Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

“شیرو کے کچھ لگتے تمہیں تو میں نہیں چھوڑنے والی۔۔۔”

“ہاہاہاہا ماں۔۔۔ پلیز ۔۔۔”

پانی کا پائپ اس نے جیسے ہی شایان کی طرف پھینکا تھا وہ تو گیلا نہیں ہوا اسکی جگہ بہروز پوری طرح بھیگ چکا تھا۔۔۔

“وٹ دا۔۔۔سیریسلی۔۔۔؟؟ چاندنی کون کہے گا کہ تم شادی شدہ ہو۔۔؟؟ بچی بنی ہوئی ہو۔۔۔”

بہروز نے غصے سے کہا تھا اور اسکی بات سن کر سب ہنس دئیے پر چاندنی اس نے غصے سے پھر وہ پائپ اٹھایا تھا

“شکر ہے میرا موبائل بچ گیا ورنہ تمہاری خیر نہیں ۔۔۔”

ابھی وہ موبائل جیب سے نکال کر سکون کا سانس لے رہا تھا جب چاندنی نے سارا پانی بہرو ز کی طرف کرکے فل کھول دیا تھا۔۔۔

“دوبارا اگر شادی کا طعنہ دیا نہ تو دیکھ لیجئے گا۔۔۔ بڑے آئے خیر نہیں یونہہ۔۔۔”

ابھی بڑبڑاتی ہوئی اندر جانے کو تھی جب وہی پائپ کا پانی بہروز نے اس پر ڈال دیا تھا

“ہاہاہاہاہا۔۔ ۔۔ بابا۔۔۔۔۔ میرا بدلہ لے لیا۔۔۔”

“بہروزززززززز۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ دوسری بار چینج کرکے آئی تھی۔۔۔یو۔۔۔”

“ہاہاہاہا۔۔۔کم آن چیمپ بدلہ لو۔۔۔”

پائپ جیسے ہی شایان کو پکرایا تھا چاندنی بھاگتے ہوئے ان دونوں کی طرف بھاگی تھی۔۔۔ اور پاؤں اٹکنے سے وہ بہروز پر اور بہروز نیچے جا گرے تھے

“ہاہاہاہا شٹ۔۔۔۔”

سب لوگ ہنستے ہوئے پوچھنے لگے پر وہ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں گم ہوگئے تھے

“آہمم۔۔۔پھر سے چینج کرنے پڑے گے کپڑے مسز بہروز۔۔۔”

“چھوڑیں بہروز سب دیکھ رہے۔۔۔”

“سب جارہے ہیں۔۔۔”

“ہاہاہا ان کا تو روز کا کام ہوگیا توبہ ہے اتنا اوپن رو۔۔۔”

“بس کر جاؤ بچوں۔۔۔”

سب کی باتیں سن کر چاندنی نے پھر سے اٹھنے کی کوشش کی تھی وہ ایک بار پھر سے اس پر آگری تھی۔۔

“بہروز۔۔۔”

“شش۔۔۔”

اور کچھ سیکنڈ میں شیرو کے غرانے کی آواز نے دونوں کو ڈسٹرب کردیا تھا

“اسے بھی ابھی آنا تھا۔۔۔”

“ہاہاہاہا مسٹر بہروز چلیں آفس بھی جانا آپ نے۔۔۔”

وہ خود اٹھ کر جیسے ہی ہاتھ بڑھاتی ہے بہروز نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھے اٹھنے کی کوشش کی تھی۔۔۔

اور وہ جیسے ہی اٹھا تھا اٹھ کر چاندنی کو اپنے گلے سے لگا لیا تھا

“آج میرا بالکل دل نہیں کررہا آفس جانے کو۔۔۔”

“ہاہاہا تو نہ جائیں۔۔۔”

“پر جانا بھی ضروری۔۔۔”

“ہاہاہاہاہا توبہ ہے۔۔۔”

وہ کچھ قدم دور گئی تھی

“اچھا بہروز بات سنیں۔۔”

جی میری جان۔۔۔”

اور پانی کے پریشر نے اسے پھر سے گیلا لردیا تھا۔۔۔

“بدلہ پورا ہوا۔۔۔مسٹر بہروز۔۔۔”

وہ زبان نکالتے ہوئے اسے چڑا کر اندر بھاگ گئی تھی

“ہاہاہاہا یہ سچ میں بچی ہے۔۔۔”

۔

۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

۔

۔

“کچھ دن بعد۔۔۔۔”

۔

۔

“گڈ مارننگ سر۔۔۔ “

“گڈ مارننگ سر۔۔”

“مارننگ۔۔۔”

وہ سمائل پاس کرتے ہوئے جیسے ہی پرائیویٹ ایلویٹر سے اپنے فلور پہنچا سامنے بیٹھے دو جانے پہچانے چہرے دیکھ کر اسکا چہرے غصے سے لال ہوگیا تھ

“مسٹر احمد۔۔۔ میرے کیبن میں آئے ابھی سیکیورٹی کو بھی بلائیں”

“بہروز بات سن لے ایک بار اسکی۔۔”

“ہو دا ہیل آر یو۔۔۔؟ میں نہیں جانتا تمہیں۔۔۔ اور اسے۔۔۔نکال جاؤ۔۔۔”

اس فلور پر چونکہ زیادہ لوگ نہیں تھے بہروز کے پرسنل سٹاف کے سوا۔۔۔

بہروز جیسے ہی کیبن میں گیا ہارون کے ساتھ کھڑی وہ لڑکی بھی اپنا بازو چھڑا کر اسکے پیچھے پیچھے اسکے کیبن میں چلی گئی تھی۔۔

۔

“بہروز ایک بار بس ایک بار میری بات سن لو۔۔۔ میں چلی جاؤں گی۔۔۔”

وہ بہروز کے گھٹنوں پر سر رکھ چکی تھی

“بہروز تمہیں تمہارے رب کا واسطہ تمہارے ہمارے بیٹے شایان کی قسم۔۔ میری بات سن لو۔۔۔”

“پیچھے ہٹو۔۔۔ ہاتھ لگا کر مجھے ناپاک مت کرو۔۔۔اور خبردار جو شایان کو خود سے جوڑنے کی بات کی۔۔۔”

بالوں سے پکڑ کر پیچھے دھکیل دیا تھا اسے بہروز نے۔۔۔

“بہروز۔۔۔ بس کرجاؤ۔۔۔ ایک بار سن لو۔۔ اسکی بہروز۔۔۔”

“نہیں ہارون چپ ہوجاؤ پلیز۔۔ ایک دم چپ ہوجاؤ۔۔۔ بہروز کیا کہا میں تمہیں ناپاک کردوں گی۔۔؟؟ “

“ہاں۔۔۔ اور تم بےشرم عورت کتنی ڈھٹائی سے میرے سامنے کھڑی ہو بھول گئی ہو کیسے رنگیں ہاتھوں پکڑا تھا تمہیں ۔۔۔

۔

مجھے کہتے ہوئے بھی شرم آرہی۔۔۔”

بہروز نے منہ پھیر لیا تھا۔۔۔

“بہروز وہ حرکت اس نے میری وجہ سے کی تھی۔۔۔ اور کوئی طریقہ نہیں تھا کیونکہ یہ تم سے دور جانا چاہتی تھی جس درد سے یہ گزر رہی تھی وہ اذیت سے تمہیں بچانا چاہتی تھی یہ۔۔۔”

ہارون جیسے ہی چلایا تھا رابیعہ کی آنکھیں کھلی رہ گئی تھی اسی وقت آنکھ ماری تھی ہارون نے اسے۔۔۔

“وٹ۔۔۔؟؟”

“یہ رپورٹس دیکھ لو۔۔۔ جس بیماری سے یہ لڑ رہی تھی اسے۔۔۔”

“مجھے معلوم ہوگیا تھا میں بچ نہیں پاؤں گی بہروز۔۔۔ اور مجھے یہ بھی پتہ تھا تم دنیا جہاں ایک کردو گے مجھے بچانے کے لیے۔۔۔

پر میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اس بیماری سے یہ جنگ ہارتی چلی جارہی تھی اور پھر۔۔۔

میں نے تمہیں چھوڑ جانے کا فیصلہ کیا سوچا تھا کہ مرنے سے پہلے چلی جاؤں گی تو۔۔”

وہ روتے ہوئے زمین پر بیٹھ گئی تھی۔۔

“بہروز میں نے اسے یہ پلان بتایا تھا تاکہ تم اس سے کوئی سوال جواب نہ کرو اسے چھوڑ دو۔۔ اور نفرت کرنے لگو۔۔۔”

۔

“پر بہروز۔۔۔ میرے ساتھ قدرت نے کیسا کھیل کھیلا۔۔۔ میں مرنے کی تیاریوں میں تھی اور پھر مجھے نئی زندگی مل گئی۔۔۔پر بہت دیر ہوچکی تھی۔۔۔ تم تو اپنی الگ دنیا بسا چکے۔۔۔ مجھے چھوڑ کر مجھے بھول کر۔۔”

۔

ہر طرف خاموشی ہوگئی تھی اور پھر بہروز کی ہنسی گونجی تھی پورے کیبن میں۔۔۔

“ہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔ نائس سٹوری۔۔۔۔ کہانی اچھی ہے باس۔۔۔ واااو۔۔۔ تم ایکٹنگ میں اپلائی کیوں نہیں کرتی۔۔۔؟؟ یار۔۔۔؟؟ ہاہاہاہاہاہا

بریلیئنٹ امیزنگ۔۔۔۔”

۔

“بہروز یہ رپورٹس ہیں۔۔۔ تم سب کو دیکھا سکتے ہو اسے بھی لے جاکر معائنہ کروا سکتے ہو۔۔۔”

“ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔اس نے تمہیں کتنے پیسے دئیے۔۔؟؟ کتنی راتیں دی تمہیں۔۔۔”

ہارون ہاتھ اٹھانے لگا تھا جب بہروز نے اس کا ہاتھ زور سے پکڑا۔۔

“ہاتھ توڑ دوں گا۔۔۔ بہروز حاکم ایک بار بیوقوف بن گیا مگر دوبارا نہیں لے جاؤ اسے۔۔۔دفعہ ہوجاؤ۔۔۔”

۔

“بہروز۔۔۔ میرا سہاگ تو چھین لیا پر میرا بچہ نہ چھینو۔۔ بس کچھ دن دہ دو بہروز میں پھر چلی جاؤں گی۔۔۔ میں پاؤں پکڑتی ہوں۔۔۔ بہروز۔۔۔ مر مر کر آئی ہوں تمہارے در پر۔۔۔

اگر تم نے بھی دھتکار دیا تو میں اپنی جان دہ دوں گی۔۔۔”

وہ سر جھکائے ہاتھ جوڑے بیٹھ گئی تھی بہروز کے سامنے۔۔۔ اور بہروز حاکم ایک دم سے حیران ہوگیا تھا۔۔۔ وہ ہاتھ جوڑے ایسے بیٹھی تھی بہروز نے کبھی گماں نہ کیا تھا کہ وہ رابیعہ چوہدری کو کبھی ایسے بے بس مظلوم لاچار دیکھے گا۔۔۔

۔

ہاں دھوکا کھانے کے بعد وہ کتنے ہفتے کتنے مہینے انتظار کرتا رہا تھا کہ ایک بار اسکی بیوی اسکے سامنے آکر اس سے معافی مانگے گی بیٹے سے ملنے کی تڑپ ظاہر کرے گی اور جب رابیعہ نے رابطہ نہ کیا تو وہ نفرت شدت میں بدل گئی تھی اور آج۔۔ یہ سب۔۔۔بہروز حاکم پریشان ہوکر رہ گیا تھا۔۔۔

۔

“بہروز کچھ دن شایان کے ساتھ بس۔۔۔”

“اوکے۔۔۔”

رابیعہ اور ہارون دونوں ہی حیران ہوئے تھےاور خوش ہوگئے تھے

“ایک شرط پر۔۔۔ میں پہلے چیک کرواؤں گا۔۔ اگر تمہاری یہ کہانی جھوٹی ثابت ہوئی تو تیار رہنا میری نفرت دیکھنے کے لیے۔۔۔ناؤ گیٹ آؤٹ۔۔۔”

۔

وہ دنوں جانے لگے تھے جب رابیعہ چکر کھا کر گرنے لگی تھی۔۔۔ بہروز تو آگے نہیں بڑھا پر ہارون نے جس طرح رابیعہ کو آگے بڑھ کر تھاما بہروز کو ایک جلن ہوئی تھی جسے اس نے کور کرلیا تھا۔۔۔

ان دونوں کے جانے کے بعد اسکا موبائل بجا تو سکرین پر بیوی کا نام دیکھ کر وہ ہلکی سی جلن بھی غائب ہوگئی۔۔ پر غصہ اتنا تھا کہ اس نے کال کاٹ کر موبائل آف کردیا ۔۔۔ کوٹ پہن کر وہ سیدھا ان رپورٹس کو لیکر اپنے ٹرسٹ ورتھی ہسپتال کے ڈاکٹر کے پاس گیا تھا

۔

اس نادان کو کیا خبر کے وہ اپنے ہاتھوں سے اپنا گھر تباہ کرنے کے لیے پہلا قدم اٹھا چکا تھا۔۔

۔

۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

۔

۔

“یہ کیا بکواس تھی ہارون۔۔۔ کیوں رپورٹس دی اسے۔۔؟ وہ اب جائے گا ڈاکٹرز کے پاس۔۔۔ سارا پلان خراب کردیا یو ایڈیٹ۔۔۔”

پر ہارون خاموشی سے ڈرائیو کررہا تھا کچھ دیر میں وہ اس ہوٹل جیسے ہی پہنچے رابیعہ غصے سے روم کی طرف بڑھی جو انہوں نے ایک ہفتہ پہلے بک کروایا تھا

۔

وہ جیسے ہی اندر داخل ہوئی ہارون بھی تیز قدموں سے اندر گیا تھا اور جاتے ہی دروازہ لاک کرلیا تھا اس نے۔۔۔

“جان من اتنی بھی کیا جلدی ہے۔۔”

اس نے جیسے ہی اسے کس کرنے کی کوشش کی رابیعہ نے پیچھے دھکا دہ دیا تھا

“یہاں سب برباد ہونے کے در پہ ہے اور وہاں۔۔”

“ہاہاہاہا۔۔۔ تم نے کچا کھلاڑی سمجھا ہوا۔۔؟؟ میں پہلے ہی سب ہوم ورک ڈن کرچکا ہوں۔۔

ڈاکٹر سے صبح ہی مل لیا تھا۔۔۔ دیکھنا بہت جلدی بہروز حاکم تمہیں بلائے گا بھی اور اپنے ساتھ حویلی لیکر بھی جائے گا۔۔”

“کیا سچ میں۔۔؟؟”

“ہاں سچ میں۔۔ پر تم جب اپنا وعدہ۔۔”

رابیعہ نے وہ فاصلہ ختم کردیا تھا۔۔۔ وہ دوسرے مردوں کے ساتھ اپنے وعدے پورے کرنے میں بہت کامیاب ہوئی تھی سوائے ایک وعدے کے جو اس نے کبھی اپنے شوہر سے کیا تھا۔۔۔

۔

۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

۔

۔

“امی آپ جاگ رہی ہیں ابھی تک۔۔؟”

چاندنی کو کھانے کی میز پر نہ دیکھ کر بہروز مایوس ہوا مگر والدہ کے سامنے ظاہر نہیں کیا۔۔

وہ جانتا تھا غلطی اسکی ہی ہے آج ان دونوں نے باہر ڈنر کرنے جانا تھا اور آج ۔۔۔

وہ آفس میں گزارے وہ چند گھنٹے بھول جانا چاہتا تھا

“بیٹا فریش ہوکر آجاؤ میں کھانا لگا دیتی ہوں۔۔”

“نہیں امی بھوک نہیں میں بہت تھک گیا ہوں اب آرام کروں گا آپ بھی سوجائیں۔۔”

“ہمم۔۔ بہروز بیٹا۔۔ میں جانتی ہوں آفس میں کام ہوتا۔۔۔ پر چاندنی کو بھی وقت دیا کرو۔۔”

بہروز کو ایک دم سے غصہ آیا۔۔

“کیا اس نے بتایا آپ کو۔۔؟؟”

“اس نے مجھے کچھ نہیں بتایا بہروز میں نے محسوس کیا۔۔ بیٹا۔۔ میں جانتی ہوں تم پریشان ہو۔۔ پر اللہ اللہ کرکے تم دونوں کے درمیان سب ٹھیک ہوا ہے اب رشتے میں مزید دوریاں نہیں آنی چاہیے۔۔”

“جی امی۔۔”

والدہ کے ہاتھ چوم کر وہ اپنا آفس بیگ اٹھائے اوپر سیڑھیوں پر چڑھنے لگا تھا۔۔

آج ماضی سامنے آیا جس کے لیے وہ تیار نہیں تھا۔۔

اور اس نئی کھلنے والی حقیقت کے تو بالکل نہیں۔۔۔

اسے بےچینی ہورہی تھی۔۔ پر بیڈروم کا دروازہ جیسے ہی کھولا ری کلینر پر صوفے کی آرم ہیڈ سے ٹیک لگائے سورہی اسکی بیوی کے معصوم چہرے نے ایک پل میں اسکی بےچینی ختم کردی۔۔

وہ آہستہ سے آگے بڑھا اور بیگ ایک سائیڈ پر رکھے اپنا کوٹ اتارا۔۔۔ جوٹ جیسے ہی دوسرے صوفے پر رکھنے لگا اسکی نظر پریس کئیے ہوئے ڈریسز پر پڑی۔۔۔

بلیک ٹکسیڈو کے ساتھ سرخ رنگ کا سلوار سوٹ۔۔ اس نے ایک دم سے چاندنی کی طرف دیکھا جیسے امیجن کررہا ہو اپنی بیوی کو اس خوبصورت لباس میں۔۔۔

“شٹ۔۔۔ مس کردیا میں نے تمہیں اس سرخ جوڑے میں دیکھنا ۔۔۔”

چہرے پر آتی ان گستاخ لٹوں کو اس نے کان کی لو میں دبا دیا تھا۔۔

“مسز بہروز۔۔ میرا انتظار کرتے کرتے سو گئی۔۔”

بہروز نے بہت آہستہ سے اسے اپنی بانہوں میں اٹھا لیا۔۔زار سی حرکت پر چاندنی کی آنکھیں جیسے ہیں آہستہ آہستہ کھلنے لگی بہروز نے اسکی بند آنکھوں پر اپنے ہونٹ رکھ دئیے تھے

“شش سوو جاؤ۔۔ “

“آپ آگئے۔۔۔”

بہروز کی گردن میں منہ چھپائے اس نے جیسے کہا اسکے لبوں کی سرگوشی نے بہروز کے وجود میں ایک سرسراہٹ پیدا کردی تھی۔۔

وہ بیڈ تک چند قدموں کا فاصلہ اس نے بہت مشکل سے طہ کیا۔۔

“کب آئے۔۔؟؟ میں کھانا گرم کرکے لاتی ہوں۔۔”

“شش لیٹی رہو یہیں میں ابھی فریش ہوکر آیا۔۔”

اسے بیڈ پر لٹائے وہ پھر سے جھکا تھا چاندنی کے ماتھے پر بوسہ دے کر وہ فریش ہونے چلا گیا باتھروم جب چاندنی نے ایک الگ سی مہک محسوس کی۔۔ اور اسکی نظر کوٹ پر جا پہنچی ۔۔۔

دماغ میں تجسس پیدا ہوا اور وہ اٹھ کر جیسے ہی صوفے کی طرف بڑھی آرام سے کوٹ اٹھائے شہرے سے لگایا تھا۔۔ اور اس کوٹ سے آنے والی لیڈی پرفیوم کی سمیل نے اسکے وجود کو کچھ سیکنڈ کے لیے ساکن کردیا تھا۔۔۔

“بہروز۔۔۔”

وہ کچھ منٹ رہیں کھڑی رہی۔۔ اور پھر واپس بیڈ پر جاکر لیٹ گئی تھی۔۔ اس بار اس نے کروٹ لے لی تھی جو پہلی بار ہوا تھا ایسا۔۔ کچھ دیر میں بہروز جیسے ہی بیڈ پر آکر لیٹا۔۔

وہ خود بھی حیران تھا۔۔ شادی کے بعد سے اب تک اسکی بیوی کبھی ایسے منہ پھیر کر نہیں سوئی تھی۔۔

“ناراض ہے شاید۔۔۔”

وہ بیڈ پر لیٹ گیا تھا باقی کا فاصلہ ختم کرکے اس نے جیسے اسکی ویسٹ پر ہاتھ رکھ کر اپنی طرف کیا تھا چاندنی نے اسکے سینے پر سر رکھ کر وہ شک کی ایک فیصد گنجائش کو بھی ترک کردیا تھا۔۔

“کل ہم لازمی جائیں گے۔۔ ڈنر پر۔۔۔”

چاندنی کے ماتھے پر بوسہ دئیے اس نے آنکھیں بند کر لی تھی۔۔ پر آنکھوں کے سامنے رابیعہ کا چہرہ آتے ہی اس نے پھر سے چاندنی کو دیکھا تھا۔۔۔

“اب کہاں سے آرہے ہیں۔۔؟؟”

سینے پر رکھے اسکے سر نے محسوس کیا تھا ان دھڑکنوں کا تیز دھڑکنا۔۔

“بہت دور سے آرہا ہوں۔۔۔ بہت دور سے۔۔۔ تمہارے لیے۔۔”

چاندنی حیران ہوئی تھی۔۔ پر اسکے معصوم پرکشش چہرے کو دیکھ کر بہروز کو اپنی کشمکش کا جواب مل گیا تھا۔۔

وہ سمجھ گیا تھا اس لمحے کہ ماضی کی اب گنجائش نہیں چاہے جو بھی ہو اب وہ اپنی اس سکون دہ زندگی کو ترک نہیں کرے گا نہ اپنی بیوی کو کبھی کسی کے لیے تکلیف دہ گا۔۔

چھوڑنا تو بہت دور کی بات تھی۔۔۔

ان دونوں کے چہروں کے درمیان کا فاصلہ اس نے ختم کرکے چاندنی کو شاک کردیا تھا۔۔۔

اس لمحے سب کچھ تھا وہ اعتماد وہ بھروسہ۔۔ وہ چاہے جانے کی خوشی۔۔

چاندنی ان لمحات میں وہ سب محسوس کررہی تھی۔۔۔

“ایک بات یاد رکھنا مسز بہروز۔۔ اب آپ میری دسترس میں آچکی ہیں۔۔ میں جہاں بھی چلا جاؤں لوٹ کر اپنے اسی گھر میں آؤں گا تمہارے پاس تمہارے لیے۔۔۔”

اسکی آنکھوں میں دیکھتے جیسے ہی بہروز نے کہا چاندنی کی آنکھیں بھیگ گئی تھی

وہ کچھ اور کہنا نہیں چاہتی تھی۔۔

بہروز کے دل پر بوسہ دئیے اس نے واپس سر وہیں رکھ لیا تھا۔۔

“اب خاموش ہوگئی ہو۔۔۔۔؟؟کہا تھا برداشت نہیں کر پاؤ گی میری چاہت کی شدت کو۔۔۔۔”

“مجھے چاہتیں نہیں محبتیں چاہیے آپ کی ساری کی ساری۔۔۔برداشت کرلوں گی۔۔

اگر بہروز حاکم کی نفرت برداشت کرسکتی تو محبت کیوں نہیں۔۔؟؟

بس یہ سوچ کر محبت کیجئے گا کہ میں واپس لوٹنے نہیں دوں گی۔۔۔”

اب کہ چاندنی نے اس شخص کو لاجواب کردیا تھا۔۔۔

بہروز کا منہ کھلا دیکھ کر وہ بےساختہ ہنسی تھی

“گڈ نائٹ۔۔”

بہروز کے ناک پر لائٹ سا بوسہ دئیے وہ آنکھیں بند کرچکی تھی

“دیکھ لیں گے۔۔۔”

“دیکھ لینا۔۔”

۔

اور کچھ سیکنڈ بعد وہ دونوں قہقہ لگا کر ہنس دئیے تھے۔۔۔

۔

“آئی لوو یو۔۔۔بہروز۔۔۔”

چاندنی کے منہ سے بےساختہ نکلا تھا اسے لگ رہا تھا بہروز سو چکا ہے پر بہروز کی تیز دھڑکنوں نے اسے زور سے آنکھوں بند کرنے پر مجبور کردیا تھا۔۔

“ہممم۔۔۔۔”

اسکی ویسٹ پر ہاتھ رکھے اسے نے اور اپنی طرف کھینچا تھا۔۔ پر جواب میں بہروز حاکم نے اور کچھ نہیں کہا تھا۔۔۔

چاندنی مایوس ضرور ہوئی تھی پر وہ پر امید تھی بہروز اور اپنے رشتے کو لیکر۔۔۔

۔

۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

۔

۔

“کچھ دن بعد۔۔۔۔۔”

۔

۔

“رابیعہ کچھ دن ہمارے ساتھ یہیں رہے گی۔۔۔ شاہدہ میڈم کو گیسٹ روم لے جاؤ۔۔۔سنبل شایان کو اپنے روم میں لے جاؤ۔۔۔”

“پر بابا۔۔۔”

“میرے بچے۔۔۔ میرے شایان۔۔”

وہ شایان کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسکا منہ سر چومنے لگی تھی

“میری جان۔۔۔ماں آگئی ہے۔۔۔”

“نوووو۔۔۔ آپ میری ماں نہیں ہے میری ماں یہ ہیں۔۔”

شایان چاندنی کی طرف بھاگا تھا جس کی نظریں اس عورت سے ہٹ کر بہروز کی نظروں سے ٹکرائی تھی۔۔

“یہ کیا تماشا ہے بہروز۔۔؟؟”

شاہدہ۔۔۔ میڈم کو گیسٹ روم میں لے جاؤ۔۔۔”

بہروز چلایا تھا۔۔۔ شایان بھی وہاں سے لے گئے تھےاور رابیعہ وہ تو خاموشی سے چلی گئی تھی۔۔۔

۔

“بہروز بابا سائیں کچھ پوچھ رہے ہیں۔۔”

“دادا جان۔۔۔اسے کچھ دن رہنے دیں یہاں شایان کے قریب میں اسکا انتظام کہیں اور کردوں گا۔۔ میں۔۔۔”

“اس نے تمہیں دھوکا دیا تھا بہروز۔۔ پہلی بیوی کو واپس لا نا چاہتے ہو۔۔؟؟”

“نہیں ماں۔۔۔میں اسے کیوں واپس لانا چاہوں گا۔۔؟؟ میں بہت خوش ہوں اپنی بیوی کے ساتھ۔۔

بس کچھ دن مانگ رہا ہوں۔۔۔پلیز میرا یقین کیجئے۔۔۔ اس بیچاری کے ساتھ بھی کچھ نہیں ہوا۔۔۔”

“ایکسکئیوز مئ۔۔۔”

چاندنی اونچی آواز میں کہتے ہوئے وہاں سے چلی گئی تھی۔۔

“شٹ۔۔۔پلیز آپ لوگ سمجھنے کی کوشش کریں اس نے مجھ سے کچھ دن مانگیں ہیں میں اسکے بعد اسے یہاں سے بھیج دوں گا اور ڈائیورس کا بھی معاملہ طہ کردوں گا۔۔۔ میں چاندنی کو ابھی یہ سب نہیں بتانا چاہتا۔۔۔

رابیعہ نے جس بیماری کی وجہ سے مجھے چھوڑا جھوٹ بولا آگے چل کر اسکی وہ بیماری بھی ختم ہوگئی تھی ٹریٹمنٹ کے بعد۔۔۔”

“کون سی بیماری تھی اسے۔۔؟؟”

“کینسر۔۔۔”

اور بہروز سب کو حیران چھوڑ گیا تھا۔۔۔

۔

“مجھے اس پر یقین نہیں چاہے بہروز کرلے۔۔۔ تم لوگ نظر رکھنا اس پر۔۔۔”

دادا جی نے سب خاتون کی طرف دیکھ کر کہا تھا۔۔۔

۔

“جی ابا جان۔۔۔”

شاہنواز تم میری بات سن کر جانا۔۔۔ کچھ ضروری بات کرنی ہے۔۔۔

۔

۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

۔

۔

“چاندنی۔۔۔”

چاندنی۔۔۔”

بہروز جیسے ہی داخل ہوا وہ کپبرڈ میں کپڑے رکھ رہی تھی

“چاندنی۔۔۔”

“بہروز آپ کیسے اتنے ظالم ہوسکتے ہیں۔۔؟؟ ایک بار بھی نہیں سوچا مجھ پر کیا بیتے گی۔۔؟؟ کیا سوچ کر آپ اسے واپس حویلی لائے ہیں۔۔؟؟ میرا احساس کیا آپ نے۔۔؟”

“چاندنی اونچی آواز میں بات مت کرو۔۔۔ اور تم کب سے ایسی ہوگئی۔۔؟ حویلی میں کیا سب تمہاری پرمیشن سے آتے ہیں۔۔؟؟ کیا ہوگیا ہے یار کول ڈاؤن۔۔۔”

بہروز کندھے پر جیسے ہی ہاتھ رکھنے لگا تھا چاندنی نے دونوں ہاتھ جھٹک دئیے تھے۔۔۔

“سووو۔۔۔؟؟ پرانی محبت جاگ گئی۔۔؟؟ سب کے آنے جانے سے مجھے غرض نہیں میرا شوہر کسی غیر عورت کو گھر لائے گا تو یہی ری ایکٹ کروں گی میں۔۔۔

میرے بیٹے کے ساتھ رہے گی اور مجھے سے اجازت لینا بھی ضروری نہیں سمجھا۔۔؟؟”

بہروز کو شدید غصہ آگیا تھا۔۔اور اس نے وہ بھی بول دیا تھا جو اسے نہیں بولنا چاہیے تھا۔۔۔

۔

“وہ میرا بیٹا ہے۔۔میری اولاد ہے۔۔۔اور وہ غیر عورت نہیں میرے نکاح میں ہے وہ۔۔”

بہروز نے انگلی دیکھاتے ہوئے کہا تو چاندنی کی آنکھوں سے بےساختہ آنسو نکل آئے تھے

“تو میں کون ہوں بہروز۔۔۔؟؟ میں کیا ہوں۔۔؟؟ شایان کیا ہے میرا۔۔؟؟ میں ہوں ہوں اسکی۔۔؟؟ وہ بیوی ہے تو یہ عورت جو آپ کے سامنے کھڑی یہ کون ہے۔۔؟؟”

بہروز حاکم کی آنکھیں بھی نم ہونے لگی تھی اس وقت چاندنی کے بھیگے چہرے اس کی باتوں نے بہروز کو بھی تکلیف دی تھی

“میں سمجھ گئی ہوں اپنی جگہ۔۔ آج کے بعد کےمیں کچھ نہیں کہوں گی۔۔۔”

وہ پاس سے جانے لگی تھی جب بہروز نے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا

“تم میری بیوی ہو۔۔ میری جان ہو۔۔۔ اگر شایان کی کوئی ماں ہونے کا حق رکھتا ہے تو وہ صرف تم ہو۔۔۔ ایم سوری ایم سوری۔۔۔”

چاندنی کے چہرے کو بار بار چومتے ہوئے وہ معافیاں مانگ رہا تھا وہ سسکیاں لیتے ہوئے رو دی تھی بہروز کی شرٹ اسکے آنسوؤں نے بھگو دی تھی جس پر بہروز کو خود پر اور غصہ آرہا تھا

“چاندنی پلیز۔۔۔شایان تمہارا ہے میں تمہارا ہوں پلیز ایم سوری۔۔۔”

“نہیں بہروز۔۔۔ نہ آپ میرے ہیں نہ ہی شایان آج آپ نے مجھ پر جو بات واضح کی ہے میں سمجھ گئی ہوں اور آئندہ اپنی جگہ اور حیثیت یاد رکھوں گی۔۔۔”

یہ کہتے ہی وہ کمرے سے چلی گئی تھی اور بہروز نے غصے سے وال پر مکا مارا تھا جس پر لگا انکی شادی کا فریم نیچے گر چکا تھا

“شٹ شٹ۔۔۔ شٹ۔۔۔”

وہ فریم اٹھانے جھکا تو کانچ نے اسکے ہاتھوں کو زخمی کردیا پر پھر بھی اس نے وہ فریم اٹھایا۔۔۔

“ایم سوری چاندنی۔۔ میں سب ٹھیک کردوں گا۔۔ وہ بہت جلدی ہماری زندگیوں سے چلی جائے گی۔۔۔ دیکھ لینا۔۔۔”

۔

وہ تو کہیں نہیں جانے والی تھی پر اس کا جانا لکھ دیا گیا تھا ان لوگوں نے جن لوگوں پر یقین کرکے بہروز نے ایک اور موقع دیا تھا۔۔۔

۔