Dusri Aurat by Sidra Sheikh readelle50012 Episode 16
No Download Link
Rate this Novel
Episode 16
“ما۔۔۔ماں۔۔۔”
چاندنی چونک گئی تھی دروازہ کھلنے کی اسے آواز نہ آئی تھی اس نے آنکھیں صاف کرکے سائڈ لیمپ جلایا تو شایان سامنے کھڑا تھا ہاتھوں میں ایک کاغذ کا ٹکڑا تھا
“ایم سوری ماں۔۔۔۔شایان کو معاف کردیں۔۔ آپ کو بہت تنگ کیا۔۔”
“شایان بیٹا کیا ہوا ہے۔۔؟؟”
چاندنی ایک دم سے اٹھی اور شایان کے پاس آئی۔۔ وہ دو قدم کا فاصلہ کم نہ کر پائی تھی شایان کی باتوں نے اسے بہت تکلیف دی تھی وہ ایک بار پھر سے اس بچے کی نفرت سہہ نہیں سکتی تھی
“شایان۔۔۔ آپ یہاں کیا کررہے ہو۔۔۔؟ جاؤ واپس ماما کے پاس وہ پریشان ہوگی۔۔”
وہ منہ پھیر چکی تھی جب شایان اسکی کمر پر ہاتھ رکھے اسکی ٹانگوں کے ساتھ لگ کر رونا شروع ہوگیا تھا۔۔
“ایم سوری۔۔ میں بہت گندا ہوں۔۔ آپ کو بہت پریشان کیا۔۔ تنگ کیا بہت کچھ کہا۔۔”
“شایان بیٹا پلیز۔۔۔”
“نووو۔۔۔پلیز مجھے معاف کردیں۔۔ یہ دیکھیں میں نے کیا لکھوایا ہے۔۔۔”
وہ آنسو صاف کرتے ہوئے ٹوٹے ہوئے لفظوں میں بول رہا تھا
“شایان۔۔۔”
“پلیز ماں۔۔۔”
شایان نے چاندنی کے چہرے پر اپنے چھوٹے چھوٹے دونوں ہاتھ رکھ کر اسکے گال پر بوسہ دیا تھا اور پھر چاندنی کے سینے سے لگ گیا تھا۔۔۔
چاندنی شایان کا اتنا پیار دیکھ کر چونکی تھی شایان نے بہت محبت سے وہ کاغذ آگے کیا تھا۔۔۔
۔
وہ کاغذ جیسے ہی کھولنے لگا تھا پیچھے نے اسکے چھوٹے سے وجود کو اپنی طرف کھینچا تھا
“شایان۔۔ کیا کہا تھا میں نے ۔۔؟ دور رہو اس عورت سے۔۔۔”
رابیعہ اپنے بیٹے کو زبردستی وہاں سے لے گئی تھی واپس اپنے کمرے میں۔۔۔
“ماں۔۔۔”شایان کی ایک آواز پر چاندنی بھی ان دونوں کے روم میں بھاگی تھی
“رابیعہ ہاتھ چھوڑو اس کا۔۔۔”
مگر رابیعہ نے شایان کو بیڈ کی طرف پھینک دیا تھا
“بدتمیزی کررہی ہو۔۔؟ وہ بچہ ہے۔۔۔”
رابیعہ کو پیچھے کرکے چاندنی شایان کی طرف جھکی تھی۔۔ اور شایان روتے ہوئے اسکے گلے لگ گیا تھا
“کچھ نہیں ہوا بیٹا۔۔۔”
“ماں مجھے یہاں سے یہ جائیں مجھے آپ کے روم میں رہنا ہے۔۔”
“میں تمہارا منہ توڑ دوں گی واپس بیڈ پر چلو۔۔”
“آپ بہت بری ہیں بہت گندی ہیں آئی ہیٹ یو۔۔۔”
شایان اونچی آواز میں جیسے ہی چلایا تھا رابیعہ نے اسکے منہ پر تھپڑ مارا تھا جس کی وجہ سے وہ ٹیبل پر جا کر لگا تھا
دور کھڑی چاندنی اتنی زیادہ شاک ہوئی کہ اسے کچھ سمجھ نہ آئی رابیعہ نے ایک بار پھر شایان کو مارا جس پر چاندنی نے اسے کندھے سے پکڑ کر شایان سے دور کیا تھا اور رابیعہ کے منہ پر زور دار تھپڑ مارا تھا۔۔۔
“تمہیں شرم نہیں آتی۔۔؟ وہ بچہ ہے۔۔۔ اس قدر مار رہی ہو۔۔۔ ماں ہو یا جانور۔۔؟؟”
چاندنی نے شایان کو اپنے سینے سے لگا لیا تھا پر رابیعہ کے سر پر جنون سوار تھا اسے برداشت نہیں ہورہا تھا شایان کا چاندنی کی طرف پھر سے مائل ہونا۔۔۔
اس نے پھر شایان کو اپنی طرف کھینچا تھا۔۔۔
“وہ میرا بیٹا ہے اسے ماروں یا جان سے ماروں۔۔۔ وہ میرا بیٹا ہے۔۔”
“آپ میری ماما نہیں ہیں۔۔”
اس نے خود کو رابیعہ کی گرفت سے چھڑانے کی کوشش کی تھی
“شایان بیٹا۔۔۔پلیز چپ کرجاؤ۔۔میں بات کرتی ہوں۔۔”
رابیعہ کے چہرے پر شایان کے لیے غصہ دیکھ کر وہ خود بھی ڈر گئی تھی۔۔۔
وہ شایان کو ایک بار رابیعہ کی گرفت سے چھڑانا چاہتی تھی بس۔۔۔
“دیکھو رابیعہ وہ بچہ ہے۔۔۔”
“وہ میرا بچہ ہے۔۔۔ بولو مجھے ماما۔۔۔”
“نہیں بولوں گا۔۔۔ آپ نے چاندنی ماں سے دور کیا مجھے اب آپ کی کوئی بات نہیں مانوں گا۔۔۔”
اور ایک اور تھپڑ مارا تھا اتنی زور سے کہ وہ شیشے کے ٹیبل پر جاکر گرا تھا اور وہ شیشہ اس ننھے سے جسم میں چبھ گیا تھا۔۔۔
“پاگل عورت۔۔۔”
رابیعہ کو جیسے ہی دھکا دیا تھا دروازے پر جلدی سے آتے بہروز نے حیرانگی سے اندر کا منظر دیکھا تھا۔۔۔
چاندنی شایان کے زخمی وجود کو اپنے سینے سے لگائے بیٹھی تھی
“کچھ نہیں ہوگا بچے۔۔”
“ماں آئی لوو یو۔۔۔”
شایان نے چاندنی کے گال پر جیسے ہی بوسہ دیا تھا اسکا ہاتھ پیچھے گر گیا تھا
اسکا وجود ساکت ہوکر رہ گیا تھا۔۔
“شایان۔۔نووو پلیز نہیں۔۔۔”
“رابیعہ یہ سب۔۔شایان۔۔۔”
سب گھر والوں کو دیکھ کر رابیعہ کی جان نکل گئی ہو جیسے۔۔۔
“اور اس نے اونچی اونچی روتے ہوئے چاندنی کی طرف اشارہ کیا۔۔
“بہروز۔۔۔دیکھو۔۔۔ اس نے ہمارے بیٹے کے ساتھ کیا کیا۔۔۔ اسے زبردستی اپنے ساتھ لیکر جانے کی کوشش کررہی تھی اور اور جب شایان نے جانے سے انکار کیا۔۔۔
اس نے شایان پر ہاتھ اٹھایا اور مجھ پر بھی یہ دیکھو۔۔۔”
رابیعہ کی باتیں سب کو سنائی دی تھی پر چاندنی وہ تو ایک الگ دنیا میں گم ہوگئی تھی شایان کے بےجان جسم کو آغوش میں لئیے۔۔۔
“چاندنی۔۔۔؟؟”
بہروز نے جلدی سے شایان کو کھینچ لیا تھا
“بہروز جلدی سے ہسپتال لیکر چلو۔۔۔”
معراج حاکم اونچی آواز میں بولے تھے۔۔
“اس نے میرے بیٹے کو یہ سزا دی بابا سائیں۔۔۔”
معراج حاکم کے کو اپنا زخمی منہ دیکھاتے ہوئے انہوں نے ایک نظر چاندنی کو دیکھا تھا جس نے شایان کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی جب بہروز نے ایک غصے کی نظر اس پر ڈالی تھی اور سب وہی نظر اس پر ڈالتے ہوئے باہر جانا شروع ہوگئے تھے
اسے معلوم ہی نہ ہوا رابیعہ کے ایک جھوٹ نے اسے سب سے بیگانہ کردیا تھا اس ایک لمحے۔۔۔
مگر وہ بے سُد سب کے پیچھے پیچھے گھر سے نکلی جنید کی گاڑی میں صائمہ کے ساتھ بیٹھی وہ بھی ہسپتال چلی گئی تھی۔۔۔
اس گھر سےنکل تو گئی تھی پر واپس نہ آنے کے لیے۔۔۔۔
آہ۔۔۔۔زندگی۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“میں نے کہا مجھے شایان سے ملنے دیں بہروز پلیز۔۔۔”
بہروز کے چہرے کو ہاتھوں میں لئیے اس نے التجا کی تھی وہ ہر گھر کے فرد کو اپنی آنکھوں سے التجا کررہی تھی پر کوئی آج اس پر ترس کھانا نہیں چاہتا تھا پچھلے تین ماہ سے وہ اسکے اپنے اسکے اپنے نہیں رہے تھے۔۔۔
“ملنے دوں۔۔؟؟ تم نے کچھ چھوڑا بھی ہے چاندنی۔۔؟؟”
بہروز نے اسے پیچھے جھٹک دیا تھا اگر دادی جان اٹھ کر اسے سہارا نہ دیتی تو شاید وہ زمین پر گر جاتی۔۔۔
۔
“تم ماں نہیں بن سکتی میں نے پھر بھی تمہیں میری بیوی بننے کا درجہ دیا
تم بانجھ تھی میں پھر بھی لوگوں کو رشتے داروں کو نہیں بتاتا تھا
میں نے اپنی پہلی بیوی کے دھوکے کے بعد تمہیں جگہ دی تھی دل میں چاندنی اور تم نے کیا کیا۔۔؟؟”
وہ جب چلایا تو ہسپتال کے ہر اس شخص نے سنا جہاں جہاں بہروز حاکم کی آواز گونجی
“بہروز۔۔۔” ہاتھوں میں چھپائے ہوئے سر کو اس نے جب اٹھایا تو چہرہ آنسوؤں سے تر تھا
اور اور آنکھوں میں بےیقینی انتہا کی تھی اپنے شوہر کے منہ سے اپنی زندگی کے بھیانک سچ سن کر وہ تو پتھر بن گئی تھی اور زبان سے ایک ہی نام نکلا تھا ‘بہروز’
“تم بانجھ تھی پھر بھی میں نے اپنا بیٹا تمہاری خالی گود میں ڈالا۔۔۔ اور تم نے کیا کردیا۔۔؟
اسکی جان لے لی۔۔؟؟ میرے شایان کو مار دیا۔۔؟؟”
“بہروز میرا یقین کیجئے۔۔میں ۔۔شایان کو۔۔”
“خبر دار ایک اور لفظ نہیں۔۔”
چہرے کو چھوتے ہوئے ہاتھوں کو جھٹک دیا تھا اور چاندنی کے منہ پر پڑنے والے تھپڑ نے ان کے جسموں کے درمیان ہی نہیں انکی روحوں کے درمیان بھی وہ فاصلہ بڑھا دیا تھا جو آنے والے چند سالوں تک وہیں رہنا تھا۔۔۔ نہ ختم ہونی والی جدائی کی طرح
“اب سمجھ آیا۔۔۔ کیوں اللہ نے تمہیں اولاد جیسی نعمت سے نہیں نوازا۔۔۔ چاندنی تم ماں بننے کے لائق ہی نہیں ہو۔۔۔ سہی کہتے ہیں سب منحوس ہو تم۔۔ اپنے ماں باپ کو کھا گئی تو میرا بیٹا کیسے محفوظ رہتا۔۔؟؟
غلطی۔۔۔ گناہ ہوگیا مجھ سے۔۔ تم سے شادی کی اپنے بیٹے کی خوشیوں کے لیے تم سے شادی کی تھی ارے تم تو اسکی موت بن گئی ۔۔۔”
وہ نیچے گری ڈری ہوئی اپنی بیوی پر ایسے چلا رہا تھا کہ وہاں کھڑے ہر اپنے اور پرائے کو چاندنی پر ترس آرہا تھا مگر بہروز حاکم۔۔۔ وہ پیچھے منہ پھیر چکا تھا
“بہروز۔۔۔ میرا یقین کیجئے شایان میری جان۔۔”
“اس لیے جان لے لی۔۔؟ دفعہ ہوجاؤ۔۔۔ نکل جاؤ میری زندگی سے شکل بھی مت دیکھانا۔۔۔ میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا۔۔”
وہ چاندنی کی طرف جیسے ہی بڑھا تھا چاندنی ایک دم سے پیچھے ہوگئی تھی اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھے جیسے وہ بچا رہی تھی اس جان کو جس کا ابھی کسی کو بھی معلوم نہیں تھا۔۔۔
“ڈاکٹر آگئے ہیں۔۔”
سب کی نظر آئی سی یو کی طرف واپس چلی گئی تھی
“ایم سوری۔۔۔ ہم آپ کے بیٹے کو نہیں بچا پائے۔۔۔آپ۔۔۔”
“چاندنی۔۔۔”
چاندنی جاتے جاتے رکی تھی مگر پیچھے نہی رکی تھی
“بہروز نہیں۔۔۔۔نہیں۔۔”
“بہروز۔۔”
دس لوگوں نے اسکے ہاتھوں کو روک لیا تھا اس کی گن جو چاندنی پر چلنے والی تھی وہ گن کا رخ اوپر کی جانب کردیا تھا سب نے اور کتنی گولیاں ہوا میں چلنے کی آواز آئی تھی۔۔۔
“بابا غصے میں ہیں بچہ۔۔۔ “
وہ اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھے آہستہ قدموں سے وہاں سے باہر جانا شروع ہوگئی تھی۔۔۔
“شایان۔۔۔۔”
بہروز حآکم چلاتے ہوئے گھٹنوں کے بل بیٹھا گیا تھا۔۔۔ چہرے کو ہاتھوں میں چھپائے اس کے رونے کی آوازیں وہاں گونجی تھی
“بہروز۔۔۔ شایان میرا بھی بیٹا تھا چاہے میں نے اسے جنم نہ دیا ہو۔۔۔ وہ میری اولاد تھا۔۔
آپ نے اپنے بیٹے کو کھو دیا۔۔۔ میں نے اپنے بیٹے اور شوہر کو کھو دیا۔۔۔”
اور وہ اس رات وہ اس ہسپتال سے ہی نہیں بہروز حاکم کی زندگی سے بھی دور چلی گئی تھی۔۔۔
۔
کچھ دور چلنے کے بعد اس نے راہ چلتی ایک خاتون سے درخواست کرکے موبائل مانگا تھا
اور ایک نمبر ملایا تھا
“مہرما۔۔۔”
۔
“میں۔۔۔چاندنی۔۔۔ پاکستان میں ہو۔۔؟”
“میں آرہی ہوں۔۔”
موبائل واپس کئیے وہ پیدل چل دی تھی ہر پانچ سیکنڈ بعد وہ پیچھے مڑ کردیکھ رہی تھی پر کوئی نہیں تھا اسے پیچھے سے آواز دینے والا۔۔۔
۔
اور جب تھک ہار کر وہ ایک جگہ بیٹھ کر نڈھال ہوئی تو اسے ایک ہی آواز سنائی دی جس نے اسکے جسم کو اور بےجان کردیا تھا۔۔۔
۔
“ماں۔۔۔ گھر چلیں۔۔۔”
“شایان۔۔۔”
اندھیری رات میں سنسان سڑک میں وہ اس آواز کے پیچھے پیچھے جارہی تھی جب پیچھے سے آتی اسکی دوست کی آواز نے اسے روک دیا تھا
“چاندنی۔۔۔؟؟”
اور ایک گاڑی کی ٹکر سے چاندنی دوسری طرف گر گئی تھی۔۔۔
“مہرما جو گاڑی کے پاس کھڑی تھی وہ تیزی سے چاندنی کی طرف بھاگی۔۔۔
اور چاندنی کا خون سے بھرا منہ اپنی گود میں رکھے ایمرجنسی کال ملائی۔۔۔
“شایان۔۔”
“چاندنی۔۔۔ چاندنی۔۔۔ آنکھیں کھولو۔۔۔”
کچھ دیر میں چاندنی زخمی حالت میں واپس اسے ہسپتال لے جائے گئی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آپ لوگ ڈیڈ باڈی کب تک لے جائیں گے۔۔؟ ہم روم میں شفٹ نہیں کرسکتے مارگ۔۔”
وارڈ بوائے کے منہ پر ایک ہی مکا مارا تھا بہروز نے جو نیچے گرگیا تھا
“وہ ڈیڈ باڈی نہیں ہے بیٹا ہے میرا۔۔”
بہروز کا ہاتھ اٹھتا چلا گیا تھا گھر کے سب لوگ آچکے تھے وہاں سب لوگ۔۔ اور ان سب میں چیختی چلاتی ایک اواز جس نے بہروز حاکم کو سر جھکانے پر مجبور کردیا تھا
“دیکھ لیا کیا کردیا تمہاری بیوی نے بہروز۔۔؟ مار دیا ہمارے بیٹے کو۔۔ سانسیں چھین لی اس کی۔۔کیا قصور تھا میرے بچے کا بہروز۔۔؟؟ “
رابیعہ کی آواز پر سب لوگ ہی شرمندہ ہوئے تھے
اور وہ کامیاب ہوگئی تھی۔۔۔وہ اپنے بیٹے کے جانے پر جتنی رنجیدہ تھی اتنی ہی خوفزدہ وہ سچ سامنے آجانے پر بھی تھی۔۔۔مگر چاندنی کی چپ نے اسکی خاموشی نے رابیعہ کو بڑھاوا دہ دیا تھا جھوٹ کو سچ میں بدل دینے کا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“اوکے اوکے۔۔۔ ریلیکس۔۔۔ سر پر چوٹ لگی تھی چاندنی۔۔ ابھی گھر چلتے ہیں ہم پھر تمہیں۔۔”
“ان لوگوں نے میرے شایان کو دفنا دیا ہوگا۔۔ پلیز ایک بار ایک آخری بار مجھے جانے دو۔۔۔ ایک بار۔۔”
“دیکھو چاندنی۔۔۔”
“میں لے چلتا ہوں۔۔ مگر آپ کو وعدہ کرنا ہوگا آپ اپنی موجودگی کسی پر ظاہر نہیں کریں گی۔۔۔”
“میں ایک بار اپنی فیملی سے بات کرنا چاہتی ہوں دادا دادی تایا ابو۔۔۔بہروز۔۔۔”
“نہیں۔۔ اب بہت دیر ہوگئی ہے۔۔ وہ آپ سے آپ کا آنے والا بچہ بھی چھین لیں گے۔۔
آپ بھی جانتی ہیں ان سب کی نظروں میں آپ مجرم ہیں آپ نے۔۔۔”
“میں نے کچھ نہیں کیا کچھ بھی نہیں کیا۔۔۔ میں۔۔ وعدہ کرتی ہوں کسی پر ظاہر نہیں کروں گی۔۔ اور چھپ کے سے واپس آجاؤں گی چوروں کی طرح۔۔۔”
سر پر ہاتھ رکھے وہ بیڈ پر بیٹھ گئی تھی
اور ساتھ ہی مہرما نے اپنے بھائی سلیمان کو روم سے باہر آنے کا اشارہ کیا تھا۔۔۔
“سب ٹھیک ہوجائے گا مس چاندنی۔۔۔”
وہ چاندنی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دینا چاہتا تھا مگر نہ دے پایا۔۔ اور ہاتھ کو مٹھی کی صورت بند کرکے وہ باہر چلا گیا تھا اپنی باجی کی بات سننے۔۔۔
۔
“سلیمان تم نے حامی کیوں بھر لی۔۔؟؟ میں نے اپنی دوست کو تعزیت کے لیے بھیجا تھا وہاں صبح۔۔ وہ لوگ ۔۔۔ جان کے در پہ ہیں چاندنی کے۔۔۔۔”
“جانتا ہوں باجی۔۔۔ بہروز حاکم کے لوگ ڈھونڈ رہے ہیں ۔۔۔وہ۔۔۔باجی میں انہیں لے جاؤں گا اور واپس بھی لے آؤں گا۔۔۔اب آگے کیا کرنا ہے۔۔؟؟”
وہ دونوں بہن بھائی بات کرتے کرتے ہال میں آگئے تھے۔۔
“میں نے کسی طرح گھر کی ملازمہ سے رابطہ کیا ہے رامین کو کہہ کر چاندنی کے ڈاکومنٹس اور پاسپورٹ ہمیں لا دے گی وہ رات تک بس پھر۔۔۔”
“کیا وہ پاکستان سے باہر جانے کو تیار ہوں گی۔۔؟؟”
“اپنے بچے کے لیے اسے یہ قدم اٹھانا ہوگا سلیمان۔۔۔ ہممم۔۔۔ میں نے اپنی فلائٹ لیٹ کردی ہے۔۔ بس تم اسے باحفاظت واپس لے آؤ گے نہ۔۔؟؟”
“بےفکر رہیں۔۔ باجی۔۔ میں سب مینیج کرلوں گا۔۔۔”
بہن کے ہاتھ پر ہاتھ رکھے سلیمان نے تسلی دی تھی۔۔۔
اور کچھ دیر میں جب وہ واپس چاندنی کے روم میں گیا تو وہ ایک دم حیران رہ گیا تھا چاندنی کو پرسکون سوتے ہوئے دیکھ وہ نیند میں بھی اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھے ہوئے سو رہی تھی بند آنکھوں میں بھی جیسے حفاظت کررہی ہوں اپنی اولاد کی۔۔۔
سلیمان نے لائٹس آف کردی تھی اور دروازہ آہستہ سے کھول دیا تھا پر وہ باہر جانے کے بجائے اندر روم میں ایک کارنر پر پڑے کاؤچ پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔
“چاندنی۔۔۔”
اس نے سرگوشی کی تھی۔۔۔
یہ نام وہ اکثر اپنی بہن کے منہ سے سنتا آیا تھا۔۔ پر اب وہ دیکھ رہا تھا اس جیتی جاگتی چاندنی کو۔۔۔
جس کے قصے بھی بہت جاندار تھے پر حقیقت میں اس چاندنی کو اتنا مرجھایا دیکھ کر وہ حیران ہوا تھا۔۔۔
۔
کل تک اسے لڑکی کو جانتا تک نہ تھا آج اسے ہمدردی ہونے لگی تھی اسکے ساتھ
اور ہمدردی بھی ایسی ویسی۔۔؟؟ وہ اپنے ہی خیالات سے ڈر گیا تھا
۔
