائیں۔۔؟؟ میری بچی کی قاتل ہیں۔۔ آفیسرز۔۔۔”
بہروز کے روم میں آتے ہی پولیس فورس آگئی تھی۔۔۔
“تم دونوں نے پلان کیا تھا یہ۔۔؟؟ سلیمان۔۔؟؟ مہرما۔۔؟”
انہوں نے بے یقینی سے دیکھا تھا
“نہیں میم۔۔ یہ آپ کا بیٹا کب سے جانتا ہے مجال ہے جو اس نے کسی کو بتایا ہو ہم کب سے اس موقع کی تلاش میں تھے کہ کب آپ بتائیں گی آپ نے اعترافِ جرم کرلیا ہے۔۔”
اور لیڈی پولیس آفیسر لے گئی تھی وہ جو بار بار اپنے بچوں کا نام لے رہی تھی انہیں پکار رہی تھی۔۔۔
“سر۔۔۔ سر کو کچھ ہوگیا ہے وہ سیڑھیوں پر گر گئے ہیں۔۔۔”
“ڈیڈ نے دیکھ لیا ہے سلیمان جلدی سے ایمبولینس کو فون کرو۔۔۔”
پر سلیمان نے بہروز کا گریبان پکڑ کر دروازے کے ساتھ لگا دیا تھا
“اگر میرے ڈیڈ یا موم کو کچھ بھی ہوا تو میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں۔۔۔”
“تمہارے والد کے لیے دعا کروں گا۔۔۔ سلیمان پر تمہاری ماں نے میری بیٹی کی جان لی ہے۔۔۔ انہیں سزائے موت سے کم سزا نہیں ہونے دوں گا۔۔۔”
سلیمان کے ہاتھ اپنے گریبان سے چھڑا کو وہ دروازہ کھول کر باہر جاچکا تھا
“میں چاندنی کو تمہارے پاس رہنے نہیں دوں گا جس پر تم مان کررہے ہوں۔۔۔بہروز حاکم مارک مائی ورڈ۔۔۔”
“چاندنی میرے پاس نہیں ہے۔۔۔ میں ابھی بھی خالی ہاتھ ہوں۔۔ اگر ان سب کے باوجود وہ تمہیں اپناتی ہے تو میں خوش ہوں۔۔ مگرطلاق نہیں دوں گا۔۔
تم اسے خلالینے کے لیے راضی کرلینا۔۔۔”
بلیک گلاسزز لگائے وہ انکے گھر سے چلا گیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ڈیڈ اب آؤٹ آف ڈینجر ہیں۔۔سلیمان تم۔۔۔”
“میں اسے مار دوں گا۔۔ وہ جانتا ہے چاندنی اسے نہیں چھوڑے گی۔۔ اگر طلاق کے بعد چاندنی میرے پاس آئے گی جو کہ چاندنی لینا نہیں چاہتی تو کیوں نہ اسکی موت۔۔۔”
مہرا ہسپتال کے اس بنچ سے اٹھ کر اپنے بھائی کی طرف بڑھی تھی اور ایک زور دار تھپڑ مارا تھا اسے۔۔
“سلیمان تم جانتے بھی ہو کیا بات کررہے ہو۔۔؟؟ چاندنی کبھی بھی ایسے تمہارے پاس واپس نہیں آئے گی۔۔۔ ہوش کرو۔۔۔ موم جیسے بننے کی کوشش مت کرو مت بھولو موم نے جو کیا وہ تم بھی کرنے جارہے ہو۔۔”
“تو کیا کروں۔۔؟؟ میں پاگل ہوجاؤں گا۔۔ نہیں مرجاؤں گا چاندنی کے بغیر۔۔ میں نے اسے اتنی محبت کی ساتھ دیا یہ صلہ مل رہا ہے مجھے۔۔۔؟؟ وہ اس شخص پر پھر سے یقین کررہی ہے جو اسے ٹھکرا چکا ہے دھوکا دہ چکا ہے۔۔۔”
سر کو ہاتھوں میں پکڑے وہ وہی بیٹھ گیا تھا جب مہرما نے بھائی کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“سلیمان۔۔۔ یہ اللہ کے فیصلے ہیں۔۔ کب کسی کا دل پتھر ہوجاتا ہے اور کب اتنی نفرتوں کدرتوں کے بعد نرم ہوجاتا ہے۔۔ اللہ میاں بیوی کے رشتے میں نرمی ڈال دیتا ہے۔۔
وہ نکاح میں ہے۔۔ تم نے چاندنی کا دکھ دیکھا ایک بار بہروز کی جگہ خود کو رکھ کر سوچو۔۔
اس کے ساتھ بھی دھوکے ہوئے اس نے اپنے دو بچوں کو گنوا دیا۔۔
اب چاندنی اسے مل بھی جائے تو پچھتاؤا سکون لینے نہیں دہ گا۔۔۔”
۔
“چاندنی میری ہونی چاہیے تھی ۔۔ میں نے انتظار کیا اسکا۔۔۔”
ایک ایک کرکے اسکی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے۔۔۔وہ اتنا کمزور آج سے پہلے کبھی نہ تھا۔۔۔ اور اسے تسلی دینے کے لیے کوئی الفاظ نہ تھے مہرما کے پاس۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“اب میری کیا ضرورت ہے ماں۔۔۔مجھے نہ روکیں۔۔۔”
بہروز پہلے تو والدہ اور چچی کو جنید کے ساتھ ائیر پورٹ پر دیکھ کر حیران ہوا تھا پھر خاموش ہوکر ہوگیا تھا اپنی بات مکمل کرکے
“اچھا پھر وہی غلطی کرنے جارہے ہو۔۔؟؟ اب صرف شایان نہیں اس زندگی کو بھی چھوڑ کرجا رہے ہو جو ابھی تک دنیا میں نہیں آئی۔۔”
“وٹ۔۔؟؟”
اسکے ہاتھ سے بیگ گرگیا تھا۔۔
“چاندنی پریگننٹ ہے بیٹا۔۔۔ مجھے ابھی جنید نے بتایا تم بنا کسی کو بتائے پاکستان چھوڑ کرجارہے ہو۔۔۔ پہلے تو یقین نہیں آیا پر اب۔۔ بہروز تمہارے لیے اتنا اسان ہے اولاد کو چھوڑ جانا۔۔؟؟”
“نہیں۔۔۔وللہ۔۔۔ ماں۔۔ میں کیونکر ایسا چاہوں گا۔۔؟ کیا آپ سچ بول رہی ہیں۔۔؟؟
یا اللہ۔۔ میں ابھی آیا۔۔۔”
وہ ائیر پورٹ سے باہر بھاگ گیا تھا۔۔
“ہاہاہا۔۔۔ کہا تھا نہ یہ کہیں جا نہیں پائے گا۔۔۔”
زینب بیگم آنسو صاف کرتے ہوئے وہیں بیٹھ گئی تھی جہاں کچھ لمحے پہلے بہروز بیٹھا ہوا تھا۔۔۔
“بھابھی کیا چاندنی معاف کرپائے گی۔۔؟؟ اور یہ سب۔۔کس سے پوچھ بھی نہیں سکتے ہم تو۔۔۔”
“اللہ پر چھوڑ دیا تھا میں نے سب کچھ۔۔ اللہ بہتر کرے گا۔۔ مجھے یقین ہے۔۔
اور ابھی تو پوری زندگی پڑی ہے چاندنی سے معافی مانگنے کے لیے۔۔
ہم نے جتنا دل اس کا دکھایا ہے وہ زخم ایک دم سے نہیں بھر سکتے۔۔۔”
۔
۔
کچھ دیر میں بہروز شاہ زیب صاحب کے گھر پہنچ گیا تھا ملازمہ نے جیسے ہی دروازہ کھولا بہروز نے ایک ہی نام لیا تھا
“چاندنی باجی کچن میں ہیں۔۔”
“وہ کچن کی طرف بھاگا تھا
“آج پاستہ کھانا یا میرے ہاتھوں کی بریانی مسٹر شایان۔۔؟؟”
شایان کو کاؤنٹر پر بٹھا کر وہ دوسری طرف جانے ہی لگی تھی جب تیز قدموں سے بہروز کچن میں داخل ہوا اور آتے ہی چاندنی کو اپنے گلے سے لگا لیا تھا۔۔
۔
۔”تھینک یو۔۔۔تھینک یو۔۔۔ میری جان۔۔”
“وٹ۔۔۔ بہروز۔۔”
بہروز اسکے گالوں پر ماتھے پر بوسہ دینا شروع ہوگیا تھا جب چاندنی نے زبردستی اسے پیچھے کیا تھا
“بہروز کچھ شرم کریں کم سے کم دیکھ تو لیں بچہ بیٹھا ہوا ہے۔۔۔”
چاندنی کا منہ لال ہوگیا تھا شایان کا کھلا منہ دیکھ کر۔۔
“چاندنی وہ میں۔۔”
“گیٹ آؤٹ۔۔۔”
“پر چاندنی۔۔۔”
آؤٹ۔۔۔”
اس نے سپون آگے کرکے جیسے ہی اشارہ کیا وہ باہر چلا گیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“دادا جان۔۔۔”
“بس بہروز حاکم تم نے ہمارے لوٹا ہوا مال دولت واپس دلوا دیا بڑا احسان کیا اب واپس چلے جاؤ یہاں سے۔۔۔”
دادا جی نے بہروذ کو اوپر روم میں جانے سے روک دیا تھا
“دیکھیں دادا جان میں آپ کے سب فیصلوں کی قدر کرتا ہوں پر میں اب کچھ بھی چھوڑ کر نہیں جا سکتا خاص کر اپنی بیوی کو اس حالت میں۔۔۔”
“اس حالت میں ۔۔؟ کس حالت میں ۔۔۔؟”
“وہ امید سے ہے ابا جی۔۔۔”
زینب بیگم جلدی سے بولی
“کیا اس نے بتایا تھا۔۔؟”
“نہیں ابا جان مجھے سمجھ آگئی تھی۔۔۔”
“ایسا کیسے ممکن ہے یہ دونوں۔۔”
دادا جان کچھ پل کو کنفیوز ہوئے اور پھر طیش میں بہروز پر ہاتھ اٹھا دیا انہوں نے۔۔۔۔
“زبردستی کی تم نے اسکے ساتھ۔۔۔؟؟ بہروز حاکم۔۔۔”
اپنی چھری اٹھا کر زور سے بہروز کے سر پر ماری تھی
“میں غلط تھا میرا بیٹا بھی غلط تھا ہم سب غلط تھے تمہیں لیکر بہروز۔۔۔ بتاؤ کیا کیا آج تک تم نے۔۔؟؟ کیا کبھی کوئی خوشی دی ہمیں۔۔؟؟ ہماری خوشیاں بھی چھین لی میرا بیٹا چلا گیا اور اس حویلی کی جان۔۔۔وہ بھی چلی گئی اس بچی میں تھی جو۔۔”
نہ کسی نے دادا جی کا ہاتھ روکا تھا نہ بہروز نے افف کی تھی وہ سر سے چہرے سے لہو لہان ہوگیا تھا۔۔۔ اور اینڈ پر اسکا ہاتھ پکڑ کر دادا جی نے اسے حویلی سے باہر نکال دیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“باجی بہروز بھائی بہت بری اور زخمی حالت میں پڑے ہیں گھر کے باہر بنچ پر۔۔”
“کیا مطلب۔۔؟؟”
چاندنی نے کپبرڈ پر کپڑے رکھنا بند کردئیے تھے اور ایک نظر شایان کو دیکھا تھا جس کی نظر اس ملازمہ کی بات پر تھی
“کیا ہوا ہے بابا کو۔۔؟ میں ابھی انہیں دیکھ کر آتا ہوں۔۔”
وہ باہر کی طرف بھاگ کر جانے لگا تھا جب شایان کا ہاتھ چاندنی نے پکڑا تھا
“بیٹا ابھی نہیں۔۔۔ پہلے مجھے بات سننے دو پھر م دونوں جائیں گے۔۔”
وہ ملازمہ کو باہر جانے کا اشارہ کرچکی تھی
اور خود بھی باہر آگئی تھی شایان کو یہ یقین دلا کرکہ وہ دونوں بہروز کے پاس جائیں گے۔۔
۔
“میں نے پہلے بھی کہا ہے بچے کے سامنے کوئی ایسی بات نہ کیا کرو۔۔اب بتاؤ کیا ہوا ہے۔۔۔”
“بہروز بھائی کو دادا جان نے بہت بے رحمی سے مارا۔۔ اپنی چھری سے اور اب وہ زخمی حالت میں باہر حویلی کے سامنے والے بنچ پر بیٹھے ہوئے ہیں۔۔ ڈرائیور نے ہسپتال لے جانے کا کہا پر وہ نہیں گئے۔۔”
“اور تمہیں کیسے معلوم ہوا۔۔؟ یہ خبر جھوٹ بھی تو ہوسکتی ۔۔دادی جی کیوں مارنے لگے اپنے لاڈلے پوتے کو۔۔؟؟”
“بہروز بھائی نے حویلی چھوڑ کرجانے سے منع کردیا تھا”
“کیوں۔۔؟؟”
اس نے بےساختہ پوچھا جس پر ملازمہ کی آنکھوں میں ہمدردی چھلکی
“انہوں نے آپ کو چھوڑ کر جانے سے منع کردیا تھا وہ کہہ رہے تھے کہ آپ اس بار وہ غلطی نہیں کریں گے آپ کو اور آنے والے بچے کو چھوڑ کر وہ کہیں نہیں جائیں گے۔۔۔”
“اننف۔۔۔ جاؤ اب۔۔کچن کا کام دیکھو اور حویلی کی ملازمہ سے کم بات کیا کرو۔۔”
ملازمہ تو کچن میں چلی گئی پر چاندنی واپس شایان کے پاس جانے کے بجائے ٹیرس پر تیز قدموں سے جا پہنچی تھی اور حویلی کی جانب جیسے ہی دیکھا رات کے اس پہر سنسنان سڑک پر اس بنچ پر اسے بہروز دیکھائی دیا تھا پر بیٹھا ہوا نہیں لیٹا ہوا۔۔۔ سر کے اوپر بڑی سی لائٹ اسکے زخموں کو واضح کررہی تھی اور کچھ دیر وہی کھڑی رہی اور پھر واپس روم میں آئی تھی شایان کو اداس دیکھ کر اس نے اسکے کان میں کچھ کہا تھا اور وہ دونوں روم سے باہر سیدھا کچن کی طرف گئے تھے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بابا کھانا۔۔۔”
“ہاں۔۔۔؟؟؟تم اس وقت یہاں کیا کررہے ہو۔۔جاؤ واپس گھر۔۔۔”
بہروز بمشکل ہی اٹھ کر بیٹھا تھا چاندنی ایک درخت کے پیچھے چھپ گئی تھی اور شایان کو بہروز کی طرف بھیج دیا تھا
“آپ کے لیے کھانا لیکر آیا ہوں۔۔پلیز کچھ کھا لیں۔۔”
“مجھے نہیں کھانا۔۔جاؤ یہاں سے۔۔”
“پلیز۔۔۔پلیز۔۔۔”
ایک نوالہ توڑ کرجیسے ہی شایان نے اسکے منہ کی طرف دیکھا تھا بہروز نے غصے سے اسے دیکھا تھا
پر اسکے پیچھے اس درخت پر نظر جاتے ہی بہروز نے منہ بند کرلیا تھا
“پلیز۔۔۔”
نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے منہ کھول لیا تھا
“آپ کو دادا جان نے کیوں مارا ہے بابا۔۔؟؟”
“کیونکہ میں نے غلطی کی تھی بہت بڑی غلطی۔۔۔”
“اگر میں کوئی ایسی غلطی کروں گا تو میری بھی پٹائی ہوگی۔۔؟؟”
“اللہ نہ کرے تم میرے جیسے گناہ کرو۔۔۔ اب جاؤ میں نے کھا لیا ہے۔۔۔”
بہروز نے ٹرے واپس اسے تھما دی تھی شایان دو قدم آگے بڑھا تھا جب بہروز نے اسے آواز دے کر روکا تھا
“کھانے کا شکریہ۔۔ اب اپنی ماں سے کہو۔۔ میرے زخموں پر مرہم بھی لگا دیں۔۔ درد ہورہی ہے۔۔۔”
“اووپس۔۔۔۔ آپ کو کیسے۔۔۔”
“اب جاؤ رات بہت ہوگئی۔۔۔”
شایان کے ماتھے کو چوم کر اسے واپس جانے کا کہہ دیا تھا اور کچھ سیکنڈ کے بعد چاندنی سامنے آگئی تھی۔۔۔
“مجھے لگا تھا الٹے پاؤں چلی جاؤ گی۔۔۔ اب آگئی ہو تو زخموں پر مرہم لگا کر کچھ پل کا سکون بخش دو۔۔۔ ابھی سفر بہت لمبا ہے۔۔۔”
بہروز کے لہجے میں درد انتہا کا تھا کہ چاندنی کی آنکھیں بھیگ چکی تھی بہروز نے آنکھیں بند کرکے سر پیچھے پھینک دیا تھا ٹیک لگا چکا تھا وہ اور چاندنی آہستہ سے پاس آکر بیٹھ گئی تھی۔۔
“آپ کو جب معلوم ہے کہ یہاں یہ ہوگا تو پھر کیوں واپس آتے ہیں۔۔؟؟ چھوڑ جائیں۔۔”
ماتھے سے خون صاف کرتے ہوئے پوچھا تھا اس نے۔۔۔
“میں نے بھی سوچا تھا چلا جاؤں خاموشی سے۔۔ پھر یہ خبر مل گئی چاندنی۔۔۔”
“کونسی خبر۔۔۔”
چاندنی کی بات مکمل نہ ہوسکی تھی جب بہروز نے اسکے پیٹ پر اپنا ہاتھ رکھا تھا
“میں پہلے ایک بار یہ غلطی کرچکا ہوں اب اپنی اولاد کو چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔۔۔
چاہے سڑکوں پر کیوں نہ رہنا نہ پڑے۔۔”
بہروز کی آنکھیں اسکی آنکھوں پر مرکوز تھی جو چہرے سے خون کو صاف کرتے کرتے رکی تھی
“بہروز۔۔۔میں ۔۔۔”
“چاندنی آبورشن والا لفظ میں نے استعمال کیا اور جب جب وہ یاد آتا تو ایک موت مرتا ہوں۔۔
خدارا تم کچھ ایسا مت کہنا۔۔ اللہ کی نعمت ہے اولاد۔۔ چاہت۔۔ چاہت آئی تھی خواب میں اس نے کہا بابا میں نے آپ کو معاف کردیا۔۔۔”
“پر میں چاہت نہیں ہوں بہروز اور میں آپ کو کبھی معاف بھی نہیں کروں گی۔۔۔”
۔
“چاندنی۔۔۔”
وہ اٹھ گئی تھی
“جن زخموں پر مرہم لگانا میرے بس میں تھا وہ میں نے کردیا بہروز انسانیت کے ناتے۔۔
اب باقی زخموں پر مرہم کے لیے ہسپتال جائیں آپ
خدا حافظ۔۔۔”
وہ کہہ کر چلی گئی تھی۔۔۔
۔
“تم اتنی نرم ہوئی ہو اللہ اور نرمی پیدا کردے گا ہمارے بچے کی پیدائش کے بعد انشاللہ۔۔۔”
۔
اب اسکے چہرے پر سکون تھا اطمنان تھا۔۔۔
۔