Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

“ایک بار پھر سارا بنا بنایا کھیل بگاڑ دیا ابا جی نے
اگر وہ اپنی بھانجی کو لے جانا چاہتے تھے تو جانے دیتے۔۔۔ پھر سے زبردستی چاندنی کو رکھ لیا۔۔۔”
وجدان صاحب یہاں سے وہاں گھوم رہے تھے کمرے میں اور باقی تین لوگ بالکل خاموش کھڑے تھے انکے سامنے
“ڈیڈ آپ فکر نہ کریں بہروز خود اسے باہر نکالے گا آپ دیکھتے جائیں۔۔”
“بہروز اس قابل ہوتا تو یہ نکاح ہی نہ ہوتا وہ تو ایسے چپ ہوجاتا بھابھی کے سامنے۔۔۔
ایسا لگتا ہی نہیں ہے وہ لوگ یہاں نہیں ہیں۔۔۔ جا کر بھی یہیں ہیں حکمرانی کررہے ہم پر۔۔۔”
“کون لوگ وجدان۔۔؟؟”
فرحین بیگم نے طنزیہ پوچھا تھا اپنے شوہر کو۔۔۔
“جیسے تمہیں معلوم نہیں۔۔؟؟ میں شاہ زیب بھائی اور بھابھی کی بات کررہا مرنے کے بعد بھی وہ لوگ نہیں مرے جب تک چاندنی ہے وہ دونوں زندہ ہیں۔۔۔ اور جب تک وہ دونوں زندہ ہیں ہماری نہیں سنی جائے گی۔۔۔”
۔
“آپ فکر نہ کریں سب ٹھیک۔۔”
“صفوان مجھے باتیں نہیں چاہیے،،، بس تم چاندنی کے قریب جاؤ کسی بہانے سے اور جب جب تم جاؤ مشعل یہ تمہارا کام ہے کہ بہروز پر واضح کرو چاندنی کا کردار۔۔”
“وجدان بس کرجائیں وہ بیٹیوں جیسی ہے۔۔ آپ کی ہر بات خاموشی سے سن رہی ہوں اس کا مطلب یہ نہیں آپ اس پاکیزہ بچی کو بدکردار بنا دیں۔۔۔”
۔
فرحین تو غصےسے چلی گئی پر ان کی باتوں کا رتی برابر بھی اثر نہیں ہوا تھا کسی پر۔۔۔
۔
“تمہاری ماں کو کچھ زیادہ ہی احساس ہورہا۔۔؟؟ تم دونوں کی فکر نہیں ہورہی صفوان کی شادی چاندنی سے ری جیکٹ کی پھر مشعل کا رشتہ بہروز کے لیے قبول نہیں کیا بزنس میں مجھے وہ مقام نہیں دیا جا رہا۔۔۔ اور ابھی بھی ہم احساس کریں۔۔؟؟”
انہوں نے اپنے دونوں بچوں سے پوچھا تھا
“آپ ٹھیک کہہ رہے یں ڈیڈ۔۔۔ اب آپ دیکھتے جائیں میں کیا کرتی ہوں۔۔۔”
۔
ایک شیطانی ہنسی چہرے پر سجائے مشعل نے اپنا پلان بتایا تھا۔۔۔
جس پر ان تینوں کے قہقے گونجے تھے پورے کمرے میں۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“چاندنی باجی آپ کیوں آواز نہیں اٹھا رہی۔۔؟؟ بہروز بھائی زیادتی کررہے ہیں۔۔”
“آواز وہ لوگ اٹھاتے جو کمزور ہوں شاہدہ۔۔۔ میں ابھی ہاری نہیں ہوں۔۔ نانی نے سہی کہا تھا یہ میری جنگ ہے ایک بیوی کی جنگ میرے لیے سب لڑتے آئے ہیں اب پھر سے کو کھڑا کردوں اپنے شوہر کے سامنے۔۔؟؟”
“پر باجی بہروز بھائی سب کے سامنے ذلیل کرنے لگے ہیں آپ کو۔۔”
“کوئی بات نہیں۔۔۔ ایک دن وہ مجھے وہ عزت بھی دیں گے جس کی حقدار میں ہوں۔۔”
۔
۔
اور پھر ساری حویلی نے دیکھا تھا اس بیوی کا صبر وہ جو خاموشی سے سب برداشت کرنے لگی تھی۔۔۔ بہروز کے غصے کے جواب میں وہ پیار سے بات کرنا شروع ہوگئی تھی۔۔
بہروز کا غصہ اور بڑھنے لگا تھا جب اس نے اپنے بیٹے کو خود سے دور اور چاندنی کے پاس جاتے دیکھا تھا
“تم میرے بیٹے کو مجھ سے دور نہیں کرسکتی سنا تم نے۔۔۔”
بہروز نے بازو سے پکڑ کر اسے اپنے قریب کرتے ہوئے وارننگ دی
“میں محبت بانٹنے آئی ہوں بہروز چھیننے نہیں۔۔۔ وہ دن کبھی نہیں آئے گا جب میں آپ کے بیٹے کو آپ سے چھینوں گی۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بڑے ابو۔۔۔ آپ کو جانا ضروری ہے کیا۔۔؟ مجھے بھی ساتھ لے جائیں نہ پلیزززززز۔۔۔”
وہ بچوں کے جیسے ضد کرتی ہوئی شاہنواز کے کندھے پر سر رکھے بیڈ پر بیٹھ چکی تھی۔۔۔
“بالکل بچی لگ رہی ہو۔۔۔ کون کہے گا اسکی شادی ہوچکی ہے۔۔؟؟ چاندنی بہروز کے دوست آنے ہیں۔۔ اچھا نہیں لگا گا جب اسکی بیوی اسکے ساتھ نہ ہو۔۔”
میک کرتے ہوئے زینب بیگم جیسے ہی مسکراتے ہوئے چاندنی سے مخاطب ہوئی چاندنی کا اور منہ بن گیا۔۔۔
“دیکھا بڑے پاپا۔۔ آپ کی بیگم اب اپنے بیٹے کی سائڈ لینے لگی ہیں۔۔ میں تو جیسے کچھ لگتی نہیں۔۔”
“خبر دار۔۔۔ خبردار جو پھر ایسے کہا۔۔۔ میں تمہیں بہروز سے زیادہ سب سے زیادہ پیار کرتی ہوں چاندنی خبردار جو پھر زبان سے یہ الفاظ نکالے تو۔۔”
زینب غصے میں کہتی ہی روم سے چلی گئی تھی انہوں نے پہلی بار چاندنی سے ایسے اونچی آواز میں بات کی تھی
“بڑے ابو۔۔۔”
“نہیں بیٹا۔۔ مذاق میں بھی تمہیں نہیں کہنا چاہیے تھا تم خود بھی جانتی ہو ہم دونوں تم سے کتنی محبت کرتے ہیں۔۔ اب جاؤ۔۔اپنی امی کے پاس میں کوئی مدد نہیں کرنے والا۔۔”
اور وہ ہاں میں سرہلائے بالکونی کی جانب بڑھی تھی۔۔
اور جب زینب بیگم کو آنسو صاف کرتے دیکھا تو چاندنی کی آنکھیں بھی بھر آئی تھی۔۔
“ایم سوری بڑی امی۔۔۔”
“مجھے کوئی بات نہیں سننی چاندنی۔۔۔”
“اچھا نہ کان پکڑ کر سوری۔۔”
اور اب جب کوئی اچھا جواب نہ ملا تو چاندنی پیچھے سے انکے گلے لگے انکے کندھے پر سر چکی تھی
“میں جانتی ہوں آپ مجھ سے بہت پیار کرتی ہیں۔۔۔ پر سچ جانے مجھے ڈر لگ رہا بہروز کے ساتھ اکیلے حویلی میں رہتےہوئے۔۔ پتہ نہیں کیوں گھبراہٹ ہورہی۔۔۔ اس لیے کہا کہ رک جائیں ورنہ ساتھ لے جائیں مجھے بھی۔۔”
“چاندنی بیٹا۔۔ وہ اب شوہر ہے تمہارا۔۔۔ میں جانتی ہوں غصے کا تیز ہے پر تمہیں کبھی کوئی خطرہ محسوس کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔ بہروز کبھی تمہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچائے گا۔۔”
چاندنی کے ماتھے کو چوم کر بہت آہستہ آواز میں بہت شفقت سے سمجھایا تھا۔۔
“پر آپ لوگ ساتھ لے جائیں۔۔”
“میری بچی۔۔ ہم رک بھی سکتے ہیں اور تمہیں ساتھ بھی لے جا سکتے ہیں پر یہی تو موقع ہے تم دونوں کے پاس ایک دوسرے کو سمجھنے کا۔۔
بہروز کے دوست آرہے ہیں اگر اسکی بیوی ہی ساتھ نہیں ہوگی تو کیا وہ شرمندگی محسوس نہیں کرے گا۔۔۔؟؟”
“ہمم۔۔۔”
“میری سمجھدار بچی۔۔۔”
چاندنی کو گلے لگائے وہ اندر لے گئی تھی۔۔
پر کسی معلوم تھا کہ ان کی سمجھائی گئی باتوں نے کچھ گھنٹے میں ہی غلط ثابت ہوجانا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
“چاندنی باجی میں چلی جاتی ہوں آپ تب سے کھانا بنانے میں مصروف تھی اتنا پسینہ آرہا۔۔۔”
“تم اپنے کھڑوس بھائی کو نہیں جانتی شاہدہ۔۔؟؟ انہوں نے مجھے کہا تھا مجھے ہی کرنا ہوگا۔۔ میں لے کر جاتی ہو یہ کولڈ ڈرنکس۔۔”
۔
ؔبہروز بھائی جان بوجھ کر چاندنی باجی سے سب کام کروا رہے اور جس طرح وہ کررہی ہیں وہ بیوی نہیں ملازمہ لگ رہی۔۔”
“شش شاہدہ کبھی تو زبان بند رکھ لیا کر۔۔”
“اماں۔۔ دیکھو تو سہی۔۔ چاندنی باجی۔۔۔”
ابھی وہ بات کررہے تھے کہ باہر سے چلانے کی آوازیں اندر آنے لگی۔۔۔
۔
“یہ کس جاہل کو تمہارے پلے باندھ دیا حویلی والوں نے بہروز۔۔؟ دیکھو اس نے عادل کی شرٹ پر چائے گرا دی۔۔”
بہروز نے چاندنی کا پکڑ کر اسے کچن میں لے جا کر جھٹک دیا تھا وہ گرم چائے کا کپ جیسے ہی اسکے ہاتھ اور بازو پر گرا تھا اسکی چیخ نکلی تو آنکھوں سے آنسو بھی بہہ نکلے تھے
دونوں ملازمہ ایک دم سے پیچھے ہوئی تھی جیسے وہ چاندنی کو لیکر اندر آیا
“تم جاہل کی جاہل ہی رہو گی۔۔؟؟ ایک کام ڈھنگ سے نہیں ہوتا۔۔؟؟”
اس چائے گرے زخمی ہاتھ کو بہروز نے جیسے ہی اپنے ہاتھ میں دبوچا تھا اسے اور زیادہ تکلیف ہوئی تھی
“وہ آدمی جو آپ کا دوست ہے وہ میرے ساتھ بدتمیزی کررہا تھا۔۔ میری کمر پر کوئی غیر مرد ہاتھ رکھے اور میں چپ کھڑی رہوں۔۔؟ میں جاہل ہو مگر بےشرم نہیں۔۔۔”
“تم میں ہے کیا جو وہ تمہاری طرف ایٹریکٹ ہو۔۔؟ اسکی خوبصورت پڑھی لکھی بیوی اسکے ساتھ کھڑی تھی۔۔
اور تم۔۔۔ ایک جاہل یتیم۔۔۔ہمارے پیسوں پر پلنے والی۔۔۔ہو کیا تم۔۔؟؟”
ہاتھ کو پیچھے مڑور کر اس نے چاندنی اور اپنے درمیان وہ فاصلہ بھی ختم کردیا تھا۔۔
“میں نے کہا تھا دور رہیے مجھ سے۔۔۔ بار بار مجھے میری اوقات یاد دلا کر آپ ثابت کیا کرنا چاہتے ہیں۔۔؟؟”
ان لبوں نے وہ سوال پوچھ لیا تھا جو وہ آنکھیں پوچھ رہی تھی بہروز شاہ سے
“تم میری زندگی میں محض دوسری عورت ہو۔۔ اور اس حویلی میں ایک نوکرانی حیثیت ہے۔۔
اب چلو یہ چائے سروو کرو میرے دوست کو اور اس سے معافی بھی مانگو۔۔۔”
جس نفرت اور غصے سے چاندنی نے اپنے ہاتھ کو اسکی گرفت سے کھینچا تھا زخموں سے خون بہنا شروع ہوگیا تھا
“معافی مانگو۔۔؟؟ ٹھیک ہے معافی مانگتی ہوں۔۔”
بہروز کو وہیں چھوڑ گئی تھی وہ وہ خوش ہورہا تھا اس لڑکی کو نیچا دیکھا کر ۔۔مگر جو باہر ہونے والا تھا وہ اسکے وہم و گماں میں بھی نہ تھا۔۔۔
۔
“آپ نے میری کمر پر ہاتھ رکھا تھا نہ جب میں چائے سرو کررہی تھی۔۔؟؟
میرے نام نہاد شوہر کو بہ چبھن ہوئی ہے کہ میں نے آپ کا ہاتھ اپنی کمر سے ہٹا کیوں دیا ۔۔
اب انہوں نے مجھے بھیجا ہے میں آپ سے معافی مانگو۔۔۔
آپ مجھے معاف کردیں گے سر۔۔؟ آپ جہاں چاہے ہاتھ رکھیں کیونکہ میرا مجازی خدا امریکہ سے پڑھ کر آیا ہے ہو سکتا ہے وہ آپ کے ساتھ اپنی بیوی شئیر۔۔۔”
بہروز نے زور دار تھپڑ مارا تھاچاندنی کو۔۔۔ تھپڑ کی گونج اس حویلی میں گونجی تھی ملازم سب ایک دوسرے کی شکلیں دیکھنے لگے تھے اور جلدی سے ایک ملازمہ نے فون اٹھایا تھا
“جلدی سے معراج حاکم کو فون کرو۔۔۔”
چاندنی کا پورا وجود کانپ اٹھا تھا زندگی میں پہلی بار کسی نے اس پر ہاتھ اٹھایا تھا اور وہ بھی مرد
کچھ سیکنڈ میں وہ پیچھے گر گئی تھی اس شیشے کے ٹیبل پر۔۔۔
“بدتمیز بد لحاظ لڑکی۔۔۔ تمہیں بہت برداشت کرلیا میں نے۔۔۔”
شیشے پر گرنے کے بعد اسکے جسم پر کانچ کے اتنے ٹکڑے چبھ گئے تھے
مگر بہروز اسے کندھے سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے اوپر لے گیا تھا اور حویلی کے سب سے لاسٹ فلور کے روم میں اسے پھینک دیا تھا۔۔۔ جو سالوں سے بند تھا۔۔۔
“یہ کیا کررہے ہو۔۔۔؟”
اسکا سر ابھی بھی گھوم رہا تھا۔۔۔ سر پر ہاتھ رکھے وہ پھر سے اٹھی تھی آنکھوں کے آگے ہر چیز گھوم رہی تھی اسکے۔۔۔
“یہ تمہاری جگہ اور اوقات۔۔۔ بہت ڈر لگتا ہے نہ اندھیروں سے تمہیں۔۔؟؟ اب رہو یہاں پر۔۔۔ بنا کھانے کے بنا پانی پئیے۔۔۔ جب تک عقل ٹھکانے نہیں آجاتی یہیں رہو گی تم۔۔۔ “
چاندنی کا چہرہ ہاتھ میں زور سے پکڑا تھا اور پھر اسے پیچھے دھکیل دیا تھا۔۔۔
۔
“بہروز حاکم غلطی تمہاری نہیں میری ہے۔۔ جو میں نے تمہیں سمجھنے میں کوتاہی کردی۔۔
جس دن تم نے شادی کی تھی مجھے بھی شادی کرلینی چاہیے تھی۔۔ میں پاگل تھی جو شادی ٹوٹنے کے سوگ میں بیٹھی رہی اور تمہیں موقع دہ دیا مجھے حاصل کرنے کا مجھے دوسری عورت بنانے کا۔۔۔ آئی رئیلی ہیٹ یو مسٹر بہروز حاکم ۔۔”
۔
بہروز دروازہ لاک کرکے وہاں سے جا چکا تھا۔۔۔
۔
وہ وہ جیسے دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھنے لگی تھی اس کمرے کی لائٹس بھی بند کردی گئی تھی
۔
“اب تمہاری عقل ٹھکانے آئے گی مس چاندنی۔۔۔”
۔
گپ اندھیرے میں وہ اسے چھوڑ کر چلا گیا تھا۔۔۔ اپنے دوستوں کے ساتھ انیجوائے کرنے۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“فون نہیں مل رہا۔۔۔ اماں۔۔۔”
“کسی اور کا ملاؤ کمبختو۔۔۔ بہروز صاحب نے کمرے کی لائٹ بھی آف کروا دی۔۔۔ اگر پانچ منٹ میں کمرہ نہ کھولا گیا تو چاندنی بیٹی کی وہی حالت ہوجانی جو ان کے ماں باپ کے جانے کے بعد ہوئی تھی۔۔۔”
افرا تفری پھیل گئی تھی۔۔
“اماں بہروز بھائی کو بتانا پڑے گا۔۔۔”
“شاہدہ بات سنو۔۔۔ وہ لوگ بڑے لوگ ہیں اپنی بیوی کو نہیں بخش رہے تو ملازم کو تو نوکری سے نکال دیں گے۔۔”
۔
پر شاہدہ جیسے ہی باہر گئی تھی بہروز کو کسی اور لڑکی کے ساتھ ڈانس کرتا دیکھ وہ دنگ رہ گئی۔۔۔
“چاندنی باجی کی سہی قسمت پر گرہن لگا ہے۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ہاہاہاہاہا۔۔۔ دادو۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔اچھا سوری۔۔۔”
اور وہ سب ہنستے مسکراتے داخل ہوئے تھے۔۔ تمام ملازم سامنے کھڑے ہوگئے تھے
“چاندنی کہاں۔۔؟؟ اچھلتی ہوئی نہیں آئی۔۔”
“جاتے ہوئے ایسے بچوں کی طرح اداس ہورہی تھی۔۔”
وہ سب ساتھ ساتھ بیٹھ گئے تھے۔۔۔
“سر۔۔۔”
“صاحب جی آپ اوپر جائیں اور سٹور روم کا دروازہ تڑوا دیں۔۔۔
بہروز صاحب۔۔ چابی ساتھ لے گئے ہیں۔۔”
“بہروز کیوں سٹور روم کی چابی لیکر گیا۔۔؟؟ دروازہ توڑنے کی کیا ضرورت وہ آئے تو۔۔”
“صاحب چاندنی بیٹی صبح سے بند ہے اس کمرے میں بنا کھانے پینے کے بنا لائٹ۔۔۔”
بات مکمل نہیں ہوئی تھی اور معراج حاکم سمیت سب مرد اوپر تھرڈ پورشن کی طرف بھاگے تھے۔۔۔
پر وہ خالی تھی۔۔۔
“وہ یہاں نہیں ہے۔۔۔؟؟”
شاہنواز صاحب نے سرگوشی کی تھی۔۔۔
“بہروز اتنا ظالم نہیں ہوسکتا تم س کو غلط فہمی ہوئی ہوگی انکے بیڈروم میں ہوگی وہ۔۔”
زینب بیگم تسلی دینے کی کوشش کررہی تھی جب شاہدہ نے اوپر کی طرف اشارہ کیا تھا
“وہ ٹیرس والے سٹور روم میں۔۔۔ آپ سب جائیں اوپر۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بہروز آج کا دن بہت اچھا تھا بس اس جاہل کے سوا۔۔۔”
“ہمم بہروز۔۔۔ ایک بات سنے گا۔۔۔”
عادل نے بہروز کو ایک کارنر پر جانے کا اشارہ کیا تھا۔۔۔
“یار بہروز۔۔ یہ تیری زبردستی کی شادی ہے۔۔ پر یار تیری بیوی۔۔۔ قسم سے آگ لگا دی اس نے۔۔۔ اگر تو اسے چھوڑنا چاہے تو مجھے دہ۔۔۔”
بہروز نے ایک نہیں د و نہیں تین مکے مارے تھے اس وقت اپنے دوست کو۔۔
“او مائی گاڈ۔۔ بہروز۔۔۔”
عادل کی وائف ان دونوں کو پیچھے کرچکی تھی۔۔۔
“بہروز پال ہوگئے ہو۔۔؟؟”
“ہاں ہوگیا ہوں۔۔ پاگل اسکو لے جاؤ یہاں نہیں تو جان سے مار دو کو اس حرام۔۔۔ کو “وہ ائر پورٹ سے باہر نکل آیا تھا۔۔ اور گاڑی میں بیٹھتے ہی اسے وہی لفظ بار بار سنائی دے رہے تھے جنہیں وہ جھٹلا چکا تھا۔۔
۔
“وہ آدمی جو آپ کا دوست ہے وہ میرے ساتھ بدتمیزی کررہا تھا۔۔ میری کمر پر کوئی غیر مرد ہاتھ رکھے اور میں چپ کھڑی رہوں۔۔؟ میں جاہل ہو مگر بےشرم نہیں۔۔۔۔”
۔
“تم میں ہے کیا جو وہ تمہاری طرف ایٹریکٹ ہو۔۔؟ اسکی خوبصورت پڑھی لکھی بیوی اسکے ساتھ کھڑی تھی۔۔”
۔
۔
“شٹ۔۔۔۔شٹ۔۔۔”
غصے سے سٹئیرنگ پر ہاتھ مارتے اس نے گاڑی سٹارٹ کردی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“چاندنی بیٹا۔۔چاندنی۔۔۔”دادا اور دادی جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی لائٹس آن کرنے کا کہا تو دیکھا ہ کتنا گپ اندھیرہ چھایا ہوا تھا۔۔ ایک شیشے کی کھڑکی۔۔ جس کے پاس سٹول رکھے گئے تھے شیشے کی کھڑکی پر خون سے بھری انگلیوں کے نشان تھے جو چاندنی نے
بہت بار مارے تھے تاکہ کھڑکی ٹوٹ سکے۔۔ کمرے کی ٹوٹی ہوئی چیزیں اسکے خون سے لت پت ہاتھ دیواروں پر سوئچ بورڈ پر پرنٹ اس بات کا ثبوت دے رہے تھے کہ اس نے آنکھیں بند کرنے سے پہلے ہر ممکن کوشش کی تھی اس کمرے سے نکلنے کی۔۔۔
۔
“چاندنی کو جلدی اٹھاؤ اسے ہسپتال لے جانا ہے اسے وہی اٹیک ہوا ہے۔۔۔ سانسیں بہت آہستہ چل رہی ابا جی۔۔۔”
اور وہ جلدی سے اسے اٹھا کر نیچے لے گئے۔۔۔
وہ جب اسے اٹھائے نیچے سیڑھیوں تک پہنچے تھے زینب صدمے سے ہی پیچھے کرسی پر گر گئی تھی۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“چاندنی۔۔۔”
وہ بھاگتے ہوئے حویلی آیا تھا گھر والوں کو دیکھ کر شاک ہوا تھا مگر جب اوپر سٹور روم کا دروازہ کھلا دیکھا تو اسے سمجھ آگئی تھی کہ سب کو معلوم ہوگیا جو کہ وہ نہیں چاہتا تھا وہ چاہتا تھا سب کے آنے سے پہلے دروازہ کھول دہ۔۔۔ اور جب سٹور روم کی حالت دیکھی تو اسکے دل میں ایک ڈر سا بیٹھ گیا تھا چاندنی کی جوتی اور دوپٹہ وہی زمین پر پڑا دیکھ۔۔۔
۔
۔
اور وہ ملازموں سے پوچھ کر سیدھا ہسپتال بھاگا تھا۔۔۔
کوٹ اتار کر گاڑی میں پھینک چکا تھا وہ شرٹ کے د و بٹن اوپن تھے اس اے سی چلتی گاڑی میں ایک دم سے گھبراہٹ شروع ہوگئی تھی گاڑی جیسے جیسے ہسپتال کی جانب پہنچ رہی تھی
۔
اور وہ جیسے فرنٹ ڈیسک سے انفارمیشن لیتے ہوئے ایمرجنسی کے سامنے پہنچا۔۔۔ اسے دیکھتے ہی سب سے پہلا ری ایکٹ اسکی ماں نے کیا تھا اسکے منہ پر زور دار تھپڑ مار کر۔۔۔
بہروز حاکم غصے میں مٹھی بند کرکے رہ گیا تھا۔۔
“بہروز یہ میری تربیت نہ تھی یہ میری تہذیب نہ تھی۔۔۔ اگر تم میرا خون ہو تو وہ جو اندر زندگی موت سے لڑ رہی وہ میری بیٹی ہے۔۔ مجھے تم سے بھی زیادہ عزیر ہے۔۔۔
آج تم نے بہت مایوس کردیا۔۔ تمہیں لگتا ہے نہ یہ شادی بوجھ ہے تم پر۔۔؟ وہ جاہل ہے لاوارث ہے۔۔۔ تمہیں لگتا ہے یہ زبردستی کی شادی تھی۔۔۔تو۔۔”
“بس بیگم۔۔۔پلیز۔۔۔”
پر شاہنواز صاحب کے بازو کو جھٹک دیا تھا انہوں نے۔۔۔
“تم بہروز حاکم طلاق دہ دو۔۔۔ جاؤ ہماری زندگیوں سے دور۔۔اس لیے تم نے یہ سب کیا۔۔
ہمارے سا منے اس بچی کو دماغی ٹارچر کرتے رہے ہم چپ رہے۔۔ اسے ملازموں کی طرح کام کرواتے رہے ہم چپ رہے۔۔۔
آج تم نے اسکی زندگی کا رسک لیا۔۔ تم جانتے تھے اسے اٹیک آتے ہیں۔۔ تم جانتے تھے وہ پانچ منٹ سے زیادہ کسی بھی اندھیر کمرے میں نہیں رہ سکتی تم نے۔۔۔”
وہ چلا رہی تھی آنکھیں بھر چکی تھی ان کی ہی نہیں باقی سب کی۔۔ اس بار کسی نے انہیں بولنے سے منع نہیں کیا تھا سب جانتے تھے وہ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔۔۔
ابھی بات کررہی تھی جب ڈاکٹر باہر آگئے تھے۔۔
“انہیں میجر ہارٹ اٹیک آیا۔۔ انزائٹی اٹیک کے علارہ۔۔۔ ابھی انہیں ہیوی ڈوس دی ہے نیند کی۔۔ انہیں ریسٹ کی شدید ضرورت تھی۔۔ اگر انہیں چوبیس گھنٹے میں ہوش نہ آتا تو آپ لوگوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں وہ سٹیبل ہے۔۔۔اور۔۔۔”
بہروز کی دل کی دھڑکن جو بحال ہوئی تھی وہ پھر سے تھمنے لگی تھی
“انکے چہرے پر انگلیوں کے نشان صاف واضح ہیں۔۔ اور پیچھے کمر پر جگہ جگہ شیشہ چبھنے کے نشان۔۔ یہ محض گرجانے نہیں۔۔ ان پر تشدد کیا جاتا ہے۔۔؟؟
دیکھیں۔۔ آپ کی فیملی بہت ریموٹیٹڈ ہے مسٹر معراج۔۔۔ اس لیے میں نے ابھی تک کسی سے بات نہیں کی۔۔۔ “
اور وہ کچھ احتیاطی تدابیر بتا کر وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
“چاند۔۔۔”
وہ سب کو اگنور کرکے سب سے پہلے اندر جانے کی کوشش کرتا ہے جب پیچھے سے ہاتھ پکڑ لیا تھا شاہنواز صاحب نے۔۔
“اپنا فیصلہ۔۔۔ دل و دماغ سے ایک بات سوچ کر بتا دو پھر چاندنی کے قریب جانا۔۔
اگر تمہارے لیے یہ رشتہ زبردستی کا ہے تو یہ تمہارے پاس سنہری موقع ہے بہروز۔۔۔
جان چھڑا لو میری جاہل یتیم بھتیجی سے۔۔۔
اگر طلاق کا فیصلہ لے لو تو کوئی تمہیں کچھ نہیں کہے گا۔۔ تم حویلی میں رہ سکتے ہو۔۔۔
اگر اپنے رشتے کو ایک موقع دینا چاہتے ہو تو پھر اندر چاندنی کے پاس جانا۔۔۔”
شاہنواز اندر چلے گئے تھے جب چچی فرحین بہروز کے پاس آئی۔۔۔
“بہروز۔۔۔ تمہارے لیے فیصلہ لینے مشکل ہوگا۔۔۔ کیونکہ میرے شوہر بیٹے اور بیٹی نے چاندنی کے بارے اسکے کردار کے بارے جو تمہیں بتایا اسے ذہن میں رکھتے تم چاندنی کو کیوں دوسرا موقع دو گے۔۔؟؟”
بہروز حیران رہ گیا تھا چچی کی باتیں سن کر وہ جانتا تھا چاندنی کے خلاف اسے بہت فون کالز گئی اور یہی وجہ تھی کہ اسکی چاندنی کو لیکر نفرت اور بڑھ گئی تھی۔۔۔
“بہروز اس لڑکی نے کسی کو سوائے محبت کے کبھی کچھ نہ دیا۔۔۔ ماں باپ چلے گئے وہ مظبوط بنی رہی۔۔۔اسکی معصومیت پر ہم سب قربان۔۔ اور پریشان بھی رہتے تھے۔۔۔
پر جس دن تم سے شادی ہوئی ہم سب کی پریشانی کم ہوئی۔۔ ہمیں یقین تھا تم بن ماں باپ کی بیٹی کو پلکوں پر بٹھا کر رکھو گے۔۔۔
مگر۔۔۔ آج جو ہوا۔۔۔ بہروز مایوس ہوگئی ہوں قدرت کے فیصلوں پر۔۔۔”
۔
۔
وہ سب اندر چلے گئے تھے۔۔۔ اور جب بہروز نے مررر ونڈو سے اندر جھانک کر دیکھا ۔۔۔
اسکے دل میں ایک تکلیف ہوئی جب اسکے ہاتھ میں بینڈ ایج دیکھی۔۔۔
اور اپنے ہاتھوں کو دیکھا۔۔
وہ تیز قدموں سے اس ہسپتال سے باہر نکل آیا تھا۔۔۔
گاڑی کا دروازہ کھولتے وقت جب اپنا عکس شیشے میں دیکھا تو اس نے زور سے مکا مار کر شیشہ توڑ دیا تھا گاڑی کا۔۔۔
اور بنا پیچھے مڑے وہ وہاں سے چلا گیا تھا۔۔
وہ یہی تو چاہتا تھا۔۔؟؟ چاندنی سے چھٹکارا۔۔۔ اب تو بنا کسی لڑائی کے منہ ماری کے گھر والے اسے آسان راستہ فراہم کرچکے تھے۔۔۔
پھر اسکے قدم کیوں آگےنہیں بڑھ رہے تھے۔۔۔
گاڑی شہر سے باہر لے گیا تھا بہروز۔۔۔ اور آگے سے گھنے جنگلات میں سے ہوتے ہوئے وہ ایک خوبصورت گھر کے سامنے گاڑی کھڑی کرتا ہے ۔۔
اس میں نکل کر وہ سیدھا گھر کے سامنے کھڑا ہوگیا تھا۔۔۔
وہ گھر قیمتی لکڑی سے بنا ہوا قدیمی گھر لگ رہا تھا۔۔۔ پر دروازے پر لاک نہیں پن کوڈ لاکڈ سسٹم تھا جس پر کوڈ اینٹر کرنے کے بعد دروازہ خود بہ خود اوپن ہوا تھا۔۔۔
وہ گھر میں داخل ہوتے ہی ایک بڑے کمرے کے سامنے جاکر رکا تھا۔۔۔ اور جب دروازہ کھولا تو اندر چاروں جانب تصاویر ہی تصاویر تھی
اسکی پہلی محبت۔۔۔ اسکی پہلی بیوی کی۔۔۔
دیکھتے دیکھتے وہ ایک الگ دنیا میں کھوتا چلا گیا تھا۔۔۔ وہ دنیا جو اسے مسلسل پیچھے کھینچ رہی تھی۔۔۔
۔
۔
“اسد میں بس رابیعہ اور شایان کو دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔”
“ہاہاہا اس لیے جلدی فلائٹ سے آگیا۔۔۔بھابھی تو سرپرائزڈ ہوجائیں گی۔۔۔”
“ہاں۔۔۔ دونوں کا چہرہ دیکھنے والا ہوگا۔۔۔”
“اچھا بھائی میں چلتا ہوں ضروری میٹنگ ہے افس میں جلدی آجانا ۔۔”
“نہیں یار پہلے کہیں گھمانے لے جاؤں گا پھر دنر پر۔۔ پھر آئس کریم اور۔۔”
“ابے بس بس۔۔۔ اپنے رومینٹک پلان سے مجھے دور ہی رکھ۔۔۔بائے۔۔۔”
“خدا حافظ۔۔۔”
اسد گاڑی سٹارٹ کرکے چلا گیا تھا اور بہروز گھر کا دروازہ آہستہ سے کھول کر جیسے ہی اندر داخل ہوا کوئی ملازم اسے دیکھائی نہیں دیا۔۔۔ اور لیونگ روم سے شایان کے رونے کی آواز سن کر وہ اسی کمرے کی طرف بھاگا۔۔۔ جہاں شایان صوفے سے نیچے گر کر سر پر چوٹ لگا بیٹھا تھا۔۔۔
“شایان۔۔۔ میرے بچے۔۔۔”
اسکے ماتھے پر پیار کرتے ہوئے اس نے جلدی سے رومال سے اسکا چہرہ صاف کیا۔۔۔
باپ کی آغوش میں وہ بچہ چپ ہوا تو بہروز اسے اپنے سینے سے لگائے کمرے سے باہر لے آیا۔۔۔ اسے سے پہلے وہ اپنی بیوی رابیعہ کو آواز دیتا یا اپنے بچے کو ہسپتال لے جاتا۔۔۔
“رابیعہ۔۔۔”وہ نام ایک سرگوشی بن گیا تھا جب سیڑھیوں پر بکھرے کپڑوں پر اسکی نظر پڑی اور وہ ایک ایک کپڑے کو دیکھتے ہوئے اوپر کمرے کی طرف بڑھا۔۔۔
اور جیسے جیسے قریب جاتا جا رہا تھا وہ آوازیں ایسی آوازیں تھی جو اسکی روح تک کو چھلنی کرگئی۔۔
اور ہر شک غلط فہمی گماں کو غلط ثابت کرنے کی غرض سے جب اس نے اپنے بیڈروم کا دروازہ کھولا تو اندر کے مناظر نے اسے منہ پھیرنے پر مجبور کردیا تھا۔۔
اور شایان اسی وقت رونے لگا۔۔۔ بہروز نے اپنے بیٹے کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر اسکا منہ دروسری طرف کردیا تھا۔۔
“بہر۔۔۔بہروز۔۔۔۔”
وہ خود کو شیٹس میں کور کئیے ٹوٹی ہوئی آواز میں کہتی ہے۔۔۔اور بہروز حاکم کچھ قدموں کے فاصلے سے اسکے سامنے تھا۔۔۔
ایک زور دار تھپڑ پر وہ دور جا گری تھا
“ہو دا ہیل آر یو۔۔۔مرد ہے تو مجھ سے بات کر عورت پر ہاتھ اٹھاتا ہے۔۔۔”
وہ انگلش میں بڑبڑایا تو بہروز نے اسکو گردن سے پکڑے بیڈ سے نیچے دھکا دیا تھا۔۔۔
پانچ سیکنڈ میں کپڑے پہن اپنے۔۔۔”
وہ اس آدمی کو کہتے ہی پیچھے ہوا۔۔۔
“پانچ منٹ میں یہاں سے نکل جا اور اس بے غیرت کو بھی ساتھ لے جا۔۔۔”
“بہروز میری بات۔۔۔”
“میں تمہیں جان سے مار دوں گا اگر تم میرے گھر سے میری زندگی سے دفعہ نہیں ہوئی تو۔۔۔”
۔
۔
فون کی رنگ پر بہروز چونک اٹھا تھا۔۔۔ اور موبائل پر گھر کا نمبر دیکھ کر اس نے جلدی سے کال اٹھا لی تھی۔۔
“ہیلو۔۔۔ ماں چاندنی ٹھیک ہے۔۔۔”
“بابا یہی پوچھنے کے لیے فون کیا ہے مس چاندنی ٹھیک ہیں۔۔؟؟ مجھے ان کے پاس جانا ہے۔۔پلیز بابا۔۔۔”
“ہمم۔۔ بیٹا ابھی میں تھوڑا بیری ہوں۔۔۔”
“پر بابا۔۔۔”
بہروز فون کاٹ کر موبائل آف کرچکا تھا۔۔۔
۔
اس لمحے کے بعد اسکے آنے والے دن اسی گھر میں گزرے تھے اسکی راتیں اسی گھر میں جاگتے ہوئے گزری تھی اسکی اور وہ
پل پل جی رہا تھا اور پل پل مر رہا تھا ان لمحات میں۔۔۔