Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

“بھاگ شایان یہ ہمیں کاٹ لے گا۔۔۔”
“ارے ہادی رک جا یار۔۔۔ اسے پیار کرنے کی کوشش کرتے۔۔”
اور بینچ کے نیچے بیٹھے اس پپی پر جیسے ہی شایان نے ہاتھ رکھا تھا وہ چھوٹا سا پپی جب بینچ سے باہر نکلا تو اور بڑا ہوگیا تھا اور وہ بھونکتے ہوئے شایان اور ہادی کے پیچھے بھاگا جو ممی ممی کرتے ہوئے پورے پارک کے چکر کاٹنے لگے تھے۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔ شیرو۔۔۔ رک جاؤ۔۔شیرو۔۔۔”
چاہت ہنستے ہوئے آئی اور اپنی گڑیا بینچ پر رکھے شیرو کو بلایا تھا جس پر وہ اسکی طرف بھاگا تھا۔۔۔
“یہ تمہیں کاٹ لے گا۔۔۔”
ان دونوں بچوں نے چاہت کو وارن کیا تھا
“نہیں کاٹے گا تم دونوں باہر آجاؤ۔۔۔”
اور وہ ڈرتے ہوئے جیسے ہی باہر آئے تھے چاہت نے ان دونوں کو بینچ پر بیٹھنے کا کہا تھا۔۔۔
“ڈرو مت شیرو کچھ نہیں کہے گا۔۔۔شیرو کم آن۔۔ شیک ہینڈ کرو۔۔۔”
اور شیرو نے جیسے ہی اپنا پاؤں آگے بڑھایا تھا وہ دونوں کی چیخ نکلی تھی
“ہاہاہاہا۔۔۔ اففو۔۔۔ کہا نہ کچھ نہیں کہتا تم دونوں شیرو کو ڈرا رہے ہو۔۔۔ہاتھ دو۔۔۔”
اور ان دونوں نے شیرو کے سر پر ہاتھ رکھا تو شیرو انکے پاؤں بھی چاٹنے لگا تھا۔۔۔
“ہاہاہا دیکھا۔۔۔”
وہ ہنس رہی تھی اور پیچھے حسیب اور صائمہ بھی۔۔۔
“ہاہاہاہاہا۔۔۔۔”
“یہ سلیمان بھائی کی بیٹی ہے۔۔؟؟ کچھ عجیب۔۔”
“صائمہ۔۔۔ پلیز۔۔۔ وہ بچی ہے۔۔۔ زرا سی بیمار ہے۔۔ عیب مت نکالنا۔۔۔”
حسیب سے سختی سے منع کیا تھا
“حسیب۔۔۔ میں نے تو ویسے ہی پوچھا ۔۔۔نام کیا ہے۔۔؟؟”
“چاہت۔۔۔باجی ابھی کام پر گئیں ہیں تو چاہت نینی کے ساتھ ہوتی۔۔۔
چاہت بیٹا۔۔۔ ہمارے گھر چلنا ہے۔۔؟؟”
حسیب کی آواز سن کر چاہت اسکی طرف بھاگی تھی اور ٹانگوں کے ساتھ پلٹ گئی تھی
“حسیب مامو۔۔۔ “
“چاہت۔۔۔ میری بچی۔۔۔”
حسیب نے بہت محبت سے چاہت کے ماتھے پر بوسہ دے کر گود میں اٹھا لیا تھا
اور یہ سائیڈ بہت نئی تھی ہادی اور صائمہ کے لیے۔۔۔
“حسیب آپ نے بتایا نہیں اپ کی اتنی اٹیچمنٹ رہی اس بچی سے۔۔؟؟”
“میں جب بھی دبئی میٹنگ کے لیے جاتا تھا مہرما باجی کی طرف ٹھہرتا تھا۔۔
اور یہ میری بیسٹ فرینڈ۔۔۔ چاہت مامی کو شیک ہینڈ کرو۔۔۔”
پر چاہت نے شیک ہینڈ کے بجائے صائمہ کے سامنے بازو کھولے تھے۔۔۔ صائمہ نے حیرانگی سے حسیب کو دیکھا تھا
“ہاہاہا۔۔۔ یہ ہماری اینجل ہاتھ نہیں ملاتی گلے ملتی ہے وہی تمہیں کہہ رہے ہے۔۔”
اور کچھ سیکنڈ میں صائمہ نے اس بچی کو اپنے سینے سے لگا لیا تھا
“مامو۔۔۔ مامی بہت پریٹی ہیں۔۔۔”
صائمہ کے گال پر بوسہ دینے کے بعد اس نے جیسے ہی صائمہ کے کندھے پر سر رکھا تھا
صائمہ کی آنکھیں بھر آئی تھی اس بچی کی معصومیت اور پھر اسکے سر کو دیکھ کر۔۔۔
“اٹس اوکے صائمہ۔۔۔ میری حالت بھی ایسی تھی جب میں اس اینجل سے ملا تھا ایسے ہی جذباتی ہوا تھا۔۔۔”
صائمہ کی آنکھیں صاف کئیے وہ لوگ کچھ دیر وہیں بچوں کے ساتھ اس پارک میں کھیلتے رہے اور پھر چاہت کو اپنے ساتھ گھر لے گئے جہاں چاہت سب سے ملی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“وااااوووو۔۔۔۔۔ اتنی بڑی گڑیا۔۔۔سلیمان بابا۔۔۔”
سلیمان کا منہ شاک سے کھلا رہ گیا تھا اور جب یہ بات سنتے ہی چاندنی کے ہاتھوں سے چائے کا کپ گرا سب کھڑے ہوگئے تھے مہرما اور اسکا ہسبنڈ سلیمان کے والد۔۔۔سب۔۔۔
سوائے خوش ہوتی چاہت سلیمان اور چاندنی کے
“چاہت بیٹا۔۔۔”
“آئی نو۔۔۔ وہ میرے بابا نہیں ہیں۔۔۔ پر میں انہیں بابا کہہ سکتی ہوں نہ۔۔؟؟
سلیمان بابا۔۔۔؟؟”
وہ سلیمان کے سامنے جیسے ہی کھڑی ہوئی تھی سلیمان گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا تھا۔۔۔
“بالکل میری اینجل کیوں نہیں۔۔۔”
“اوکے با۔۔۔”
ڈیٹس اننف چاہت۔۔۔ اپنے کھلونے اٹھا کر روم میں جاؤ۔۔۔”
“پر ماں۔۔۔”
“ناؤ۔۔۔”
“او۔۔کے۔۔۔”
وہ روتے ہوئے چلی گئی تھی سب گفٹ چھوڑ کر۔۔۔
“سیریسلی چاندنی۔۔؟؟ سلیمان سب کرسکتا ہے مگر وہ ڈیزرو نہیں کرتا ۔۔؟؟”
“سلیمان۔۔۔ سب ڈیزرو کرتا ہے۔۔ پر ہم دونوں کو نہیں۔۔۔ ہم آدھے ادھورے لوگ ہیں ۔۔۔ اور میں جتنی مرضی ناراضگی جتا لوں۔۔۔ مگربہروز حاکم یہ ڈیزرو نہیں کرتا۔۔۔
کہ اس کا بچہ اسے چھوڑ کر کسی اور کو باپ کہے۔۔۔”
اپنے آنسو صاف کئیے چاندنی نے منہ پھیر لیا تھا وہ جانتی تھی وہ سلیمان کو بُری طرح ہرٹ کرچکی تھی
“سلیمان۔۔۔”
“اٹس اوکے چاندنی۔۔۔ آگے کبھی تمہاری کسی بات کا بُرا منایا ہے۔۔؟؟ “
چاندنی کی آنکھوں سے پھر سے آنسو نکل آیا تھا جسے سلیمان نے اپنی انگلی سے صاف کیا تھا اسے فکر نہیں تھی پیچھے اسکے والد بیٹھے تھے بڑی بہن بیٹھی تھی اسے فکر تھی تو بس چاندنی اور اس بچی کی۔۔۔ جو سلیمان کی زندگی بن گئے تھے۔۔۔
“تھینک یو۔۔۔ میں چاہت کو منا لاؤں پھر کچھ مزیدار سا بناتی ہوں انکل اپ نے ڈنر کرکے جانا ہے۔۔۔اینڈ یو مس مہرما۔۔۔”
“ہاہاہا تم نہ بھی کہتی تو ہم نے رکنا ہی تھا میڈم۔۔۔”
“میں چاہت کو منا کر لے آتا ہوں۔۔۔پلیز۔۔۔”
“اوکے۔۔۔”
مہرما اور چاندنی کچن میں چلے گئے تھے اور سلیمان اوپر روم میں۔۔۔
سلیمان کے ڈیڈ سب دیکھتے رہ گئے تھے۔۔۔
“سلیمان۔۔ بیٹا آج سے چار سال پہلے روکا تھا تمہیں۔۔۔ اس راستے میں سوائے مایوسی کے کچھ نہیں ملنے والا تمہیں چاندنی کا شوہر ان دونوں کو لے جائے گا۔۔۔ جب اسے سچائی پتہ چلے گی۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“اور پھر اس شیر نے اس بلی کو غصے سے دیکھا۔۔۔اور اسکی طرف ایسے لپکا۔۔۔”
سلیمان کوٹ اتار کر بیڈ پر جمپ کرتا۔۔۔
“کوئی سن ہی نہیں رہا میری بات۔۔ لیکن ہم اپنی گڑیا کو سناتے ہیں۔۔۔”
زمین پر پھینکی ہوئی گڑیا اٹھا کر وہ بیڈپر بیٹھ گیا تھا جہاں چاہت تکیے پر منہ چھپائے لیٹی ہوئی تھی۔۔۔
“اچھا تو کہاں تھا میں۔۔۔؟؟ ہاں اس شیر نے اس بلی کو کھا لیا۔۔”
“رونگ۔۔ ابھی اس شیر نے غصے سے دیکھا تھا۔۔کھایا نہیں تھا۔۔”
چاہت نے تکیے سے منہ اٹھا کر جیسے ہی کہا سلیمان سے رہا نہیں گیا اور چاہت کو اٹھا کر اپنے ساتھ لٹا لیا تھا
“ہاں تو اس شیر نے اس بلی کو غصے سے دیکھا۔۔۔ ایسے۔۔۔ غرایا۔۔۔”
وہ بچہ بن گیا تھا اور جب منہ کھول کر شیر جیسی ایکٹنگ کی چاہت کی ہنسی پورے کمرے میں گونجی تھی۔۔۔
“ڈیڈ۔۔۔”
دروازے پر کھڑے والد نے جلدی سے آنکھ صاف کی تھی۔۔۔
“میں ڈرنے لگا ہوں مہرما بیٹا۔۔۔ میرے بیٹے کا خواب ٹوٹا تو وہ بکھر جائے گا۔۔۔”
“ایسا نہیں ہوگا۔۔ پاپا۔۔ میں بہت جلدی چاندنی سے بات کرکے ڈائیورس کے پیپرز بھجواؤں گی پاکستان۔۔۔”
“ایسا ممکن نہیں ہے بچے۔۔۔ وہ بہروز حاکم ہے۔۔ جو میں نے سنا وہ تم سنوں گی تو حیران رہ جاؤ گی۔۔”
جس پر مہرما نے لاپروائی سے کندھے اچکائے تھے۔۔۔
“ہاہاہا بی لیو می ڈیڈ بہروز حاکم کو اتنا تو پہچان گئی ہوں اب وہ اور شاک نہیں کرسکتا ہمیں۔۔۔”
مگر وہ نہیں جانتی تھی آنے والے دنوں میں بہروز حاکم کا ظلم سر چڑھ کر بولے گا۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ڈنر ریڈی ہے آپ دو۔۔۔” چاندنی مکمل لفظ بول نہ پائی تھی اندر روم کا وہ منظر دیکھ کر جہاں بیڈ پر سلیمان کے کندھے پر سر رکھے چاہت سو چکی تھی اور سلیمان بھی۔۔۔
وہ دونوں کو اٹھانے کے لیےآگے بڑھی پر پھر قدم پیچھے کھینچ لئیے تھے اور لائٹس آف کرکے واپس آگئی تھی
۔
“ہممم۔۔۔۔ یہ سب کیا ہورہا ہے۔۔؟؟ چاہت کی اٹیچمنٹ سلیمان کے ساتھ۔۔ کیا یہ سب ٹھیک ہورہا۔۔؟؟ کیا بہروز یہ سب دیکھ کر برداشت کرسکے گے۔۔۔”
۔
“جب اپنے چھوڑ دیں تو غیروں پر بھی یقین ڈگمگا جاتا۔۔۔ مگر۔۔۔ ان لوگوں نے مجھے ایسے تھام لیا جیسے میں انکی اپنی ہوں۔۔۔
میں کیسے انکے احسانات چکا پاؤں گی۔۔؟؟
خاص کر سلیمان۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ہاہاہاہا اور شیرو۔۔۔ میں اسے بھی بلاؤں پریٹی پلیز۔۔۔؟؟؟”
زینب نے غصے والی نظروں سے اس بچی کو دیکھا تھا جب کہ صائمہ اور چچی نے ہنستے ہوئے ہاں میں جواب دیا تھا۔۔۔
“شیروووو۔۔۔۔۔”
اور وہ پپی بھاگتے ہوئے اندر آیا تھا جسے دیکھ کر سب سے پہل زینب بیگم ڈر کر اٹھی اور دوسری طرف بھاگی تھی۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔ زینب۔۔۔ سب کے سامنے تو دور رہیں۔۔”
وہ معراج کےگلے جیسے ہی لگی تھی ڈرتے ہوئے معراج صاحب نے بھی ٹیز کیا تھا۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔”
“کم آن شیرو۔۔۔ سب سے شیک ہینڈ کرو۔۔۔”
اور وہ پپی باری باری سب کے پاس جارہا تھا۔۔۔ اتنی خوشی میں چاہت بھاگتے ہوئے تالیاں بجا رہی تھی اور اچانک وہ کسی کی ٹانگوں سے ٹکرا کر گری تھی۔۔۔
اور جس شخص سے ٹکرا کر گری وہ کوئی اور نہیں بہروز حاکم تھا۔۔۔
“آؤچ۔۔۔”
چاہت کی کہنی پر رگڑ لگی تھی پر بہروز نے ایک نظر اسے دیکھا اور اسے دیکھتے ہی بہروز کے چہرے کے تاثراب نفرت میں بدل گئے تھے
“سیریسلی۔۔۔؟؟”
“سے سوری۔۔۔؟
بہروز کا کوٹ کھینچ کر چاہت نے اپنی طرف متوجہ کیا تھا
“سوری۔۔؟؟ کس لیے۔۔۔”
“آپ کی وجہ سے میں نیچے گری ہوں۔۔۔”
“گیٹ آؤٹ۔۔۔اور اسے بھی لے کر جاؤ۔۔۔ صائمہ۔۔۔ حسیب یہ سب ہوتا ہے اس گھر میں۔۔۔ کیسے لوگوں اور جانوروں کو بلاتے ہو۔۔”
وہ دروازے کی طرف اشارہ کئیے چاہت کو بہت تلخی سے کہتا ہوا اندر کی جانب چلا گیا تھا
“بہروز بھائی۔۔کیا ہو گیا ہے وہ بچی۔۔۔”
“پاگل بچی۔۔ اسے دیکھ کر ہی لگ رہا اور آپ اسے بچوں کے ساتھ رہنے دے رہے۔۔؟؟”
وہ کہہ رہا تھا گھر والے چاہت کو باہر جاتے دیکھ بہروز پر غصہ ہونے لگے۔۔۔
آوازیں باہر تک آرہی تھی۔۔۔ اور جب چاہت باہر آگئی تو روڈ سے چاندنی آتی دیکھائی دہ رہی تھی اسے۔۔
“چاہت۔۔۔ “
چاندنی نے مسکراتے ہوےکہا۔۔۔اور جھک کر اپنی بیٹی کو اپنے گلے لگالیا تھا۔۔۔
۔