Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 29

“اب بھی کسی ثبوت کی ضرورت ہے یور آرنر۔۔؟؟ میری کلائنٹ کو باعزت بری کیا جائے تاکہ ہم واپس جا سکے وہاں اس کی بچی کو اس سے چھین کر ایک ایسی جگہ بھیج دیا گیا جہاں وہ سروائیو نہیں کرسکتی۔۔۔ہمیں واپس جانا ہے آپ فیصلہ دیجئے اور مجرم۔۔”
“ہمیں کسی کو سزا نہیں دلوانی مہرما۔۔۔ وہ میرا بچہ نہیں تھا ۔۔۔ وہ جس کا بچہ تھا اسکے باپ نے چار سال سے اپنے بیٹے کے قاتل کو اپنی محبت اور گھر کی چھت تلے پروان چڑھایا۔۔۔ مجھے بس میرا انصاف چاہیے۔۔۔
مسٹر بہروز کا آپولوگی لیٹر جو یہ میڈیا میں دیں گے۔۔۔ بس۔۔۔”
اور جج صاحب نے فیصلہ سنا دیا تھا ہرجانے کے تحت انہوں نے حاکم فیملی کو نقصان پورا کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔۔۔
۔
کورٹ بنچ خالی ہوگیا تھا۔۔۔ سب باہر جانا شروع ہوگئے تھے اور چاندنی بہروز کے سامنے تھی جیسے کچھ دیر پہلے وہ چاندنی کے سامنے کھڑا تھا
“مسٹر معراج۔۔۔؟؟ آپ نے کہا تھا آپ کی فیملی میں طلاق نہیں دی جاتی۔۔ مگر میں آپ کی خاندانی روایت کو توڑنا چاہتی ہوں۔۔
بہروز حاکم اپنی بات مکمل کریں جو آپ نے باہر کرنے کی کوشش کی تھی۔۔۔”
بہروز کی آنکھوں سے آنسو ایک ایک کرکے نکلنا شروع ہوگئے تھے اس نے چہرہ اٹھا کر جیسے چاندنی کی نظروں میں دیکھا تھا چاندنی کے چہرے پر ایک الگ ہی چمک تھی۔۔۔
“مجھے پیپرز بھجوا دیجئے گا مسٹر حاکم۔۔۔”
معراج صاحب نے چاندنی کے ہاتھوں کو پکڑ لیا تھا
“چاندنی بیٹا۔۔۔”
“پلیز مسٹر حاکم۔۔۔ مجھے گالی مت دیں اس لفظ کو بول کر۔۔۔ پلیز۔۔۔ “
ہاتھ جھٹک کر وہ وہا ں سے چلی گئی تھی۔۔۔بہت جلدی تھی اسے۔۔۔
اسکے روم سے جاتے ہی بہروز نے اپنی جیب سے موبائل نکالا تھا اور ایک جگہ کال کی تھی۔۔
“اسفند وہ کیس واپس لے لو۔۔۔اس بچی کو باحفاظت اسکے۔۔۔”
“ایک مہینے بعد کیس واپس لینے کا کہا تھا تم نے۔۔۔کیا تمہیں بھی وہ خبر مل گئی۔۔؟؟”
“خبر۔۔۔؟؟ کیسی خبر۔۔۔”
وہ اپنی جگہ سے اٹھ گیا تھا۔۔۔
“شئ از نو مور بہروز۔۔۔ اس بچی کی دیتھ ہوگئی۔۔۔ اسکی ماں کے گناہوں کی سزا اسکی بچی کو مل گئی اس نے شایان کو مارا۔۔۔۔”
“نو۔۔۔۔نو۔۔۔۔
آہ۔۔۔۔۔”
بہروز چلایا تھا موبائل دیوار پر مار دیا تھا اور جلدی سے باہر کی جانب بھاگا تھا۔۔۔
۔
وہ بھاگتے ہوئے باہر آیا تھا جب مہرما اور چاندنی کو دیکھا تھا اس نے۔۔۔
“چاندنی۔۔۔۔۔”
وہ چلایا تو چاندنی کے قدم رک گئے تھے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے۔۔۔۔
“چاندنی۔۔۔۔”
وہ سیڑھیوں سے اترا تھا چاندنی کے پاس آتے ہی اس نے چاندنی کو اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔۔
“چاندنی۔۔۔۔”
اسکی گردن میں سر چھپائے وہ بچوں کی طرح رو دیا تھا۔۔۔
بہروز حاکم۔۔۔چاندنی شاک ہوئی تھی اس نے مہرما کی طرف دیکھا تھا جو اپنا غصہ کنٹرول کئیے کھڑی تھی۔۔۔
“چاند۔۔۔۔نی۔۔۔ وہ۔۔۔”
“لئیو مئ بہروز۔۔۔جسٹ لیو مئ۔۔۔”
بہروزکو پیچھے دھکیل کر وہ گاڑی میں بیٹھ گئی تھی۔۔۔
اور جب مہرما بیٹھنے لگی تو بہروز نے اس کا راستہ روکا تھا۔۔۔
“مسٹر بہروز۔۔۔ڈائیورس دے کر اس بوگس رشتے سے آزاد کردیں اسے۔۔
آپ نے جو کرنا تھا جتنا کرنا تھا آپ نے کردیا۔۔۔آپ۔۔۔”
“شئ از۔۔۔نو مور۔۔۔چاندنی کو راستے میں مت بتانا۔۔۔ وہاں جاکر بتانا۔۔۔”
“کون نو مور۔۔۔؟؟”
مہرما نے سرگوشی کی تھی۔۔۔ بہروز کی لال آنکھوں میں جب بےبسی شرمندگی اور پچھتاوا دیکھا تو ایک ہی نام نکلا تھا مہرما کے منہ سے۔۔۔
“نو۔۔۔ ایسا نہیں ہوسکتا۔۔۔”
بہروز وہاں سے جانے لگا تھا جب رابیعہ نے اسکا راستہ روکا۔۔۔
“بہروز۔۔۔ میں۔۔۔”
ایک زور دار تھپڑ بھرے مجمع میں اس نے اسے مارا تھا۔۔۔
“میں تمہارے ساتھ وہ کروں گا کہ تم پل پل موت مانگو گی اور تمہیں نہیں ملے گی۔۔۔”
رابیعہ کی گردن پر اسکی گرفت مظبوط ہوئی تو دونوں چچا نے بہروز کو پیچھے کردیا تھا۔۔
“چلو بہروز سب دیکھ رہے ہیں۔۔۔”
بہروز۔۔۔ کے چہرے پر فوٹوگرافر کا فلیش جیسے ہی پڑا تھا بہروز پیچھے ہوگیا تھا۔۔۔
وہ پیدل ہی چل دیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“حاکم حویلی۔۔۔۔”
۔
۔
“بیگم۔۔۔”
مجھے ہاتھ مت لگائیں معراج۔۔۔ میں کچھ دن کے لیے یہاں سے جانا چاہتی ہوں۔۔۔”
“ایک بار میری بات سن لو شمیم میں۔۔۔”
بہروز جیسے ہی حویلی میں داخل ہوا تھا اس کا چہرہ ابھی بھی تر تھا دادی نے ویل چئیر موڑ لی تھی ساتھ ملازمہ نے ویل چئیر دروازے کی جانب کی تھی جب بہروز نے سب کو مخاطب کیا تھا۔۔۔
۔
“دادی۔۔ آپ نے جہاں جانا ہو چلی جائیے گا۔۔ ایک بار چاندنی کے پاس چلی جائیں اسے ضرورت ہوگی آپ کی۔۔۔”
“اسے ہماری ضرورت نہیں ہے اس نے گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے ہماری طرف دیکھا تک نہیں۔۔ اسے۔۔۔ بس اسکی بیٹی کی ضرورت ہے وہ۔۔۔”
“اسکی بیٹی کی دیتھ ہوچکی ہے۔۔۔”
بہروز نے جیسے ہی کہا اسکے والد نے ایک زور دار تھپڑ مارا تھا اسے جس کی شدت اتنی تھی وہ چند قدم پیچھے ہوگیا تھا
“معراج۔۔۔۔”
“اسکی بیٹی۔۔۔؟؟ تمہارا بھی خون ہے۔۔ یا ناجائز سمجھتے ہو۔۔۔؟؟ ابھی بھی اسکی بیٹی۔۔۔”
“ہاں اسکی بیٹی۔۔۔ کیونکہ میں ہماری بیٹی کہنے کا حق کھو چکا ہوں۔۔۔سنا آپ نے نے۔۔
میں یہیں ہوں بابا سائیں جو لعن تعان مجھے کرنی ہے بعد میں کرلیجئے گا مجھے ابھی جانے دیں کسی نے آنا ہو تو آجائیے گا۔۔۔”
چلاتے ہوئے وہ وہاں سے سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا تھا۔۔۔
“دادی بابا کو کیا ہوا۔۔؟؟”
“نازیہ۔۔۔ شایان کو کھانا کھلا کر سلا دو۔۔۔”
زینب بیگم معراج کے پیچھے پیچھے اپنے روم میں چلی گئی تھی
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“مہرما کیوں رو رہی ہو۔۔؟ اب تو ہم کیس جیت چکے ہیں اب چاہت کو مجھ سے کوئی نہیں چھین سکتا۔۔”
یہ سننے کی دیر تھی کھڑکی سے منہ موڑ کر چاندنی کی طرف دیکھا تھا اسکے کندھے پر بازو رکھے اپنی طرف کھینچا تھا اور پھر سے اسکے گلے لگ کر رونے لگی تھی
گلہ سوکھ گیا تھا مگر ہچکیاں بند نہیں ہورہی تھی۔۔ وہ اس لمحے سے ڈر گئی تھی جس لمحے چاہت کی موت کا اسکی ماں کو پتہ چلنا تھا۔۔
“افف اللہ مہرما۔۔۔کیا ہوا تم ڈرا رہی ہو مجھے۔۔کیا ہوا ہے۔۔؟؟”
“کچ۔۔۔کچھ نہیں۔۔ ائر پورٹ آگئے ہیں ہم۔۔۔۔”
۔
وہ جیسے ہی ائر پورٹ پہنچے۔۔۔ کوئی بھی ریزرو سیٹ نہیں تھی اور جو مہرما کے اسسٹنٹ نے کروائی وہ بھی غلطی سے کینسل کردی تھی
“یو ایڈیٹ۔۔۔ تم جانتے ہو تمہاری ایک غلطی کی وجہ سے کیا ہوسکتا ہے۔۔؟؟”
اس نے اپنا غصہ اتار کر فون بند کردیا۔۔۔ پچھلا آدھا گھنٹہ وہ ویٹنگ روم میں چاندنی کو بٹھا کر خود کوشش کرتی رہی اور جب کچھ نہ ہو پایا تو وہ مایوس ویٹنگ روم کی طرف لوٹنے لگی تھی جب بہروز کالا چشمہ لگائے اسکے سامنے آیا تھا۔۔
“میرا پرائیویٹ جیٹ ریڈی ہے۔۔ چاندنی کو لے آؤ۔۔۔”
“کس منہ سے چاندنی کا نام لے رہے ہو تم۔۔؟ مار تو دیا اسکی بیٹی کو بدلہ لے لیا اب کس منہ سے۔۔۔”
“میں فالتو کی کوئی بات سننے نہیں آیا۔۔ اگر انتظار کرنا ہے تو کرو میں جارہا ہوں۔۔ اور کل کو چاندنی کو جواب تم ہی دو گی۔۔۔ “
اس نے یہ کہتے ہی اپنے گارڈ کو اشارہ کیا تھا جو اس کا بیگ پکڑے آگے لے گیا تھا۔۔
“ایک منٹ۔۔۔”
مہرما نے پیچھے سے آواز دی۔۔۔
“اس طرف میڈم۔۔۔ مگر وہ۔۔”
“وہ دوسرے جیٹ میں آئیں گے۔۔۔”
۔
لیکن بہروز اس سے پہلے اسی جیٹ میں جاکر بیٹھ گیا تھا۔۔۔ گارڈ نے مہرما سے جھوٹ بولا تھا۔۔۔
وہ جس سیٹ پر بیٹھا تھا وہ پرائیویٹ تھی اور دوسری سائیڈ پر گلاس میررتھا جس سے وہ تو ان دونوں کو دیکھ پارہا تھا مگر وہ دونوں نہیں۔۔۔
۔
“مہرما یہ تو پرائیویٹ لگ رہا ہے۔۔ کیسے مینیج کیا۔۔؟؟”
“وہ۔۔۔ سلیمان کے دوست نے ارینج کیا۔۔۔ چلو جلدی سے بیٹھ جاؤ۔۔۔”
مہرما نے ہر طرف دیکھ کر تسلی کرلی تھی اور چاندنی کو اپنے ساتھ بٹھا لیا تھا۔۔۔
۔
“میں جانتی ہوں میں نے تمہیں بہت تکلیف دی مہرما۔۔۔ بس یہ آخری بار تھا جو ہم یہاں آئے۔۔۔ آج کے بعدنہیں آئیں گے۔۔۔ اور تم۔۔۔ ڈائیورس پیپرز بھجوا دینا۔۔۔ میں ہر رشتہ ختم کرنا چاہتی ہوں۔۔۔”
چاندنی کا لفظ لفظ بہروز حاکم کو سنائی دہ رہا تھا۔۔۔
وہ کورٹ روم سے یہاں تک خود کو بہت مظبوط بنائے چلا آیا تھا۔۔۔
پچھلے چار سال کی تگ و دو۔۔۔ پچھلے چار سال کی نفرت اسکی حقارت۔۔۔ اس کا غصہ۔۔۔
سب کیسے بے معنی نکلے۔۔؟؟ وہ کس سے نفرت کرتا رہا اور کون تھا ذمہ دار۔۔۔؟؟
“میں تمہیں بہت بری موت دوں گا رابیعہ۔۔۔میں تمہیں برباد کردوں گا۔۔۔”
اس نے گلاسز اتاری تو اس کی آنکھیں بھر آئیں تھی اس نے پیچھے ٹیک لگائی