Dusri Aurat by Sidra Sheikh readelle50012 Episode 03
No Download Link
Rate this Novel
Episode 03
“ابراہیم بھائی مجھے آپ سے ملنا ہے میں آج شام کی فلائٹ سے نکلوں گی اسلام آباد کے لیے۔۔”
“اب تم ہمیں ڈرا رہی ہو شاہزین کیا بات ہے۔۔؟ مجھے بتا دو میں آجاتا ہوں لاہور انفیکٹ امی ملنا چاہتی ہیں تم سے۔۔”
“بھائی میں آتی ہوں۔۔ پلیز ویٹ کیجئے گا۔۔ شاہد کو میں نے بتا دیا ہے آنے کا۔۔۔”
“میں پریشان ہورہا ہوں اب ۔۔ کیا بات ہے۔۔؟؟”
“بات فون پر کرنے والی نہیں ہے۔۔ مل کر بتانے والی بات ہے۔۔۔”
“چاندنی کو بھی لے آنا دل اداس ہورہا سب کا۔۔ دو ماہ ہوگئے ملے ہوئے۔۔”
“نہیں بھائی میں اکیلی آؤں گی۔۔خدا حافظ۔۔”
۔
“بہروز کے لائف سٹائل کو جانے بغیر میں یقین نہیں کرسکتی کسی پر بھی۔۔ ۔”
۔
اور وعدے کے مطابق شاہزین اپنی والدہ کی طبیعت کا بہانہ بنا کر اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگئی تھی۔۔۔
“شاہزین میں بھی چلتا ہوں ساتھ چاندنی بھی ضد کررہی جانے کی۔۔”
“نہیں میں آجاؤں گی آپ چاندنی کا خیال رکھئیے گا۔۔۔”
اپنی بیٹی کو گلے سے لگائے وہ ماں ایک مشن پر نکل گئی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تمہاری ماں بھائی سے ملنے نہیں میری شکایت لگانے گئی ہے۔۔ اور محترمہ سمجھتی ہے کہ مجھے پتہ نہیں چلے گا۔۔؟؟”
“بابا آپ ہنس رہے ہیں۔۔؟؟ شکایت کونسی۔۔؟ چل کیا رہا ہے۔۔؟؟”
“ہاہاہاہا کچھ نہیں بس تمہاری ماں چاہتی ہے کہ شادی ابھی نہ ہو بہروز کی مکمل تحقیقات ہوں۔۔ تمہاری والدہ کو میرے بھتیجے پر یقین نہیں ہے۔۔”
“ایسا کیوں ہے بابا بہروز بہت اچھے ہیں۔۔ کبھی۔۔ کبھی نظریں اٹھا کر نہیں دیکھا انہوں نے مجھ سے کیا کسی سے بھی نہیں۔۔ خوددار ہیں۔۔ سنجیدہ مزاج ہیں۔۔ کم گو ہیں۔۔”
چاندنی انجانے میں بہروز کی تعریفوں کے پل باندھنے لگی تھی اور شاہ زیب صاحب ہنستے ہوئے کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے۔۔
“میری بیٹی کو بھی میرا بھتیجا پسند ہے۔۔ ماں کو جب میں واپس لیکر آؤں تو یہی سب بتانا ہے۔۔ اب میں بھی جارہا پیچھے پیچھے۔۔۔”
چاندنی کے سر پر پیار دے کر وہ بھی مسکراتے ہوئے اپنی وائف کے پیچھے پیچھے اسلام آباد چلے گئے تھے۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آپ کو معلوم تھا ڈیڈ سب معلوم تھا۔۔”
“وجدان آپ جانتے تھے کہ صفوان چاندنی کو پسند کرتا ہے۔۔؟؟”
“میں اور ڈیڈ دونوں جانتے تھے ماما۔۔ بھائی تو کبھی نہ بتاتے ہم نے ہی زبردستی کی۔۔۔”
“تم کب سے ان سب باتوں میں دخل اندازی کرنا شروع ہوگئی۔۔؟ جاؤ کمرے سے۔۔”
فرحین بچی پر غصہ مت کیجئے۔۔ غلطی میری ہے۔۔”
وجدان صاحب نے بیٹے کے کندھے پر ہاتھ رکھنے کی کوشش کی تو صفوان نے بازو جھٹک دیا تھا ان کا۔۔
“آپ بات کریں جا کر دادا سے۔۔ معراج تایا سے بات کریں مجھے نہیں پتہ زمین آسمان ایک کردیں ۔۔۔ چاندنی میری ہے۔۔ وہ مجھے ملنی چاہیے۔۔۔ سنا آپ نے۔۔۔”
“بکواس بند کرو بدتمیز۔۔۔”
وجدان صاحب نے ایک زور دار تھپڑ مارا تھا۔۔۔ اور صفوان نے طیش میں شیشے پر مکا مار کر اپنے جنون ظاہر کیا تھا اس وقت۔۔ خون سے بھرا ہاتھ لئیے وہ اپنے کمرے سے سیڑھیوں اور بھرے ہوئے گھرسے باہر نکل گیا تھا
“صفوان۔۔۔ صفوان کیا ہوا۔۔۔”
مجتبا صاحب کی آواز کو بھی درگزر کرکے وہ باہر چلا گیا تھا۔۔۔
۔
“وجدان۔۔۔ وجدان کیا ہوا ہے صفوان کو۔۔۔؟؟”
وجدان جلدی سے نیچے آئے تھے۔۔ وہ جو بچے آپس میں لڑ رہے تھے سب کے سب موقعے سے فرار یہاں وہاں غائب ہوچکے تھے مین ہال میں ایک دم سے مجتبا صاحب کی کچیری لگ چکی تھی
“اسکا دماغ خراب ہوگیا ہے ابا جی میں معافی مانگتا ہوں “
“یہ تو کوئی بات نہیں ہوئی۔۔ شیشہ ٹوٹنے کی آواز آئی وہ زخمی حالت میں باہر نکلا وجدان کوئی بات ہوئی ہے۔۔ بتاؤ کیا بات ہے۔۔۔”
وجدان صاحب جب والد کو بتانا چاہتے تھے صفوان کی پسند کا اسی قت معراج صاحب نے نفی میں سر ہلا کر چھوٹے بھائی کچھ نہ بتانے کی وارننگ دی تھی۔۔
اور وجدان صاحب بےبس ہوگئے تھے اس لمحے۔۔ وہ اولاد کی خوشی کے لیے اپنے بھائی کی مخالفت نہیں کرسکتے تھے کبھی نہیں۔۔۔
“وجدان میں کچھ پوچھ رہا ہوں۔۔”
“ابا جی کچھ نہیں دراصل اس نے دوستوں کے ساتھ لندن جانے کا پلان کیا تھا اور میں نے دانٹ دیا۔۔۔”
“وجدان۔۔۔”
“ابا جی میری بات سنیں۔۔۔ وجدان تم جاؤ۔۔۔”
معراج صاحب والد کو اپنے ساتھ لے گئے تھے۔۔۔
۔
جانے انجانے میں ایک سیاست کی لہر ڈور تھی حاکم خاندان میں۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“اور پھر کیا میں اسے ڈاکٹر کے لے گئی تھی ڈرائیور چچا کے ساتھ۔۔اب لیلہ ٹھیک ہے۔۔۔”
بلی کے بچے کو گود میں رکھے وہ اسکے چھوٹے چھوٹے بال سہلانے لگی۔۔
“چاندنی آپی۔۔۔ خبر دار جو آپ نے اس ہاتھ سے اب مجھے پیار کیا تو۔۔۔”
“اچھا اس ہاتھ کو کیا ہوا۔۔؟؟ لیلہ کوئی مسئلہ ہورہا۔۔۔”
بلی کو اپنی طرف متوجہ کیا تو وہ میوؤں میوں کرتی سامنے کھڑی چاندنی کی کزن کو غصے سے دانت دیکھانے لگی۔۔
“سیریسلی۔۔۔؟؟ اگر اسکی جگہ کوئی کتا ہوتا تو مجھے کاٹ چکا ہوتا۔۔۔”
“ویسے سوچ رہی ہوں ایک شیر بھی ہونا چاہیے۔۔۔”
اور چاندنی کے پاس بیٹھے سب کزنز کا منہ کھل گیا تھا۔۔۔
“اووہ خدا میں کی کراں۔۔۔”
جب وہ سب واپس اندر بھاگ گئے تو چاندنی نے اونچی آواز میں کہا۔۔۔
۔
ابھی وہ ان بات کررہی تھی جب اسکی نظر صفوان پر پڑی ۔۔
وہ جو جلدی سے گاڑی کا دروازہ کھولنے کی کوشش میں تھا سفید رنگ کی گاڑی پر سرخ رنگ جیسے جیسے گرنے لگا وہ جلدی سے اٹھ گئی تھی
“صفوان بھائی۔۔۔۔ صفوان۔۔۔بھائی۔۔۔کیا ہوا۔۔۔؟؟”
“نوٹ ناؤ چاندنی۔۔۔ بھائی مت بولا کرو مجھے کتنی بار کہا ہے۔۔۔؟؟”
وہ اونچی آواز میں چلایا تو ڈرائیور ایک دم سے چاندنی کے دفاع میں آگے آئے اور باغیچہ صاف کرتا مالی بھی۔۔
“پر صفوان بھائی۔۔۔”
“تم سچ میں اتنی معصوم ہوں یا جان بوجھ کر میری فیلنگ کو نظر انداز کرنا اچھا لگتا تمہیں۔۔؟؟”
اس نے گاڑی کے ساتھ چاندنی کو جیسے ہی پن کیا تھا۔۔۔ چاندنی ایک دم سے شاک ہوگئی تھی۔۔۔
“صفوان ب۔۔”
“ایم۔۔۔۔ ایمسوری۔۔۔۔”وہ اسے دروازے سے پیچھے کئیے گاڑی میں بیٹھ گیا تھا۔۔۔
۔
“بہروز آپ نے پوچھا تھا چاندنی کیسی ہے۔۔۔ لو دیکھ لیں کیسی ہے۔۔۔”
مشعل نے جو ویڈیو ابھی ابھی بنائی تھی اسنے بہروز کو وٹس ایپ کردی تھی۔۔۔
وہ دن تھا جس میں دشمنیاں شروع ہوئی تھی چھوٹو ں کی بھی اور بڑوں کی بھی۔۔۔
ڈرٹی پولیٹکس۔۔۔
۔
