Dusri Aurat by Sidra Sheikh readelle50012 Episode 27
No Download Link
Rate this Novel
Episode 27
“پاکستان۔۔۔۔”
۔
“اچھا باجی چاندنی کہاں ہے۔۔؟؟ چاہت سے میری بات نہیں ہوئی۔۔”
“وہ سلیمان۔۔۔ کام پر ہوں گی۔۔۔ چاندنی لائبریری ایکسٹینڈ کررہی تمہیں تو معلوم ہے۔۔”
“ہاہاہا ہاں جانتا ہوں۔۔ اور وہ میری پری۔۔ اس سے ہی بات کروادیں جب جائیں گی تو۔۔”
“ہاں ضرور سلیمان میں بعد میں بات کروں گی۔۔”
“باجی۔۔۔ ان لوگوں سے چاندنی اور چاہت کو دور رکھئیے گا پلیز۔۔ جب تک میں نہ آؤں واپس مت جانے دیجئے گا۔۔۔ بس ڈیڈ کو ساتھ لیکر آؤں گا کچھ میٹنگ اور رہتی۔۔۔”
۔
“اوکے۔۔۔ بائے پلیز۔۔۔”
وہ لوگ جیسے ہی ائر پورٹ سے باہر نکلے تھے پولیس وین اور بہروز کا وکیل ان کے انتظار میں تھے۔۔۔
“آپ ڈائیریکٹ گرفتار نہیں کرسکتے یہ خود چل کر آئی ہیں یہاں۔۔۔آپ۔۔۔”
“میڈم ہمیں اپنا کام کرنے دیجئے۔۔۔”
لیڈی کانسٹیبل نے چاندنی کو وین میں بیٹھنے کا کہہ دیا تھا
“دیکھیں آفیسرز آپ کے سینئر آفیسر سے میری بات ہوچکی ہے۔۔۔آپ۔۔۔”
“مہرما۔۔۔ اٹس اوکے۔۔۔بس تم جلدی سے عدالت میں اپیل دو۔۔۔ پلیز۔۔ “
“تم جیل میں کیسے گزار۔۔۔”
“میں کرلوں گی۔۔۔ مہرما۔۔۔ اس کالی رات کے ایک روشن صبح آئے گی دیکھ لینا۔۔۔
بس مجھے خود کو ڈیفینڈ کرنا ہے جج صاحب کے سامنے۔۔۔ کم سے کم تھوڑا وقت تو ملے گا نہ۔۔؟؟”
“ہمم۔۔۔”
چاندنی کے ماتھے پر بوسہ دے کر وہ پیچھے ہوئی تھی۔۔۔
۔
“ٹیک کئیر۔۔۔”
۔
“وین کا دروازہ بند ہوگیا تھا۔۔۔ مہرما۔۔۔ اشکبار اس وین کو جاتے دیکھ رہی تھی۔۔۔
۔
۔
“نہ پوچھو درد مندوں سے۔۔۔ہنسی کیسی خوشی کیسی۔۔۔
مصیبت سر پہ رہتی ہے۔۔۔کبھی کیسی۔۔کبھی کیسی۔۔۔”
۔
۔
“وی ول فائٹ ۔۔۔چاندنی۔۔۔”
۔
اس نے ایک ہی نمبر پر کال ملائی تھی جو انفارمیشن اسے انویسٹی گیشن آفیسر نے دی تھی۔۔
۔
“آپ کی چاندنی پاکستان واپس آگئی ہے۔۔۔ وہ آپ کی بیٹی کی آخری نشانی تھی اگر آپ اسے نشانی نہیں بننے دینا چاہتی تو میری ہیلپ کریں چاندنی کو بےقصور ثابت کرنے میں۔۔۔”
اور دوسرے طرف چاندنی کی نانی کے ہاتھ سے ریسیور نیچے گر گیا تھا۔۔۔
۔
“گیم آن مسٹر بہروز۔۔۔”
۔
۔
گلاسز لگائے اس نے کچھ کالز کی تھی اور گاڑی سیدھا اپنے اپارٹمنٹ کی طرف لے گئی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“اب وہ واپس آگئی ہے۔۔ اب دیر کس بات کی ہے بہروز۔۔۔؟؟ سزا کیوں نہیں دلوا دیتے۔۔۔”
“بس کرجاؤ رابیعہ۔۔۔ خود شوٹ کردوں اسے۔۔؟؟ پھانسی لگا دوں اسے۔۔؟؟”
بہروز اور وہ سب لوگ حویلی جیسے ہی داخل ہوئے تھے رابیعہ اور بہروز کی لڑائی شروع ہوچکی تھی۔۔۔
“کیوں نہیں کرسکتے شوٹ۔۔؟؟ وہ اگر تمہارے بیٹے کو بے رحمی سے مار سکتی ہے تو تم کیوں نہیں۔۔؟ کیا پرانی محبت زندہ ہوگئی ہے۔۔؟؟”
“اننف رابیعہ۔۔۔”
“میری بات کرواؤ وکیل سے اسے کہو کہ سزا دلوائے ہم اپیلوں کے چکر میں نہیں پڑنا چاہتے کیس بالکل صاف ہے۔۔ کیوں دادا جی۔۔؟؟ بابا سائیں۔۔۔ماں۔۔ چچی آپ سب بتائیے ہمارے شایان کے قاتل کو سزا ملنی چاہیے نہ۔۔؟؟”
“اور سب خاموش ہوگئے تھے۔۔۔
“جانتی تھی میں۔۔۔ جانتی تھی وہ ڈرامہ کرے گی اپنے باپ کا نام استعمال کرکے اس نے آپ سب کا غصہ ٹھنڈا کردیا۔۔۔ وااہ۔۔۔ کلیپنگ۔۔۔”
“کوئی غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا رابیعہ۔۔۔ اسے سزا ملے گی۔۔۔ کہہ رہا ہوں میں اسے چھوڑوں گا نہیں۔۔۔”
بہروز اوپر کمرے میں چلا گیا تھا۔۔۔
۔
معراج۔۔۔”
“ابا جی۔۔۔ آپ ابھی نہ سوچیں۔۔۔ کمرے میں چلیں۔۔۔”
معراج صاحب جیسے ہی اپنے کمرے میں گئے تھے دونوں نرس سلام کرکے روم سے واپس آئی اور معراج صاحب کی نظر اپنی بیوی پر پڑی ۔۔۔
“شمیم۔۔۔دیکھیں کہاں لے آئی ہے آپ کی لاڈلی مجھے۔۔۔”
۔
” ساتھ دوں تب غلط نہ دوں تب برا میں کہاں جاؤں۔۔۔؟؟ ایک بات تو طہ ہے وہ مجرم ہے اس نے اس بچے کی جان لی۔۔۔”
معراج صاحب کے ہاتھ پر انہیں زرا سی حرکت محسوس ہوئی تو انہوں نے شاکڈ ہوکر اپنی بیوی کو دیکھا جو اپنی آنکھیں کھولنے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ایک ہفتے بعد۔۔۔”
“وٹ دا ف۔۔۔” چاندنی۔۔۔ “
مہرما نے چاندنی کی بکھری ہوئی کمزور حالت کو دیکھ کر کہا تھا
“کیا ان لوگوں نے ٹارچر کیا ہے۔۔؟؟ یہ دیکھو میں نوٹس لیکر آئی ہوں کل پیشی ہے ہماری۔۔۔”
“شکر الحمدللہ۔۔۔ اور ان لوگوں نے مجھے نہیں مارا۔۔۔ بس۔۔”
“بس کیا۔۔۔”
“بس چاہت کی بہت یاد آتی ہے اتنے دن ہوگئے نہ میں نے میری بچی کو دیکھا نہ اس سے بات کی۔۔ کچھ کھانے کو دیتے ہیں تو دل نہیں کرتا۔۔ پتہ نہیں اسکے بغیر سانس بھی کیسے آرہا ہے۔۔۔”
مہرما اسکے گلے لگ گئی تھی۔۔۔ اسکی کمر تھپ تھپا کر وہ چاندنی کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں بھر چکی تھی۔۔۔
“میرے پاس کچھ ایسے ثبوت لگے ہیں کہ جج صاحب تمہارے خلاف ایف آئی آر کو ری جیکٹ کردیں گے اور وہی ڈاکومنٹ ہم وہاں کے کورٹ میں دے کر چاہت کی سٹڈی لے گے۔۔۔”
“کیا سچ میں۔۔۔؟؟”
“ہاں میری جان۔۔۔”
وہ پھر سے مہرما کے گلے لگ گئی تھی۔۔۔
“اللہ نے میری دعا سن لی اب چاہت کو کوئی مجھ سے دور نہیں کرسکتا۔۔۔ کوئی بھی نہیں۔۔۔”
“ٹائم ختم ہوگیا ہے۔۔۔ چلیں میڈم۔۔۔”
مہرما نے آخری بار چاندنی کی طرف دیکھا تھا اور اٹھ کر چلی گئی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بہروز۔۔۔ بیٹا ایک آخری بار سوچ لو۔۔۔”
“بابا سائیں۔۔ بس میرا فیصلہ آخری ہے۔۔۔ آج اسے سزا ہوجائے گی۔۔۔”
معراج صاحب ساتھ آکر بیٹھ گئے تھے بہروز کے۔۔
“بہروز۔۔ غصہ نفرت اپنی جگہ۔۔۔ مگر وہ اب بھی تمہاری بیوی ہے ہمارا خون ہے۔۔ تمہیں ایک بار اسے بٹھا کر پوچھنی چاہیے ساری بات اس دن کیا ہوا تھا۔۔”
“بس بابا سائیں۔۔۔ میں دیکھ رہا ہوں آپ سب کے پاس جارہے ہیں بھتیجی کے لیے محبت ابھی تک گئی نہیں آپ کی۔۔؟؟”
“نہیں گئی اور جائے گی بھی کیسے وہ میری بھتیجی نہیں بیٹی تھی۔۔۔”
“تو پھر کھل کر مخالفت کریں۔۔ کیونکہ اگر اس گھر سے کوئی ایک فرد بھی اسکے پاس گیا تو میں اپنی فیملی کو یہاں سے لے جاؤں گا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔۔۔
بہتر ہوگا آپ اپنوں کی فکر کریں۔۔۔ میں کورٹ جارہا ہوں۔۔ مجھے سپورٹ کرنے کے لیے آجائیے گا۔۔۔ہو سکتا ہے آپ کی گواہی کی ضرورت پڑ جائے۔۔۔”
وہ وارننگ دے کر کھڑا ہوگیا تھا کچھ سیکنڈ میں اپنا کوٹ پہنے ہاتھ میں فائلز پکڑے وہ روم سے باہر چلا گیا تھا۔۔۔
۔
