Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 06

“میری بیٹی اب اٹھ جاؤ۔۔۔ میں نے جانا بھی ہے۔۔”

گہری نیند سے اسکی آنکھ کھلی تو پاس اسکی ماں بیٹھی ہوئی تھی

“شکر اللہ کا ماں آپ ٹھیک ہیں۔۔۔یا اللہ۔۔۔ بہت بُرا خواب دیکھا میں نے۔۔۔”

چاندنی ماں کے سینے سے لگ کر بےتحاشہ رونے لگی۔۔۔

“ہماری گڑیا کیسی ہے۔۔؟؟”

“نانا ابو۔۔۔؟؟ ماں نانا ابو تو چلے گئے تھے۔۔۔ آپ واپس آگئے ہیں۔۔؟؟”

وہ اٹھ کر انکے پیچھے چلنا شروع ہوگئی تھی۔۔

“ماں۔۔۔؟؟ آپ کیوں اداس ہوگئی چلئیے نہ۔۔۔”

اور دروازے سے وہ جیسے ہی باہر نکلی تھی باہر زمین نہیں ایک سبز ہریالی تھی چار سو۔۔۔

“ایک منٹ نانا ابو۔۔ ماں ابھی اندر ہی ہیں۔۔”

“آجائے گی۔۔۔بیٹا۔۔۔”

“نہیں میں لیکر آتی ہوں۔۔۔”

“چاندنی۔۔۔”

“ماں چلیں ہم دونوں۔۔۔”

“تم میری لاڈلی ہو۔۔۔ میری جان۔۔ میرا مان۔۔۔بھولنا مت۔۔۔”

“وہ تو میں جانتی ہوں پر ماں۔۔۔”

“چاندنی کو ہوش آگیا ہے انہیں روک دیں۔۔۔ خدا کا واسطہ جنازے روک دیں۔۔ چاندنی کو آخری دیدار کرنے دیں۔۔۔”

آوازوں میں آوازیں گونجنے لگی۔۔۔اسکی انگلیوں میں حرکت ہونے لگی۔۔۔اور آنکھیں جیسے کھلی اس نے بےساختہ اپنی ماں کو پکارا۔۔۔

“ماں۔۔۔ ماں۔۔۔بابا۔۔۔”

سر میں درد کی شدت نے اسے واپس بیٹھنے پر مجبور کردیا تھا

“چاندنی بیٹا۔۔۔”

دادی نے اسے جیسے ہی سینے سے لگایا تھا اس نے آنکھیں پوری طرح کھول کر نظریں گھمائیں۔۔۔ اس کمرے میں رش لگا ہوا تھا دادی چچی کزنز رشتے داروں کا۔۔

سب اسکے لیے فکرمند تھے۔۔۔

اور ان سب میں وہ دو چہرے موجود نہ جنہیں وہ تلاش کررہی تھی۔۔۔

۔

“چلو بیٹا ایک بار۔۔۔”

چاندنی کو سہارا دے کر وہ باہر لے گئے تھے۔۔۔ کہ جس میں ایک قدم چلنے کی بھی ہمت ن رہی تھی۔۔۔

“آپ نے وعدہ کیا تھا۔۔۔ بابا۔۔ سارے وعدے پورے کرتے رہے۔۔ اور جو پورا کرنا تھا اسے ادھورا چھوڑ گئے۔۔؟؟ “

وہ روتے ہوئےجیسے ہی گری تھی اسکے ہاتھوں کی انگلیاں کانپ رہی تھی چہرے سے کفن اتارتے ہوئے۔۔۔

“اسکا ہاتھ اٹھا دو۔۔ “

“چاندنی کو روک لیں۔۔ چہرے دیکھ نہیں پائے گی جل چکے ہیں۔۔۔”

پر چاندنی نے سب کو پیچھے جھٹک دیا تھا وہ ہاتھ جیسے ہی اٹھا کر چہرہ دیکھنے لگی تھی پیچھے سے کسی نے چاندنی کا ہاتھ مظبوطی سے پکڑ لیا تھا۔۔

“بہروز آگیا۔۔۔”

فضا میں ایک آواز گونجی پر چاندنی نے نظریں اٹھا کر نہیں دیکھا اور جتنی طاقت تھی اس وقت اس نے سب لگا دی تھی اپنا ہاتھ چھڑانے میں۔۔

“بہروز چھوڑ دو۔۔ وہ دیکھے بغیر پیچھے نہیں ہوگی۔۔”

“دادا نے بہروز کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔

“ابا جی وہ برداشت نہیں کرپائے گی۔۔۔”

پر وہ بہادر تھی۔۔۔ اس نے برداشت کیا۔۔۔

فرق صرف اتنا تھا ماں جانے کے جانے سے اسے اب کوئی اس کا اپنا نہیں لگتا تھا۔۔

۔

۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

۔

۔

“بہروز جا چکا ہے ابا جی۔۔۔ ائیر پورٹ سے ہوکر آگئے ہیں صفوان اور جنید۔۔۔”

“اسکی ہمت کیسے ہوئی۔۔؟؟ کیا ضروری کام آگیا تھا کہ اپنے سگے چچا کی قبر کی مٹی نہی سوکھی اور وہ۔۔۔”

“ابا جی میں صفوان کو پیچھے بھیج رہا ہوں وہ بہروز کو لے آئے گا۔۔”

“کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔”

چاندنی کی آہستہ آواز نے ان سب کو خاموش کردیا تھا۔۔۔

“کوئی بھی ضرورت نہیں ہے۔۔ میرے ماں باپ چلے گئے ہیں۔۔ آپ سب کا فرض پورا ہو گیا ہے۔۔ اب آپ سب اپنی اپنی زندگی میں مصروف ہو جائیں۔۔۔

جانے والے واپس نہیں آئیں گے۔۔۔

دادا جان پلیز بہروز کو اور ڈسٹرب مت کریں۔۔۔ آپ سب جتنا افسردہ ہوں گے بابا کی روح کو اتنی ہی تکلیف ہوگی۔۔۔”

ہاتھ جوڑ کر وہ اپنے روم میں واپس چلی گئی تھی

“چاندنی۔۔۔”

“جانے دو زینب۔۔۔”

“امی پچھلے ایک ہفتے سے نہ زیادہ کھاتی ہے نہ بات کرتی ہے اپنے آپ کو کمرے میں بند رکھنے لگی ہے۔۔”

خواتین سے زیادہ گھر کے مرد حضرات کو چاندنی کی فکر ہونے لگی تھی۔۔

“ایسے کب چلے گا۔۔؟؟ مجھے فکر ہورہی ہے اسکی ابا جی۔۔۔”

“وہ جانے والے اسکے ماں باپ تھے۔۔”

وجدان صاحب نے جیسے ہی کہا تو ہر آنکھ اشکبار ہوگئی تھی۔۔ مہمان رشتے دار آکر جاچکے تھے تعزیت کرنے والوں کا ایک جھرمٹ لگ جاتا تھا ہر شام کو۔۔۔

ہر کوئی غمزدہ تھا۔۔ ہر آنکھ اشکبار تھی۔۔

اور وہ باپ جس جو سب کو سختی سے منع کرتا رہا رونے سے جو سب کو سنبھالتا رہا وہ چپ سا ہوگیا تھا اپنے جوان بیٹے کی اچانک موت پر۔۔۔

مجتبا حاکم نے ان دنوں ایک کام بالکل نہیں کیا تھا چاندنی کے پاس جانے کا۔۔

“مجتبا آپ بات کریں چاندنی سے۔۔”

“بیگم۔۔ مجھے مجبور نہ کرنا۔۔۔”

کہتے ہی اپنی عینک اتار دی تھی انہوں نے۔۔۔ کندھے ہلنا شروع ہوگئے تھے سب کو واضح نظر آرہا تھا ان کا ٹوٹنا۔۔۔

“مجھے اس بچی کی شکل میں شاہ زیب نظر آتا ہے۔۔۔میرا شاہ زیب۔۔میرا لاڈلا بیٹا۔۔۔

جانے سے پہلے میرے پاس بیٹھ گیا تھا۔۔۔ مجھے کہتا۔۔۔”

انکی سسکیاں سنتے ہی باقی کے تینوں بیٹے باپ کے گلے لگ گئے تھے

“ابا جی۔۔۔بس کرجائیں۔۔”

“کیسے بس کرجاؤں۔۔۔؟ مجھے کہتا ہے ہم چاندنی کی شادی کے بعد حج پر جائیں گے۔۔

کہہ رہا تھا کہ واپس آکر وہ گھر والوں کے ساتھ وقت گزارے گا۔۔۔

وہ کہہ رہا تھا کہ اس بار ماں کے ہاتھوں کے بنے پکوڑے کھائے گا۔۔۔ بیگم وہ اتنی باتیں کررہا تھا ان پندرہ منٹوں میں اس نے بہت باتیں کرلی۔۔۔”

۔

“ابا جی کو کمرے میں لے جائیں معراج۔۔ میں امی کو اپنے ساتھ لے جاتی ہوں۔۔”

“جی معراج بھائی ہم امی کو آج اپنے ساتھ رکھے گے۔۔ “

“نہیں جانا مجھے کسی کے ساتھ میں چاندنی کے ساتھ رہوں گی بس۔۔۔ جنید بیٹا مجھے چاندنی کے کمرے تک لے جاؤ گے۔۔؟؟”

“جی جی دادی آئیں۔۔۔”

دادی کا ہاتھ پکڑ کر وہ انہیں اوپر لے گئے تھے۔۔ اور باقی سب مجتبا صاحب کے پاس بیٹھ گئے تھے ایک گہری خاموشی چھا گئی تھی جب بچوں نے گزرے دنوں کی باتیں بیان کرنا شروع کی تھی

شاہ زیب اور شاہزین کی تعریفیں کرنے لگے تھے سب اداس آنکھوں سے۔۔۔

۔

۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

۔

۔

“بہروز۔۔؟؟ ابھی تک آفس میں ہو۔۔۔؟ میں تو سیکیورٹی کو لاک کرنے کا کہنے والا تھا تو کیبن کی لائٹس آن دیکھی۔۔۔”

“ہمم بس جانے ہی والا تھا اسد۔۔ کچھ دیر اور لگ جائے گی۔۔”

اسد جانے کے بجائے واپس آگیا تھا کیبن میں

“جب سے آئے ہو اتنے بے چین لگ رہے ہو۔۔ اگر کچھ دن اور رک جاتے تو کچھ بگڑ نہیں جانا تھا بہروز۔۔۔”

اسد سامنے چئیر پر آبیٹھا تھا۔۔

“سب کچھ ہی بگڑ جانا تھا۔۔ میں جانتا ہوں۔۔”

وہ پھر اپنے خیالوں میں گم ہوگیا تھا دوست کو اگنور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے

“کیا ہوا تھا وہاں۔۔؟؟ کچھ تو ہوا ہوگا جو تم ایسے بھاگ آئے۔۔ یہاں تو کہہ کر گئے تھے ایک مہینہ لگ جائے گا۔۔۔”

“نہیں کچھ نہیں ہوا اسد ابھی میں اکیلا رہنا چاہتا ہوں پلیز۔۔۔”

“اوکے۔۔۔ میں جانتا ہوں تمہارے چاچو تمہاری زندگی میں کتنی اہمیت رکھتے تھے۔۔ پر قدرت کے فیصلوں کو کون ٹال سکتا ہے بہروز۔۔۔”

اسد اسے حوصلہ دیتے ہوئے کیبن سے چلا گیا تھا۔۔

اور بہروز نے جیسے ہی آنکھیں بند کی تھی وہ نیلی آنکھیں اسے دیکھائی دیتی تھی۔۔۔

وہ چہرہ جس کی اداسی نے پچھلے کچھ دنوں سے اسکا سکون چھین لیا تھا

وہ ہاتھ جنہوں نے اتنے سالوں کے بعد اسکے ہاتھ پکڑے تھے۔۔۔

اور بہروز ایک دم سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا تھا۔۔ کچھ دن پہلے پاکستان میں اس کمرے میں اس لڑکی کے ساتھ گزارے کچھ لمحات نے جیسے اسے قید کرلیا ہو۔۔

۔

“شاہ زیب چاچو۔۔ شاہزین چچی کے جانے کا دکھ مجھے بھی ہے۔۔۔ چا۔۔۔

چاندنی۔۔۔”

“پھر آپ تب یہاں کیوں نہ تھے جب بابا بلاتے تھے اپ کو۔۔؟؟ کتنا یاد کرتے تھے۔۔

آپ نے تو فون بھی اٹھانا بند کردیا تھا۔۔۔ ب۔۔۔بہروز۔۔۔”

وہ پہلی بار تھا جب ان دونوں سے ایک دوسرے کا نام لینا مشکل ہورہا تھا۔۔۔۔

وہ بیڈ پر ٹیک لگائے آنکھیں بند کرچکی تھی۔۔

“چاندنی۔۔ آپ۔۔ تمہارے سر پر چوٹ آئی ہے اب اور رو کر چاچو کو اذیت دے رہی ہو۔۔۔”

چاندنی کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے بہروز نے ان آنسوؤں کو انگلیوں سے صاف کرنے کی کوشش کی اور جب وہ کرنے لگا تو عین لمحے چاندنی نے آنکھیں کھول لی اور گھبرا کر بہروز نے اپنا ہاتھ پیچھے کرلیا۔۔

“ہمم۔۔ اب میں چلتا ہوں۔۔۔”

“سٹے۔۔۔پلیز۔۔۔۔ رک جائیں۔۔۔”

بہروز کے ہاتھ پر ہاتھ رکھے کب وہ سو گئی تھی ہر پریشان ہر بات سے بےخبر۔۔۔

اور بہروز حاکم کچھ دیر میں اس کمرے سے نکل گیا تھا۔۔۔ اپنی تیز دھڑکنوں آج اسے انتہا کی خطر ناک لگ رہی تھی اور جب رابیعہ کی کال آئی تو اس نے واپس جانے کا فیصلہ لے لیا تھا۔۔۔

۔

“میں کیسے بتاؤں اس لمحے نے مجھے اس کا غلام بنا دیا تھا۔۔ اور میں اس کا غلام بننا نہیں چاہتا تھا۔۔۔کبھی نہیں۔۔۔ میں رابیعہ کو پسند کرتا ہوں اس سے شادی کروں گا۔۔۔ بہت جلدی وائنڈ اپ کرکے واپس جاؤں گا۔۔۔”

۔