Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 33

“چلو چاندنی۔۔۔آج کی فلائٹ ہے۔۔۔”
“میں واپس نہیں جارہی۔۔۔”
سلیمان شاکڈ ہوا تھا پر اس نے اپنے چہرے کے تاثرات چھپا لئیے تھے ایک دم سے۔۔
آج ہی وہ لوگ ہسپتال سے واپس آئے ایک ہفتے بعد ڈسچارج ہوئے تھے چاندنی کے والد۔۔۔ اور سلیمان نہایت ادب سے انہیں یہاں اپن اپارٹمنٹ میں لیکر آیا تھا
“بیٹا معذرت کے ساتھ۔۔ میں آپ لوگوں کے ساتھ نہیں جا سکتا اور نہ ہی جانا چاہتا ہوں۔۔ مگر میں اپنی بیٹی کو روکوں گا نہیں چاندنی آپ لوگوں کے ساتھ جانا چاہتی ہے تو وہ جاسکتی ہے۔۔۔”
ویل چئیر پر ہاتھ رکھے انہوں نے جیسے ہی کہا تھا نائلہ نے چاندنی کے سر پر ہاتھ رکھا تھااور ویل چئیر کو سہارا دئیے دروازے تک لے جانے لگی تھی جب چاندنی نے اپنے سامان والا بیگ سامنے رکھا تھا۔۔۔
“بابا آپ جہاں ہیں میری دنیا وہیں ہیں۔۔۔ میرا کون ہے آپ کے سوا۔۔؟؟ یہ سوچئیے گا بھی مت کہ میں کہیں اور چلی جاؤں گی آپ کو چھوڑ کے۔۔۔؟؟”
وہ بیگ رکھ کر ساتھ بیٹھ گئی تھی والد کے دونوں ہاتھ ماتھے پر پر لگا کر اس نے شاہ زیب کی آنکھوں سے آنسو صاف کئیے تھے
“چاندنی بیٹا میں نہیں تھا تو یہ لوگ تھے۔۔ میں مطلبی کیسے بن سکتا ہوں۔۔؟؟ میں تم پر بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا۔۔”
“شش۔۔۔ بس کرجائیں بابا۔۔۔ میں ہوں آپکے پاس آپ کے ساتھ۔۔ اور نائلہ خالہ کی اپنی زندگی بھی ہے انہوں نے بھی جانا ہے واپس۔۔۔”
چاندنی نے جیسے ہی کہا تھا نائلہ کی دھڑکن ایسے تیز ہوئی کرسی پر انکی گرفت ہلکی ہوگئی تھی
۔
اور چاندنی اٹھ کر سلیمان انکے والد اور والدہ مہرما کے سامنے کھڑی تھی ہاتھ جوڑ کر۔۔۔
“میں۔۔۔ آپ سب کی احسان مند ہوں۔۔مجھے بیٹی سمجھا بہن سمجھا اتنا ساتھ دیا میرا۔۔۔
مجھے ہی نہیں میری بیٹی کو بھی آنکھوں کا تارا بنا کر رکھا۔۔۔
اس زندگی میں تو میں آپ کے احسانات نہیں چکا پاؤں گی۔۔۔”
“بس کر جاؤ بیٹا۔۔ بس تم خوش رہو۔۔۔ بھائی صاحب میں اور ارشد ضرور آپ سے ملنے آئیں گے۔۔۔ بس آپ ہماری بیٹی کا خیال رکھئے گا۔۔۔”
سلیمان کی والدہ نے چاندنی کے ماتھے پر بوسہ دے کر اسے گلے سے لگایا تھا سب کو حیران کردیا تھا انہوں نے کبھی ایسی شفقت ظاہر نہیں کی تھی چاندنی کے لیے۔۔۔
۔
چاندنی باری باری سب سے مل کر والد صاحب کی چئیر پکڑے وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
اور پیچھے چھوڑ گئی تھی اس شخص کو جس کے ہاتھ میں تھے چاندنی کے سارے ڈاکومنٹس۔۔۔
“سلیمان۔۔۔”
“پہلے چاہت اور اب چاندنی۔۔۔ مجھے نہیں لگتا میں اس کا جانا سروائیو کر پاؤں گا ڈیڈ۔۔۔
اسے روک لیں۔۔۔”
“سلیمان۔۔۔ ابھی وقت بہت نازک ہے۔۔۔اتنا کہ تم خود بھی جانتے ہو۔۔۔ چاندنی پر ابھی اپنی پسند کو تھوپ کر تم اسے باغی کردو گے۔۔ اس لیے رک جاؤ تھم جاؤ۔۔۔
یہ وقت ٹھہر جائے تو میں خود جاؤں گی موم ڈیڈ کے ساتھ۔۔۔”
مہرما نے سلیما ن کو سمجھانے کے لیے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا جو وہ جھٹک چکا تھا۔۔
۔
“وقت۔۔۔ اسے میرا ہونے دے پر بہروز حاکم۔۔۔۔ وہ جو گولی کھا کر بھی چاندنی کے والد کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔ اس نے اس دن مجھ پر اپنے ارادے آشکار کردئیے تھے وہ چاندنی کو حاصل کرکے چھوڑۓ ے گا۔۔۔”
۔
“چاندنی اب وہ معصوم لڑکی نہیں رہی جو بہروز جیس دھوکے باز کے ہاتھوں پھر سے دھوکا کھائے گی۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آہستہ سے بہروز۔۔۔”
“میں ٹھیک ہوں میں کچھ دیر اکیلا رہنا چاہتا ہوں۔۔۔”
بہروز نے سب سہارا دیتے ہاتھوں سے خود کو چھڑا لیا تھا اور اپنے روم کی طرف بڑھا ۔۔
ایسا سب کو لگ رہا تھا پر وہ اوپر جانے کے بجائے دادی دادا کے بیڈروم کی طرف بڑھا تھا
اسے معلوم تھا دادی اندر موجود ہیں اور وہ اسی طرف چل دیا تھا۔۔۔
۔
“دادو۔۔۔ بابا اب مجھ سے پیار کیوں نہیں کرتے۔۔؟؟ نہ مجھے پاس بٹھاتے ہیں نہ گلے سے لگاتے ہیں۔۔ میں نے انہیں سوری بھی بولا تھا۔۔۔ “
معراج حاکم ہکے بکے رہ گئے تھے انہیں معلوم نہیں ہوا بہروز کا یہ رویہ۔۔ بہروز کی تو جان بستی تھی شایان میں۔۔
پر اب سچ میں بہروز پچھلے ایک ہفتے سے شایان کو نظر انداز کررہا تھا۔۔ جتنا ہو سکے کم سے کم بات کررہا تھا اس سے۔۔۔
“ایسا نہیں ہونا چاہیے جو میں سوچ رہا ہوں۔۔۔ کہیں بہروز رابیعہ کی وجہ سے تو شایان سے دور نہیں ہورہا۔۔؟؟”
“ہو بھی سکتا ہے۔۔ جو شخص اپنی بیٹی کو دھتکار سکتا ہے۔۔ اپنی بیوی کو کورٹ تک لے جا سکتا ہے وہ کچھ بھی کرسکتا ہے۔۔۔”
حمدان صاحب طنز کرتے ہی چل دئیے وہاں سے۔۔ وہ کھل کر سامنے آرہے تھے۔۔
“معراج دشمن تو گھر میں ہی موجود تھے۔۔۔ بہروز کی چاندنی کے ساتھ ناکام شادی کی وجہ یہ لوگ بھی ہیں۔۔”
مجتباصاحب نے اپنے بیٹے کو بتایا ۔۔پر سنا وہ پوری فیملی کو رہے تھے۔۔۔
“آج ہمارا بیٹا دادا جی کے ساتھ واک پر جائے گا۔۔۔ جائے گا نہ۔؟؟”
معراج صاحب نے شایان کا موڈ ٹھیک کرنے کی کوشش کی
“جی دادو۔۔ کیا ہم مس چاندنی کے پاس بھی جائیں گے۔۔؟؟”
“نہیں بچے ابھی نہیں۔۔پر بہت جلدی ملواؤں گا۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
وہ سڑک وہ راستہ تو حاکم حویلی کی طرف جا رہا تھا۔۔
چاندنی نے ڈرائیور کی طرف دیکھا پھر اپنی خالہ اور پھر والد کی طرف۔۔۔
اس میں ہمت نہیں ہوئی تھی سوال پوچھنے کی ۔۔۔
اور حاکم حویلی کے بالکل سامنے سے ان کی گاڑی گزری چاندنی نے آنکھیں زور سے بند کرلی تھی وہ اس جگہ کو دیکھنا بھی نہیں چاہتی تھی جہاں سے اسے بے عزت کرکے نکال دیا گیا جہاں رشتے فقط نام کے تھے۔۔۔
وہ اس حویلی کی طرف دیکھنا بھی نہیں چاہتی تھی جہاں اسکے ہر مان کو ہر بھرم کو اسکی آنکھوں کے سامنے توڑ دیا گیا ہو۔۔
۔
حویلی سے کچھ فاصلے پر ڈبل سٹوری گھر کے سامنے گاڑی رکی تو نائلہ بیگم جلدی سے اتری اور ڈرائیور کی مدد سے شاہ زیب کو ویل چئیر پر بٹھایا ۔۔
وہ جتنی نرمی سے شاہ زیب صاحب کو ڈیل کررہی تھی چاندنی ہر بات نوٹ کررہی تھی۔۔
۔
“چاندنی بیٹا۔۔۔آؤ۔۔۔”
“ابو۔۔۔ آپ جانتے ہیں میں اس جگہ واپس۔۔۔”
“یہ گھر میں نے تمہاری ماں نے مل کر بنوایا تھا یہ ہمارا خواب تھا کہ ہم یہ گھر شادی کے بعد تمہیں تحفہ دیں تاکہ تم اپنے شوہر کے ساتھ یہاں رہ سکو ہماری آنکھوں کے سامنے۔۔۔”
انہوں نے بات کرتے ہوئے بیٹی کے سامنے ہاتھ تھام لیا تھا ۔۔
“میری بچی تمہارے باپ کے پاس اس وقت کچھ بھی نہیں ہے سوائے اس گھر کے۔۔۔
یہاں واپس آنے کا مقصد ان لوگوں سے میری محنت کی کمائی واپس لینا ہے جو میری موت کی خبر سن کر ان لوگوں نے ہتھیا لی تمہیں دینے کے بجائے۔۔”
ابھی وہ تھوڑا سا اندر گئے تھے گریل کا گیٹ کھلا اور ملازم جلدی سے باہر آیا تھا
“شاہ زیب صاحب آپ آگئے۔۔۔آپ سچ میں آگئے مالک۔۔؟؟”
ہاتھوں کو سر پر لگا کر وہ ملازم جیسے ہی رونا شروع ہوا اسکی بیوی اور دو بچے بھی باہر آگئے تھے
“مالک آپ آگئے۔۔۔ ہمیں یقین تھا آپ اک دن ضرور آئیں گے۔۔ دیکھیں آپ کی امانت کو سنوار کر رکھا ہم نے۔۔۔”
۔
جو چاندنی کے دماغ میں جانے کی بات آئی تھی وہ ان لوگوں کی محبت اپنے والد کو دیکھ کر چلی گئی تھی۔۔۔
اس کے پاس کیا رہ گیا تھا۔۔؟؟ بس ایک رشتہ اب وہ اس رشتے کو کھونا نہیں چاہتی تھی
والد کے کندھے پر سر رکھ کر ہاں میں سر ہلا کر اپنی رضا مندی کا اظہار کردیا تھا اس نے۔۔۔
۔
سوال یہ تھا اس حویلی کے پاس رہ کر اس نے کیسے بھلانا تھا ان لوگوں کو۔۔؟؟’
سوال یہ تھا ماضی کو پیچھے چھوڑ کر اس نے کیسے آگے جانا تھا۔۔؟؟
سوال یہ تھا کہ اپنے والد کے ساتھ اپنے زخموں کو کیسے بھرنا تھا اس نے۔۔
اب وہ دونوں ہی رہ گئے تھے نہ۔۔۔؟؟؟
۔