Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

“ایم سوری ہم آپ کی بیٹی کو نہیں بچا سکے۔۔۔شئ از نو مور میم۔۔۔”
“مہرما۔۔ مہرما تم انہیں بتاؤ میں کسی کی نہیں اپنی بیٹی کی بات کررہی ہوں میری بیٹی ‘چاہت’ کی۔۔چاہت بیٹا۔۔۔
بچے کہاں ہو۔۔۔؟؟”
دو قدم آگے بڑھ کر اس نے ہر جگہ نظر گھمائی تھی اور تب جاکر اس کی نظر مایوس لوٹی تھی اس بیڈ کی طرف جہاں اسکی بیٹی سکون کی نیند سو چکی تھی
“آپ کو کچھ بھی نہیں ہوگا بچے ماں واپس آگئی ہے سب ٹھیک ہوجائے گا “
وہ ہاتھوں سے ڈریپ کی نیڈل نکال کر اپنی بیٹی کے وجود کو اپنے سینے سے لگا چکی تھی
“سب ٹھیک ہوجائے گا سب کچھ۔۔۔ میں واپس آگئی ہوں۔۔ میں کیس جیت گئی ہوں چاہت اب ہم ماں بیٹی کو کوئی الگ نہیں کرسکتا بہروز حاکم بھی نہیں۔۔”
مگر موت ان ماں بیٹی کو جُدا کرگئی تھی
چاندنی نے اس بےجان وجود کو خود سے الگ کیا تھا اسے ہمیشہ کی طرح اپنی بیٹی سے کوئی جواب نہیں ملا تھا چاندنی کا دل بےچین ہوگیا تھا بےساختہ نظریں مانیٹرنگ پر گئی ہر مشین خاموش تھی ہسپتال کے اس کمرے میں بےجان اس ننھے وجود کی طرح جو اس نے اپنی آغوش میں لیا ہوا تھا
“اب سب علاج ہوجائے گا آپ کا علاج ہم آج ہی کروائیں گے مامانے پیسے جمع کئیے ہوئے تھے وہ آج ہی علاج پر لگائیں گے۔۔”
اسی شیٹ میں اپنی بیٹی کو لپیٹے وہ اس کمرے سے باہر لے آئی تھی گود میں اٹھائے وہ اپنی بچی کو دوسرے چلڈرن وارڈ کی جانب لے گئی تھی اور ایک ڈاکٹر کے کیبن میں بنا اجازت داخل ہونے لگی تھی جب مہرما نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے روکا تھا
پیچھے کھڑے اس شخص پر چاندنی کی نظر گئی مگر وہ نگاہیں چُرا چکی تھی ۔۔۔
“ہمیں گھر چلنا چاہیے چاندنی۔۔۔پلیز۔۔۔”
“ہم پاکستان میں جو کیس جیتے ہیں مجھے اس سے بہت پیسے ملے ہیں مہرما۔۔ ہم خواہش کا علاج کروائیں گے۔۔۔اندر ڈاکٹر سے اپاؤنٹمنٹ لینے دو پلیز۔۔”
“نہیں لے سکتے اپاؤنٹمنٹ۔۔۔ زندہ لوگوں کا ٹریٹمنٹ ہوتا ہے تمہاری بیٹی مرچکی ہے۔۔۔
جب تم وہاں اپنی بےگناہی کا کیس لڑ رہی تھی چاندنی یہاں یہ بچی تمہاری ممتا کے لیے بلک رہی تھی۔۔۔ نہ وہاں سے تمہیں یہاں آنے کی اجازت ملی اور نہ تمہاری بیٹی کو تمہارے پاس لے جانے کی۔۔۔”
“میری بچی زندہ ہے۔۔۔”
“وہ مرچکی ہے۔۔۔”
“وہ زندہ ہے۔۔ یہ دیکھو۔۔۔ خواہش بیٹا ۔۔۔ ابھی بولو۔۔ ماں بولو۔۔ “
اس خاموشی نے چاندنی کی زبان کو بند کردیا تھا تر چہرے نے ایک نظر اپنی بچی پر ڈالی تھی اور ایک نظر اپنے شوہر پر۔۔۔
“آپ کامیاب ہوگئے بہروز۔۔۔ دور کردیا اسے مجھ سے۔۔۔ لے لیا بدلہ۔۔؟
اپنی بیوی کو تو بہت سال پہلے اپنی زندگی سے بےدخل کرکے مار چکے تھے آج ایک ماں کو بھی مار دیا۔۔۔”
۔
“ماں۔۔۔”
وہ بات کررہی تھی جب اسی اپنی بچی کی آواز سنائی دی
“چاہت شکر الحمدللہ بیٹا آپ ٹھیک ہو۔۔۔”
اپنی بیٹی کے ماتھے پر بوسہ دے کر اس نے اس وجود کو پھر سے سینے سے لگا لیا
بہروز کچھ قدم پیچھے ہوا تھا اور پیچھے ہوا اور شیشے کےواال کے ساتھ لگ کر وہ زمین پر بیٹھ گیا تھا
چھوٹے چھوٹے قدموں سے چاندنی اپنی بچی کو پاس سے لیکر گزر گئی تھی اس باتیں کرتے ہوئے سب کو یہ بتاتے ہوئے کہ اسکی بیٹی زندہ ہے۔۔۔
مگر وہ بےجان وجود لئیے کوڑی ڈور کی طرف بڑھ رہی تھی اور پیچھے پیچھے مہرما جو اسے سمجھا رہی تھی
“بہروز۔۔۔”
بہروز نے بھاری پلکیں اٹھا کر دیکھا تو فیملی کے کچھ لوگ اشکبار اسے دیکھ رہے تھے
“شئ از نو مور۔۔۔”
دونوں ٹانگیں سیدھی کرکے وہ پرسکون ہوکر ٹیک لگائے بیٹھ گیا تھا سر جیسے ہی اس شیشے کے ساتھ مارا وہ شیشہ ٹوٹ گیا تھا مگر بہروز بےسدھ ہوگیا تھا
“شئ از نو مور بابا سائیں۔۔۔ مر گئی ہے وہ جسے میں ‘ڈسیبلڈ چائلڈ کہتا تھا چاندنی کا۔۔
اب سمجھ آیا ۔۔۔ آپ کچھ کرسکتے ہیں۔۔؟اسے بچا لائیں گے۔۔؟؟ میں۔۔ اسے بتانا چاہتا ہوں میں اسکا باپ ہوں۔۔۔ وہ میری بیٹی ہے۔۔۔ آپ اسے بتا دیں گے۔۔؟؟”
حاکم صاحب نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا تھا ان کے چہرے پر جو ترس جو ہمدردی اپنے بیٹے کے لیے ابھری تھی اب وہ غصے اور نفرت میں بدل چکی تھی
“اب بیٹی یاد آگئی۔۔؟ تب کہاں تھے جب تمہیں سب نے کیس کرنے سے روکا تھا۔؟
تب تو تم نے میرے بھائی بھابھی میری بھتیجی تک کو گندا اور گناہ گار سمجھ لیا تھا
تم نے میرے خون کو تو جو کہا سو کہا ۔۔۔بہروز تم نے اپنے خون کو بھی نہیں بخشا۔۔؟
اپنی بیٹی کو اسکی مان سے چھین لیا ایک ایسے ادارے میں بھجوا دیا جہاں اسے موت نے اپنی آغوش میں لے لیا۔۔ کیونکہ تم نے اسکی ماں کی آغوش چھینی تھی اس سے۔۔۔”
وہ اٹھے اور وہاں سے دور بینچ پر بیٹھ گئے تھے ۔۔انہوں نے ایسے واپس نہیں جانا تھا انہوں نے اپنی پوتی کی آخری رسومات پوری کرکے جانا تھا۔۔۔
پر ان میں حوصلہ نہیں تھا چاندنی کا سامنا کرنے کا۔۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ماں آپ میرے ساتھ ہیں سب ہیں بس بابا سے کہیں جلدی سے آجائیں۔۔۔”
“بابا بھی آجائیں گے چاہت بیٹا مجھ سے وعدہ کرو آپ نے اپنے سر کو لیکر کبھی پریشان نہیں ہونا بیٹا یہ نشان بھی ختم ہوجائے گا۔۔۔”
“آئی نو۔۔ آپ میری سوپر ماما ہیں۔۔”
۔
“چاندنی۔۔۔ پاکستان لے جانے سے تمہیں اور اذیت ملے گی۔۔۔”
مہرما نے اسے ہاتھ روک دئیے تھے۔۔۔
“تم نہیں جانتی یہاں میری بچی کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں وہاں امی ابو ہیں۔۔ میری چاہت بھی ان کے پاس جائے گی۔۔۔
ہم پاکستان جائیں گے۔۔۔ہم۔۔۔”
گھر میں ایسے ہی چاہت کو اٹھائے داخل ہوئی تھی وہ اور صوفے پر جاکر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
“مہرما بیٹا۔۔۔”
مہرما کی والدہ بھاگتے ہوئے اندر داخل ہوئی تھی۔۔۔ وہ جو ابھی تک مضبوط بنی ہوئی تھی والدہ کی آغوش میں رو دی تھی
“بس مہرما۔۔۔بس بیٹا۔۔۔”
“موم۔۔۔ سلیمان برداشت نہیں کرپائے گا۔۔۔ اسکا نمبر نہیں مل رہا کسی سے رابطہ نہیں ہوپارہا ۔۔۔”
“چاہت۔۔۔ نانا ابو نانی امی آپ کا بہت سارا خیال رکھیں گے۔۔مجھ سے بھی زیادہ۔۔۔
میں ناکام ہوگئی۔۔پہلے شایان اور اب آپ۔۔۔میں ناکام ہوگئی ہوں۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“پاکستان۔۔۔۔”
۔
“فون کرو بیٹا۔۔۔ معراج شاہنواز حمدان کسی کو تو فون ملاؤ۔۔۔۔”
دادی نے ویل چئیر سے اٹھنے کی کوشش کی تھی پر ٹانگوں کی درد نے انہیں واپس بیٹھنے پر مجبور کردیا۔۔۔
“امی آپ بیٹھی رہیں۔۔۔”
“مجھے ہاتھ مت لگانا آئندہ۔۔۔”
زینب بیگم کا ہاتھ پیچھے کردیا تھا وہ جو سب بیٹھے ہوئے تھے ایک دم سے کھڑے ہوگئے دادی کے چلانے پر۔۔۔
“تم نے آخر ساس بن کر دیکھا دیا نہ۔۔۔؟؟ کتنا سمجھاتی تھی تمہیں۔۔ وہ ہمارا خون تھی۔۔ میں تو نہیں تھی پر تم تھی اس کے پاس۔۔۔ مجھے سب بتا دیا فرحین نے۔۔۔
مجھے شرم آرہی ہے تم لوگوں کو اپنے بچے کہتے ہوئے بھی کیا کردیا تم لوگوں نے۔۔۔”
دادی ہاتھوں میں سر دئیے رو دی تھی۔۔۔
۔
زینب بیگم سرجھکائے کھڑی تھی اور ساتھ دونوں بہوؤں۔۔۔
۔
“چاندنی باجی بےقصور تھی۔۔ میں نے کتنی بار امی ابو سے کہا سب سے بات کرنے کی کوشش کی دادی۔۔ ان لوگوں نے بہت ظلم کیا ان پر۔۔۔ اچھا ہوا وہ چلی گئی بہروز بھائی تو انہیں جان سے مارنے کے در پہ تھے۔۔۔”
سنبل جیسے ہی بتانا شروع ہوئی باقی کی وہ سب کزنز نے اور بھی باتیں بتائی جو آج تک خاموش رہی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“وہ کچھ گھنٹے اس کی زندگی کے سب سے دشوار تھے وہ رو رہی تھی اپنی بچی کے وجود کو سینے سے لگائے۔۔۔ کب تیاری مکمل کرلی مہرما نے اس نے غور نہیں کیا وہ تین گھنٹے اسی صوفے پر بیٹھی رہی تھی۔۔۔ بیٹی سے باتیں کرتے کرتے وہ اشکبار تھی ایک دم سے بےچینی ہوتی تو چاہت کو سینے سے لگا لیتی یا پھر منہ سر چومنے لگ جاتی۔۔۔
وہ اپنی بیٹی کو لیکر اکیلی نہیں آئی تھی ان چار سالوں میں وہ لوگ بھی ان کے ساتھ آئے تھے جن کے ساتھ چاہت کو بہت محبت تھی۔۔۔
دبئی سے بھی وہ لوگ شامل ہوئے تھے۔۔۔
اور وہ سب جب پاکستان آئے تو سلیمان کے اپارٹمنٹ میں ہی رہے تھے وہ
۔
ان دو گاڑیوں کے پیچھے تین اور گاڑیاں بھی تھی ائر پورٹ سے واپسی تک بہروز اپنی گاڑی ڈرائیو کررہا تھا وہ فالو کررہا تھا ان لوگوں کو۔۔۔
اور جب گاڑی ایک پرائیویٹ پراپرٹی پر رکی تو وہ بھی جلدی سے اتر آیا تھا اور اسکے پیچھے دادا جی اسکے والد اور حمدان چچا۔۔۔
۔
ابھی تک وہ سمجھ نہیں پارہا تھا چاندنی کیوں پاکستان لے کر آئی۔۔ پر ابھی اسے سمجھ آنے لگی تھی سب بات۔۔۔
۔
وہ جیسے آہستہ قدموں سے آگے بڑھا تھا مہرما نے اس کا راستہ روک لیا تھا
“کیوں آئے ہو یہاں۔۔؟؟”
“وہ۔۔۔ میں۔۔۔ ایک بار۔۔۔اپنی بیٹی کو دیکھنا چاہتا ہوں۔۔”
“ایک بار وہ بھی ایسے ہی لاچار کھڑی بےبسی کے آنسو روتی ہوئی مجھے کہہ رہی تھی میں ایک بار اپنے بیٹے کو دیکھنا چاہتی ہوں وہ روو رہی تھی بلک رہی تھی
پر تم نے اسے ایک آخری دیدار نہ کرنے دیا۔۔۔ بہروز حاکم۔۔۔ مکافات عمل دیکھ لو۔۔۔
تب بھی تم نے گناہ کیا ایک ماں اور بیٹے کو جدا کرکے اور اب بھی۔۔۔جاؤ نکل جاؤ یہاں سے۔۔۔ تب اسے دیکھنے کا حق کھو چکے ہو۔۔۔”
۔
۔
وہ واپس اندر چلی گئی تھی۔۔۔ حاکم خاندان کے ان مردوں کو ذلیل کرکے۔۔۔
۔
“ہممم۔۔۔”
بہروز مین گیٹ کے ساتھ ٹیک لگائے زمین پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔
چہرہ دیکھے بغیر وہ کہیں نہیں جانا چاہتا تھا۔۔۔
وقت گزرنے لگا۔۔۔اندر گہری خاموشی چھائی اور پھر اس ماں کے چیخنے چلانے کی آوازیں فضا میں گونجنے لگی۔۔۔
۔
دیکھتے دیکھتے اندر سے اس چھوٹی پری کا جنازہ باہر آیا بہروز نے جلدی سے ایک کپڑا گاڑی سے نکال کر منہ پر لپیٹ لیا اور جنازے کو کندھا دینےلگا۔۔۔۔
۔
“چاندنی تم اس سے آگے نہیں جاسکتی۔۔۔”
“میں جاؤں گی اور دیکھتی ہوں مجھے کون روکتا ہے۔۔۔
ننگے پاؤں وہ بھی اس جنازے کے پیچھے چل دی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“امی۔۔۔آپ چلنا چاہیں گے۔۔؟؟”
“نہیں حمدان ہمت نہیں رہی۔۔۔ اب ہمت نہیں رہی۔۔۔ مجھے اب کوئی پوچھنے نہ آئے میں اب کہیں نہیں جاؤں گی۔۔۔۔”
۔
دادی کا رونا دیکھ کر کسی میں ہمت نہیں تھی انہیں چپ کروانے کی باقی کے مرد قبرستان کے لیے نکل گئے تھے سوائے حمدان صاحب کے۔۔۔
اب انکے نہ جانے کی وجہ کیا تھی انکی نفرت یا غصہ انکی سازش کے ناکام ہونے کا۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں چلے گئے تھے۔۔۔ کچھ اور سازش گڑنے پر وہ نہیں جانتے تھے انکا مکافات شروع ہوچکا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ایک منٹ۔۔۔۔ ایک منٹ۔۔۔”
وہ چلائی تھی۔۔۔ کچھ لوگ پیچھے ہوئے تو وہ ایک درخت کے پیچھے چھپے بہروز حاکم کا ہاتھ پکڑ کر اسے سامنے کھینچ لائی تھی اور بیٹی کے چہرے سے وہ سفید کپڑا تار کر بہروز کا ہاتھ ایک جھٹکے سے چھوڑا تھا
۔
“بہروز حاکم۔۔۔یہ دیکھ لیں میری بیٹھی کا چہرہ۔۔۔یہ ڈس ایبلڈ بچی میری۔۔۔
اس میں اس معصوم کی غلطی نہیں تھی بہروز۔۔۔چہرے سے کپڑا ہٹا کر دیکھیں اور بتائیں کیا غلطی تھی اس کی۔۔۔؟؟”
اس سکارف کوبہروز کے چہرے سے کھینچ کر کہیں دور پھینک دیا تھا چاندنی نے۔۔۔
۔
“یہ دیکھیں بہروز۔۔۔ کتنی پیاری ہے ماشاللہ۔۔۔ یہ کہیں سے ڈس ایبلڈ لگ رہی ہے۔۔
ہاں بس سر اس سائیڈ سے تھوڑا سا بڑھ گیا تھا۔۔جانتے ہیں کیوں۔۔۔؟؟”
بہروز کی نظریں اس بچی پر تھی وہ دونوں گھٹنوں کے بل بیٹھے ہوئے اس بےجان وجود کو دیکھ رہے تھے چہرہ آنسوؤں سے تر ہوچکا تھا۔۔۔دادا جی اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ اتنا دور بھی نہیں تھے کہ انہیں کچھ نظر نہ آسکے۔۔۔انہیں وہ بچی نظر آرہی تھی انہیں وہ بچی بھی نظر آرہی تھی جس کے دادا کہنے کو بھی انہوں نے گالی سمجھ کر اسے جھڑک دیا تھا
وہ سب کھڑے تھے خاموش۔۔جب چاندنی نے بہروز کے کانپتے ہوئے ہاتھ کو چاہت ک سر پر رکھ دیا تھا
“بہروز کوئی بچہ ڈس ایبلڈ نہیں ہوتا۔۔۔ جس رات مجھے اپنی زندگی سے جانے کا کہہ دیا تھا آپ نے اس رات میرا ایکسیڈنٹ ہوا تھا میری بچی اس وجہ سے ایسی ہوگئی۔۔۔
وہ ڈس ایبلڈ نہیں تھی۔۔”
وہ اور اونچی اواز میں بولی۔۔
“دنیا کا کوئی بچہ ڈس ایبلڈ نہیں ہوتا۔۔۔ ہماری سوچ معذور ہوتی ہے ہمارا دماغ خراب ہوتا ہے بچے تو پرفیکٹ ہوتے ہیں۔۔۔
اب ہاتھ رکھیں اور کہیں کہ یہ بچی ڈس ایبلڈ نہیں۔۔۔اور۔۔۔”
۔
“چاندنی۔۔۔”
گاڑی سے نکلتے ہی بھاگتے ہوئے سلیمان اسکی طرف آیا تھا
“چاہت۔۔۔”
“سلیمان۔۔۔چاہت۔۔۔چلی مجھے چھوڑ۔۔۔”
“نووو۔۔۔۔نوووو۔۔۔نوووو۔۔۔۔”
وہ روتے ہوئے اسکے پاس بیٹھ گیا تھا چاہت کو چاندنی سے چھین کر اپنے سینے سے لگا لیا تھا
“چاہت۔۔۔بیٹا اٹھو۔۔۔ آنکھیں کھولو۔۔۔بابا آئے ہیں دیکھو میں بہت بڑی ڈول لیکر آیا ہوں۔۔۔ چاہت۔۔۔آنکھیں کھولو۔۔۔”
سر پر بوسہ لئیے بہروز پیچھے ہوگیا تھا۔۔وہ اس درخت کے پاس جاکر بیٹھ گیا تھا۔۔
اس جگہ جہاں اس نے ہونا تھا اب کوئی اور تھا۔۔۔وہ شخص چاہت کے ماتھے کو چوم چوم کر اسے اٹھانے کی اسے جگانے کی کوشش کررہا تھا
“سلیمان وہ ہمیں چھوڑ کر چلی گئی ہے۔۔۔”
سلیمان سے وہ بچی لے کر لحد میں اتار چکے تھے۔۔۔ چاندنی نے اسکی گرفت سے چھوٹ کر آگے جانے کی کوشش کی پر سلیمان کی گرفت اور مضبوط ہوگئی تھی اسکے کندھوں پر۔۔۔
اور باِلآخر وہ سلیمان کے گلے لگ کر زارو قطار رونا شروع ہوگئی تھی۔۔۔
اسکے امی ابو کی قبر کے ساتھ وہ ننھی سی قبر بنی اور اس طرف ایک اور ننھی قبر تھی شایان کی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ایک مرد۔۔۔ ایک مرد چاہے تو ایک منٹ میں پورا خاندان برباد کردے۔۔۔
اور یہی کیا تم نے۔۔۔بہروز۔۔۔ اپنی اس قاتل بدکردار بیوی کو واپس اس حویلی میں لاکر تم نے اپنی اولاد بھی گنوا دی اور ہماری بھی۔۔۔
تمہیں شرم نہ آئی۔۔۔تمہیں خدا کا خوف نہ آیا۔۔۔”
دادی چلائے جارہی تھی اور بہروز سامنے سر جھکائے کھڑا تھا۔۔۔ابھی ابھی وہ لوگ واپس آئے تھے اور دادی سامنے موجود تھی۔۔
“بیگم۔۔۔”
معراج صاحب۔۔ یہ تو عمر میں چھوٹے تھے بچے تھے۔۔۔ آپ کو شرم نہ آئی جوان بچی کو حویلی سے نکالتے ہوئے آپ۔۔۔”
“بس کرجائیں دادی۔۔ آپ بھی شامل تھی۔۔۔ آپ سب لوگ شامل تھے۔۔ رابیعہ کے سامنے چاندنی کو انسلٹ کرنا ہر کام کروانا ان سب میں آپ سب لوگ شامل تھے۔۔۔
شایان کی موت کے ذمہ دار آپ سب ہیں۔۔ اور اب اس بچی کے بھی۔۔۔
مبارک ہو اس خاندان کے دونوں بچوں کو بڑی آسانی منوں مٹی پہنچا دیا۔۔۔”
“بس۔۔۔۔ بس کرجائیں۔۔۔ خدا کے لیے بس کرجائیں۔۔۔میں اتنا ٹوٹ گیا ہوں کہ ایک قدم دور ہوں اپنی زندگی ختم کرنے سے۔۔۔بس کرجائیں سانس آلینے دیں مجھے۔۔۔”
۔
بہروز اوپر روم میں جانے لگا تھا جب شاہنواز صاحب نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روک لیا تھا
“اپنے بیٹے شایان کو پکڑو اور اس حویلی سے چلے جاؤ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔۔۔ بہروز۔۔۔ ہم نے تم پر یقین کرکے تمہاری بیوی پر یقین کرکے اپنی بچی کے ساتھ بہت زیادتی کردی۔۔ اب جب جب تمہارا تمہارے بیٹے کا چہرہ دیکھوں گا مجھے میرے گناہ یاد آئیں گے۔۔۔
چلے جاؤ ہماری زندگیوں سے دور۔۔۔”
والد نے جیسے ہی ہاتھ جوڑے تھے بہروز نے ہاں میں سر ہلایا تھا۔۔۔
“ٹھیک ہے۔۔۔ میں چلا جاتا ہوں۔۔۔شایان۔۔۔شایان۔۔۔”
“جی بابا۔۔۔”
وہ جیسے ہی سامنے آیا تھا بہروز گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسے اپنے گلے سے لگا چکا تھا۔۔۔
کتنے منٹ کتنے گھنٹے اس پوری حویلی میں بہروز حاکم کے رونے کی آوازیں گونجی تھی۔۔۔
۔
“آپ سب نہیں جانتے۔۔۔ کتنی تکلیف میں ہوں میں۔۔۔ پچھلے چار سال بیٹے کے قاتل کو سینے سے لگائے رکھا میں نے اور اسے نفرت کرتا رہا جو میری اپنی تھی۔۔۔
بابا آپ نہیں جانتے۔۔۔ میں کتنی اذیت سے گزر رہا ہوں۔۔۔
میں نے اپنے ہاتھوں سے خود کو برباد کردیا اور پھر اسے بھی۔۔۔وہ بچی۔۔۔
میں اسے ڈس ایبلڈ کہتا رہا۔۔۔ اپنے خون کو کوستا رہا۔۔۔۔میں کتنا بڑ اپاگل تھا۔۔۔”
“بابا۔۔۔ بس چپ کرجائیں۔۔۔”
شایان بار بار اسکے آنسو صاف کررہا تھا بہروز حاکم کی آواز سسکیوں میں بدل گئی تھی۔۔۔
ایک غلط شخص کے انتخاب نے اس سے سب کچھ چھین لیا اسکا بیٹا بھی اسکی بیٹی بھی اور اسکی بیوی بھی۔۔۔
۔