Dusri Aurat by Sidra Sheikh readelle50012 Episode 34
No Download Link
Rate this Novel
Episode 34
“چاندنی۔۔۔”
شام کے اس پہر وہ نظریں چراتی قبرستان تو آگئی پر اپنی بیٹی کی قبر کے عین آگے اس شخص کو گھٹنوں کے بل بیٹھے دیکھ غصے سے مٹھی بند کرلی تھی
واپس جانے کو پلٹی تھی جب بہروز نے اسے آواز دی تھی اس نے پیچھے دیکھا نہ تھا پھر بھی پہچان گیا تھا۔۔۔
اور وہ گہرا سانس بھرے واپس کچھ قدم چل کے اسکے پیچھے کھڑی ہوئی
“اب یہاں کیوں آئے ہو بہروز حاکم۔۔ اس معذور ڈس ایبلڈ بچی کے پاس۔۔ جسے آبورشن تک کروانی کی بات کر چکے ہو اب کیوں آئے ہو۔۔؟؟ اسے یہاں تو سکون لینے دو۔۔۔”
“اس سے معافی مانگنے آیا ہوں۔۔۔ پر میرا رب جانتا ہے۔۔۔ یہ الفاظ۔۔۔ بس تمہیں تکلیف پہنچانے کے لیے کہے میں نے چاندنی۔۔ میں کبھی۔۔”
“بس۔۔۔ جھوٹ تو آپ پہلے بھی بولتے آئے آج تو بخش دیں قبرستان کھڑے ہیں اپنے انجام سے ڈر نہیں لگتا۔۔۔؟؟”
“میں ہماری بیٹی کی قبر پر ہاتھ رکھے قسم کھاتا ہوں۔۔۔چاندنی۔۔۔تمہیں تکلیف دینا چاہتا تھا۔۔ تمہیں۔۔وہ دکھ دینا چاہتا تھا جو مجھے ملا ۔۔۔”
وہ چپ ہوگیا تھا۔۔مکمل کندھے ہل رہے تھے بہروز حاکم رو رہا تھا گلاب کی پتیوں سے سجائی ہوئی ننھی سی قبر پر ہاتھ پھیر رہا تھا وہ
“چاندنی۔۔۔ میں نے آبورشن والی بات غصے میں کہی چاندنی۔۔۔ جس دن میں نے شایان کو ڈانٹا۔۔۔۔ جس دن تم نے مجھ پر غصہ کیا تھا چار سال بعد۔۔۔
چاندنی میں نے اس دن کے بعد ہماری بیٹی کو اس نگاہ سے نہیں دیکھا۔۔ میں۔۔۔ تمہیں نیچا۔۔۔”
“بہروز حاکم یہ صفائیاں کس لیے۔۔؟ وہ زندہ ہوجائے گی۔۔؟؟ سچ تو یہ ہے آپ کو لگتا تھا میں نے آپ کے بیٹے کو مارا آپ نے میری بیٹی کو مار دیا۔۔۔حساب برابر۔۔؟؟
پر آپ نے میری بیٹی کو ہی نہیں ایک ماں کو بھی مار دیا۔۔ اور ایک بیوی کو میں ماروں گی آپ سے طلاق لیکر۔۔۔”
وہ کہہ کر دو قدم آگے بڑھی جب بہروز کی اگلی بات نے اسکے قدم روک دئیے۔۔۔
۔
“مجھے کبھی تم سے محبت نہیں ہوئی تھی چاندنی۔۔۔ کبھی نہیں۔۔۔ رابیعہ کے دھوکے نے میرے دل میں نفرت پیدا کردی تھی محبت نام سے۔۔۔”
وہ آنسو صاف کرکے اٹھا تھا۔۔۔چہرہ پھر سے تر ہوگیا تھا جب وہ لڑکھڑایا تھا۔۔۔
اور چاندنی کے پیچھے کھڑا ہوگیا تھا
۔
“چاندنی مجھے تم سے ہمدردی نہیں تھی۔۔۔ میں صرف شایان کے لیے گھر والوں کی نظر میں اپنا مقام واپس پانے کے لیے نکاح کے لیے رضا مند ہوا تھا۔۔۔
چاندنی۔۔۔مجھے تم سے محبت نہیں تھی۔۔۔”
چاندنی کو کندھوں سے پکڑے اس نے اپنی طرف کیا تھا اسے۔۔۔
“مجھے تم سے محبت نہیں تھی چاندنی۔۔۔ اس لیے وہ یقین نہ کر پایا جو ایک شوہر کو کرنا چاہیے اپنی بیوی پر۔۔۔
مجھے تم سے محبت نہیں تھی۔۔۔ میں بس رابیعہ سے محبت کرتا آیا۔۔۔
جب چار سال بعد وہ واپس آئی کینسر جیسی بیماری کا جھوٹ بولا۔۔ میں اسے گھر لانے سے انکار بھی کرسکتا تھا چاندنی۔۔۔ اگر مجھے تم سے محبت ہوتی تو۔۔۔
پر مجھے محبت نہیں تھی۔۔۔ میں تمہیں دھتکارتا رہا نیچا دیکھاتا رہا چاندنی۔۔۔
ورنہ کسی میں کیا جرات تھی کہ ہمیں الگ کرسکتا۔۔؟؟ ہم کیوں الگ ہوئے۔۔
کیونکہ میں کمزور تھا۔۔۔ میرا دل تمہیں لیکر۔۔۔ میرے سامنے جو آتا رہا میں یقین کرتا رہا سب پر یقین کیا سوائے تمہارے۔۔۔ میری دوسری بیوی۔۔۔”
چاندنی کی نظروں میں اپنے لیے نفرت کی انتہا دیکھ کر اسکی گرفت اور مضبوط ہوئی تھی اسکے کندھوں پر۔۔۔
“پر۔۔۔ تمہارے جانے کے بعد۔۔۔۔ چاندنی۔۔۔ چار سال۔۔۔ میں میں نہیں رہا۔۔
غم شایان کے جانے کا ہوتا تو وہ تو پورا ہوگیا تھا نہ۔۔۔؟؟ میں اپنے بیٹے کی سزا کا بہانہ بنا کر ڈھونڈتا رہتا۔۔۔
میں کہتا رہا نفرت ہے تم سے مجھے۔۔۔ پر اتنی ہی محبت ہوتی گئی۔۔۔
اور جب تم سامنے آئی۔۔۔میرے بغیر خوش۔۔۔۔ میں پاگل ہوگیا تھا چاندنی۔۔۔۔ میری غیرت میری مردانگی۔۔۔ میری آنا سب درمیان میں آگئے چاندنی بس محبت نہ آسکی۔۔
چاندنی کیسے بتاتا تمہیں کتنی محبت۔۔۔”
“بہروز آپ جھوٹے ہونے کے ساتھ ساتھ بہت بڑے اداکار بھی ہیں جانتے ہیں آپ۔۔۔؟؟”
خود کو چھڑا کر وہ پیچھے ہوئی تھی
“چاندنی۔۔۔ مت جاؤ۔۔۔ بیٹی کا غم ٹرپا رہا ہے تمہارا جانا مجھے مار د ے گا۔۔”
“تو مرجائیں۔۔۔ ویسے بھی آپ کی زندگی دوسرے کے لیے موت بن رہی ہے۔۔۔
پہلے شایان پھر چاہت۔۔۔ اب شاید میں۔۔”
بہروز نے غصے سے دیکھا تھا اسے۔۔۔ اور اپنے سینے سے لگایا لیا تھا زبردستی۔۔وہ لاکھ چھوٹنے کی کوشش کررہی تھی پر بہروز
“مجھے اپنے ہاتھوں سے مار دو۔۔۔ پر پھر سے یہ بات مت کرنا۔۔۔ میں باپ تھا۔۔۔
تم جانتی ہو دونوں بار میں۔۔۔ میں نہیں چاہتا تھا ڈیم اِٹ۔۔۔ کون باپ اولاد کو مارنا چاہتا ہوگا۔۔۔”
“ٹھیک کہا کوئی اپنی اولاد کو نہیں مار سکتا۔۔۔ آپ نے میری بیٹی کو مارا۔۔۔
مسٹر بہروز حاکم۔۔۔ میں ترلے کرتی رہی منتیں کرتی رہی اور آپ۔۔۔ کہتے رہے “
“پلیز۔۔۔۔پلیز۔۔۔پلیز۔۔۔چاندنی۔۔۔ پلیز۔۔۔ میں گناہ گار ہوں۔۔۔ تمہارا ہماری بیٹی کا۔۔۔ “
وہ جیسے ہی گھٹنوں کے بل گرا تھا سر جھک گیا تھا چاندنی کے سامنے۔۔۔
“آپ کو معافی چاہیے۔۔؟؟؟ میں معاف کردوں گی بہروز۔۔۔ میری بیٹی واپس لا دیں۔۔۔ مجھے میری چاہت زندہ چاہیے۔۔ میں معاف کردوں گی۔۔۔”
۔
اور وہ وہاں سے بھاگ گئی تھی۔۔۔
۔
“نہیں لا سکتا واپس۔۔۔ چاندنی۔۔۔ نہیں لاسکتا۔۔۔ میں ناکام شوہر کے ساتھ ساتھ ناکام باپ بھی ثابت ہوا ہوں۔۔ نہیں لا سکتا واپس۔۔۔۔ اور یہ میری سزا ہے میں خالی ہاتھ رہوں۔۔۔میں۔۔۔آہ۔۔۔ہ۔۔۔۔”
ہاتھوں سے منہ اٹھائے اس نے واپس اپنی بیٹی کی قبر کو دیکھا تھا اسکی چیخ ہوا میں گونج اٹھی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بہروز۔۔۔۔”
“جی۔۔۔ جی بابا ۔۔۔کہاں ہیں۔۔۔؟؟ نظر نہیں آرہے۔۔۔؟؟”
وہ گلدان سے ٹکڑایا تو ایک ایک کرکے سب لائٹس آن ہونا شروع ہوگئی تھی حویلی کی۔۔۔
“کہاں ہے بابا۔۔۔؟؟”
ایک ہاتھ سے بوتل گری تو کرچی دور دور تک گئی تھی۔۔۔
“کہاں سے بچا کر لایا تھا ۔۔۔چلو دوسری ہے۔۔۔”
“بہروز تم ڈرنک کرکے آئے ہو۔۔؟؟ تم جانتے ہو اس حویلی میں یہ سب۔۔”
“یہاں سب کی اجازت ہے۔۔۔ بیوی پر ظلم کرنے کی اس پر گولی چلانے کی پریگننٹ بیوی کو گھر سے نکالنے کی اجازت ہے تو اسکی کیوں نہیں۔۔؟؟
بیٹی پر یقین نہ کرنے کسی غیر لڑکی پر یقین کرنے کی اجازت ہے تو یہ کیوں نہیں۔۔؟؟
ظالم بہروز حاکم کو سب اجازت تھی تو شرابی کو کیوں نہیں ہے۔۔؟؟”
دادا جی کی بڑی سی کرسی پر بوتل لئیے وہ بیٹھ گیا تھا
“یہ کیا تماشا ہے جلدی اٹھو اور کمرے میں جاؤ اس سے پہلے ابا جی اٹھ کر باہر آجائیں۔۔۔”
“آنے دیں انہیں۔۔۔ انہوں نے آپ نے آپ سب نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے اسکو یہاں سے بھیجنے میں۔۔۔”
“کیا۔۔ بہروز اب تم الزام لگا رہے ہو۔۔اس عورت کو تم یہاں لائے تھے ہمارے درمیان”
“میں صرف اس عورت کو اس گھر لایا تھا۔۔۔ اسے سر پر سوار آپ لوگوں نے کیا تھا چچی جان۔۔۔
میرا گھر ٹوٹنے میں آپ کے شوہر آپ کی بیٹی آپ کے بیٹے ان تینوں کا برابر کا ہاتھ ہے۔۔۔”
بہروز نے جو باتیں ہوش و ہواس میں نہیں بتائی تھی آج نشے کی حالت میں وہ سب بتا رہا تھا۔۔
“بہروز یہ کیا کہہ رہے ہو۔۔؟؟”
دادی سامنے کھڑی تھی حیرانگی سے انہوں نے پوچھا اور پھر اپنے شوہر کی جانب دیکھا جو اتنے ہی خاموش تھے پر حیران نہیں۔۔۔
“بہروز پلیز۔۔۔”
فرحین چچی کی آنکھیں پتھرا گئی تھی اور انہوں نے سرگوشی کردی وہ کبھی نہیں چاہتی تھی انکے شوہر اور بچوں کی امیج خراب ہو سب کے سامنے۔۔
۔
“جب میں باہر بیٹھا تھا یہ لوگ شاہ زیب چچا کو دھوکے باز جھوٹا مکار ثابت کرتے رہے میرے سامنے۔۔۔”
بہروز جیسے ہی بتانا شروع ہوا جنید نے موبائل نکال کر ویڈیو بنانا شروع کردی۔۔
“کیوں مجھے شاہ زیب چچا سے نفرت ہوگئی تھی۔۔؟؟ بابا آپ کا ایکسیڈنٹ ہوا تو انہوں نے مجھے کہا اس دن شاہ زیب چچا نے بدتمیزی کی تھی۔۔
یہ کہتے تھے اس حویلی میں آپ دونوں کی تذلیل انکی وجہ سے ہوتی۔۔۔
اور۔۔۔دادا جان۔۔۔”
وہ مجتبا صاحب کے گلے لگ گیا تھا ایک دم سے۔۔۔
“انہوں نے کہا تھا شاہ زیب چچا نے فراڈ کرکے پیسے بنائے۔۔۔ اور میں اس شخص سے نفرت کرنے لگا جنہوں نے ابو سے بھی زیادہ پیار دیا مجھے۔۔۔
بچی کچی کمی انکی بیٹی نے پوری کردی۔۔۔ چاندنی کی صفوان کے ساتھ ویڈیوز بھیجتی تھی مجھے۔۔۔
میں عقل کا اندھا یقین کرتا رہا۔۔۔میں پڑھا لکھا جاہل۔۔۔
سب گنوا بیٹھا۔۔۔ یہ خون ہوکر ایسے کرسکتے تو وہ گھٹیا عورت پھر غیر تھی۔۔۔
ان سب نے میرا یقین توڑا۔۔۔ میرا بیٹا مرگیا۔۔۔ میری بچی مرگئی۔۔۔
میری چاندنی بھی جانے کو ہے۔۔۔۔
پر میری بات سن لیں آپ سب لوگ۔۔۔ اس بار میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جاؤں گا یہاں سے۔۔۔میں بھی معاف نہیں کروں گا آپ سب کو۔۔۔یاد رکھئیے۔۔۔”
اور وہ سیڑھیوں پر ہی گر گیا تھا۔۔
“میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔۔۔میں۔۔”
معراج وجدان اسے کمرے میں لے جاؤ۔۔۔”
“مجھے نہیں جانا اس کمرے میں گھن آتی ہے مجھے۔۔۔مجھے۔۔۔”
وہ نیند کی دنیا میں سکون سے کھو گیا تھا باقی سب کی نیندیں اڑا کر۔۔۔
“تم میرے بیٹے ہو ہی نہیں سکتے۔۔۔حمدان۔۔۔ کیا کردیا تم نے۔۔۔ بےغیرت انسان۔۔”
دادی حمدان صاحب کے سامنے جیسے ہی آئی تھی انہوں نے ایک زور دار تھپڑ مارا تھا۔۔
“دفعہ ہوجاؤ۔۔۔نکل جاؤ اس گھر سے مجتبا ابھی اسے عاق کریں نکال باہر کریں اسے اس نے آپ کی ہنستی بستی حویلی کو اجاڑ دیا ہے مجتبا۔۔جن بیٹوں کے اتفاق پر آپ کو یقین تھا اس نے توڑ دیا۔۔۔
کس لیے۔۔؟؟ حمدان جائیدا د کے لیے۔۔؟؟”
“بس ماں۔۔۔”
تیسرا تھپڑ کھانے ک بعد انہوں نے اپنی ہی ماں کو جھٹک دیا تھا۔۔۔
۔
“بس حمدان ۔۔۔”
مجتبا صاحب نے جلدی سے شمیم بیگم کو تھاما تھا۔۔۔
“ڈیڈ اننف۔۔۔”
صفوان نے آہستہ سے کہا تھا پر حمدان صاحب نے اپنے بیٹے کو بھی جھٹک دیا ۔۔
“کیا دیا ۔۔؟؟ بیٹے۔۔؟؟ چاروں بیٹوں میں کتنا فرق رکھا۔۔۔
ہر وقت شاہ زیب چاندنی فرحین۔۔۔
کبھی میری بچی مشعل کو اتنا مان دیا۔۔؟؟ کبھی مجھ پر اتنا یقین کیا۔۔۔؟؟
ارے چاندنی کا رشتہ بھی معراج کو دہ دیا۔۔۔ میں کیا تھا یہاں۔۔؟؟ میرے بیٹے کے لیے ہاتھ مانگنا تھا میں نے پر نہیں۔۔۔ آپ اور آپ کے دونوں مہان بیٹے۔۔۔
مائی فٹ۔۔۔”
سب ششدر رہ گئے تھے حمدان صاحب کی زبان تو جیسے زہر اگل رہی تھی۔۔۔
۔
سب سے زیادہ حیران باقی بھائیوں کے بچے تھے۔۔۔
” وجدان ۔۔۔تم چپ کیوں ہو بولو۔۔ یہ لوگ تمہیں اور تمہاری فیملی کو بھی جوتی کی نوک پر رکھتے تھے۔۔۔اب تمہیں بھی بولنا چاہیے۔۔۔ “
“کیا بولوں بھائی صاحب۔۔؟؟ کچھ بولنے لائق چھوڑا ہے۔۔؟؟”
کندھے سے ہاتھ ہٹا کر وجدان والد صاحب کے پاس چلا گیا تھا والدہ کے کندھے پر جیسے ہی ہاتھ رکھا تھا نے والدہ انکے کندھے پر سر رکھ کر رونے لگی تھی۔۔۔
“وجدان اس نے سب ختم کروا دیا۔۔ میرا بچہ آج اسکی وجہ سے ہماری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا۔۔۔ یہ سارے خاندان کو الگ کرنے میں کامیاب ہوگیا کیوں۔۔۔
پوچھیں اس سے مجتبا کیا کمی رہ گئی تھی کیوں کیا اس نے ایسا۔۔۔”
والدہ چھوٹے بیٹے کے گلے لگ گئی تھی جو نفرت سے بڑے بھائی کو دیکھنے لگے تھے
“جو کچھ میرے ماں باپ مجھے نہ دہ سکے وہ میں نے خود حاصل کرلیا ماں اب اس میں برا منانے والی کیا بات ہے۔۔؟؟ آپ خوش ہوجائیں میں کامیاب ہوگیا۔۔”
“نکل جاؤ۔۔۔ یہاں سے بدزات دفعہ ہوجاؤ۔۔۔”
دادا جی نے چھری جیسے ہی اٹھا کر مارنی چاہی تھی حمدان صاحب نے زور سے پکڑ لی تھی۔۔۔ اور ایک ہی بار میں سب لوگ دادا جی کے سامنے انکی ڈھال بن کر کھڑے ہوگئے تھے۔۔
“بس چچا جان۔۔۔لحاظ کررہے ہیں سوچئیے گا بھی مت۔۔۔”
“ہاہاہا جنید۔۔۔ نئے نئے جوان ہوئے ہو بیٹا۔۔۔اور ابا جی کیا کہا۔۔؟؟ مجھے نکالیں گے۔۔؟؟
میں ہوں اس حویلی کا مالک اس جائیداد کا مالک۔۔۔ سنا آپ نے۔۔۔سب کچھ میرے اور میرے بچوں کے نام پر ٹرانسفر ہوگیا ہے۔۔۔”
“کیا۔۔۔۔ حمدان ۔۔یہ سب۔۔۔تم۔۔۔”
“جب جب آپ سوگ منا رہے تھے شایان کا چاندنی کا پھر اسکی بیٹی کا میں تب تب اپنے گھاٹے کو فائدے میں بدل رہا تھا۔۔ اب آپ لوگ یہاں رہنا چاہتے ہیں تو میری اور میرے بچوں کی ہر بات ماننا ہوگی سننی ہوگی۔۔۔نیچے جھک کر رہنا ہوگا۔۔۔”
“ہمیں منظور نہیں۔۔۔معراج ہم کل ہی چلے جائیں گے۔۔۔”
زینب بیگم کہہ کر روم میں چلی گئی تھی۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔ اچھا مجھ پر کیسا غصہ۔۔؟؟ چاندنی کے ساتھ زیادتی تو آپ سب نے ہی کی تھی۔۔۔ اب مجھے بددعائیں نہ دیں۔۔۔ اور چلے جائیں مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔۔
چلو بچوں۔۔۔”
۔
وہ تینوں ہنستے ہوئے اپنے اپنے کمرے میں چلے گئے تھے۔۔۔ سوائے فرحین کے۔۔۔
۔
۔
“ابا جی۔۔۔ جب آپ سب جانے لگے تو مجھے بھی ساتھ لے جائیے گا۔۔۔ میں اب اس گھر میں اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ ایک پل بھی نہیں رہنا چاہتی۔۔۔ “
۔
