Dusri Aurat by Sidra Sheikh readelle50012 Episode 24
No Download Link
Rate this Novel
Episode 24
“ماما آپ نے کہا تھا میں سپیشل ہوں۔۔ میں اینجل ہوں پھر وہ انکل نے مجھے اپنے گھر سے کیوں نکال دیا۔۔؟ وہ انکل بہت برے ہیں ماما۔۔۔”
چاندنی کے چلتے ہوئے قدم رکے تھے اپنی بیٹی کی باتوں پر مسکراتے ہوئے وہ ہونٹ سخت پڑ گئے تھے اسکی بات سن کر اس نے آہستہ سے اپنے بیٹی کو گود سے نیچے اتارا اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسے اپنے گلے سے لگا کر آہستہ سے پوچھا تھا
“آپ تو اپنے فرینڈز سے ملنے گئی تھی بچہ۔۔ پھر کس انکل نے کہا۔۔؟ کیا آپ مجھے بتا سکتی ہیں۔۔؟”
اور جب اس معصوم بچی نے کچھ دیر ہونے والی باتوں کو بتایا تو چاندنی واپس اس کا ہاتھ پکڑے اسی گھر میں واپس لے گئی تھی جہاں سے ابھی ابھی وہ اپنی بچی کو واپس گھر لے جانے کے لیے آئی تھی۔۔۔
“میرا بیٹا کسی ڈیفیکٹڈ بچے کے ساتھ نہیں کھیلے گا۔۔ وہ لڑکی مجھے اس گھر میں دوبارہ نظر نہ آئے۔۔ آپ لوگوں کو پورے شہر میں وہ غریب لوگ ہی ملے تھے دوستانہ بنانے کے لیے۔۔؟
اور تم شایان آئندہ کے بعد میں تمہیں کھیلتے ہوئے نہ دیکھوں۔۔ پتہ نہیں کیسے ماں باپ ہیں بیمار بچے کو بھیج دیتے ہیں تاکہ دوسرے کے بچے بھی بیمار ہوجائیں۔۔”
بہروز حاکم چلاتے ہوئے واپس سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اپنے بیڈروم کی طرف جارہے تھے جب دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا تھا
“ہاؤ ڈیرھ یو۔۔؟ آپ کی ہمت کیسے ہوئی میری بیٹی کو بیمار کہنے کی۔۔؟
ہو دا ہیل آر یو۔۔؟ پیسے کا غرور اتنا بھی نہیں ہونا چاہیے کہ آپ انسانیت بھول جائیں۔۔”
وہ آواز اس ہال میں جیسے ہی گونجی تھی وہاں بیٹھے ہوئے سب لوگ کھڑے ہوگئے تھے اور
بہروز حاکم جس کے قدم لڑکھڑا گئے تھے اسکے ہاتھ نے رئیلنگ کو مظبوطی سے پکڑ کر پیچھے دیکھا تھا۔۔۔
“چاند۔۔”
اور بہروز کی نظر ساتھ کھڑی اس بچی پر پڑی تھی۔۔۔
۔
“چاندنی۔۔۔بیٹا۔۔۔؟”
معراج حاکم نے جیسے ہی کہا چاندنی نے انکی طرف دیکھا اور پھر ایک ایک کرکے سب کو دیکھا۔۔۔
وہ اپنے جنہوں نے پچھلے چار سالوں میں ایک بار۔۔۔ایک بار اسے مڑ کرنہیں دیکھا۔۔۔
“ماما۔۔۔”
“ایک منٹ بچے۔۔۔”
اور چاندنی چاہت کا ہاتھ پکڑے کچھ اور قدم آگے بڑھی اور سینٹر میں کھڑی ہوگئی تھی
“یو مسٹر۔۔۔ میری بچی ڈیفیکٹڈ نہیں ہے آپ کا دماغ خراب ہے جو اپنی سوچ کے مطابق معصوم بچوں میں بھی نقص تلاش کرتے ہیں۔۔؟؟ پڑھے لکھے جاہل۔۔۔
آئندہ میری بچی کو بیمار کہا تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔
وہ انگلی کا اشارہ کئیے کہتے ہوئے چاہت کو گود میں اٹھا چکی تھی اور جاتے جاتے اسکا ہاتھ ایک چھوٹے بچے نے پکڑ لیا تھا
“پلیز ڈیڈ کی طرف سے میں معافی مانگتا ہوں۔۔ چاہت میری دوست ہے آپ۔۔۔”
اس بچے کا چہرہ دیکھ کر چاندنی شاک ہوئی تھی اور بےساختہ بہروز کی آنکھوں میں دیکھا تھا جس کے ساتھ اب وہ عورت کھڑی تھی جو وجہ تھی چاندنی کی بربادیوں کی۔۔۔
“شایان۔۔۔ بس واپس آجاؤ۔۔۔ آج کے بعد میں تمہیں ان لوگوں کے ساتھ نہ دیکھوں۔۔۔
کیا پتہ تمہیں بھی مار نہ دیں۔۔”
بہروز یہ کہتے ہوئے پاس آیا تھا اور شایان کو کھینچتے ہوئے پیچھے لے گیا تھا۔۔۔
چاندنی سب دیکھ کر سن کر حیران ہوئی تھی اسے لگا تھا جس دن وہ شخص اپنی بیٹی کو دیکھے گا وہ ضرور اسے اپنائے گا اپنے خون کو دیکھ کر خوش ہوگا مگر بہروز کی آنکھوں میں اپنے لیے بےپناہ نفرت دیکھ کر اسکے پاؤں ڈگمگا گئے تھے۔۔۔
“ارے چاندنی باجی۔۔۔ موسٹ ویلکم۔۔۔ آپ۔۔”
حسیب کو اگنور کئیے وہ اپنی بچی کو اٹھائے تیز قدموں سے گھر سے لے گئی تھی۔۔۔
“ارے کیا ہوا چاندنی باجی اور چاہت اتنی جلدی میں۔۔”
حسیب۔۔۔ آپ انہیں جانتے ہیں۔۔؟؟”
صائمہ نے جیسے ہی سوال کیا بہروز واپس سیڑھیوں پر چلنا شروع ہوگیا تھا
“ہاں۔۔۔ میں نے بتایا تھا نہ سلیمان بھائی کا۔۔؟؟ چاندنی باجی سے ہی شادی ہونی اور یہی تو وہ ہیں جن کی بات میں کرتا تھا دبئی میں”
حسیب کی بات کو گہری دلچسپی سے سننے لگے تھے سب۔۔۔اور آخر کو معراج صاحب نے وہ بات کہہ ہی دی تھی
“اسکا مطلب چاندنی کی دیتھ کی خبر جھوٹی تھی۔۔وہ زندہ تھی۔۔۔اور۔۔۔ چاہت۔۔
ہمارا خون ہے۔۔”
“ایسا نہیں ہوسکتا۔۔۔”
زینب بیگم اٹھ گئی تھی۔۔انکی طر سب پریشانی سے دیکھ رہے تھے۔۔
“ہمارا پوتا بس شایان ہے۔۔ معراج نہ میں اس عورت کو جانتی ہوں نہ اسکی بچی کو آپ لوگوں نے سن لیا۔۔۔”
“ہوا کیا ہے۔۔؟ آپ سب کیوں انہیں ایسے بلا رہے ہیں۔۔؟؟ میں انکی بہت عزت کرتا ہوں۔۔ پلیز آپ سب بھی۔۔”
حسیب۔۔اننف۔۔۔ چاندنی ہی وہ ہیں جو بہروز بھائی کی دوسری بیوی ہیں اور جنہوں نے اس معصوم بچے کا قتل کردیا تھا۔۔۔ اسکے باوجود آپ اسے عزت دینے کا کہہ رہے ہیں۔۔؟؟”
صائمہ اونچی آواز میں بولی تو حسیب بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کچھ فاصلے پر چلا گیا تھا
“محض بہروز بھائی کی بیوی تھی۔۔؟؟ تمہارا خون نہیں تھی۔۔؟؟ تمہارے چچا کی اولاد ہے وہ۔۔۔اگر تب بھی عزت نہیں کرنی تو میری بہن سمجھ کر عزت دو انہیں۔۔ کیونکہ تم میرے گھر میں ہو۔۔۔اپنی حویلی میں نہیں۔۔۔”
“حسیب۔۔۔”
“بس صائمہ۔۔۔ میں چاندنی باجی کے گھر ان سے معافی مانگنے جارہا ہوں۔۔۔”
حسیب صاھب تو گھر سے نکل گئے تھے اور گھر والے اپنی سوچوں میں رابیعہ کو دیکھنا ہی بھول گئے تھے جو غصے سے لال پیلی ہورہی تھی۔۔۔
“وہ پھر سے آگئی۔۔۔ اگر اب کچھ نہ کیا تو سب سامنے آجائے گا۔۔۔ سب کچھ۔۔
مجھے بہروز کو یہاں سے لے جانا ہوگا۔۔۔ اور طیش دلانی ہوگی تاکہ چاندنی کو سزا دلا کر یہ سارا قصہ ختم ہو۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بہروز کا بس نہیں چل رہا تھا وہ ابھی چاندنی کو اپنے سامنے کھڑا کرتا اور اس سے وجہ پوچھتا۔۔۔ اپنے ہر سوال کا جواب مانگتا۔۔۔اور پھر اسے ذلیل کرتا جیسے وہ سب رشتے داروں کے سامنے کرتا آیا پچھلے چار سال سے۔۔۔
وہ چاندنی کو سزا دینا چاہتا تھا۔۔۔ کیا کچھ نہیں کیا اس نے چاندنی کو ڈھونڈنے کے لیے۔۔
اور جب اب وہ سامنے ائی تو اکیلی نہیں آئی۔۔۔
وہ جو ساتھ بچی تھی۔۔۔۔
“چاہت۔۔۔”
بہروز نے سرگوشی کی چھت کا دروازہ بند کئیے وہ جیسے ہی رئیلنگ پر ہاتھ رکھ کر کھڑا ہوا۔۔ اسکی نظر اس گھر پر پڑی جہاں سے چاندنی اپنی بیٹی کو گود میں اٹھائے باہر آئی تھی اور ایک آدمی جس نے بہت پیار سے اس بچی کو اٹھا کر گاڑی میں بٹھایا اور چاندنی کے لیے دروازہ کھولا۔۔۔ وہ دونوں اس آدمی کی گاڑی میں بیٹھے چلی گئی تھی۔۔۔
اور بہروز ان کو جاتے دیکھ رہا تھا۔۔۔
“سلیمان۔۔۔یہی ہوگا۔۔۔ وہ جو شادی کرنا چاہتا ہوگا۔۔۔ میری زندگی عذاب بنا کر۔۔ میرے بچے کو موت کے گھاٹ اتار کر مس چاندنی تو اپنی پرفیکٹ زندگی کیسے گزار سکتی ہو۔۔؟؟
اب تم دیکھو میں کیا کرتا ہوں تمہارے ساتھ۔۔۔ دیکھتی جاؤ۔۔۔ میں تمہیں پچھتانے پر اتنا مجبور کردوں گا کہ تم اپنی موت کی بھیک مانگو گی مجھ سے۔۔۔
چار سالوں میں ہر روز ایک نئی موت مرتا رہا یہ سوچ کرکہ نہ ایک اچھا باپ ثابت ہوسکا شایان کے لیے اور نہ ایک اچھا شوہر بن سکا تمہارے لیے۔۔۔
مگر۔۔۔ چاندنی میں غلط تھا۔۔۔ تمہیں تو کوئی فرق نہیں پڑا۔۔۔
تم یہاں غیر مرد کے ساتھ خوش تھی۔۔اور میں۔۔۔”
۔
بہروز سو بہانے دے کر اپنے دل کو پتھر بنا رہا تھا۔۔اور وہ کامیاب بھی ہوگیا تھا۔۔۔ رہی سہی کسر اسکی بیوی رابیعہ نے پوری کردی۔۔۔
جس نے شایان کی موت کا جتا جتا کر بہروزکو بڑے قدم اٹھانے پر قائل کردیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
چاندنی۔۔۔ سانس لو پلیز ٹیک ڈیپ بریتھ۔۔۔ اب مجھے بتاؤ کیا ہوا۔۔۔”
چاہت کی نینی اسے گیسٹ روم میں لے گئی تھی
“چاندنی کیا بتا ہے۔۔؟؟ اچانک فون کرکے آپ نے یہاں آنے کا کہا۔۔سب ٹھیک ہے۔۔؟؟”
“کچھ ٹھیک نہیں ہے سلیمان۔۔۔ مہرما۔۔۔ وہ واپس آگیا ہے۔۔ حسیب۔۔حسیب کے سسرال والے ہی بہروز حاکم کی فیملی ہے۔۔۔”
“شٹ۔۔۔”سلیمان نے غصے سے کہا تھا اور چاندنی مہرما کے گلے لگ کر بےتحاشہ روئی تھی
“مہرما اسکی آنکھوں میں میں نے ایک جنون دیکھا۔۔ ایک نفرت دیکھی۔۔۔ وہ بہروز۔۔۔ میرا بہروز نہیں تھا۔۔۔ اور چاہت۔۔۔ چاہت کو اس نے ڈیفکٹڈ کہا۔۔۔ ابنارمل۔۔۔ بیمار بچہ۔۔وہ۔۔۔”
وہ ہچکیاں لیتے ہوے بچوں کی طرح رو رہی تھی آج چار سال بعد اسکی پھر سے وہی حالت تھی۔۔۔
“اسکی اتنی جرآت۔۔۔میں اسے چھوڑوں گا نہیں۔۔۔”
“سلیمان۔۔۔سلیمان۔۔۔”
پر سلیمان گاڑی کی چابی اٹھائے الٹے پاؤں واپس چلا گیا تھا وہاں۔۔
“پلیز مہرما روکو اسے۔۔۔”
“وہ بچہ نہیں ہے۔۔۔ مگر وہ بچی جسے میرا بھائی اپنے بچوں کی طرح پیار کرتا اگر اسے کوئی ایسے بولے گا تو کون باپ برداشت کرے گا۔۔۔؟؟”
“مہرما تم نہیں سمجھ رہی۔۔۔ وہ لوگ بہت طاقتور ہیں۔۔ وہ چاہت کو چھین لیں گے۔۔”
“ابھی تم نے کہا کہ ان لوگوں نے کیا کہا چاہت کو۔۔ وہ اسے اپنا ہی نہیں رہے تو چھینیں گے کیسے۔۔؟”
مہرما نے اس بلکتی ہوئی بےچین ماں کو ہزار تسلیاں اور دلاسے دئیے تھے۔۔۔
اسے کسی بچے کی طرح چپ کروا کر لٹا دیا تھا چاہت کے ساتھ۔۔۔
ایک پرسکون نیند۔۔۔کیا پتہ تھا آنے والے دنوں میں نیند آنکھوں میں نہیں آئے گی۔۔۔
۔
