Dusri Aurat by Sidra Sheikh readelle50012 Episode 25
No Download Link
Rate this Novel
Episode 25
“بہروز حاکم۔۔۔۔بہروز۔۔۔۔”
سلیمان گارڈ کو پیچھے دھکا دے کر حسیب کے گھر داخل ہوا تھا جہاں سارے ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے ڈنر کررہے تھے۔۔
ان سب کو اتنا کیجول دیکھ کر اسے اور تپ چڑھی تھی اور اس نے سامنے آنے والے شخص کو گریبان سے پکڑ لیا تھا
“بہروز حاکم۔۔۔”
“ہاؤ ڈیرھ یو۔۔۔”
بہروز نے اپنا کالر چھڑاتے ہوئے اسکے منہ پر مکا دے مارا تھا۔۔۔
اور پھر سلیمان نے بھی اسکے منہ پر ایک مکا مارا تھا۔۔۔
“وٹ دا ہیل۔۔۔”
شور کی آواز سن کر حسیب گھر میں داخل ہوا اور آتے ہی ان دونوں کے درمیان کھڑا ہوگیا تھا
“بہروز بھائی۔۔۔سلیمان۔۔۔کیا ہو گیا ہے آپ دونوں کو۔۔۔”
“اس کی جرات کیسے ہوئی میری بیٹی کو ڈیفیکٹڈ کہنے کی۔۔؟؟ یہ ہوتا کون ہے۔۔ “
“ہاہاہا بیٹی۔۔؟؟ میری بیٹی ہے میرا خون۔۔۔ میں جو مرضی۔۔۔”
“بہروز حاکم۔۔۔ خون ہونا کافی نہیں کہاں تھے جب وہ پیدا ہوئی۔۔؟ پہلا لفظ بولی چلنا شروع کیا۔۔؟؟”
“میں کہاں تھا۔۔؟؟ اسکی بھگوری ماں سے پوچھو جاکر۔۔۔ جو میرے بیٹے کو مار کر بھاگ گئی۔۔ ایک عیاشی سے بھری زندنگی گزار رہی یہاں۔۔۔اور میں۔۔”
“بس۔۔۔جب تمہیں پچھلے چار سالوں کے بارے میں کوئی اندازہ نہیں تو تم بہروز حاکم۔۔۔ کوئی حق نہیں رکھتے اس پر الزام دینے کا۔۔۔
اور قاتل۔۔؟ وہ جو ایک مکھی نہیں ما سکتی وہ کسی کا بچہ مارے گی۔۔؟؟
جھوٹے ہو تم۔۔۔ اور دور رہو میری فیملی سے۔۔۔ خبردار میری بچی کو پھر سے ایک اور لفظ کہا۔۔۔”
بہروز کو بار بار غصہ آرہا تھا وہ جتنی بار چاہت کو اسکی بیٹی کہتا۔۔۔اس نے ایک اور مکا سلیمان کے منہ پر مارا تھا۔۔۔
۔
“تم دیکھو میں تمہاری پرفیکٹ فیملی اور اس کی پرفیکٹ لائف کے ساتھ کرتا کیا ہوں۔۔۔
اسے جا کر کہہ دینا اپنی بیٹی کے ساتھ اپنے دن گننا شروع کردے۔۔۔
میں جتنا برا اسکے ساتھ کروں گا وہ موت۔۔۔”
۔
“میں زندہ ہوں۔۔۔ انکا رکھوالا۔۔۔ تم تو کیا کوئی بھی اسے رتی برابر نقصان نہیں پہنچا سکتا۔۔۔ مارک مائی ورڈز۔۔۔”
سلیمان خود کو حسیب کی گرفت سے چھڑا کر وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔
۔
“سیریسلی۔۔۔؟؟ ہوکیا گیا ہے آپ کو۔۔؟؟ بہروز بھائی۔۔۔ شیم آن یو۔۔ اگر خون تھا تو اس طرح دھمکیاں دینے کے بجائے آپ اس سے ملنے جاتے۔۔ کیا کررہے ہیں۔۔؟؟ کیوں رشتے میں دوریاں بڑھا رہیں ہیں۔۔؟ کیوں۔۔؟؟ چاندنی بھابھی سے بات۔۔”
“کوئی بات نہیں ہوگی۔۔۔ میں اس سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتا۔۔۔ وہ کچھ نہیں لگتی۔۔۔ وہ بس سزا کی حقدار ہے۔۔۔ اور اس سزا کے ساتھ ساتھ میں اسے اپنے نام سے بھی برخاست کردوں گا طلاق دے کر۔۔۔”
۔
“بہروز۔۔۔نہیں بیٹا۔۔۔ نہیں ہمارے خاندان میں طلاق نہیں ہوتی یہ لفظ۔۔”
“اب ہوگی شروعات میری طلاق سے ہوگی بابا سائیں۔۔۔آ پ کی بھتیجی کو اسکی اوقات یاد دلانےکا وقت آچکا ہے۔۔”
بہروز نے اپنا آخری فیصلہ سنا دیا تھااب عمل کرنا باقی تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آپ سے کوئی ملنےآیا ہے مس چاندنی۔۔۔”
چاندنی جو کچھ سٹوڈنٹس کو بریف کررہی تھی وہ حیران ہوئی اور موبائل دیکھاتھا نہ سکول سے کوئی نوٹیفیکیشن آیا تھا نہ ہی سلیمان یا مہرما کی طرف سے کوئی میسج۔۔۔
پر اسکی ورک پلیس پر اسے کون ملنے آگیا۔۔؟ وہ ایکسکئیوز کرکے جیسے ہی ہال سے مین آفس کی طرف بڑھی تھی سامنے اس شخص کی بیک تھی جس کا چہرہ دیکھے بغیر ہی وہ پہچان گئی تھی
“بہروز۔۔۔”
دروازہ بند کئیے وہ اپنے کیبن میں داخل ہوئی تھی اس نے بہت آہستہ آواز میں بہروز کو پکارا تھاجو سرگوشی اس نے خود سے کی تھی اس ہلکی آواز کو سن کر بہروز نے پیچھے پلٹ کر اسے دیکھا۔۔
وہ دو قدم اور پاس ہوا تھا چاندنی کے۔۔ وہ وقت جیسے رک گیا تھا ان دونوں کے لیے۔۔۔
بہروز حاکم کے ذہن میں وہ شادی کے تین سال ایسے گھوم رہے تھے جن میں سب تھا۔۔
نفرت پیار غصہ۔۔ وہ دونوں میاں بیوی اور شایان۔۔۔ کتنا خوش تھے وہ دونوں۔۔۔
بہروز نے مٹھی بند کرلی تھی ہاتھوں کی وہ اور پاس ہوا تھا چاندنی کے اور جب وہ دروازے کے ساتھ پن ہوگئی تھی بہروز نے اپنے ہاتھ ڈور پر رکھے اسے پن کردیا تھا۔۔۔
“بہروز۔۔۔”
“بہت خوش ہو میرے بغیر۔۔؟؟”
اسکے ہونٹ چاندنی کے کانوں کی لو تک جیسے ہی گئے تھے چاندنی اور دروازے کے ساتھ لگ گئی تھی۔۔۔
“بہرو۔۔۔
“شش۔۔۔”
بہروز نے ان کے لبوں کے درمیان وہ فاصلہ ختم کردیا تھا اور چاندنی نے اسے بنا کسی لڑائی کے وہ اجازت دہ دے دی تھی جب وہ اسکی بانہوں میں ریلیکس ہوئی تھی
۔
۔
“کہی بار تم سے کہنا یہ چاہا۔۔ مگر کہہ نہ پائے جانِ جاں۔۔۔
کرو نہ کرو تم ہم پہ بھروسہ۔۔۔ ہم نے نبھائی ہے وفا۔۔۔”
۔
بہروز کے گال پر ہاتھ رکھے وہ خاموشی سے اسکی آنکھوں میں دیکھتی رہ گئی تھی
اور بہروز۔۔۔ اسکے ماتھے پر بوسہ دینے لگا تھا جب اسے وہ سب یاد آیا تھا جس کے لیے وہ اس عورت سے ملنا آئے تھا۔۔۔ اور یہ کیا وہ کیسے بہک گیا۔۔؟؟
نقصان ہوگیا تھا۔۔۔ اپنا ایگو بچانے کے لیے اس نے اس سے بڑا نقصان کردیا اپنے الفاظ سے جس نے انکے رشتے کو ڈیمیجڈ کردیا تھا
“میں سوچتا تھا۔۔۔ مکافات عمل ہوتا ہے۔۔؟؟ اب تمہیں دیکھ کر یقین ہوگیا کہ ہوتا ہے مکافات عمل۔۔۔
چاندنی۔۔۔۔”
چاندنی کے ہاتھ اسکے چہرے پر ساکن ہوگئے تھے۔۔۔
“تمہیں دیکھو۔۔۔ تمہاری بیٹی کو دیکھو۔۔۔ مکافات عمل اللہ نے کردیا تمہارے ساتھ۔۔”
ایک ایک کرکے آنکھو سے آنسو بہنے لگے تھے
“وہ۔۔۔ تمہاری بھی بیٹی ہے۔۔۔”
“نہیں ہے۔۔۔ اگر ہم دونوں ساتھ ہوتے۔۔ اور تب بھی ایسی اولاد ہوتی تو میں تمہیں آبورش۔۔۔”
بہروز کے سینے پر ہاتھ رکھے اس نے خود کو اس سے پیچھے کیا تھا اور پھر ایک زور دار تھپڑ مارا تھا اسکے منہ پر۔۔۔
“آبورشن۔۔۔؟؟ اس معصوم کا قصور کیا ہے۔۔؟ کیا گناہ کیا ہے اس نے۔۔؟؟”
“اسکا گناہ یہ ہے کہ اس نے تمہاری گود سے جنم لیا۔۔ تم جیسی قاتل ماں کی وجہ سے اسکے ساتھ مکافات ہورہا۔۔۔ تم۔۔۔ بانجھ ہی رہتی تو اچھا تھا۔۔۔ اب اس بیمار بچی کو مجھ سے منسوب۔۔۔”
“نہیں کررہی۔۔۔”
ایک بار پھر سے ہاتھ اٹھانا چاہا تھا جب بہروز نے اسکا ہاتھ مظبوطی سے پکڑ لیا تھا
“چار سال چاندنی چار سال۔۔۔ بھاگتی رہی یہاں اپنے عاشق کے ساتھ عیاشی کرتی رہی اور اب۔۔۔”
وہ بولتا جارہا تھا ور چاندنی نفی میں سر ہلاتی رہی اسے لگ رہا تھا بہروز حاکم جب اپنی بچی کو دیکھے گا تو بہت خوش ہوگا وہ اپنی چاہت۔۔۔
“بہرو۔۔۔”
بہروز کہتے کہتے رک گیا تھاچاندنی کی بکھری ہوئی آواز سن کر اس نے گہرا سانس لیا تھا۔۔۔
چاندنی نے دونوں ہاتھ اسکے چہرے پر رکھے تھے
“بہروز۔۔۔آپ اسکے باپ ہیں۔۔۔ اسکے بابا سائیں۔۔۔
دنیا میری بچی کو جس حقارت کی نگاہوں سے دیکھے مجھے فرق نہیں پڑتا۔۔
پر تمہاری ہر بات سے فرق پڑرہا ہےبہروز۔۔۔ ماں باپ کے لیے بچے انکی جان ہوا کرتے ہیں انکا مان ہوا کرتے ہیں۔۔۔”
“میرے لیے بھی میرے بچے میری جان ہیں میرا مان ہیں۔۔۔ شایان۔۔۔ اور رابیعہ پریگننٹ ہے۔۔۔”
چاندنی نے اسکی آنکھوں میں دیکھا تھا۔۔۔
“اووہ۔۔۔ تم مجھے عیاشیوں کا طعنہ دہ رہے تھے غیر مرد سے رشتہ بنا کر میرا کردار گندا کرنے کی کوشش کررہے تھے نہ میں کسی غیر مرد کے بچے کے ساتھ”
“چاندنی۔۔۔”
“سچ سننے کی ہمت رکھو۔۔۔ میں تو کسی غیر مرد کے ساتھ کسی طرح کے ریلیشن شپ میں نہ رہی اور تم۔۔؟؟ اچھا ہوا بہروز حقیقت سامنے آگئی رشتوں کی۔۔ وہ تمہارے اقرار محبت وہ مجھے سے بےپناہ عشق کے جھوٹے دعوے۔۔۔ وہ تین مہینے جو تم نے میری آنکھوں کے سامنے اپنی پہلی بیوی کے ساتھ گزارے مجھے تب ہی سمجھ جانا چاہیے تھا تم جیسا مرد کبھی۔۔۔”
کہتےکہتے رک گئی تھی۔۔بہروز کا بازو جھٹک کر اس نے اپنے ٹیبل پر لگے بٹن کو پش کیا تھا اور سیکیورٹی گارڈ آگئے تھے
“سر کو باہر کا رستہ دیکھائیں۔۔۔”
“یو۔۔۔۔ میں ایسے نہیں جاؤں گا چاندنی جتنی بربادی تم نے میری کی میں بھی وہ کروں گا۔۔”
“بربادی۔۔؟ دیکھیں آنکھیں کھول کر دیکھیں کون برباد ہوا ہے بہروز حاکم۔۔۔ چلے جائیں ہماری زندگی سے۔۔ “
“تم۔۔۔”
“سر پلیز۔۔۔”
“چھوڑو مجھے۔۔۔ جارہا ہوں میں۔۔مگر میں واپس ضرور آؤں گا۔۔۔”
وہ غصے سے کہتے ہوئے وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
اور وہ ڈیسک پر پڑے اپنی بیٹی کے فوٹو فریم کو تکتی رہ گئی تھی
۔
۔
“یہی بات اپنی سمجھ میں نہ آئی۔۔ محبت ہے یا ہے یہ سزا۔۔۔
تمہیں چاہنے کی سزا ہم نے پائی۔۔ہوئی ہم سے ایسی کیا خطا۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ ہفتے بعد۔۔۔”
“مہرما۔۔۔ ان لوگوں کی ہمت کیسے ہوئی میری بچی کو اسکے سکول سے پک کرنے کی۔۔؟؟
وہ میری بیٹی کو کیسے کسی بھی سیکیورٹی میں رکھ سکتے ہیں۔۔۔؟؟”
۔
“وہ رکھ سکتے ہیں چاندنی انہیں رائٹ ہے۔۔۔اب منہ صاف کرو ہم کورٹ پہنچنے والے ہیں۔۔”
“سلیمان کہاں ہے۔۔؟؟ اس نے وعدہ کیا تھا وہ چاندنی کو کہیں نہیں جانے دے گا۔۔۔”
“چاندنی۔۔۔پلیز۔۔۔ ول یو شٹ اپ پلیز۔۔۔؟؟ مجھے کورٹ جانے دو گی تو میں دیکھوں گی۔۔۔ڈرائیور۔۔۔ تم کس کے سوگ میں گاڑی آہستہ چلا رہے ہو۔۔؟؟”
وہ بیک سیٹ سے چلائی تھی۔۔۔”
اور ڈرائیور نے گاڑی تیز کردی تھی۔۔۔
چاندنی کی رونے کی آوازیں مہرما کو بہت ڈسٹرب کررہی تھی مگر اب وہ کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی۔۔۔ اسے جو عدالتی سمن ملے تھے وہ پچھلے تین گھنٹے سے ان پر کام کررہی تھی۔۔۔
وہ کہیں ایک نقطہ پکڑنا چاہتی تھی بس ایک۔۔۔
“کس نے شکایت کی۔۔؟؟ کس نے کیا کہا مہرما مجھے اتنا تو بتا دو۔۔؟؟ مجھے جاننے کا حق ہے۔۔۔”
“مجھے ابھی نام معلوم نہیں ہوا پلیز چاندنی۔۔ عدالت میں جج کے سامنے کوئی غلطی مت کرنا۔۔۔ کنٹرول کرو خود پر۔۔۔ چاہت کے لیے قابو رکھو۔۔۔”
۔
وہ پاگلوں کی طرح چہرہ صاف کررہی تھی اور پھربڑبڑائی جارہی تھی کیا کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا مہرما کو۔۔۔
۔
کچھ دیر میں وہ عدالت پہنچے تو انہیں ایک سپیشل روم میں لے جایا گیا تھا۔۔۔
“کورٹ کے پاس انکے خلاف ٹھوس شواہد ہیں ہم بچی کی یسفٹی کے لیے اسے چائلڈ پروٹیکشن کے ادارے بھجوا رہے ہیں جہاں ایسے بچوں کی دیکھ بھال محفوظ ہاتھو ں میں ہوتی ہے۔۔۔”
“وٹ دا ہیل۔۔۔؟؟”
مہرما وہ عدالتی فیصلہ پڑھ کر کرسی سے اٹھی تھی
“کس نے۔۔کس نے کیا۔۔۔؟؟”
اس سرکاری وکیل سے پوچھا تو اس نے ایک ہی نام بتایا تھا
“مسٹر بہروز حاکم۔۔۔”
وہ روم سے باہر بھاگی تھی مخالف وکیل کے ساتھ باتیں کرتے دور سے ہی دیکھ لیا تھا چاندنی نے اسے وہ بہروز پر چلائی تھی۔۔کندھے سے پکڑ کر اپنی اوڑھ چہرے کرتے ہوئے اسکا۔۔۔
۔
“آپ جانتے بھی ہیں آپ نے کیا گناہ کردیا ہے بہروز۔۔؟ اپنی ہی بیٹی کو اس سپیشل پروٹیکشن ادارے میں بھیج کر۔۔ میری بچی میرےبغیر سو نہیں سکے گی وہ مرجائے گی۔۔”
“میرے بیٹے شایان کو مارنے کے بعد تم مجھ سے امید رکھتی ہو کہ میں تمہیں سزا نہیں دلواؤں گا۔۔؟ آج اپنی بیٹی خود سے الگ ہوگئی تو ممتا تڑپ اٹھی۔۔؟؟”
چاندنی کے ہاتھ اپنے گریبان سے ہٹا دئیے تھے اس نے۔۔ کورٹ روم کے باہر ان دونوں کی لڑائی نے ایک مجمہ اکٹھا کرلیا تھا۔۔
“تمہیں شرم آنی چاہیے بہروز حاکم وہ تمہاری بھی بیٹی ہے۔۔۔”
“وہ پاگل ڈس ایبلڈ میری بیٹی نہیں۔۔ تم۔۔۔ چاندنی ایک بدکردار عورت۔۔”
چاندنی کا ہاتھ اٹھ گیا تھا۔۔ بہروز یہ بھی بھول گیا تھا کہ نفرت میں وہ اپنے ہی خون کو برا بھلا کہہ رہا تھا جسے کچھ دن پہلے اپنے گلے سے لگائے اس پیار دے رہا تھا باپ کی شفقت دے رہا تھا
“ماما۔۔”
وہ اس چھوٹی بچی کو لے جارہے تھے جب وہ چاندنی کے پاؤں کے ساتھ لپٹ کر رونا شروع ہوگئی تھی۔۔۔
“ماما مجھے وہاں نہیں جانا پلیز ماما۔۔”
“بچے۔۔۔ میرے بچے۔۔ میں آپ کو کہیں نہیں جانے دوں گی۔۔۔”
چاندنی اپنی بچی کو سینے سے لگائی وہاں سے بھاگنے لگی تھی وہ بار بار اپنی بیٹی کا منہ چوم رہی تھی اپنے سینے سے لگا رہی تھی
جب بہروز نے زبردستی اس بچی کو کھینچ کر واپس ان آفیسرز کے ہاتھ دہ دیا تھا۔۔
“پلیز میری بچی کو چھوڑ دیں۔۔مہرما پلیز کچھ کرو تم نے وعدہ کیا تھا۔۔”
وکیل نے مایوسی سے چاندنی کو دیکھا تھا اور چاندنی کے آنسوؤں سے تر چہرے کو دیکھ کر بہروز کو دیکھا تھا نفرت بھری نگاہوں سے۔۔
“تمہارے اس شوہر نے پچھلے پانچ سالہ پرانے گڑے مردے لاکر کورٹ کے سامنے رکھ دئیے۔۔۔
چاندنی اس نے پاکستان میں تمہارے خلاف ایف آئی آر کٹوائی ہوئی ہے اپنے بیٹے کے قتل میں۔۔۔ تم اس وقت اس ملک میں ایک اشتہاری مجرم سے زیادہ نہیں۔۔
وہ سب کاغذات یہاں عدالت میں پیش کئیے گئے۔۔۔
عدالت کو بتایا گیا کہ تم جس بچی کو پچھلے پانچ سال سے اپنے سینے سے لگائے ہوئی تھی تم اس ذمہ داری کے قابل نہیں اس شخص نے سب ثبوت دئیے ہیں کہ تم اس قابل نہیں ہو تم۔۔۔
تم اپنی ہی بچی کو مار دو گی جیسے تم نے۔۔۔”
وہ وکیل کہتے کہتے چپ ہوگئی تھی جب چاندنی اپنی پلکیں اٹھا کر بہروز کی آنکھوں میں دیکھا تھا۔۔۔۔
اسے تو شدید اذیت میں مبتلا کردیا تھا ان سچائیوں نے اس شخص نے۔۔۔
اسکے الزامات نے۔۔۔
