Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32

“ڈاکٹر صاحب میرے بابا کیسے ہیں۔۔۔؟؟”
وہ جیسے ہی پرائیویٹ سیکشن میں داخل ہوئی تھی وہاں ہر بنچ پر کوئی نہ کوئی گھر والا بیٹھا ہوا تھا چاندنی نے نہ کوئی سلام دعا کی اور سیدھا روم سے آتے ڈاکٹر کو پوچھا۔۔۔
“مسٹر شاہ زیب اب خطرے سے باہر ہیں آپ۔۔۔”
وہ ڈاکٹر کی بات مکمل ہونے تک بھی نہیں رکی اور روم کا دروازہ کھول کراپنے بابا کو دیکھا تھا
“مسٹر بہروز کی حالت ابھی بھی نازک ہے اگر انہیں ہوش نہ آیا تو۔۔۔”
چاندنی اندر جا کر دروازہ بند کرچکی تھی
“بابا۔۔۔۔”
چہرے پر آکسیجن ماسک دیکھ کر اس نے اپنی آواز بند کرلی تھی۔۔۔
“بابا آپ آگئے ہیں۔۔۔ آپ سچ میں آگئے ہیں بابا۔۔ میں۔۔۔ میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہی آپ آگئے ہیں۔۔۔”
ہاتھ کو ماتھے سے لگائے وہ بیڈ پر سر رکھ چکی تھی۔۔۔وہ چیخ چیخ کر رونا چاہتی تھی اسکا بس نہیں چل رہا تھا اپنے بابا کو ابھی ہوش میں لا کر سب بتانا چاہتی تھی پر وہ انہیں اور پریشان بھی نہیں کرسکتی تھی اس حالت میں اس لیے وہ چپ ہوگئی تھی ایک دم سے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بابا آپ اٹھ گئے آپ ٹھیک ہیں۔۔۔۔”
۔
بہروز نے ٹیک لگانے کی کوشش کی تھی جب معراج صاحب اٹھ کر آگے آئے اور پیچھے کندھے پر سہارا دئیے بہروز کو بٹھایا تھا۔۔۔
“شاہ زیب چچا ٹھیک ہیں۔۔۔”
شایان کو اپنے ساتھ لٹانے کے بعد پوچھا تھا۔۔۔اپنے بیٹے کے ماتھے پر بوسہ دینے کے بعد اس نےایک ہی سوال پوچھا تھا اسکے سوال نے سب کو حیران کردیا تھا جس نے اسے گولیاں ماری وہ اسی کا پوچھ کر سب کو حیران کرچکا تھا
“وہ اب خطرے سے باہر ہیں۔۔۔ چاندنی ابھی کچھ دیر پہلے آئی۔۔۔”
“اسے میرا۔۔۔ میرا معلوم ہے میں یہاں ہوں۔۔؟؟”
بہروز کی آنکھوں میں ایک امید جاگی تھی پر تب تک جب تک مشعل چپ تھی
“اسے معلوم تھا مجال ہے جو اس نے ایک بار اس کمرے کی طرف دیکھا ہو دو گھنٹے سے وہ اندر باہر گھوم رہی اس شخص کے ساتھ ۔۔۔ بہروز وہ تمہیں ریپلیس۔۔۔”
“ول یو شٹ اپ پلیز۔۔۔ بکواس بند کرو اپنی۔۔۔ اتنا زہر اگل اگل کر آپ نے مجھے استعمال کرتو لیا آپ لوگوں نے۔۔۔وجدان چچا رحم کریں اپنی بیٹی اپنے بیٹے کو میری نظر سے دور رکھیں۔۔۔ہاتھ جوڑتا۔۔۔”
اس نے غصے میں بہت سے راز فاش کردئیے تھے معراج صاحب نے ایک نظر غصے سے اپنے بیٹے کو دیکھا تھا۔۔۔ اور بہروز کے جڑے ہاتھوں کو نیچے کردیا تھا۔۔۔
“شاہنواز جاؤ بھائی کو باہر تک چھوڑ کر آؤ۔۔۔”
“ابا جی۔۔”
بس وجدان۔۔۔ جاؤ یہاں سے۔۔۔”
معراج صاحب بیڈ کر پاس آکر بیٹھ گئے تھے۔۔۔
۔
اور دوسرے روم میں شمیم بیگم زینب اور فرحین کے ساتھ شاہ زیب کے روم میں داخل ہوئی تھی
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بس میری بچی بس۔۔۔ بابا آگئے ہیں۔۔۔”
“نائلہ خالہ آپ۔۔۔؟؟”
وہ اٹھی اور نائلہ کے گلے لگ گئی تھی۔۔۔
“میری بچی میں اب آگیا ہوں کسی کو معاف نہیں کروں گا سب کو سبق سیکھاؤں گا۔۔”
وہ پھر سے والد کے کندھے پر سر رکھے زارو قطار رونے لگی تھی۔۔۔
“بس چاندنی بس بابا کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے بچے۔۔۔ پلیز۔۔۔”
نائلہ نے کندھے پر ہاتھ ملتے ہوئے اسکے کانوں میں سرگوشی کی تھی جس پر چاندنی کے رونے کی آوازیں سسکیوں میں بدل گئی ۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“شاہ زیب بیٹا ایک بار مجھے تمہیں سینے سے لگانے دو بس ایک بار پھر چاہے ساری زندگی ناراض رہنا۔۔۔”
“میری بچی کو تو دھتکارتے رہے مجھ سے محبت کی امید رکھتے ہیں۔۔؟؟ نائلہ کہہ دو انہیں چلی جائیں۔۔”
“میرا خدا جانتا ہے میں نے ہر موقع پر چاندنی کا ساتھ دیا۔۔۔ میں اس لڑکی کو رنگے ہاتھ پکڑنا چاہتی تھی چاندنی بیٹا۔۔۔ جب ثبوت ہاتھ آئے تو اس نے مجھے ہی راستے سے ہٹانے کی کوشش کی۔۔۔”
“جائیں یہ کہانی۔۔۔”
“امی سچ کہہ رہی ہیں شاہ زیب بھائی۔۔۔ چاندنی۔۔۔ یہ تو خود کتنے سال کومہ میں رہی انہیں گرا دیا گیا تھا۔۔۔ “
“جائیں یہاں س سنائی نہیں دیتا۔۔۔ جسٹ لئیو۔۔۔۔”
شاہ زیب زرا سی اونچی آواز میں بولے تو سب ڈر گئے تھے مانیٹر کی آواز تیز ہوئی تو چاندنی انکے سامنے آکر کھڑی ہوئی تھی
“میری بیٹی کو تو چھین لیا۔۔۔ پر میرے بابا پر آپ کا سایہ بھی پڑنے نہیں دوں گی۔۔۔ اس لیے جائیے یہاں سے۔۔۔”
“چاندنی بیٹا۔۔۔میں نے ہر کوشش کی تھی ہر کوشش۔۔۔”
“اگر سچ میں کوشش کی ہوتی تو کسی اور کو مجھ پر برتری نہ دیتی آپ۔۔۔ روائتی ساس بن کر دیکھا چکی ہیں آپ۔۔۔ اب بخش دیں۔۔۔ “
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“وجدان کیا کہتا تھا تمہیں۔۔۔؟؟ اور بہروز ایک بھی بات چھپائی یا جھوٹ بولا تو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا۔۔۔”
۔
۔
بہروز نے بتانے سے پہلے شایان کو باہر بھجوا دیا تھا۔۔۔اور شایان نظریں چرا کر ساتھ والے روم میں چلا گیا تھا خاموشی سے۔۔۔
“مس چاندنی۔۔۔؟؟؟”
چاندنی کے تن بدن میں جیسے کرنٹ دوڑ گیا ہو۔۔سوکھی آنکھیں پھر سے گیلی ہوگئی تھی۔۔
“تم یہاں کیا کررہے ہو واپس جاؤ اپنے بابا کے پاس۔۔۔”
“آپ ایک منٹ چپ ہوجائیں۔۔ میں یہاں آپ کو معاف کرنے آیا ہوں میرے بابا کو زخم دئیے آپ نے۔۔۔”
و ہ کمر پر ہاتھ رکھے اندر آگیا تھا نائلہ نے شاہ زیب صاحب کو اشارے سے منع کیا تھا اس بچے کو ڈانٹنے سے اور شاہ زیب صاحب خاموش بھی ہوگئے تھے یہ اشاروں کی زبان دیکھ کر چاندنی اتنی حیران ہوئی تھی اپنے بابا کو اس نے اپنی اور والدہ کے بعد کسی نظروں سے سمجھا اور چپی اختیار کی۔۔۔ چاندنی کی آنکھوں میں ایک اداسی چھا گئی تھی۔۔۔
زندگی اور کتنے امتحان لے گی۔۔۔؟؟ وہ اپنی ہی خالہ کو کیسے اپنی ماں کی جگہ برداشت کر یگی اب۔۔۔؟؟
ابھی وہ اپنی سوچوں کی دنیا میں گم ہونے کو تھی جب اس بچے نے چاندنی کے دوپٹے کو کھینچ کر اپنی طرف متوجہ کیا تھا
“مس چاندنی۔۔۔یہ ریڈ فلاور میں آپ کے لیے لایا ہوں۔۔پلیز میرے بابا کو معاف کردیں۔۔۔”
“نائلہ خالہ اسے یہاں سے بھیج دیں۔۔”
وہ دور جانے کی کوشش کررہی تھی پر شایان اسکے کپڑے نہیں چھوڑ رہا تھا
اور جب چاندنی نے اسے جھٹکا تو وہ نیچے جاگرا تھا
“چاندنی بس بیٹا۔۔۔ میں بھیجتی ہوں۔۔ دیکھو بیٹا ابھی آپ کا یہاں آنا سہی نہیں ہے۔۔”
“کیوں سہی نہیں ہے۔۔؟؟ میں مس چاندنی سے بات کرنا چاہتا ہوں۔۔ میرے بابا سے پھر سے دوستی کرلیں۔۔۔ بابا انہیں بہت یاد کرتے ہیں۔۔۔ خواب میں بھی ان کا نام لیتے ہیں۔۔پلیز مس چاندی معاف کردیں انہیں۔۔۔”
وہ زمین پر گرے ہوئے بھی ایک ہی بات کہہ رہا تھا چاندنی نے بہت کوشش کی اسکی طرف دیکھنے کی اسے پکڑ کر اٹھانے کی اسکی بیٹی کا چہرہ اسکے سامنے آجاتا تھا
“ٹھیک ہے یہ نہیں جا رہا تو میں چلی جاتی ہوں۔۔۔”
“پلیز آپ اپنے بابا کے پاس رہیں۔۔۔ میں چلا جاتا ہوں۔۔۔ایم سوری۔۔۔”
وہ مرجھایا ہوا پھول اس نے چاندنی کے ہاتھ میں تھما دیا تھا پر جانے سے پہلے وہ واپس شاہ زیب صاحب کے بستر کے پاس آیا اور ان کا ہاتھ چومتے ہوئے کان میں ایک ہی سرگوشی کی
“آپ کی بیٹی بہت ایٹیٹیوڈ دیکھا رہی ہیں۔۔۔ ورنہ میرا دیا ہوا گلاب کوئی لڑکی نہیں ٹھکراتی۔۔۔”
اور پاؤں پٹک کر وہ وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
اسکی آواز ان تینوں کو ہی سنائی دی تھی عین اسکے جانے کے بعد چاندنی نے اپنے بابا اور خالہ کی طرف دیکھا جو اپنی اپنی ہنسی چھپانے کے در پہ تھی اور جب چاندنی ہنسی تو باقی دونوں بھی ہنس دئیے۔۔۔
“ہاہاہاہاہا توبہ آج کے بچے۔۔۔۔میری چاہت بھی ایسے پٹر پٹر بولتی تھی کہ۔۔۔”
وہ ہنستے ہنستے رونے لگی والد کے کندھے پر سر رکھے۔۔۔
۔
“باباآپ کی بیٹی نے آپ کے ماں کے جانے کے بعد دنیا دیکھ لی۔۔۔ بابا کیوں چلے گئے تھے مجھے چھوڑ کر۔۔۔ بابا۔۔۔ کاش آپ نہ جاتے تو سب ٹھیک ہوتا۔۔۔ بابا۔۔۔ میں بہت تھک چکی ہوں۔۔۔ دل کرتا ہے کچھ کھا کر مرجاؤں۔۔۔ اپنی بیٹی کے پاس چلی جاؤں ماں کے پاس چلی جاؤں۔۔۔”
۔
اس بار نائلہ نے منع نہیں کیا تھا اسے رونے سے اس بار ان دونوں ماں بیٹی کو اکیلا چھوڑ کر وہ باہر چلی گئی تھی باہر جاتے ہی اپنے آنسو صاف کئیے تھے انہوں نے وہ جو مضبوط بن رہی تھی اندر بیمار اس شخص کے لیے اپنی بہن کے لیے اپنی بھانجی کے لیے۔۔۔
۔