Dusri Aurat by Sidra Sheikh readelle50012 Episode 37
No Download Link
Rate this Novel
Episode 37
“آپ نے مجھے بچا لیا۔۔۔ آپ بہت اچھی ہیں۔۔۔”
اگلی صبح بھی شایان چاندنی کو ایک پل کے لیے بھی نہیں چھوڑ رہا تھا وہ کبھی اسکے ناک پر کس کرتا تو کبھی گال پر۔۔۔ چاندنی صبح سے جہاں جہاں جاتی وہ اسے فالو کرتا۔۔۔
اور چاندنی اری ٹیٹ ہونے کے بجائے بہت خوش ہورہی تھی۔۔ وہ نہیں جانتی تھی کیوں پر وہ خود کو تسلیاں دہ رہی تھی کہ وہ تب تک شایان کا خیال رکھے گی جب تک یہ لوگ واپس شفٹ نہیں ہوجاتے۔۔
“ماں۔۔۔ آج آپ ناشتہ بنا کر کھلائیں گی۔۔؟؟”
وہ کچن کاؤنٹر پر بیٹھے ٹانگے ہلاتے ہوئے پوچھ رہا تھا
“کیا مطلب آج۔۔؟؟ مسٹر شایان میں روز ناشتہ بناتی ہوں۔۔”
“سچی میں۔۔؟؟ میں ایویں ہی سبین آپی کی تعریف کرتا رہا۔۔ ایک بار تو ہاتھ پر کس بھی کی میں نے۔۔۔”
پہلے تو چاندنی نے اس بچ کو دیکھا اور پھر زور سے قہقہ لگا کر ہنس دی۔۔
“ہاہاہاہاہاہا۔۔۔اوووہہ شایان۔۔۔”
اسکے ماتھے پر بوسہ دے کر وہ واپس کوکنگ میں لگ گئی پر شایان۔۔۔وہ مسکرا کر اسے دیکھتا رہ گیا۔۔
“آپ مجھ سے اتنا پیار کیوں کررہی ہیں۔۔ میری ماما چھوڑ گئی بابا نے جانے کا کہہ دیا۔۔اور آپ۔۔۔”
اسکی آواز بھاری ہوئی تو چاندنی نے گہرا سانس بھر کر کھانا پلیٹ میں ڈالا اور پلیٹ شایان کے پاس رکھ دی چولہا بند کرکے اس نے اس بچے کو گود میں اٹھایا اور باہر لے گئی
“سبین ناشتہ لگا دو۔۔۔”
گھر والے پہلے ہی موجود تھے سب کو درگزر کرکے اس نے شایان کو کھانا کھلانا شروع کیا اسکے آنسو بہہ رہے تھے اور وہ اس بچے کی آنکھیں صاف کررہی تھی۔۔
“شش۔۔۔”
چاندنی نے اسے چپ کروا کر ایک بار پھر ماتھے پر بوسہ دیا اور کھانا کھلانا شروع کردیا۔۔۔وہ سب کی نظریں خود پر محسوس کررہی تھی پر چپ تھی کچھ دیر میں شایان کو مکمل کھانا کھلا کر جیسے ہی ہاتھ دھونے کا کہہ کر بھیجا اس نے زینب بیگم کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
“سیریسلی۔۔؟؟ میں تو تھی پرائی میرے ماں باپ گئے میرا رشتہ ختم ہوگیا سمجھ آتی ہے پر یہ بچہ۔۔؟ یہ چھوٹا بچہ۔۔اس نے کیا بگاڑا ہے آپ کا۔؟ کیوں کررہے ہیں آپ اسے اتنا پرایا۔۔؟”
پر کسی نے کوئی جواب نہیں دیا اور زرقان نے ایک پیپر چاندنی کے سامنے رکھ دیا تھا
“یہ بہروز بھائی نے بھیجا کہا ہے اگر آپ کو منظور ہے تو ٹھیک ہے ورنہ وہ شایان کو یہاں سے جانا ہوگا۔۔”
“آڈوپشن پیپرز۔۔؟؟”
چاندنی کے ہاتھوں سے وہ کاغذ نیچے گرگیا تھا۔۔
“میری بیٹی کو مارنے کے بعد اب وہ چاہتا ہے میں اسکے بیٹے کی پرورش کروں۔۔؟؟ اس نے مجھے اس قابل چھوڑا ہے کہ میں پھر سے ماں کہلانے کا سکھ حاصل کرسکوں۔۔؟؟
چاہتے کیا ہیں آپ لوگ۔۔؟؟ بخش دیں مجھے۔۔۔ نہیں چاہیے مجھے کچھ بھی اور وہ بچہ۔۔ اسے یتیم خانے بھیجنا ہے۔۔؟ بھیج دیں پیچھا چھوڑیں میرا۔۔۔”
۔
وہ چلاتے ہوئے چلی گئی تھی وہاں سے۔۔۔
اور کچھ گھنٹے بعد ہی وہ لوگ شایان کو لیکر چلے گئے تھے۔۔۔
۔
اور اگلی صبح گھر والے بھی واپس اسی جگہ چلے گئے تھے۔۔۔
چاندنی فائننلی اپنے دل پر پتھر رکھ لیا تھا۔۔۔ وہ لوگ تنگ کرنا بند ہوگئے تھے اور چاندنی کے قریب ہونے لگا تھا سلیمان۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ ماہ بعد۔۔۔۔۔۔”
۔
۔
“بیٹا جلدی آجانا۔۔۔”
“جی ابو۔۔۔ آپ نے فورس کیا تو جانا پڑ رہا ہے۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔ بیٹا میں دل سے چاہتا ہوں تم موو آن کرجاؤ۔۔۔ اگر بھول چکی ہو تو رشتہ بھی مکمل ختم کردو پوری طرح۔۔۔”
“جی۔۔۔”
بیل رنگ ہوئی تو چاندنی نے موبائل اور پرس پکڑ لیا تھا
“لگتا ہے سلیمان بیٹا آگیا ہے۔۔۔پارٹی میں خوب اینجوائے کرنا۔۔۔”
“میں جلدی آجاؤں گی ابو۔۔۔”
والد کے ہاتھ پر بوسہ دے کر وہ چلی گئی تھی۔۔ دروازہ جیسے ہی کھولا سلیمان کے چہرے کی سنجیدگی اسکی مسکراہٹ میں بدل گئی تھی چاندنی کو دیکھ کر۔۔۔
“واااووو۔۔۔۔ بہت خوبصورت لگ رہی ہو اس ساڑھی میں۔۔۔”
“مجھے معلوم نہیں تھا آپ مہرون کوٹ پہن کر آنے والے ہیں تو یہ کلر ۔۔”
“شش۔۔۔ اچھی بات ہے سب کو پتہ لگنا چاہیے کہ اب تم۔۔۔”
وہ کہتے کہتے رک گیا تھا اور پھر گاڑی کا دروازہ اوپن کیا تھا چاندنی کے لیے۔۔۔
“خاموش ہوگئی۔۔ ایم سوری اگر میں نے کچھ غلط کہاہو تو۔۔”
“نہیں۔۔۔اٹس اوکے۔۔۔اور یہ پارٹی کس لیے ہے۔۔؟؟”
“بزنس پارٹنر ہیں انکی بیٹی کی انگیجمنٹ پارٹی ہے۔۔ میرے بہت کلوز رہیں تو انکار نہیں کرسکا۔۔۔ مہرما نے عین ٹائم پر انکار کردیا تو تمہیں ۔۔”
“سلیمان ہم دوست بھی آپ کیوں اتنی صفائی دہ رہے ہیں۔۔”
“ہممم۔۔۔۔ تھینک یو چاندنی۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
وہ پارٹی میں داخل ہوئے ہی تھے جب چاندنی کی نظر بہروز پر پڑی جسے دیکھ کر وہ اتنی شاک نہیں ہوئی جتنا رابیعہ کو بہروز کی آغوش میں دیکھ کر ہوئی تھی
۔
غصے سے اس نے بہروز کی آنکھوں میں دیکھا جو نظریں چرا گیا تھا۔۔
“اس سے زیادہ منافق میں نے آج تک نہیں دیکھا چاندنی۔۔ جس بیٹے کا قاتل سمجھ کر تمہیں برا بھلا کہتا رہا آج اصل قاتل کے ساتھ دیکھو کیسے کھرا ہے۔۔۔اسے تو میں۔۔”
“نہیں سلیمان پلیز۔۔۔ رہنے دو۔۔ وہ دونوں ڈیزرو کرتے ہیں ایک دوسرے کو۔۔”
“ایم سوری میری وجہ سے تم۔۔”
“میں ٹھیک ہوں۔۔ اب اپنے پارٹنر سے نہیں ملواؤ گے۔۔؟؟”
جو غصہ کچھ پل پہلے چاندنی کو تھا وہی غصہ بہروز کے چہرے پر چھا گیا تھا جب چاندنی نے سلیمان کا ہاتھ پکڑا تھا
۔
“بہروزچلو میں تمہیں۔۔”
“ہاتھ چھوڑو میرا۔۔ تم جانتی تھی نہ وہ یہاں آئے گی۔۔؟؟”
“کم آن۔۔ تم اگر مگر نہیں کرسکتے چلو میرے ساتھ۔۔۔”
پر بہروز اسکا ہاتھ جھٹک کر اسی طرف چلا گیا تھا۔۔ جہاں چاندنی کھڑی تھی۔۔۔
۔
“بہروز تم اچھا نہیں کررہے اسکا انجام بہت برا ہوا۔۔۔”
“جسٹ ویٹ اینڈ واچ رابیعہ۔۔۔”
اور وہ چلا گیا تھا چاندنی کی طرف۔۔۔۔
۔
“مئے آئی۔۔۔؟؟”
بہروز کے ہاتھ کو اگنور کرکے وہ وہاں سے جانے لگی تھی جب اسکی ویسٹ پر ہاتھ رکھے اپنی طرف کھینچا تھا۔۔۔ وہ سپوٹ لائٹ پھر سے ان ڈانس کرتے کپلز کی طرف تھی خاص کرکے چاندنی اور بہروز کی طرف۔۔۔
“بہروز۔۔۔”
پر بہروز کی گرفت اور مضبوط ہوئی تھی
۔
“محبت میری جو پیاسی ہوئی۔۔۔تو گہری میری اداسی ہوئی۔۔۔
زندگی۔۔۔ زندگی میں ہیں تم بن۔۔ یہ ویرانیاں۔۔یہ ویرانیاں۔۔”
۔
“بہروز سب دیکھ رہے ہیں۔۔”
“بہروز کے ہونٹ اسکی گردن سے جیسے ہی ٹکرائے تھے چاندنی نے سرگوشی کی تھی
“دیکھنے دو۔۔ بیوی ہو تم میری۔۔۔”
“زیادہ دن تک نہیں رہوں گی۔۔ سلیمان کو دیکھ رہے ہیں۔۔؟ وہ میری منزل ہے وہ۔۔”
بہروز نے اسے گھما کر اپنی پوزیشن چینج کر لی تھی چاندنی کی بیک اسکی فرنٹ سائڈ سے لگی تو انکے ڈانس سٹیپ بھی سلو ہو گئے۔۔۔
“آزما لو۔۔۔ چاندنی۔۔ اسکی ہوکر بھی آزما لو میں ہوں تمہارے دل میں۔۔۔”
اسکی انگلیاں چاندنی کی ویسٹ سے ہوتی ہوئی گردن تک پہنچی اور کندھے کے بالوں کو پیچھے کئیے اس نے آہستہ آواز میں چیلنج کیا۔۔
“کتنے روپ ہیں آپ کے۔۔؟؟ مسٹر۔۔ ابھی رابیعہ کے ساتھ تھے اور ابھی۔۔؟ کچھ شرم باقی ہے بہروز۔۔؟ کم سے کم اس کے ساتھ تو سچے ہوجائیں جسے بیٹے کا خون معاف کردیا۔۔ اور مجھے آپ کی جھوٹی محبت اور دعوں پر بھروسہ نہیں۔۔۔”
وہ ابھی بات کررہے تھے جب رابیعہ نے بہروز کے سینے پر ہاتھ رکھے اسے چاندنی سے دور کیا تھا۔۔
“ڈیٹس اننف ہنی۔۔ کم کسی سے ملوانا ہے۔۔۔”
بہروز نے جیسے ہی ہاں میں سر ہلا کر رابیعہ کے پیچھے پیچھے چلنا شروع کیا چاندنی کی آنکھوں سے ایک آنسو آنکلا تھا۔۔
“فریبی۔۔۔”
۔
وہ بھی غصے سے کہتی واپس اپنے ٹیبل کی طرف چلی گئی تھی۔۔۔سلیمان کو دوسرے لوگوں سے بات کرتے دیکھ اسے اور غصہ آیا تھا اور وہ اپنا موبائل اور پرس اٹھا کر بنا بتائے اس پارٹی وینیو سے باہر نکل گئی تھی۔۔۔
۔
روڈ کی طرف بڑھتے ہوئے اس نے جیسے ہی ٹیکسی کو آواز دینا چاہی کسی نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ لیا تھا اور اسے کھینچتے ہوئے جھاڑیوں کی جانب لے گیا تھا۔۔۔
۔
“ہو دا ہیل۔۔۔ بہروز۔۔۔۔؟ وٹ دا۔۔۔”
۔
پر بہروز نے اسکا جملہ مکمل ہونے نہیں دیا تھا اور اپنے ہونٹ رکھ دئیے تھے اسکے لبوں پر۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بس کر جائیں بہروز۔۔۔ خدا کا خوف نہیں آتا۔۔۔؟؟ اندر وہ اور یہاں میں۔۔۔ کچھ شرم کریں۔۔ آپ جیسے مرد۔۔۔
“بہروز۔۔۔۔”
بہروز نے چاندنی کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے چپ کروایا جیسے ہی رابیعہ کی آواز سنائی دی۔۔۔
“پلیز۔۔۔بعد میں تھپڑ کیا گولی مار دینا۔۔ مگر ابھی جاؤ۔۔۔ یہ ایڈریس۔۔ یہاں۔۔۔
سب گھر والوں کو لے جاؤ۔۔۔ جنید اور صائمہ کی فیملی ان لوگوں کی قید میں ہے۔۔۔ اور اب تم سب کی جان کو خطرہ ہے۔۔۔ میں کسی طرح اسے قابو کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔۔۔”
“وٹ۔۔؟؟ وہ بلیک میل کررہی ہے آپ کو۔۔۔؟؟”
“بہروز۔۔؟”
“ابھی جاؤ یہاں سے۔۔۔ پلیز۔۔۔شاہ زیب چچا کی جان کو بھی خطرہ ہے۔۔ ان سب کو۔۔ تم اس ایڈریس پر چلی جاؤ۔۔۔”
وہ یہ کہہ کر جانے لگا تھا جب چاندنی نے بہروز کا ہاتھ پکڑا۔۔
“اور شایان۔۔؟؟ اسے اس اورفینیج سے۔۔۔”
“چاندنی۔۔۔ اب میں صرف ایک بچے کے لیے سب کی زندگیاں داؤ پر نہیں لگاؤں گا میں نے تمہیں گنوا دیا اپنی بیٹی کو کھو دیا۔۔۔ اب ضروری ہوگیا ہے یہ عورت اور وہ بچہ ہماری زندگیوں سے دور رہے۔۔”
“یا اللہ۔۔۔ بہروز۔۔۔ اتنی نفرت۔۔۔”
“جاؤ یہاں سے۔۔۔اس بات کا ہمارے سوا کسی کو پتہ نہ چلے۔۔۔ اس گھر سے محفوظ کچھ نہیں۔۔ میں جلد ہی رابطہ کروں گا۔۔۔”
بہروز جلدی سے اسی اندھیرے میں غائب ہوگیا تھا۔۔۔
۔
“میں اس بچے کو تنہا نہیں چھوڑ سکتی۔۔۔”
چاندنی جلدی سے وہاں سے واپس اندر سلیمان کے پاس گئی تھی اور سر درد کا بہانہ بنا کراس نے گھر جانے کا کہہ دیا۔۔
“پر چاندنی ابھی تک تو سب ٹھیک تھا۔۔۔ میرا مطلب ہے ابھی کچھ دیر اور۔۔”
“میں ٹیکسی۔۔۔”
“سیریسلی۔۔۔؟؟ میں لیکر ایا ہوں ویسے ہی باعزت بھی چھوڑ کر آؤں گا۔۔ ایک منٹ ابھی آیا۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ابو پلیز مجھے وہاں لے چلیں۔۔”
“پر بیٹا اتنی صبح۔۔؟؟ رات سے سوئی نہیں پریشان لگ رہی ہو بتاؤ کیا بات ہے۔۔؟؟”
“ابو پلیز پہلے اس اورفینیج میں لے چلیں۔۔۔ شایان کو پک کر لیں میں آپ کو سب بتا دوں گی۔۔۔”
“اوکے۔۔ اوکے۔۔۔ رمیز کو فون کرنے دو وہ گاڑی لے آئے۔۔۔”
“جی۔۔۔ جی جلدی کیجئے۔۔۔”
وہ بھاگتے ہوئے واپس کمرے میں چلی گئی تھی اپنے والد کو حیران پریشان چھوڑ کر۔۔
کمرے میں آتے ہی اس نے الماری میں سے وہ پیپر ڈھونڈا تھا شایان کی آدوپشن کا اور جیسے ہی ملا تھا چاندنی نے سائن کرنے کے لیے پن پکڑا۔۔۔
اسکے ہاتھ کانپ رہے تھے۔۔۔ پر اس نے سوچ لیا تھا جس بچے کو سب ذمہ دار سمجھ کر اکیلا چھوڑ چکے وہ اسے اکیلا نہیں چھوڑے گی۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کم آن بہروز کس مئ۔۔۔ میک لو ٹو مئ۔۔۔”
بہروز نے اسے جیسے ہی خود سے پیچھے کیا تھا اسکا ٹاول نیچے گر گیا تھا۔۔۔ جس پر بہروز نے اپنے نظریں پھیر لی تھی۔۔۔
“کم آن۔۔ اب ایسے نہ کرو کہ پہلی بار دیکھ رہے مجھے۔۔۔ “
“اگر جسم دیکھا کر توجہ حاصل کرنا چاہتی ہو تو باہر اپنے گارڈ کے پاس جاؤ۔۔۔ میں سیڈیوس نہیں ہونے والا گھٹیا عورت۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا ۔۔۔ کل رات اسے بتا کر تم نے ایک رول توڑا آج میری انسلٹ کرکے ایک اور رول توڑ دیا۔۔؟؟ نتیجہ دیکھنا چاہو گے۔۔؟؟؟”
۔
اس نے باتھ روب پہن کر سامنے لگے ٹی وی کو آن کیا تو وہ گھر شو ہو رہا تھا جہاں اس وقت شاہ زیب اور چاندنی تھے۔۔۔
“گھر کو اڑا دو۔۔۔ آئی ڈونٹ کئیر کہ کون مرتا ہے۔۔۔”
رابیعہ کے ہاتھ سے موبائل فون چھین کر توڑ دیا تھا بہروز نے۔۔۔
“یو بچ۔۔۔”
اسکا گلہ دبا کر وال کے ساتھ پن کردیا تھا اس نے جب دروازہ کھلا اور ان گارڈز نے بہروز کو مارنا شروع کردیا تھا۔۔۔
منہ سے ناک سے خون بہنا شروع ہوگیا تھا۔۔۔ اسکی نظریں ابھی بھی ٹی وی سکرین پر تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ابو جلدی چلیں۔۔۔رمیز انکل پلیز جلدی سے ابو کو گاڑی میں بٹھائیے۔۔۔”
“پر بیٹا۔۔۔ابھی لاک نہیں لگائے۔۔”
“بعد میں دیکھیں گے پلیز۔۔۔۔”
وہ لوگ گاڑی میں بیٹھ چکے تھے۔۔۔ گاڑی کی رفتار بھی تیز تھی کچھ دور گاڑی گئی اور ایک دھماکے کی آواز نے سب کی توجہ حاصل کرلی۔۔۔
وہ گھر جل کر راکھ ہوگیا تھا کچھ منٹوں میں۔۔۔
“وہ آخری نشانی تھی تمہاری ماں کی۔۔۔ اور تم۔۔۔ اگر ہم نہ نکلتے تو تم میرے بچی۔۔۔”
شاہ زیب صاحب کو اپنی فکر نہ تھی اس وقت۔۔۔ چکر آنے سے وہ بےہوش ہوگئے تھے۔۔۔
۔
“انکل ابو اٹھ جائیں گے ابھی آپ اس اورفینیج کی طرف لے جائیں۔۔۔”
۔
“ابھی وقت نہیں ہے ہسپتال جانے کا۔۔ ابھی ان لوگوں کو باحفاظت اس جگہ لے جانا ہے۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“پھر بچ گئی۔۔۔ بچ۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا۔۔۔۔ ترس آرہا ہے تم پر رابیعہ۔۔۔”
“یہ سب تمہارے وجہ سے ہوا یو باسٹرڈ۔۔۔”
بہروز کے بالوں کو ہاتھ میں دبوچ لیا تھا اس نے اور ایک اشارے پر بہروز کو پھر سے مارنا شروع کردیا تھا اسکے غنڈوں نے۔۔۔
۔
“بہروز حاکم میں تمہیں اور وقت دہ رہی ہوں میرے ساتھ ایک خوشگوار زندگی گزارنے کے لیے مان نہیں نہیں تو تمہاری بہن اور اس جنید کی زندگی ختم کردوں گی۔۔۔”
۔
“دیکھیں گے۔۔۔”
منہ سے خون پانی کی طرح بہہ رہا تھا۔۔ جب رابیعہ کے حکم پر اسے واپس اسی جگہ پھینک دیا گیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“انکل اب آپ جائیں۔۔۔”
“پر بیٹا یہاں تو کچھ نہیں ہے یہ جنگلات ہیں اور۔۔۔”
“ہم مینیج کرلیں گے۔۔۔”
۔
ویل چئیر کو اتارنے کی کوشش کی تو معراج صاحب شاہنواز صاحب حمدان صاحب جلدی سے آگے بڑھیں تھے ان تینوں نے ویل چئیر پر ہاتھ رکھ لیا تھا۔۔۔
شاہ زیب صاحب نے سر نیچے کرلیا تھا اور چاندنی اس منظر کو دیکھ کر آنکھیں بند کر چکی تھی شایان کو گود میں اٹھائے اس نے آگے آگے چلنا شروع کردیا تھا اور پیچھے پیچھے خواتین اور باقی کزنز اور پیچھے وہ مرد حضرات۔۔۔
۔
“تمہیں بچپن میں بہت شوق تھا میرے کندھوں پر بیٹھ کر گھومنے کا۔۔۔”
معراج صاحب نے بات کرنا شروع کی تو سب کے قدم آہستہ ہوگئے۔۔۔
“ہاہاہا ایک دن تو تمہارے ابو نے خوب پٹائی لگائی اس نے راستے میں لڑائی کرلی اور پاؤں ہی مار دیا تھا۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا۔۔۔۔ سب ہنس دئیے سوائے شاہ زیب صاحب کے جن کی آواز اتنی بھاری ہوگئی تھی۔۔۔
“میں نے کبھی نہیں سوچا تھا جس عمر میں مجھے اس حال میں ہونا چاہیے تھا وہاں میرا بیٹا ہے۔۔”
“ابا جی۔۔۔ چپ ہوجائیں پلیز۔۔۔”
شاہنواز کے گلے لگ کر معراج حاکم رو دئیے تھے انکی رونے کی آواز نے ہر آنکھ کو اشکبار کردیا تھا۔۔۔
“معراج حاکم ایک ناکام باپ ثابت ہوا۔۔۔ ایک ناکام دادا۔۔۔گھر کا حاکم تھا اور میں ہی سمیٹ نہ سکا گھر کو۔۔۔”
ابھی وہ بات کررہے تھے جب بلیک ڈریس میں کچھ سیکیورٹی گارڈ گن پوائنٹ کئیے جھاڑیوں سے باہر آئے تھے انکے سامنے۔۔۔
“وٹ دا۔۔۔”
۔
“مس چاندنی۔۔۔؟؟”
وہ سب لوگ ڈر گئے تھے شاہنواز صاحب ان سب کے آگے ڈھال بن کر کھڑے ہوئے جب اس گارڈ نے چاندنی کو پہنچانا تھا
“جی۔۔۔ میں ہوں۔۔۔”
“ڈونٹ ورری ہم بہروز حاکم کے پرسنل سیکیورٹی گارڈ ہیں آپ آجائیں۔۔۔”
“ہم آپ پر یقین کرسکتے۔۔؟؟”
“جی میم ہم آپ لوگوں کی سیکیورٹی کے لیے ہی ہیں یہاں یہ ہمارا گورنمنٹ آئی ڈی۔۔”
چاندنی نے کارڈ دیکھ کر واپس کردیا تھا اور سب کو ہاں میں پیچھے چلنے کا اشارہ کیا تھا۔۔
“کچھ قدموں کے فاصلے پر ایک گاڑی دو تین گاڑیاں کھڑی تھی جن میں وہ سب بیٹھ گئے تھے اور آدھے گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد ایک خوبصورت گھر کے باہر گاڑیاں رکی تھی۔۔۔
“آجائیں۔۔۔ میم ہم سب یہیں باہر موجود ہیں۔۔۔ اندر دو ملازم ہیں اور کھانے پینے کی سب اشیاء موجود ہیں۔۔۔ آپ بے فکر ہوکر رہیں بہروز سر نے سیکیورٹی کے سب انتظامات بہت ہائی رکھیں ہیں۔۔۔”
پن کوڈ لگا کر گارڈ نے دروازہ کھول دیا تھا۔۔۔
چاندنی جیسے ہی شایان کا ہاتھ پکڑ اندر داخل ہوئی تھی ملازمہ نے بہت عزت سے سب کو ویلکم کیا تھا۔۔۔
۔
“بہروز کا تو سب کچھ وہ لے چکی تھی پھر یہ۔۔”
اور سب کی نظر وہاں واالز پر لگے فوٹو فریم پر گئی جس میں صرف اور صرف اسکی اور بہروز کی فوٹوز تھی۔۔۔
۔
چاندنی نے و سوال پوچھ ہی لیا تھاجو سب کے ذہن میں تھا۔۔۔
“بہروز آخری بار کب آئے تھے یہاں۔۔؟؟”
“وہ تو کچھ دن پہلے آئے تھے میڈم۔۔۔ آپ لوگوں کے رومز ریڈی ہیں آپ سب فریش ہوجائیں میں کھانا تیار کرکے۔۔”
“یہ سب سجاوٹ آخری بار آنے پر کی۔۔؟؟” چاندنی نے ملازمہ کی بات کاٹ کر پوچھا تھا۔۔
۔
“نہیں یہ تو تین سال پہلے کی ہے پھر اسکے بعد صاحب نہیں آئے یہاں اور تین دن پہلے آئے۔۔۔وہ آپ کو بیڈروم اوپر جاکر رائٹ والا ہے ۔۔۔”
۔
چاندنی خاموشی سے اوپر چلی گئی تھی پر اس ایک سوال نے ایک طوفان برپا کردیا تھا تین سال پہلے تو وہ انکی زندگیوں میں نہ تھی پھر بہروز حاکم نے کیوں اسکی تصاویر یہاں ہر واال پر لگائی۔۔
اور بیڈروم میں آنے کے بعد وہ اور زیادہ شاک ہوئی جب ہر طرف اپنی فوٹو دیکھی۔۔۔
۔
