Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

“اگر کسی کو بہروز حاکم پچھلے چار سالوں میں بدتمیز اکڑ باز لگتا تھا تو وہ اب آکر دیکھتے۔۔
وہ اس رات اس پارٹی کے بعد بدترین ہوگیا تھا اب وہ راتوں کو بھی بمشکل گھر میں دیکھائی دیتا تھا۔۔۔
۔
“دادی آپ بابا سے بات کریں نہ۔۔ میں نے جانا ہے پھوپھو کے پاس سب جارہے ہیں۔۔”
“شایان بیٹا۔۔۔”
“معراج دیکھیں نہ بچہ کہیں نہیں گیا آپ ہی بہروز سے بات کریں۔۔”
“کیا خاک بات کروں۔۔۔ آفس جاؤں تو میٹنگ میں بیزی ہوتا۔۔ اور گھر تو آنا ہی بھول گیا۔۔”
“جی بھائی صاحب۔۔ بہروز کو سمجھنا چاہیے اسکے بیٹے پر کیا اثر پڑ رہا۔۔ اور رابیعہ پر بھی۔۔۔”
“رابیعہ بیٹی نے بہت صبر کیا۔۔بہروز کے غصے کے باوجود افف تک نہیں کرتی۔۔”
حمدان چچا اور چچا تو جیسے دیوانے ہوئے بیٹھے تھے رابیعہ کے۔۔ اور یہی حال باقی سب کا بھی تھا رابیعہ نے پچھلے چار سالوں میں چاندنی کی جگہ لے لی تھی مکمل طور پر۔۔۔
۔
“ماما۔۔ بابا سے بات کی تھی آپ نے۔۔؟؟”
“پاپا۔۔۔ سب تو ریڈی ہیں۔۔ اگر ہم چلیں جائیں تو بہروز خود بہ خود پیچھے آئیں گے۔۔۔پلیز۔۔۔”
“یس دادو پلیز۔۔۔ مان جائیں۔۔۔۔”
“اور اگر اس نے غصہ کیا تو۔۔؟؟”
معراج حاکم نے سب گھر والوں سے پوچھا تھا
“تو آپ ہیں نہ ڈیڈ۔۔۔”
“آپ ہو نہ دادو۔۔۔”
“آپ ہیں نہ بابا۔۔۔”
سب نے ہنستے ہوئے اونچی آواز میں کہا تھا۔۔۔
“ہاں ہاں پھنساؤ مجھے سب کے سب۔۔”
۔
اور پلان کے مطابق ان لوگوں نے ٹریپ پلین کرلی تھی نیویارک کی صائمہ نے نئے گھر میں سب کو انوائٹ کیا تھا۔۔۔ جس پر بہروز نے جانے سے منع کردیا تھا۔۔
اور یہ بہروز سے پوچھے بغیر ڈن کیا تھا سب نے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“نیو یارک از اٹ۔۔۔؟؟”
“میں بھی آرہا ہوں۔۔۔”
“تم نہیں آسکتے۔۔ تم جانتے ہو نہ یہاں سب ہیں۔۔سب اپنے۔۔۔”
“تو۔۔۔؟؟ میں کونسا غیر ہوں ہنی۔۔؟؟ میں بھی تو اپنا ہی ہوں۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔ پھر بھی نہیں۔۔۔”
“پلیزززز۔۔۔۔۔۔”
“نہیں جنید۔۔۔۔ صائمہ آنے والی ہے میں بعد میں بات کروں گی۔۔”
رابیعہ نے جلدی سے فون بند کردیا تھا
“رابیعہ بھابھی۔۔۔؟؟ ناشتہ لگ گیا جلدی سے آجائیں ۔۔۔ پھر تیار بھی ہونا ہے آج گھومنے چلیں گے۔۔۔”
۔
صائمہ بہت چہکتی ہو باقی سب کو ناشتے کا کہنے چلی گئی تھی۔۔۔
“حسیب آپ بھی اٹھ جائیں۔۔۔ میری فیملی پہلی بار آئی ہے ہمارے گھر مجھے کچھ بھی مسنگ نہیں چاہیے۔۔۔”
پردے پیچھے کرکے وہ بیڈ پر جیسے ہی حسیب کو اٹھانے آئی تھی حسیب نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا
“شوہر کا بھی تھوڑا خیال کرلو بیگم ۔۔ رات سے زرا سی دیر کا کہہ کر گئی تھی اب آئی رہی ہو واپس۔۔”
“ہاہاہا۔۔۔ اچھا میں نے بھابھی اور چچی کے ساتھ باتیں کرررہی تھی بچوں میں پتہ ہی نہیں چلا کب نیند آگئی۔۔۔”
“اور یہاں یہ معصوم ساری رات جاگتا رہا۔۔”
“جھوٹ مت بولیں صبح آئی تو کھڑاٹے مارتے ہوئے سورہے تھے”
صائمہ نے پھر سے اٹھنے کی کوشش کی جب حسیب نے اسکی ویسٹ پر پھر سے ہاتھ رکھ لیا تھا
“اوہ میڈم جانے دیں۔۔ صبح تک جاگتا رہا۔۔۔”
“اچھا جانے دیں نہ حسیب۔۔۔”
ایک بار پھر سے جانے کی کوشش کی تھی
“نہیں جانے دوں گا۔۔۔”
“تو ہم اسے کھینچ کے لے جائیں گے حسیب جیجو۔۔۔”
کزنز نے جیسے ہی شرارتی لہجے میں کہا تھا حسیب جلدی سے ہاتھ پیچھے کرچکا تھا اور صائمہ ایک جھٹکے سے بیڈ سے نیچے تھی۔۔۔
“اوووہ شٹ۔۔۔ صائمہ سسوو سوری۔۔۔”
وہ جلدی سے اٹھا تھا۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔ توبہ آپ دونوں تو ایسے ڈریں ہیں جیسے ہسبنڈ وائف نہ ہوں۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا۔۔۔”
“ابھی بتاتی ہوں۔۔۔”
صائمہ بھی جلدی سے ان دونوں کے پیچھے بھاگی تھی۔۔۔اور اسی وقت حسیب کا فون آگیا تھا۔۔۔
“یار تو بار بار کیوں یاد دلاتا ہے۔۔؟؟ میں نے گھر خالی کروا لیا تھا۔۔۔ بس چاندنی باجی کا سامان سیٹ کرنا ہے۔۔ تم لوگ کب آرہے ہو۔۔؟؟”
“حسیب میرا آنا ابھی مشکل ہے۔۔۔ حسیب ڈیڈ کی طبیعت بہت خراب سب کمپنی کا کام میں دیکھ رہا ہوں۔۔ موم کو بھی تنہا نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔
مہرما باجی وہاں پہلے ہی چلی گئی تھی۔۔”
“میں دیکھ لیتا ہوں ڈونٹ ورری۔۔۔”
“حسیب۔۔۔ میں بہت یقین سے بھیج رہا ہوں ان لوگوں کو وہاں۔۔وہ سکول بہت پسند آیا چاہت کو اس لیے مہرما باجی نے چاندنی کو راضی کیا۔۔۔”
“ارے بس کر جا۔۔ میں جانتا ہوں چاندنی مہرما باجی کے ساتھ نہیں رہے گی اتنا تو جانتا ہوں کتنی خوددار ہیں وہ۔۔۔”
۔
کچھ دیر اور بات کرنے کے بعد حسیب ناشتہ کرنے کے بعد سیدھا اپنے گھر سے چار گھر دور اس خالی گھر میں گیا تھا۔۔۔ اور اپنے ملازموں سے سب کچھ سیٹ کروایا تھا۔۔۔
۔
حسیب۔۔۔”
حسیب وہ فریم لگانے لگا تھا جس میں چاندنی اور چاہت کی تصویر تھی۔۔۔
پر پیچھے سے صائمہ کی آواز پر وہ فریم چھوٹ گیا تھا
“اووہ شٹ۔۔۔”
“حسیب۔۔۔ کانچ چبھ جائے گا چھوڑیں اسے۔۔۔”
حسیب نے وہ فریم چھوڑ دیا تھا دو قدموں کا فاصلہ تھا اس تصویر دیکھنے میں۔۔
“آپ یہاں کیا کررہے ہیں۔۔؟؟”
“بیگم میں نے بتایا تو تھا میرے دوست کی فیملی یہاں شفٹ ہورہی بس شام تک یا کل تک آجائیں گے۔۔۔”
“اچھا ملازم کرلیں گے ابھی تو چلیں پلیز۔۔۔”
حسیب کا ہاتھ پکڑے وہ واپس گھر لے گئی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ دن بعد۔۔۔۔۔”
۔
“ماں۔۔ بیوٹیفل۔۔۔ اب ہم یہاں رہیں گے۔۔؟؟”
ہاں میرے بچے۔۔۔ اب منہ ہاتھ دھو کر آجاؤ۔۔ ڈنر کرنا ہے کہ نہیں۔۔؟؟”
“یس ماما۔۔۔”
وہ اوپر روم کی طرف جانے لگی تھی جب سر چکرانے سے چاہت پیچھے آگری۔۔”
‘چاہت۔۔۔۔”
چاندنی چلاتے ہوئے اسکی طرف بھاگی۔۔۔”
“ماما میں ٹھیک ہوں۔۔۔”
“کتنی بار کہا ہے بھاگتے ہوئے سیڑھیاں مت چڑھا کرو۔۔ گر جاتی۔۔۔”
اور چاہت کو خود اٹھا کر اوپر روم میں لیکر گئی تھی اسکا منہ دھونے کے بعد وہ واپس اسے گود میں اٹھاکر نیچے لے آئی تھی۔۔۔
“آئی لو یو سو مچ ماما۔۔۔”
“ہاہاہا۔۔۔ ڈنر کے بعد آئس کریم چاہیے ہوگی اس لیے مسکے لگ رہے۔۔؟؟”
“ہاہاہاہا۔۔۔۔”
چاہت کے قہقے نے روشن کردیا تھا چاندنی کے چہرے کو بھی۔۔۔
اور کچھ دیر بعد دونوں ماں بیٹی آئسکریم لئیے گھر کے سامنے واپے بینچ پر بیٹھ کر اپنی آئسکریم اینجوائے کررہے جب کچھ گھر دور اس گھر سے بچوں اور بڑوں کے ہنسنے کی آوازیں ان دونوں کو سنائی دی۔۔
“ماما۔۔ یہاں پر نئے نیبر کو ویلکم نہیں کرتے۔۔؟؟ ہم کتنے دن سے یہاں آئے ہوئے۔۔”
“ہاہاہا۔۔۔ ارے کل تو مسز شاہد آئی تھی۔۔۔”
“پر ماما اس گھر سے کوئی نہیں آیا۔۔؟؟ انکے بچے بھی ہیں۔۔۔کتنا مزہ آئے گا نہ۔۔؟؟”
ہممم۔۔۔ کل میں جب کام سے آجاؤں گی تو ہم چلیں گے۔۔؟؟ میری اینجل کو نئے بچوں سے ملوانے۔۔۔”
چاہت کے چہرے کی اداسی دیکھ کر چاندنی نے بات کو بدل دیا تھا اور چاہت نے خوشی سے چاندنی کو ہگ کرلی تھی
چاہت کو کریز تھا نئے لوگوں کو ملنے کا۔۔۔
۔