Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

“آپ کے ساتھ سونا ہے مجھے ماں۔۔۔ بہت اچھی نیند آتی ہے۔۔۔”
“اچھا جی۔۔۔مسکے نہ لگاؤ “
“آئی سوئر۔۔۔”
“ہاہاہا۔۔۔ کم ہیر۔۔۔”
“لوو یو چاندنی ماں۔۔۔”
“شایان۔۔۔۔”
۔
چاندنی پاس بیٹھ گئی تھی اس چھوٹی سی قبر کے۔۔
“شایان میرے بچے۔۔۔”
لگی تختی پو بار بار چومتے ہوئے اس نے اپنا سر وہیں رکھ دیا تھا جیسے وہ اپنے بیٹے کو گلے لگا رہی ہو۔۔۔
۔
“کیوں چھن گئی ہونٹو ں سے دُعا۔۔۔
کیوں حال میرا پوچھے نہ خُدا۔۔۔
جا۔۔ کے کسے اور میں کہوں۔۔
جانے کہاں ملے گا سکون۔۔۔”
۔
“چاندنی۔۔۔”
“کچھ دیر اور بس۔۔۔مجھے کچھ باتیں کرنی ہے میرے بیٹے سے۔۔”
سلیمان نے ہاتھ پیچھے کرلیا تھا
“ماں۔۔۔”
وہ کچھ دیر کتنے گھنٹوں پر چلی گئی تھی شام ازانِ مغرب کانوں پر جیسے ہی پڑی چاندنی کو ایک ہی آواز بار بار سنائی دے رہی تھی
“ماں۔۔۔ چلیں۔۔۔”
“شایان۔۔کہاں جانا ہے۔۔۔؟؟”
اس نے نظر اٹھا کر دیکھا تھا وہ جس جگہ دیکھ کر شایان پکار رہی تھی وہاں سلیمان کو کوئی بھی نظر نہیں آیا تھا سوائے ان خاموش قبروں کے۔۔۔
اور وہ ایک درخت کے ساتھ ٹیک لگ کر کھڑا ہوگیا تھا
اسے اب گنتی بھی بھول گئی تھی وہ کتنی بار چاندنی کو اسکے نام سے پکار رہا تھا
واپس جانے کے لیے۔۔۔
۔
“شایان۔۔۔ تم میری پہلی اولاد ہو۔۔ یہ یاد رکھنا۔۔ تم۔۔ یا اللہ۔۔
کیوں نہ بچا سکی تمہیں۔۔؟ میرے سامنے۔۔۔ تم پر ظلم ہوتا رہا۔۔
کیوں میں تمہیں بچا نہ سکی۔۔۔”
بار بار اس قبر پر بوسہ دے رہی تھی بار بار معافیاں مانگ رہی تھی اسے جواب نہیں مل رہا تھا کوئی بھی۔۔۔
شام بھی گزر چکی تھی رات ہونے کو آئی۔۔۔
۔
“چاندنی۔۔؟؟”
اور جب کندھے پر ہاتھ رکھا تو چاندنی کا وجود نیچے گر گیا تھا
“شٹ۔۔۔ یہ تو بےہوش ہو گئی ہیں۔۔۔”
سلیمان نے جلدی سے چاندنی کو اٹھا لیا تھا۔۔۔وہ وہاں سے جانے لگا تھا جب اس نے مڑ کر پیچھے اس قبر کو دیکھا تھا۔۔۔
“ڈونٹ ورری شایان۔۔۔ تمہاری ماں کا خیال رکھیں گے ہم۔۔۔”
۔
سلیمان کو اپنی کہی بات پر حیرانگی نہیں ہوئی تھی پر اسکے دل پر بوجھ تھا اسے بھی چاندنی کی طرح شایان کی موجودگی محسوس ہوئی تھی وہاں۔۔
اور وہ آہستہ سے چاندنی کو وہاں سے لے گیا تھا گاڑی کی بیک سیٹ پر اس نے چاندنی کو لٹا دیا تھا اور پھر گاڑی سٹارٹ کردی تھی
۔
“سب ٹھیک ہوجائے گا مس چاندنی۔۔”
گاڑی بہت ہی آہستہ چلا رہا تھا سلیمان کہ اتنے میں اسکے موبائل پر رنگ ہوئی انکمنگ کال اس نے جیسے ہی اٹھائی دوسری طرف اپنی موم کی آواز سن کر اس نے پھر سے چاندنی کی طرف دیکھا تھا
“تم دونوں ہو کہاں۔۔؟ سلیمان تمہارے ڈیڈ پریشان ہورہے تھے تم پاکستان میٹنگ کے لیے گئے تھے ابھی تک واپس نہیں آئے اور مہرما۔۔؟؟ وہ تو فون بھی نہیں اٹھا رہی۔۔”
“موم۔۔۔ موم ریلیکس۔۔۔ ہمیں ایک دو دن اور لگ جائیں گے۔۔”
“وٹ۔۔؟؟ تمہاری انگیجمنٹ ہے کل۔۔۔ مہرما سے بات کرواؤ میری۔۔۔”
سلیمان نے فون کان سے ہٹا لیا تھا اور سپیکرا پر رکھ کر کار کی سپیڈ تیز کردی تھی
“موم۔۔۔ مجھے پریشیرائیزڈ مت کریں۔۔ کچھ ایشو ہوگیا ہے ہم وہاں آکر بتائیں گے پلیز۔۔۔ کاآپریٹ کیجئے۔۔۔”
“پر مجھے بتاؤ تو سہی بات کیا ہے۔۔؟؟ کیوں اتنے پریشان لگ رہے ہو۔۔؟؟”
“آکر بتاؤں گا۔۔۔ خدا حافظ۔۔۔”
سلیمان نے فون بند کردیا تھا۔۔۔ کچھ منٹ میں وہ مہرما کے گھر کے سامنے تھا۔۔۔
گہرا سانس بھرے اس نے چاندنی کو اٹھایا تھا اور اندر لے گیا تھا جب گارڈ نے ڈور اوپن کیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ہاتھ دھو کر آجائیں۔۔ کھانا گرم کردیتی ہوں۔۔۔”
اس ایک آواز پر بہروز کے قدم رک گئے تھے۔۔۔
اسکی آنکھوں نے چاندنی کو ڈھونڈنا چاہا۔۔۔ پر جب شایان کی آواز اسے سنائی دی تو اسکی آنکھوں میں وہی نفرت ابھر آئی تھی
“بہروز۔۔۔”
خاندان کے بڑے بزرگ ابھی بھی موجود تھے جب بہروز کے والد نے بہروز کو بلایا تھا۔۔۔ نیچے ہال میں بڑی بیٹھک میں جا کر وہ بیٹھ گیا تھا اور پھر کوئی رابیعہ کو بھی بہروز کے ساتھ بٹھا چکا تھا
“بہروز بیٹا ہمیں نہیں پتہ کیا ہوا کیا نہیں۔۔۔ مگر چاندنی اس گھر کی بہو ہی نہیں بیٹی بھی ہے۔۔ اس گھر سے نکال دینا۔۔ اور۔۔”
“میں اسے طلاق دہ دوں گا۔۔۔ اسے سزا دینے کے بعد میں چھوڑ دوں گا۔۔ وہ قاتل ہے میرے بیٹے کی اس نے مار دیا میرے بچے کو۔۔۔
اگر آپ لوگوں نے نہ پکڑا ہوتا تو اس دن وہ گولیاں اسے مار دیتا۔۔۔”
بہروز نے جس طرح کہا تھا ہر کوئی شاک ہوگیا تھا۔۔۔ خاص کر رابیعہ۔۔ وہ تو اتنا ڈر گئی تھی کہ اسکا وجود کانپ اٹھا تھا۔۔
جیسے مجتبا حاکم۔۔۔ اور معراج حاکم ۔۔۔ ان کا فیصلہ بالکل ٹھیک تھا چاندنی کو واپس گھر نہ لانے کا۔۔۔
بہروز حاکم تو جنونی بن گیا تھا۔۔۔ وہ جس طرح چاندنی کے لیے زہر اگل رہا تھا
“بہروز جانے سے پہلے ایک بات بتا جاؤ۔۔۔ پچھلے تین ماہ سے تم پہلی بیوی کے ساتھ مصروف تھے اتنا کہ چاندنی کو بھی وقت نہیں دہ پاتے تھے۔۔
اب چاندنی کو طلاق دینے کی بات شایان کے جانے کے بعد ذہن میں آئی یا پہلی بیوی سے تعلقات بڑھ جانے کے بعد ہی فیصلہ کرلیا تھا چاندنی کو فارغ کرنے کا۔۔؟؟”
حمدان چچا کے بیٹے نے جیسے ہی آگے بڑھ کر سوال پوچھا تھا بہروز نے ایک تھپڑ مارا تھا اسے۔۔۔
“بکواس بند ایک اور لفظ نہیں۔۔۔”
“تمہیں کیا لگتا ہے مجھے مار کر سچائی چھپ جائے گی۔۔؟؟ بہروز بھائی۔۔۔
یہ گھر جتنا آپ کا ہے سب کا ہے اتنا شاہ زیب تایا کا بھی ہے۔۔۔ انکے جانے کے بعد چاندنی وارث ہے۔۔۔”
“بلاؤ اپنی بگھوڑی چاندنی کو۔۔۔ چلی گئی ہے میرے بیٹے کو مارنے کے بعد وہ۔۔۔
منظر سے غائب ہوگئی۔۔۔”
وہ جانے کو تھا جب جنید نے پھر سے ایک بات کہیں۔۔۔
“وہ نہیں گئی آپ نے نکالا انہیں۔۔ ہسپتال میں اس رات کتنے لوگوں کے سامنے آپ نے کہا تھا انہیں ‘ دفعہ ہوجاؤ۔۔’
“تو کیا پھولوں کے ہار پہناتا۔۔؟؟ ڈیم اِٹ میرے بیٹے کو مارا تھا اس نے۔۔”
“اور آپ نے۔۔”
بس جنید۔۔۔”
جنید کو گریبان سے پکڑے حمدان صاحب کمرے سے باہر لے گئے تھے۔۔۔
“وہ اب اس گھر میں نہیں آئے گی۔۔ وہ سیدھا جیل جائے گی۔۔ سنا آپ نے۔۔
اگر کسی نے اسے پناہ دی اسکا ساتھ دیا تو میں آپ سب کو بھی شایان کا قاتل سمجھوں گا۔۔۔ چلو رابیعہ۔۔۔”
وہ روتی ہوئی رابیعہ کو کندھے سے پکڑے وہاں سے لے گیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ماں جی یہ ہے وہ۔۔اور۔۔۔آپ کا شک سہی نکلا۔۔۔
میں نے اپنے بیٹے کو یہ سب دیا تو اس نے وہ ویڈیو دیکھائی۔۔۔ ماں جی۔۔
رابیعہ نے اپنے ہی بیٹے کو مارا ہے۔۔۔ ماں جی ہمیں یہ سب نیچے سب کو دیکھانا چاہیے۔۔۔”
“نہیں نزعت۔۔۔ تم یہ واپس لے جاؤ۔۔۔ اپنے بیٹے کے پاس محفوظ کرواؤ۔۔ اس حویلی میں کچھ بھی محفوظ نہیں میں پہلے بات کروں گی۔۔”
“پر ماں جی۔۔”
“تم جاؤ۔۔۔ اگر مجھے کچھ ہوبھی جائے تو تم تو ہوگی نہ۔۔؟ سچ سامنے لانے والی۔۔
وعدہ کرو۔۔ “
“پر ماں جی۔۔”
“نہیں نزعت ابھی رابیعہ پر کوئی شک نہیں کرے گا۔۔ وہ سب کی نظروں میں چاندنی کو برا بنا چکی ہے۔۔۔”
دادی مان روتے ہوئے بیڈ پر گر چکی تھی۔۔۔
“آپ دادا جی کے سامنے بات کریں۔۔”
“ہاہا وہ تو سب سے بڑ دشمن بنے بیٹھے ہیں ۔۔وہ۔۔۔ معراج۔۔۔۔ سب لوگ۔۔ وہ چاندنی کو مار دیں گے۔۔۔ “
دادی روتے ہوئے ہنسی اور نزعت کے گلے لگ کر اور رونا شروع ہوگئی تھی
۔
انکی باتیں جو سن رہی تھی وہ جلدی سے رابیعہ کے کمرے میں گئی تھی۔۔
۔
“تم یہاں کیا کررہی ہو۔۔؟؟ میں کھانا نہیں کھانا چاہتی کسی سے بات بھی نہیں کرنا چاہتی”
“یہ ڈرامہ بند کرو رابیعہ میں سب جان گئی ہوں۔۔ اگر چاہتی ہو کہ کوئی اور تمہاری سچائی نہ جانے تو ابھی دادی سے وہ ثبوت چھین لو۔۔”
“کیا بکواس کررہی ہو۔۔؟؟ کیا کہہ رہی ہو۔۔۔”
“دادی اور ملازمہ نزعت نے تمہارے اس کمرے میں کیمرہ لگایا ہوا تھا وہ لوگ تمہاری ہر نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے اب وہ ثبوت سب کو دیکھائیں گے اس سے پہلے جاؤ دادی کے کمرے میں۔۔”
“کیا۔۔۔؟؟”
“اپنے بیٹے کو تو تم مار چکی ہو۔۔ اب بہروز کو بھی کھونا چاہتی ہو۔۔؟؟”
مشعل کی بات سن کر وہ جلدی سے بیڈ سے اٹھ کر دروازے تک بھاگی تھی اور جاتے جاتے رکی تھی
“کہیں تمہارا و منصوبہ نہیں۔۔؟؟ تم تو چاندنی کی کزن ہو میری مدد کیوں کرنا چاہتی ہو۔۔؟؟”
“کیونکہ میں چاندنی کو ایک لمحہ برداشت نہیں کرسکتی یہاں۔۔ تمہاری وجہ سے وہ ہوا جو نہیں کوئی اور نہیں کرسکتا تھا۔۔ وہ گھر سے نکال دی گئی۔۔ ہر کوئی اس سے نفرت کرنے لگا ہے۔۔۔اب اگر وہ ثبوت سامنے آگئے تو وہ پھر سے حکومت کرے گی۔۔۔اور۔۔”
مشعل کی بات سنے بغیر وہ دادی کے کمرے کی طرف بھاگی تھی۔۔۔
۔