Dusri Aurat by Sidra Sheikh readelle50012 Episode 38
No Download Link
Rate this Novel
Episode 38
“تو تم اسے آڈوپٹ کرکے لے آئی۔۔؟؟”
وہ جیسے ہی سگریٹ کی سمیل سونگھتے ہوئے ٹیرس ہر آئی اسکا شک سہی ثابت ہوا بہروز حاکم کھڑا ہوا تھا۔۔۔ پر ہاتھ میں سگار اور اتنا زیادہ دھواں اور پاؤں کے پاس اتنے استعال شدہ پھینکے ہوئے ٹکڑے سگریٹ کے یہ پہلی بار دیکھ رہی تھی۔۔۔
“بہروز آپ۔۔۔”
بازو سے کھینچ کر بہروز نے اسے اپنی طرف کھینچا تھا
اور رئیلنگ کے ساتھ پن کردیا تھا۔۔۔ پن ہونے کے بعد اس نے بہروز کے سینے پر ہاتھ رکھ کر فاصلہ بنانے کی کوشش کی بہروز کی بئیر چیسٹ پر ہاتھ رکھے تو اس نے غور کیا وہ جناب بنا شرٹ کے تھے۔۔۔
“بہروز۔۔۔۔”
جلدی سے ہاتھ ہٹائے تو باقی کا فاصلہ بھی ختم کردیا تھا بہروز نے۔۔۔
“چاندنی۔۔۔ میری زندگی کا خوبصورت فیصلہ چاندنی۔۔۔”
بہروز نے کندھے سے بال ہٹا گردن پر جیسے ہی ہونٹ رکھے چاندنی سمٹ کر رہ گئی تھی
“آپ نے ڈرنک کی ہے بہروز۔۔۔؟؟ صبح سویرے۔۔؟؟ شرم نہیں آتی۔۔۔ اور آپ جانتے ہیں آپ کی بیوی نے ابو کے گھر کو جلا دیا اور آپ اسکی بانہوں میں دن گزار کر یہاں آگئے ڈرنک کرکے۔۔۔آپ۔۔۔”
“شش۔۔۔ یہاں اس لیے آیا ہوں کہ شاید پھر واپس نہ آسکوں۔۔ جو کرنے جارہا ہوں۔۔ بس دعا کرنا صائمہ باجی اور انکی فیملی اسی لوکیشن پر مل جائے۔۔۔
اور ڈرنک۔۔۔؟؟ جو میں کہنا چاہتا ہوں شاید پھر وہ کبھی نہ کہہ سکوں۔۔۔
چاندنی۔۔۔۔”
بہروز نے اسکے ماتھے پر اپنا ماتھا رکھ کر دونوں ہاتھ اسکے چہرے پر رکھ دئیے تھے۔۔۔
“چاندنی۔۔۔ تم سچ کہتی تھی میری زندگی میں تم دوسری عورت تھی اور ہمیشہ رہی۔۔۔
تم نے کیا کچھ نہیں کیا میرے لیے۔۔؟؟ میرے بیٹے کو اپنا بیٹا سمجھا سب کو پیار دیا۔۔ اور میں۔۔۔؟؟ رابیعہ کے دھوکے کے بعد اس سے نفرت کرتا رہا اور پھر ایک دھوکا کھا لیا اس پر یقین کرکے۔۔۔
چاندنی میں نے دوسری عورت ہی سمجھا اس لیے پہلی بیوی کو موقع دیا۔۔۔ پر تمہیں موقع نہ دیا جب تم مجھے سچ بتانا چاہتی تھی۔۔۔
جب تم اس عورت کو گھر سے نکالنا چاہتی تھی۔۔۔”
بہروز کی آنکھوں سے نکلتے آنسو چاندنی کے منہ کو تر گئے تھے
وہ چپ چاپ بہروز کی آنکھوں میں دیکھتے اسکی باتیں سنتی رہی۔۔۔
“چاندنی تمہارے جانے کے بعد بھی میں گلہ کرتا رہا میں مایوس ہوا تھا میں سوچتا تھا اگر تم شایان کو نہ مارتی تو ہم کتنا خوش ہوتے۔۔۔
چاندنی۔۔۔ محبت۔۔۔ہوگئی تھی تم سے۔۔”
“جھوٹ۔۔۔۔ بہروز جھوٹ۔۔۔ اگر محبت ہوتی تو پہلی بیوی کے ساتھ انٹیمیٹ نہ ہوتے آپ نے تو ایک اور تحفہ دہ دیا نہ۔۔۔ اچھی محبت کی بہروز۔۔۔ میں نہیں مانتی اسے محبت۔۔”
چاندنی ٹرن ہوکر کھڑی ہوگئی تھی بہروز نے دونوں ہاتھ رئیلنگ کی دونوں سائڈ پر رکھ کر اسے پھر سے قید کرلیا تھا پیچھے سے۔۔۔
“میں تمہارے جانے کے بعد اسکے قریب نہیں گیا۔۔۔ صرف ایک بار۔۔۔ چاندنی میں بہت نشے میں تھا اس نے فائدہ اٹھایا۔۔۔ پر وہ مجھے حاصل نہ کرسکی۔۔۔”
بہروز اسے اپنے حصار میں لیکر ویسے ہی کھڑا رہا۔۔۔ مکمل خاموشی چھا گئی تھی۔۔۔
۔
“میں جانتا ہوں ابھی جو کہہ رہا ہوں تمہیں یقین نہ ہو۔۔۔ میں نے چھوڑ دی وہ پہلی بیوی اور وہ میری پہلی محبت۔۔۔ میں نے اس محبت کی نشانی کو بھی خود سے الگ کردیا چاندنی۔۔
یاررر۔۔۔”
چاندنی کا چہرہ اپنی طرف کرکے اس نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔۔۔ اسکی سسکیاں ہوا میں گونج اٹھی تھی بہروز حاکم جس طرح بچوں کی طرح رو رہا تھا۔۔
“چاندنی۔۔۔ جب میں ہماری بیٹی کا اچھا باپ نہ بن سکا تو مجھے حق نہیں باپ کہلانے کا۔۔
میں شایان کے سب حقوق چھوڑ چکا ہوں۔۔۔ میں بس معافی چاہتا ہوں تم سے بھی۔۔۔ چاہت سے بھی۔۔۔
چاہت۔۔۔ ہماری چاہت۔۔۔ چاندنی۔۔۔ ہماری بیٹی۔۔۔ کتنا انتظار کررہے تھے نہ ہم اس بچے کا۔۔؟؟”
چاندنی نے ہاں میں سر ہلایا تو وہ دونوں ہی رو دئیے تھے
“سر۔۔۔ آجائیں گاڑی ریڈی ہے۔۔۔”
“گارڈ سر جھکائے کہہ کر چلا گیا تھا۔۔۔
“ایک لوکیشن ٹریس ہوئی ہے۔۔۔اسکے بعد صائمہ باجی اور انکی فیملی مل جائے تو رابیعہ کا قصہ تمام ہوگا تب تک سب یہیں رہیں گے۔۔۔ جنید کو ریکور کرلیا گیا ہے۔۔پر اسکی حالت ابھی گھر لانے والی نہیں۔۔۔ اسے دو بلٹس لگی ہیں۔۔۔”
چاندنی کے ماتھے پر بوسہ دئیے وہ پیچھے ہوگیا تھا جانے کے لیے مڑا تو بہروز کو پیچھے سے آواز دی تھی اس نے۔۔۔ اب بہروز کے دل میں تھوڑی سی امید جاگی تھی
پر چاندنی کے لبوں سے ادا ہونے والے جملوں نے اس روشنی کی کرن کو بھی بجھا دیا تھا
“بہروز میں آپ کے آنے کا انتظار کروں گی۔۔۔ مجھے آزاد کریں تو ہی میں سلیمان سے شادی کرسکوں گی۔۔ میں آپ کی دسترس سے نکلنا چاہتی ہوں۔۔۔”
“تو پھر دعا کرنا کہ میں مرجاؤں۔۔۔ تم بیوہ ہوجاؤ۔۔۔ عدت پوری کرکے شادی کرلینا۔۔۔
کیونکہ اگر میں زندہ لوٹا تو کبھی آزاد نہیں کروں گا۔۔۔”
اور وہ وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
“اللہ آپ کو سہی سلامت واپس لائے بہروز۔۔۔”
ا س نے بھیگتی آنکھوں سے سرگوشی کی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بابا۔۔۔۔۔بابا۔۔۔۔”
“شایان۔۔۔”
چاندنی جو کھڑکی کے پاس کھڑی مسلسل رات کی اندھیری میں کھوئی ہوئی تھی شایان کی چیخ سے وہ جلدی سے بید کی طرف آئی سائڈ لمپ آن کیا تو شایان کا ماتھا پیسنے سے بھرا ہوا تھا۔۔ اور آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔۔
“شایان بیٹا کیا ہوا ہے۔۔۔ کوئی برا خواب دیکھا۔۔”
“ماں۔۔۔ بابا ٹھیک نہیں ہیں پلیز مجھے ان کے پاس لے جائیں۔۔اس نے جیسے ہی رونا شروع کیا چاندنی کا ڈر اور گہرا ہوگیا تھا۔۔۔ ٹھیک کچھ دیر پہلے وہ بھی ایسے ہی جاگی تھی اسے بھی ایسے ہی ایک برے خواب نے پریشان کردیا تھا۔۔۔وہ خواب بھی بہروز کے مطلق تھا۔۔۔
۔
“شش۔۔ شایان بابا ایک ضروری میٹنگ میں گئے ہیں۔۔ ڈرو مت میں یہیں ہوں۔۔۔ بابا ٹھیک ہیں۔۔”
“میری بات کروا دیں۔۔۔ یا رہنے دیں وہ مجھ سے بات نہیں کریں گے۔۔”
اس نے آنکھیں صاف کرکے چاندنی سے کہا تھا اور اسکے دل میں درد ہوا تھا اس بچے کی محبت اور پھر اداسی دیکھ کر۔۔۔
۔
دو ہفتے ہوگئے تھے بہروز کو گئے ہوئے۔۔۔ وہ شایان کو سلا کر سیدھا روم سے باہر گئی تھی جب تسلی ہوگئی کہ سب سو رہے ہیں تو اس نے دبے پاؤں گھر سے باہر جانے کی کی اور معمور ڈیوٹی گارڈ کو اچھا خاصا دھمکایا جس پر ان لوگوں نے چاندنی کو وہ انفارمیشن دی جو انہیں معلوم تھی
۔
“یہ ہیڈ ہیں میڈم انہیں معلوم ہے ہمیں نہیں۔۔۔”
باقی سب اپنی اپنی ڈیوٹی پر چلے گئے اور ایک گارڈ جو سر جھکائے کھڑا تھا چاندنی کو دیکھ کر اس نے گیٹ کے ساتھ بنچ پر بیٹھنے کا کہا
“میں آپ کو اس لیے بھی بتا رہا ہوں کہ آپ بہروزسر کی وائف ہیں اسکے کلوز ہیں ۔۔
پر میرے پاس کوئی گڈ نیوز نہیں۔۔۔ بہروز سر سے رابطہ پچھلے ہفتے ہی ختم ہوگیا تھا۔۔۔
اور۔۔۔”
“یہ سب وہی کررہی ہے نہ۔۔؟؟ وہ چاہتی کیا ہے۔۔؟؟ کیوں اس شخص کو اور اسکی فیملی کو اتنی اذیت دہ رہی ہے”
۔
گارڈ چپ ہوا تو چاندنی نے پھر سے وجہ جاننے کی کوشش کی۔۔
۔
“میں نے وجہ پوچھی ہے اور جھوٹ مت بولنا تم سب جانتے ہو۔۔۔۔”
۔
“ہممم سب سے بڑی شرط بہروز سر کی آپ سے طلاق تھی جو انہوں نے رد کردی۔۔۔۔” چاندنی خاموش ہوگئی تھی اور پھر کچھ سوچنے کے بعد اس نے بہروز کی ایگزیکٹ لوکیشن معلوم کی۔۔۔
“دیکھیں میڈم۔۔۔۔”
“میں پھر بھی وہاں جاؤں گی۔۔۔اور تم لوگ اپنے باس کو چھوڑ کر یہاں بیٹھے ہو۔۔۔ کم سے کم کوئی تو انکے ساتھ جاتا۔۔۔۔”
“میڈم ڈونٹ وری سر مکمل تیاری کے ساتھ گئے ہیں۔۔۔”
پر چاندنی کا دل نہیں مان رہا تھا اسے بار بار بے چینی ہورہی تھی اور اس نے ایک فیصلہ لے لیا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ماں آپ بابا کو ساتھ لے کر آئیں گی نہ ۔۔۔؟
“ہاں بچے میں لیکر آؤں گی اب آپ پھو پھو کے کمرے میں سونا انکے ساتھ اور کسی کو تنگ نہیں کرنا وعدہ کرو۔۔۔”
“جی ماں میں میں کسی کو تنگ نہیں کروں گا ۔۔۔”
وہ ماتھے پر بوسہ دے کر اٹھ گئی تھی اور اپنے والد کی ویل چئیر کی طرف بڑھی تھی
۔
“چاندنی بیٹا میرا دل نہیں مان رہا۔۔۔
بات اگر دوسرے شہر کی ہوتی تب بھی سمجھتا
پر تم تو دوسرے ملک جا رہی ہو ۔۔۔”
“ابو یہ آخری بار ہے وہ لوگ جس پریشانی میں ہیں کہیں نہ کہیں وجہ میں ہوں اور آپ نے ہی سیکھایا ہے مشکل وقت میں کبھی اپنوں کو اکیلا مت چھوڑو ۔۔۔”
۔
وہ ملازمین کو انسٹرکشن دے کر دروازے تک گئی ایک نظر اس نے باقی سب کو دیکھا تھا اور جلدی سے اپنا سوٹ کیس اٹھائے باہر چلی گئی تھی۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
” ہم نے ائر پورٹ جانا تھا۔۔۔پر یہ۔۔۔”
گارڈ نے گاڑی روک دی تھی بڑے سے گراؤنڈ میں وہ کھڑے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک چوپر اور ہیلی پیڈ سرکل میں اترا چاندنی نے شاک ہوکر گارڈ کو دیکھا تھا
“یہ تو۔۔۔”
“یہ بہروز سر کا پرسنل جیٹ ہے۔۔۔ “
“پر۔۔۔ بہروز کی سب پراپرٹی۔۔۔”
“میم سر ابھی بھی وہی بہروز حاکم ہیں۔۔۔ آپ وقت کے ساتھ جان جائیں گی۔۔۔”
۔
وہ دونوں جیسے ہی بیٹھے تھے دوسری طرف بہروز کو اس سیل سے نکال کر ایک روم میں لے جایا گیا تھا۔۔۔ اور جب اسے اس شخص کے قدموں میں پھینکا گیا تو صائمہ کی رونے کی آواز اور بلند ہوگئی تھی۔۔۔
“بہروز حاکم۔۔۔”
“اسد۔۔۔”
بہروز کا وہی دوست جسے باہر کا بزنس دیا ہوا تھا جو اسکا دوست تھا۔۔۔ جو رابیعہ کو پھر سے اسکی زندگی میں لیکر آیا تھا وہی دوست۔۔۔ آج گن تان کرکھڑا تھا اسکے سر پر۔۔۔
۔
“تم میرے دوست تھے۔۔۔”
“ہاہاہا پر تمہارے بیوی کا یار تم سے زیادہ رہا۔۔۔ اب۔۔ کیسا دوست تھا یہ تو تم سمجھ گئے ہوگے۔۔؟؟؟ ویل یہ پراپرٹی پر سائن کرو۔۔۔ میں تمہاری بیوی کو اپنی بیوی بنانا چاہتا ہوں پر۔۔۔ وہ لالچی بنی بیٹھی ہے۔۔۔ امیر آدمی اسے زیادہ لبھاتے ہیں۔۔۔”
“باسٹرڈ۔۔۔”
صائمہ نے نظریں جھکا لی تھی جب بہروز کو ان لوگوں نے مارنا شروع کردیا تھا
“بہروز حاکم رابیعہ کو تو میں حاصل کرچکا اگر دوسری بیوی چاندنی کو چھوڑ دہ تو میں اسے بھی۔۔۔”
بہروز کو جن پانچ لوگوں نے پکڑا ہوا تھا بہروز نے خود کو چھڑا کر اسد کو پکڑ لیا تھا۔۔ ایک نہیں د و نہیں کتنے مکلے مارے تھے۔۔۔ اس سے پہلے وہ لوگ بہروز پر گن پوائنٹ کرتے بہروز نے اسد کی گن چھین کر ان سب کی ٹانگوں پر شوٹ کرکے زخمی کردیا تھا۔۔
اور پھر اسد کو فائر کرکے زخمی کردیا تھا۔۔۔
“باسٹرڈ۔۔۔”
اسے ایک اور کک مار کر اس نے اپنی بہن بہنوئی اور اپنے بھانجے کو ان رسیوں کی قید سے چھڑا کر آزاد کروایا تھا اور بیک ڈور سے ان لوگوں کو لیکر فرار ہوگیا تھا۔۔۔ اسی جگہ جہاں اسکا گارڈ گاڑی کے ساتھ اسکے انتظار میں تھے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“میڈم لاسٹ لوکیشن یہ ٹریس ہوئی ہے۔۔۔”
“ہم یہیں سے جائیں گے ۔۔ میں اندر جاتے ہی خود کو سرنڈر کروں گی۔۔۔اور تب تک تم دونوں بہروز اور صائمہ باجی کو ڈھونڈنا۔۔۔”
“میم میں ایسے آپ کو جانے نہیں دہ سکتا آپ کی جان کو خطرہ ہے۔۔۔سر کو پتہ چلا میں لایا تو وہ مجھے۔۔۔مار۔۔۔”
پر چاندنی اندر چلی گئی تھی۔۔۔
“اکمل پیچھے جانا چاہیے کچھ سہی نہیں لگ رہا۔۔۔”
وہ دونوں کچھ قدم آگے بڑھے تھے جب کچھ لوگوں نے ان پر اٹیک کردیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“رابیعہ کوئی گڑبڑھ ہوئی تو دیکھ لینا۔۔۔”
حمدان صاحب نے وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا
“وہی تو دیکھنے جارہی ہوں۔۔۔ بہروز میری گرفت میں ہے۔۔۔”
“تم چاندنی کو ان سب سے دور رکھو۔۔۔ جو تم نے اسکے گھر کے ساتھ کیا تم وعدہ خلافی کرچکی ہو۔۔”
اس بار صفوان نے غصے سے کہا تھا۔۔۔
“بس کرجائیں صفوان بھائی رابیعہ ٹھیک کررہی ہے اب پلیز یہ مت کہنا محبت جاگ گئی۔۔۔”
“مشعل ایک اور لفظ نہیں چپ رہا کرو۔۔۔ نہیں تو چلی جاؤ کمرے سے۔۔۔اور صفوان تم کچھ سن نہیں سکتے تو جاؤ یہاں سے۔۔۔
۔
وہ دونوں بچے ہی چلے گئے تھے۔۔۔
“دیکھو رابیعہ۔۔ میں نے جو حاصل کرنا تھا کرلیا۔۔ اب جو تم کررہی ہو وہ ٹھیک نہیں لگ رہا۔۔ ہم سب پھنس جائیں گے۔۔”
“تو کیا جیل چلی جاؤں۔۔؟؟ وہ چاندنی کو نہیں معاف کرسکا اب تو سچائی سامنے ہے اگر اسکی بہن اور بہنوئی میری قید میں نہ ہوتے تو آج میں جیل ہوتی شایان کو مارنے کے جرم میں۔۔۔”
“اوکے اوکے ریلیکس۔۔۔ بس وہ پراپرٹی کے کاغذات جیسے ہی مل جائیں ہم اگلی کاروائی کریں گے۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
کامران۔۔۔اکمل۔۔۔تم دونوں تو پاکستان تھے یہاں کیا کررہے ہو۔۔۔؟؟؟”
اپنی بہن بہنوئی اور بیٹے کو گاڑی میں بٹھا کر اس نے جیسے ہی بیٹھنے کی کوشش کی اسکی نظر سامنے زخمی پڑے دو آدمیوں پر پڑی اور جب اس نے انکی باڈیز کو اپنی طرف کیا وہ حیران رہ گیا
“سر ایم سوری۔۔۔۔ سر چاندنی میڈم آپ کو ڈھونڈنے اندر گئی ہیں اور ہم پر کسی نے اٹیک کردیا۔۔۔۔ آپ پلیز انہیں روک لیں۔۔۔۔”
ایک گارڈ کا وجود بے جان ہو گیا اور جو دوسرا زخمی تھا اس نے جلدی سے اسے اٹھایا اور اپنی جگہ گاڑی میں بٹھا دیا۔۔۔۔
کو لیکر سیدھا ائیر پورٹ جاؤ وہاں میری سیکیورٹی ہے جلدی۔۔۔۔”
اس گارڈ کی وی
سٹ سے گن نکال کر بہروز نے اپنی شرٹ کے اندر چھپا لی تھی۔۔۔۔
“بہروز ہم تمہیں چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے۔۔۔”
صائمہ نے ہاتھ پکڑ لیا اپنے بھائی کا۔۔۔۔
“نہیں صائمہ تم جاو میں بہروز کے ساتھ اندر جاتا ہوں چاندنی کو لیکر ہم ائیر پورٹ۔۔۔”
“حسیب بھائی ایک بار میری بات مان لیں لے جائیں باجی اور بچے کو یہاں سے گو۔۔۔۔”
اور اس نے ڈرائیور کو گاڑی چلانے کا کہہ دیا تھا
گاڑی جیسے ہی نظروں سے اوجھل ہوئی وہ طیش میں آگیا تھا۔۔۔منہ سے خون صاف کئیے اس نے گن لوڈ کی تھی۔۔۔
پر اندر داخل ہوتے ہی سامنے والا منظر اسے جانور بنا چکا تھا۔۔۔
زمین ہر جیسے اسد نے چاندنی کو پن کیا ہوا تھا۔۔۔اس نے فائر کردی تھی۔۔۔
“بہروز۔۔۔ آپ ٹھیک۔۔۔”
بکواس بند کرو۔۔۔ کس نے کہا تھا یہاں آنے کو۔۔؟؟”
وہ چاندنی کا بازو پکڑ کر لے گیا تھا۔۔۔ وہ جانتا تھا وہ لوگ زیادہ ہے گن میں گولی بھی نہیں وہ نہیں چاہتا تھا چاندنی کی جان یا عزت پر کوئی آنچ آئے۔۔۔ بیک یارڈ سے نکلتے ہی وہ لوگ گھنے جنگلات میں بھاگے تھے۔۔۔
“بہرو بات سن لیں۔۔۔”
“ایک دم چپ چاندنی ورنہ کچھ ایسا کرجاؤں گا کہ دونوں پچھتائیں گے۔۔۔”
“ادھر ہی آئے تھے وہاں دیکھو۔۔۔”
ایک درخت کے ساتھ پن کرکے اس نے چاندنی کے منہ پر ہاتھ رکھ کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا تھ۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
رات ہوگئی ہے۔۔۔ ہمیں یہی چھپنا پڑے گا تم۔۔۔”
“مجھے بہت ٹھنڈ لگ رہی ہے چکر آرہے ہیں۔۔۔ بہروز میں۔۔۔”
اور وہ نیچے گر گئی تھی۔۔۔
۔
بہتے پانی کو دیکھ کر اس نے اندازہ لگا لیا تھا یہاں سردی کی شدت کو۔۔۔ اور جب چاندنی کے ماتھے پر ہاتھ لگایا تو اس کا ماتھا ٹھنڈا محسوس ہوا۔۔۔ وہ جلدی سے اسے اٹھا کر چلنا شروع ہوگیا تھا۔۔۔۔ کچھ نزدیک جانے پر اسے ایک پہاڑی نظر آئی جہاں وہ پہلے خود گیا تھا۔۔۔ اور جب تسلی کرلی تو وہ چاندنی کو اندر لے گیا تھا۔۔۔
“چاندنی۔۔۔۔ چاندنی۔۔۔۔ اٹھو۔۔۔ آنکھیں کھولو میں پانی لیکر آتا ہوں۔۔۔”
اپنی گود میں سر رکھے اس نے چاندنی کو ہلانے کی بہت کوشش کی مگر اسکی جانب سے کوئی ری ایکشن نہ تھا ٹھنڈ سے اب اسکا جسم ٹھر ٹھر کانپنے لگا تھا۔۔۔
“یا اللہ۔۔۔۔”
بہروز نے آنکھیں بند کر کے چاندنی کے ماتھے پر اپنا سر رکھ دیا تھا
“ایم سوری۔۔۔۔ یہ آخری راستہ۔۔۔”وہ اپنے الفاظ مکمل نہیں کرپایا تھا۔۔۔
چاندنی کی حالت لمحہ بہ لمحہ بگڑتی جارہی تھی۔۔۔
۔
وہ جانتا تھا اس کے بعد جو اسکے آخری موقع تھا اسکی بیوی کے ساتھ وہ بھی ختم ہوجانا تھا وہ جانتا تھا جب چاندنی صبح اٹھے گی تو اسکی نفرت شدت اختیار کرلے گی۔۔۔
پر اس وقت اسے اپنی بیوی کی جان سے زیادہ پرواہ کسی اور بات کی نہ تھی
چاندنی کی نفرت اسکے غصے کے بھی نہیں۔۔۔”
چاندنی کا دوپٹہ سائیڈ پر رکھے اس نے جیسے ان دونوں کے چہروں کے درمیان وہ فاصلہ بھی ختم کردیا تھا
ایک سرسراہت محسوس ہوئی تھی اسے اور آنکھ سے ایک آنسو نکلا تھا ۔۔۔
“ایم سوری۔۔۔۔”
اپنی شرٹ اتارے وہ باقی کا فاصلہ ختم کرچکا تھا۔۔۔۔
۔
