Dusri Aurat by Sidra Sheikh readelle50012 Episode 04
No Download Link
Rate this Novel
Episode 04
“بہروز ہم باہر چلیں گے آج۔۔۔اور۔۔۔پلیز پلیز۔۔۔”
“ہاہاہا اچھا بابا چلیں گے ۔۔پہلے کھانا کھاؤ اور وعدہ کرو پھر تم ڈرنک نہیں کرو گی۔۔”
“تم بھی وعدہ کرو مجھے پھر اکیلا نہیں چھوڑو گے بہروز۔۔۔”
“میں وعدہ۔۔۔”
بہروز کا موبائل بجا تھا
“ایک منٹ۔۔۔”
“کس کا میسج آگیا اتنے سنجیدہ ہوگئے۔۔”
“نہیں میری کزن کا میسج۔۔ وہ میسج کرتی تو نہیں پر۔۔۔”
بہروز نے کہتے کہتے ویڈیو پر کلک کیا تھا اور کچھ سیکنڈ کی ویڈیو نے اسکے چہرے کے تاثرات بدل دئیے تھے۔۔۔
“وٹ دا ہیل۔۔۔یہ کیا بےحیائی ہے۔۔۔”
وہ ایک دم سے کرسی سے اٹھ گیا تھا
“بہروز کیا ہوا۔۔؟؟”
“مجھے حیرت شاہ زیب چچا پر ہے۔۔۔ ڈسگسٹنگ۔۔۔”
“ہوا کیا بتاؤ تو سہی۔۔۔؟؟”
“ہر بات تمہیں بتانا ضروری ہے۔۔؟؟”
وہ غصے سے کہتا چلا گیا تھا وہاں سے۔۔
“ارئے اسے کیا ہوا۔۔۔؟؟ بائیپولر بنتا جارہا ہے۔۔۔”
وہ بریک فاسٹ کرنے لگی تھی۔۔اسے فکر نہیں تھی بہروز کے پیچھے بھاگنے جتنی پاگل نہیں تھی وہ۔۔۔ وہ بہروز حاکم کو اپنے اشاروں پر بھگانا چاہتی تھی بس۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“شاہزین۔۔۔ میری بچی۔۔۔”
فہمیدہ صاحبہ بیٹی کو گلے لگائے اشکبار ہوئی تھی
“اچھا بس بیٹی کو ملنا ہے داماد کی کوئی ویلیو ہی نہیں۔۔؟؟”
شاہ زیب صاحب نے سب سے زیادہ اپنی بیوی کو حیران کیا تھا
“شاہ زیب۔۔۔ افف اللہ۔۔”
“افف اللہ کیا۔۔ ماں جی یہ آپ کی بیٹی مجھے اکیلا چھوڑ کر آگئی تھی”
“جھوٹے۔۔۔ میں چاندنی کو بھی چھوڑ کر آئی اکیلے کب تھے۔۔۔”
وہ دونوں میاں بیوی آمنے سامنے تھے انکی نوک جھوک نے سب کو اور ایکسائیٹڈ کردیا تھا
“ابراہیم دیکھ لو اپنی بہن کو اب شوہر کو جھوٹا بھی کہہ رہی۔۔۔”
“یا اللہ تم دونوں ہمیں بھی ملو گے یا لڑتے رہوں گے۔۔۔”
“چھوڑیں اپنی بیٹی کو۔۔۔ مجھے ملیں۔۔۔۔”
شاہزین کو پیچھے کئیے وہ اپنی ساس کے گلے لگے تھے اور سب کو ملتے ملاتے وہ انکے ساتھ بیٹھ چکے تھے اور شاہزین کھلے منہ کے ساتھ وہیں حال میں کھڑی رہ گئی
“ہاہاہاہا۔۔۔ ہوتا ہے ہوتا ہے میڈم۔۔۔”
ابراہیم صاحب کی بیوی اور شاہزین کی بھابھی نے ہنستے ہوئے شاہزین کا منہ بند کیا تھا
“انہیں میں چاندنی کے پاس چھوڑ کر آئی تھی بھابھی۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔ پر کیا کریں ایسی حسین بیوی کو بھی اکیلا چھوڑا نہیں جا سکتا۔۔۔”
“بالکل سہی کہا بھابھی۔۔”
پیچھے سے شاہ زیب کی آواز پر شاہزین کے دونوں گال لال ہوگئے تھے۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔ چلو میری شہزادی۔۔۔۔”
اب کے بھائی شاہزین کو اپنے ساتھ اندر لے گئے تھے۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کوئی فریاد تیرے دل میں دبی ہو جیسے۔۔۔
تو نے آنکھوں سے کوئی بات کہی جیسے۔۔۔”
۔
“واااوووو چاندنی جی۔۔۔۔کیا آواز ہے۔۔۔”
“نوازش نوازش۔۔۔”
چاندنی نے صوفے سے نیچے اترتے ہوئے شرٹ کے کالر کو پکڑتے ہوئے کہا تھا۔۔۔
شام کے اس پہر بچے ٹیرس پر روزمرہ کی طرح گپ شپ لگا رہے تھے۔۔ جب صفوان بھی وہاں آگیا تھا اب کے ہاتھ پر چاندنی کی نظریں گئی تو صفوان نے پٹی بندھے ہاتھ کو اوپر کرکے دیکھا دیا تھا اسے۔۔
“اب میں ٹھیک ہوں ڈونٹ وری ۔۔۔”
وہ کہتے ہی دوسرے کونے پر چلا گیا تھا ٹیرس کے۔۔۔
۔
“چاندنی پلیز تھوڑا سا مکمل تو کرو بہروز بھائی آن لائن ہوئے ہیں یہ ان کا فیورٹ سونگ ہے۔۔”
صائمہ باجی کی بات پر چاندنی کی سانسیں تیز ہوگئی تھی اس میں ہمت نہ رہی کہ وہ موبائل سکرین پر اس شخص کو دیکھ لے جسے اتنے سالوں سے دیکھا نہیں تھا اس نے۔۔۔
۔
“پلیز چاندنی آپی۔۔۔”
سب ہی چلانے لگے تو چاندنی نے آنکھیں بند کرکے کھولی تھی۔۔۔
“راہ چلتے ہوئے اکثر یہ گماں ہوتا ہے۔۔۔
وہ نظر چُھپ کے مجھے دیکھ رہی ہو جیسے۔۔۔”
۔
اسکی نظریں کہیں اور تھی اور صفوان کی نظریں اس پر۔۔۔ وہ کبھی صائمہ کے ہاتھ میں پکڑے موبائل کو دیکھ رہا تھا کبھی چاندنی کو۔۔
“ایک خواہش کی تھی وہ بھی ادھوری رہ گئی۔۔۔”
سرگوشی پر آنکھ سے آنسو کا ایک قطرہ گرا تو اس نے سرد آہ بھری تھی
۔
“ایک لمحے میں سمٹ آیا۔۔ صدیوں کا سفر۔۔۔
زندگی تیز۔۔ بہت تیز چلی ہو جیسے۔۔۔”
۔
“صفوان بھائی چائے۔۔۔”
تھنکس۔۔۔”
۔
وہ نظریں نہیں ہٹا پایا تھا چاندنی سے۔۔۔ایک پل کو بھی۔۔۔
۔
“اس طرح پہروں تجھے سوچتا رہتا ہوں میں۔۔
میری ہر سانس تیرے نام لکھی ہو جیسے۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بہروز نے سب سے فون پر بات کی سوائے میرے۔۔۔”
“اففو۔۔۔ تمہیں بتایا نہ سگنل ویک تھے بند ہوگیا۔۔ میں اب کروا دوں۔۔؟”
“کروا دیں۔۔”
اور صائمہ کے چہرے کے رنگ اڑھ گئے تھے انہیں لگا تھا کہ چاندنی شرما کر بات کرنے سے منع کردے گی۔۔ کیونکہ وہ بہروز کا میسج پڑھ چکی تھی جس میں اس نے اپنے بہن کو سختی سے منع کیا تھا چاندنی سے بات کروانے پر۔۔
وجہ صائمہ کو بھی نہیں معلوم تھی۔۔
“نہیں اٹھائیں گے دیکھ لیجئے گا۔۔”
اور ویسا ہی ہوا تھا۔۔ بہروز نے تنگ آکر اپنی ہی بہن کی آئی ڈی کو بلاک کردیا تھا۔۔۔
۔
یہاں اس رات چاندنی نے افسردہ ہوکر رو کر گزاری اور وہاں بہروز رابیعہ کو ڈنر ڈیٹ پر لے کر گیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ ماہ بعد۔۔۔۔۔”
۔
۔
“چاندنی بیٹا پہلے یہ کھا لو۔۔۔”
“نہیں بس بڑی ماں بس۔۔۔ باقی کا زرا میرے معصوم سے کمزور ابو کو بھی کھلا دیں۔۔”
معراج صاحب کے بازو کو پکڑے اپنی کرسی پر بٹھا دیا تھا چاندنی۔۔۔
“معصوم۔۔؟؟اور یہ۔۔”
زینب بیگم نے طنزیہ انداز میں کہا تھا
“دیکھ لیں بیگم بچوں کے سامنے کہہ رہی ہیں۔۔ بھول گئی میری معصومیت شادی کے بعد ایک ہفتہ تو میں اپنے ہی بیڈروم آنے سے ڈرتا تھا
ہاہاہاہا۔۔۔
ڈائننگ روم میں موجود سب بچے بڑے ہنس دئیے تھے معراج صاحب کی بات سن کر۔۔۔ وہ جتنے سخت تھے کبھی کبھار چاندنی کے ساتھ مل کر ایسا شغل کرلیا کرتے تھے۔۔
۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔ بڑے ابو پہلی بال میں سکسر۔۔؟؟ واووو۔۔۔”
“واووو کی بچی ابھی بتاتی ہوں۔۔۔”
زینب کان پکڑنے لگی تھی چاندنی کے جب معراج صاحب درمیان میں کھڑے ہوگئے۔۔
“خبر دار میری بیٹی کو کچھ کہا بیگم۔۔۔”
“ورنہ کیا مسٹر معراج۔۔۔؟؟”
“ہاہاہاہا تایا ابو تائی امی کی لڑائی دیکھنے والی ہوتی۔۔۔”
“چاندنی پاپکارن تو منگواو۔۔۔”
او یہ سننے کی دیر تھی دونوں ہی ان بچوں کو غصے سے دیکھنے لگے۔۔۔
“اور غصہ کرتے ہوئے بھی کیوٹ لگتے نہ۔۔۔ ؟؟ کیوٹ کپل۔۔۔بائے۔۔۔بائے۔۔۔”
چاندنی ان دونوں کو آنکھ مارتے ہوئے چلی گئی تھی واپس روم میں۔۔۔
“چاندنی کی بچی۔۔۔”
“ہاہاہا آپ دونوں نے ہی بگاڑا اب بھگتے۔۔۔”
شاہزین بھی کہتے ہوئے کچن میں چلی گئی تھی۔۔۔
“ہونہہ۔۔۔۔”
اور جب معراج صاحب کی بیگم پاؤں پٹک کر منظر سے غائب ہوئی انہوں نے لاچارگی سے چھوٹے بھائی شاہزیب کو دیکھا اور پھر اپنے والدین کو۔۔۔
“ہماری طرف تو دیکھنا بھی مت۔۔۔”
“ہاہاہا۔۔۔۔ آپ کی لاڈلی نے مجھے بھی بہت دفعہ کمرے سے آؤٹ کروایا۔۔۔”
شاہزیب اور ہنس دیا تھا۔۔۔
۔
یہ روٹین تھی اس گھر میں۔۔۔ چاندنی کی شرارتوں سے حاکم ویلا گونج اٹھتا تھا۔۔۔
اور وہ جگمگاتا ستارہ تھی اس گھر کا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تو چاچو آپ نے کوئی ایکشن کیوں نہیں لیا۔۔؟؟ شاہ زیب چاچو نے کیوں ایسا کیا۔۔؟؟
اب بابا کیسے ہیں میں رات کی فلائٹ سے واپس۔۔”
“نہیں بیٹا تم نہ آنا معراج بھائی ٹھیک ہے اب۔۔۔ بہروز ہمیں تو خود سمجھ نہیں آرہی شاہ زیب بھائی کیا چاہتے ہیں۔۔؟؟ انہیں کیا لالچ پڑ گئی کہ حصہ مانگنے کی باتیں کررہے ہیں۔۔
گھر میں لڑائی ڈالی ہوئی معراج بھائی کی خراب طبیعت کے ذمہ دار بھی یہ لوگ ہیں۔۔”
وہ شخص اندھیرے میں ایک کارنر میں کھڑے بہروز سے فون پر بات کررہا تھا جب کوریڈور کی لائٹ آن کی تھی پیچھے سے اور وہ شخص گھبرا گیا تھا
“وجدان۔۔؟؟ اپ اندھیرے میں کھڑے کیا کررہے ہیں۔۔؟؟”
“ششش۔۔۔۔”
“اچھا بہروز میں ابھی بھائی کے پاس جا رہا ہوں بیٹا پلیز کسی کے سامنے ذکر مت کرنا کہ میں نے بتایا تمہیں کچھ بھی۔۔۔پلیز۔۔۔”
“آپ کیوں پریشان ہورہے ہیں۔۔ کیا اس قدر تنگ کیا ہوا ہے۔۔؟؟ میں نہیں بتاتا۔۔۔ آپ مجھے ٹائم ٹو ٹائم رپورٹ کردیا کریں۔۔۔ تھینکس ۔۔۔”
“خدا حافظ بیٹا۔۔”
بہروز فون بند کرگیا تھا۔۔۔
“غرور میں سب سے آگے ہے۔۔۔”
وجدان نے غصے سے موبائل فون کو دیکھا۔۔ اور پھر اپنی بیوی کو۔۔
“وجدان آپ۔۔”
“کمرے میں چل کر بات کریں گے۔۔۔”
وہ کہتے ہوئے چل دئیے اور پیچھے فرحین انہیں فالو کرتی ہوئی جیسے ہی روم میں داخل ہوئی وجدان صاحب نے دروازہ لاک کردیا تھا
“وجدان کیا ہوا ہے۔۔؟؟ آپ نے بہروز سے جھوٹ کیوں بولا۔۔؟ معراج بھائی تو بالکل ٹھیک ہیں۔۔۔”
۔
“شش۔۔۔ آہستہ بولا۔۔ کوئی سن لے گا۔۔۔”
“کیوں ڈر رہے ہیں۔۔؟؟ بات کیا ہے۔۔؟؟”
“بات کچھ نہیں۔۔۔ بس ۔۔”
“بس۔۔۔؟؟” آپ ایک بھائی کے خلاف کررہے بہروز کو۔۔جھوٹ بولا۔۔
شاہ زیب بھائی صاحب نے تو آج تک ایک پھوٹی کوری نہ لی جائیداد سے۔۔ وہ خود محنت کررہے ہیں آپ اپنے ہی بھائی کو کیسے نیچے دیکھا سکتے۔۔؟؟ بہروز کے سامنے اتنا گھٹیا۔۔”
“چپ۔۔۔”
وجدان صاحب کے اٹھتے ہاتھ کی تو توقع تھی ہی نہیں فرحین کو وہ چہرے پر ہاتھ رکھ چکی تھی جہاں ابھی اسکے شوہر نے تھپڑ مارا پہلی بار ہاتھ اٹھایا۔۔
“وجدان۔۔؟؟”
“بکواس بند کرو اپنی۔۔ ساری زندگی تلوے چاٹ کردیکھ لئیے۔۔ کیا ملا مجھے۔۔؟؟
سب کچھ تو شاہ زیب کا ہونے والا ہے۔۔ کبھی وہ آگے کبھی اسکی بیٹی آگے۔۔۔ کبھی اسکی بیوی آگے۔۔۔
میں چپ رہا۔۔ کچھ نہیں کہا۔۔ اب جب میرے بیٹے نے ایک خواہش ظاہر کی وہ خوشی بھی چھین لی معراج بھائی نے۔۔ اب میں دیکھتا ہوں بہروز کیسے اپنائے گا۔۔۔
اسکے پاکستان آنے سے پہلے پہلے اتنی نفرت بھر دوں گا ان باپ بیٹی کے لیے کہ وہ شادی سے انکار کردے گا دیکھ لینا۔۔۔”
“وجدان۔۔”
اسکی آنکھیں بھر آئی تھی پر وجدان صاحب پر غصہ اتنا سوار تھا کہ وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو چکے تھے اس وقت۔۔
“ایک لفظ نہیں جیسا کہتا ہوں اب تم ویسا ہی کرو گی۔۔ ورنہ۔۔۔”
“ورنہ کیا۔۔؟؟”
“میں تمہیں طلاق دہ دوں گا فرحین۔۔۔ “
“وجدان۔۔۔”
وہ بنا کچھ سنے روم سے چلے گئے تھے۔۔۔
فرحین کتنے گھنٹے اپنے کمرے میں بیٹھی روتی رہی۔۔ رات ہونے کو آئی مجال تھی کہ کوئی اسکے پاس آیا ہو اسکی غیر موجودگی کا پتہ کرنے یہاں تک کے اسکے اپنے بچے۔۔۔
اور جب اندھیرے سے بھرے کمرے میں دروازہ کھلنے پر روشنی کی ایک کرن نظر آئی تو وہ کوئی اور نہیں وہ معصوم بچی تھی جس کی زندگی تباہ برباد کرنے جارہی تھی اسکی فیملی۔۔۔۔
“فرحین چچی۔۔۔ کہاں غائب ہیں آپ۔۔؟؟ ڈنر پر نہیں آئی دیکھیں میں نے بھی نہیں کھایا سیدھا آپ کے کمرے میں لے آئی ہوں۔۔۔”
چاندنی کی آواز سن کر فرحین نے جلدی سے اپنے آنسو صاف کرلئیے تھے
“چاندنی بیٹا میں نیچے ہی آنے والی تھی۔۔۔”
“نیچے بھی سب کو ایسے ہی لگ رہا تھا چچی جان۔۔ پر آپ نہیں آئی۔۔۔”
ٹری رکھنے کیے بعد لائٹس آن کی تو فرحین کے چہرے کی اداسی چاندنی سے چھپ نہ پائی اور وہ پاس بیٹھ گئی۔۔
“کیا ہوا ہے۔۔۔؟؟ آپ کبھی لیٹ نہیں ہوئی سب سے پہلے ڈنر کی میز آپ ریڈی کرتی تھی۔۔۔”
“ایسا کچھ نہیں ہوا بیٹا میں بالکل۔۔۔”
“منہ کھولیں۔۔۔”
اور وہ جیسے جیسے نوالہ کھلانا شروع ہوئی ویسے ویسے فرحین کی آنکھیں بھرتی چلی گئی
“آپ جانتی ہیں رونا بُری بات نہیں اسے چھپانا بری بات ہے۔۔ چچا ڈانٹ رہے تھے آپ کو۔۔ تو آپ یوں افسردہ ہوکر بیٹھ گئی۔۔۔”
“آنسو دیکھائے نہیں جاتے۔۔ خاص کر ان بےحس لوگوں کو جن کو کوئی پرواہ نہ ہو۔۔۔
تمہارے چچا بھی ان میں سے ایک ہیں۔۔ انہیں فرق نہیں پڑتا وہ اپنی بےحسی میں کن معصوم لوگوں کو اذیت پہنچا رہے۔۔۔”
چاندنی کی طرف دیکھتے ہوئے بھی انہیں درد محسوس ہورہا تھا۔۔۔
“چچی ایسی بات نہیں وجدان چاچو۔۔۔ اتنے اچھے ہیں۔۔ ہمارا اتنا خیال رکھتے ہیں۔۔ بابا سے مجھ سے اتنا پیار کرتے ہیں وہ بےحس نہیں ہوسکتے ۔۔۔پلیز آپ جتنی جلدی ہوسکے اپنی غلط فہمی کو دور کرلیں۔۔۔”
اپنے دوپٹے کے پلو سے فرحین کے آنسو صاف کئیے وہ بہت پیار سے سمجھا رہی تھی انہیں۔۔۔
اور دونوں کو معلوم نہیں ہوا پیچھے دروازے پر وجدان صاحب کھڑے تھے۔۔
“آہم۔۔۔”
اور جب وجدان صاحب نے اپنی موجودگی کا احساس دلایا تو چاندنی وجدان صاحب کو دیکھ کر منہ پھیر چکی تھی
“ارے۔۔ میں تو بیگم کو منانے آیا تھا لگتا ہے اپنی لاڈلی بیٹی کو بھی منانا پڑے گا۔۔۔”
“ہاہاہا۔۔ نہیں بس اپ چچی جان کو منائے۔۔میں جارہی ہوں۔۔۔ انہیں مکمل کھانا کھلائیں پلیز۔۔۔”
چچا کو بیڈ پر بٹھاکر جانے لگی تھی جب چچی نے اسکا بازو پکڑا تھا
“تم نے کچھ نہیں کھایا۔۔۔ کب تک سب کی فکر کرتے ہوئے لاپروائی کرو گی۔۔؟؟”
“چچی میری فکر کرنے والے روم میں انتظار کررہے بس آپ اپنا خیال رکھیں میری خاطر۔۔۔”
فرحین کے ماتھے پر بوسہ دے کر وہ چلی گئی تھی۔۔۔
“فرحین۔۔ ایم سوری مجھے ہاتھ اٹھانا نہیں چاہیے تھا۔۔۔”
“آپ ابھی بھی ہاتھ اٹھانے پر معافی مانگ رہے۔۔ اس بچی کی زندگی خراب کرنے پر شرمندگی نہیں ہورہی۔۔؟؟ وجدان بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں سمجھ جائیں کہ اس سے پہلے دیر ہوجائے اور پچھتاوا رہ جائے۔۔۔”
۔
وہ اٹھ کر چلی گئی تھی پیچھے شوہر کو لاجواب چھوڑ کر۔۔۔
۔
