Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

“دبئی۔۔۔”
۔
“تم کہنا کیا چاہتے ہو۔۔؟؟ آج تم منگنی سے انکار کررہے ہو سلیمان۔۔؟؟”
“موم پلیز۔۔میں ابھی تیار نہیں ہوں۔۔”
“سلیمان۔۔ کیا ہوگیا ہے اچانک سے۔۔؟؟ تم نے ایک مہینے کا وقت مانگا تھا میں نے موم ڈیڈ سے ٹائم لیا اب یہ کہہ رہے ہو۔۔؟؟”
“ایم سوری۔۔۔ میں ابھی نہیں کرسکتا۔۔۔پلیز۔۔۔”
“مہرما یہ اس لڑکی کی وجہ سے ہورہا جو اوپر آرام فرما رہی ہے۔۔۔”
والدہ کی بات پر وہ تینوں شاکڈ ہوگئے تھے
خاص کر سلیمان۔۔
“فار گوڈ سیک موم۔۔ وہ سن لے گی۔۔پلیز اس کی مشکلات میں اور اضافہ مت کریں۔۔۔”
“دیکھا۔۔؟؟ امتیاز دیکھ رہے ہیں آپ۔۔۔؟”
“سلیمان۔۔۔ کیا یہ سچ ہے۔۔؟؟ کیا تم چاندنی بیٹی سے۔۔؟؟”
“نووو ڈیڈ۔۔۔ ایسی بات نہیں ہے آپ باجی سے پوچھ لیں۔۔۔”
سلیمان نے آنکھوں سے التجا کی تھی مہرما کو جو خود بھی حیران تھی۔۔۔
اتنے دنوں سے وہ درگزر کرتی آئی سلیمان کی موجودگی اسکے اپارٹمنٹ میں اور اب۔۔۔
“موم۔۔۔ ڈیڈ ایسی بات نہیں۔۔ ابھی پرسو تو ڈنر پر لے کر گیا تھا سلیمان اسے۔۔۔”
“کیا سچ میں۔۔۔؟؟”
والدہ نے جیسے ہی پوچھا مہرما نے ہاں میں جواب دینے کا اشارہ کیا تھا بھائی کو۔۔
“جی پرسو ہی لیکر گیا تھا۔۔۔”
“اووہ۔۔۔ بیٹا ایم سو سوری میں بھی نہ کیا سمجھ لیا۔۔۔”
“موم۔۔۔ پھر سے مس چاندنی پر ایسا الزام مت لگائیے گا۔۔۔ وہ زندگی سے ہاری ہوئی ہیں۔۔ اگر جی رہی تو اپنے آنے والے بچے کے لیے۔۔
پلیز ان پر زندگی اور تنگ مت کیجئے۔۔۔”
وہ سنجیدگی سے کہتے ہوئے وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بہت بہت مبارک ہو چاندنی بیٹی ہوئی ہے۔۔۔”
مہرما نے اس بچی کو چاندنی کی گود میں ڈال دیا تھا۔۔۔
“کیا۔۔۔ کیا ایک بار۔۔۔ بہروز سے بات کرسکتی ہوں۔۔۔ بس ایک بار۔۔۔”
مہرما نے تو سر نیچے کرلیا تھا پر سلیمان۔۔۔ جس نے غصے سے موبائل اپنی جیب سے نکال کر چاندنی کے سامنے کیا تھا۔۔۔
“کرو اسے فون اور کہو یہاں آکر چھین لے تمہاری بیٹی۔۔۔ کیونکہ وہ اب تمہارا بہروز نہیں رہا۔۔ وہ ایک لمحہ بھی نہیں لگائے گا ۔۔۔”
“میں ایک بار اسکی آواز سننا چاہتی ہوں۔۔۔”
بس۔۔۔
اور جب اس نے وہ نمبر ڈائل کیا تو ایک آواز سن کر اس سے موبائل نیچے گرگیا تھا۔۔۔
جو سلیمان نے جلدی سے پکڑ لیا تھا اور سپیکر آن کردیا تھا۔۔
“ہیلو۔۔۔”
ایک لڑکی کی آواز سن کر چاندنی کو خاموش رہنے کا کہا تھا اور سلیمان نے خود بات کرنا شروع کی تھی
“بہروز حاکم سے بات کرسکتا ہوں۔۔۔؟”
“بہروز ابھی سو رہے ہیں۔۔۔آپ کون۔۔؟؟”
“آپ کون ہیں۔۔؟؟”
“بہروز کی وائف۔۔ آپ بتائیے کوئی پیغام۔۔۔”
چاندنی نے فون کھینچ کر کال کاٹ دی تھی۔۔۔
۔
“اس کے لیے بہت آسان تھا۔۔۔؟؟ بہت آسان تھا۔۔۔؟؟”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“فقط میرے دل سے اتر جائیے گا۔۔۔
بچھڑنا مبارک بچھڑ جائیے گا۔۔۔”
۔
“چاہت۔۔۔میری بچی۔۔۔ آج سے ہم دونوں ہیں ایک دوسرے کے لیے۔۔۔
ماما اور چاہت۔۔۔ دونوں۔۔۔”
اپنی بیٹی کو اپنے سینے سے لگائے اس نے آنکھیں بند کرلی تھی۔۔۔
پر ماضی۔۔۔ ماضی بند دروازوں پر ایسے دستک دے رہا تھا کہ سب دیواریں توڑ کر اندر آنے کو ہو۔۔۔
“ڈاکٹر نے کہا۔۔۔ میں کبھی ماں نہیں بن سکتی۔۔ بہروز۔۔ میں بانجھ۔۔”
“ایک اور لفظ نہیں چاندنی۔۔۔ ڈاکٹر خدا نہیں ہیں۔۔۔ بانجھ لفظ نہ بولنا۔۔۔ یہاں میرے دل میں تکلیف ہوتی ہے جب تم خود کو ایسے کہتی ہو۔۔
اپنا نہیں تو میرا خیال کرو۔۔ ہم دونوں ہیں ایک دوسرے کے لیے۔۔ ہمارا بیٹا شایان ہے۔۔۔”
۔
“جھوٹ۔۔۔۔سب جھوٹ تھا۔۔۔اگر اس لفظ سے نفرت ہوتی تو کبھی نہ کہتے آپ۔۔
بہروز۔۔۔”
وہ رونا شروع ہوئی تو چاہت کی آنکھیں بھی کھل گئی تھی
“تمہاری آنکھیں۔۔۔ بالکل تمہارے بابا پر گئی ہیں چاہت۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“چار سال بعد۔۔۔۔۔”
۔
“میں اور حسیب نیویارک شفٹ ہورہے ہیں۔۔بھائی اور کل کی فلائٹ ہے۔۔۔”
“ہممم۔۔۔ ٹیک کئیر۔۔۔ اپنا خیال رکھنا۔۔۔”
بہروز صائمہ کے ماتھے پر بوسہ دے کر چلا گیا تھا
“بہروز بھائی۔۔۔ اب بھی خوش نہیں ہیں۔۔۔؟؟ دادا جی اب تو شایان ہے انکی پہلی محبت ہے اور۔۔۔”
رابیعہ جیسے ہی شایان کو گود میں اٹھائے نیچے آئی تھی سب کی نظریں ان دونوں پر تھی چہروں پر مسکان آگئی تھی۔۔۔
“پھوپھو۔۔۔ میں نے بھی جانا ہے وہاں۔۔۔ میں بھی حسن کے ساتھ جانا چاہتا ہوں۔۔۔”
صائمہ کی ٹانگوں کے ساتھ لپٹے شایان نے ضد کی تھی
“ہاہاہا۔۔۔ اچھا بابا سے بات کرو۔۔۔نہیں مانیں گے۔۔۔”
“وہ مان جائیں گے۔۔ میں کہہ رہا ہوں پھوپھو۔۔۔”
۔
“ہاہاہاہا۔۔۔ دادا کو تو بھول ہی گئے ہیں آپ۔۔۔”
مجتبا نے اپنی گود میں بٹھاتے ہوئے پوچھا تھا۔۔۔ کھانے کی میز ہر روز کی طرح جگ مگا اٹھی تھی۔۔۔
سب خوش تھے۔۔۔
پھر بھی خلش تھی۔۔۔
کہیں کوئی کمی تھی۔۔۔
“آپ شایان کا خیال رکھیں مجھے ایک ضرور ی کام سے جانا ہے۔۔۔”
“بیٹا ناشتہ کرجاؤ۔۔۔؟؟”
زینب نے پیار سے رابیعہ کے چہرے پر ہاتھ رکھا تھا۔۔
“میں ضرور کرتی اگر کام ضروری نہ ہوتا تو۔۔”
اور وہ جلدی جلدی میں چلی گئی تھی۔۔۔
۔
“دادا جی۔۔۔ یہ چاندنی کون تھی۔۔؟؟”
شایان نے بریڈ کھاتے ہوئے جیسے ہی پوچھا دادا جان کو بدترین کھانسی شروع ہوگئی تھی۔۔۔
“بابا سائیں آرام سے۔۔۔”
شایان کو انکی گود سے اٹھا کر صائمہ کر پکڑا دیا تھا معراج صاحب نے۔۔۔ اور خود اپنے والد کو پانی کا گلاس دیا تھا۔۔۔
دادا جان کی کھانسی سے زیادہ تو شایان کی بات نے پریشان کیا تھا
“بابا نیند میں نام لیتے ہیں۔۔۔ وہ بابا کی دوست ہے۔۔؟؟ آپ جانتے ہیں۔۔؟؟
آپ کی دوست تھی۔۔؟؟”
دادا جان نہ ہاں میں سر ہلا پائے تھے نہ ہی نفی میں زبان کھول پائے تھے
منہ نیچے کئیے آنکھ سے گرنے والے آنسو چھپا لئیے تھے۔۔
کتنے سال بعد آج یہ نام لیا گیا تھا۔۔۔
وہ۔۔۔ جسے دیکھتے ہی سب کے چہروں پر مسکان آجاتی تھی
جو جان تھی اس حویلی کی۔۔۔ وہ جسے ایک وقت میں نفرت کرنے لگے تھے سب۔۔۔
وہ جو ایک یاد ایک بدترین یاد بن کر رہ گئی تھی
وہ چاندنی۔۔۔ جو اس حویلی میں رہنے والوں کی بیٹی تھی بہو تھی۔۔۔
خون تھی۔۔۔اب وہ صرف دشمن بن کر رہ گئی تھی۔۔۔
وہ دشمن جس کا نام لینا بھی منع کردیا تھا بہروز حاکم نے۔۔۔
۔