Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

“یہ رہے باجی چاندنی کے کاغذات۔۔۔ یہ سب ہی ملا۔۔۔ اور۔۔ کیا میں انہیں دیکھ سکتی ہوں۔۔؟؟”
اس ملازمہ نے اپنا منہ پوری طرح چھپایا ہوا تھا
“چاندنی یہاں نہیں ہے۔۔ تم یہ سب دہ دو۔۔۔ اور یہ پیسے۔۔”
“باجی پیسے نہیں چاہیے۔۔بس آپ لوگ باجی چاندنی کو حویلی واپس مت آنے دینا۔۔”
وہ جانے کو تھی جب مہرما نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا تھا
“کیوں چاندنی واپس نہیں جا سکتی۔۔؟؟”
“کیونکہ بہروز حاکم نے انکی خالہ انکے مامو اور نانی کو بہت ذلیل کرکے گھر سے نکال دیا۔۔ وہ باجی چاندنی کو ڈھونڈ کر جیل ڈلوا دیں گے نہیں تو خود مار دیں گے انہوں نے سارے خاندان کے سامنے کہا۔۔۔ وہ مار دیں گے۔۔۔”
“ڈیٹس اٹ۔۔”
لکڑی کی میز پر ہاتھ مارتے ہوئے سلیمان اٹھ کھڑا ہوا تھا
“سلیمان۔۔۔”
“نہیں باجی مجھے دیکھنے دیں کیسا مرد ہے وہ چاندنی کو نقصان پہنچائے گا۔۔؟ اپنی بیوی کو مارے گا،، مجھ سے مقابلہ کرے میں بھی تو دیکھوں کتنی مردانگی ہے۔۔”
“بس۔۔ آپ جائیں۔۔۔”
ملازمہ کو جلدی سے بھیج کر مہرما نے دروازہ لاک کردیا تھا۔۔
“باجی پیچےہٹ جائیں۔۔۔”
“نہیں سلیمان نہیں۔۔۔ چاندنی پریگننٹ ہے۔۔ اسکے خلاف ہیں سب۔۔ بہروز اس وقت غصے میں ہے میں جانتی ہو جب غصہ ٹھنڈا ہوگا وہ چاندنی کے نقصان پہنچانے کا سوچے گا بھی نہیں وہ بہت پیار کرتا ہے چاندنی سے میں جانتی ہوں۔۔”
مہرما کی بات پر سلیمان کو ایک انجانی تکلیف ہوئی تھی پر اس نے اگنور کردیا تھا۔۔
“باجی۔۔”
“ہم ابھی چاندنی کو یہاں سے دور لے جاتے ہیں پھر دیکھیں گے۔۔ پلیز سلیمان مسئلے کو اور مت بگاڑو۔۔ چاندنی نے اگر لڑائی کرنی ہوتی تو وہ سامنے جاتی۔۔
وہ گہرے صدمے میں ہے خیال کرو۔۔۔”
اور سلیمان خاموشی سے اپنے روم میں چلا گیا تھا۔۔۔
اور مہرما نے پاسپورٹ کی تصاویر اپنے ایجنٹ کو سینڈ کردی تھی۔۔
اس ملازمہ کی باتوں نے مہرما کو خوفزدہ کردیا تھا وہ نہیں چاہتی تھی چاندنی اب اس خطرے سے بھرے ماحول اور لوگوں میں رہے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“دادی ۔۔۔”
کہاں جارہی ہیں۔۔؟؟”
دادی ابھی پہلی سیڑھی پر تھی جب رابیعہ نے پیچھے سے آواز دی۔۔۔ رئیلنگ پر ہاتھ رکھے پھولتے ہوئے سانس لے رہی تھی اور دادی کو شدید غصے سے دیکھ رہی تھی
“ہاں۔۔ کچھ ضروری کام۔۔”
اور دادی دوسری سیڑھی پر تھی جب رابیعہ نے پیچھے سے دھکا دہ دیا تھا دادی کو اور خود وہاں سے واپس بھاگ گئی تھی اپنے کمرے میں جب دادی سیڑھیوں سے گرتی زمین پر گری تھی ایک بہت بھاری آواز کے بعد چیخوں سے بھر گئی تھی حاکم حویلی۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“وہ ملازمہ اور اسکا بیٹا حویلی سے نکلے وہ لوگ یہیں سے جائیں گے۔۔۔ ان کا کام تمام کردو بس۔۔۔”
یہاں رابیعہ نے گھبراتے ہوئے فون بند کیا تھا اور واپس آنکھیں بند کرکے لیٹ گئی تھی
اور دوسری طرف اسکے حکم کے مطابق حویلی سے دور ایک گاؤں کی سننان سڑک پر ان دونوں ماں بیٹے کا ایکسیڈنٹ کردیا گیا تھا۔۔۔
“بس اب کوئی درمیان میں نہیں آسکتا تمہارے اور میرے بہروز۔۔ میں مالکن بنوں گی اب یہاں کی۔۔”
۔
“ہر ظلم کا حساب لوں گی تم سے بھی تمہارے گھر والوں سے بھی۔۔۔”
باہر سے آنے والے قدموں کی آواز پر اس نے جلدی سے آنکھیں بند کر لی تھی
“رابیعہ۔۔؟؟”
بہروز بیڈ آکر بیٹھ گیا تھا۔۔
“ایم سوری رابیعہ۔۔ میری وجہ سے ہمارا بیٹا چلا گیا۔۔ایم سوری۔۔۔”
رابیعہ کے ماتھے پر بوسہ دے کر وہ اٹھنے لگا تھا جب رابیعہ نے اسکا ہاتھ پکڑا تھا
“پلیز۔۔۔ بہروز۔۔ مجھے اکیلا چھوڑ کر مت جاؤ۔۔ میں بالکل تنہا ہوچکی ہوں۔۔”
“میں یہیں ہوں تمہارے پاس۔۔۔”
بہروز جیسے ہی بیڈ پر بیٹھا تھا رابیعہ اسکے سینے پر سر رکھ کر آنکھیں بند کرچکی تھی۔۔۔
اور بہروز حاکم ایک پل کو بھی آنکھیں بند نہیں کرسکا تھا۔۔۔
“سب تمہاری وجہ سے ہوا چاندنی۔۔۔ تم نے اپنے ہاتھوں سے سب کھو دیا۔۔۔
مجھے بھی۔۔۔”
بہروز نے خود سے بات کی تھی پر اس میں ہمت نہ تھی رابیعہ کی طرف دیکھنے کی۔۔
یہ وہ جگہ تھی جس پر چاندنی کا حق تھا۔۔۔ جو گلٹ اسے پچھلے تین ماہ میں محسوس ہو رہا تھا آج اسے غصہ آرہا تھا۔۔۔
بہت غصہ آرہا تھا چاندنی پر۔۔
۔
“بہروز۔۔ دادی ماں۔۔؟ وہ کیسی ہیں۔۔؟؟”
“وہ۔۔۔اب سٹیبل ہیں۔۔۔ مگر”
“مگر۔۔؟؟”
“وہ کومہ میں جاچکی ہیں۔۔۔”
“رابیعہ کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ چھا گئی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ایک ماہ بعد۔۔۔”
۔
“بہروز ان پر چیخنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔۔۔وہ لوگ سب کانٹریکٹس ختم کرچکے ہیں۔۔”
“اور ان لوگوں کو حق کس نے دیا۔۔؟ “
“آپ بھول گئے ہیں اس دن سب کے سامنے کیا کہا تھا۔۔؟؟
میرے خیال سے مسٹر احسن نے بالکل ٹھیک کیا۔۔۔ آفٹر آل بہروز حاکم سب آپ کے جیسے تھوڑی ہوں گے آپ کی انگلیوں پر ناچنے والے۔۔؟؟”
“جنید نوٹ اگین۔۔”
حمدان صاحب نے اپنے بیٹے کو بیٹھانے کی کوشش کی تھی
“چاچو میں آپ کا لحاظ کررہا ہوں۔۔ اسے چپ کروا لیں ورنہ اس کمپنی سے نکال دوں گا۔۔”
“ہاہاہاہا شاہ زیب حاکم کی لاوارث بیٹی سمجھ لیا ہے مجھے۔۔؟؟”
معراج حاکم نے گھبراہٹ میں مجتبا حاکم کی طرف دیکھا تھا اور پھر جنید نے اپنے دادا جان کی آنکھوں میں دیکھا تھا
“وہ چاندنی یتیم تھی۔۔۔ مظلوم بےسہارا۔۔۔ اسکے سارے خون کے رشتے مر گئے اسکے ماں باپ مر گئے اسکے اپنے مرگئے۔۔اس نے ہتھیار ڈال دئیے۔۔
پر میں بزدل نہیں ہوں۔۔۔ میں کورٹ لے جاؤں گا۔۔ مجھے دوبارہ نکالنے کی دھمکی تو دو بہروز حاکم۔۔۔”
“جنید۔۔۔ تم جانتے نہیں ہو۔۔ وہ قاتل تھی۔۔۔ بزدل بھی وہ ہوتے جو غلط ہوں۔۔”
“ہاہاہا۔۔۔ میں نہیں مانتا۔۔۔ وہ بزدل اس لیے نہیں بنی کہ وہ مجرم ہے۔۔۔
وہ بزدل اس لیے بنی کہ اس نے تم سے سچے دل سے محبت کی بہروز۔۔ اور جب تم نے اس پر شک کیا وہ روپوش ہوگئی۔۔۔
ایک دن یہ سچائی بھی سامنے آئے گی اور وہ بےقصور ثابت ہوگی مگر تب تک بہت دیر ہوچکی ہوگی۔۔”
وہ کرسی دیوار پیچھے پھینکتے ہوئے اٹھا تھا اور ضرور سے کیبن کا دروازہ مارتے ہوئے آفس سے چلا گیا تھا۔۔۔
۔
“ڈیم اٹ۔۔۔”
ٹیبل کی چیزیں بہروز نے بھی غصے سے پھینک دی تھی اور وہ بھی باہر نکل گیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“شایان۔۔۔ میں اسے ڈھونڈ نکالوں گا۔۔ وہ ۔۔ بچ نہیں پائے گی۔۔”
بہروز وہیں بیٹھ گیا تھا گلاب کے پھول سجائے۔۔ وہ وہیں بیٹھ چکا تھا
“میں اسے پوچھوں گا اس نے کیوں کیا ایسا۔۔ کیوں میرے بیٹے کو مجھ سے دور کردیا۔۔میں پوچھوں گا۔۔۔”
۔
اور وہی ہوا۔۔۔ بہروز کچھ دیر بعد ہی حویلی واپس آگیا تھا اور سیدھا اس روم میں گیا تھا۔۔۔ جہاں چاندنی رہا کرتی تھی۔۔۔
وہ جس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ان دونوں کے درمیان ہر دوری ختم کردے گا۔۔
شایان کے جانے کے بعد بہروز حاکم اپنے ہر وعدے سے مکر گیاتھا۔۔
“چاندنی۔۔۔”
دروازہ بند کئیے وہ ٹیک لگائے کھڑا ہوگیا تھا۔۔۔
“میں نے کہاں تم سے محبت نہیں کی چاندنی۔۔؟؟ کہاں تم پر یقین نہیں کیا۔۔؟؟
میں رابیعہ کو بھلا چکا تھا اسکے دھوکے کو بھلا چکا تھا۔۔۔ میں سب بھول گیا تھا تمہارے لیے۔۔۔
اور تم نے کیا کردیا۔۔؟؟
میں جانتا تھا تم انسیکیور تھی۔۔۔ میں آرہا تھا واپس۔۔۔ مجھ پر زرا اور یقین کرلیتی۔۔۔
انتظار کرلیتی۔۔۔ تم نے تو ہر کشتی جلا دی شایان کو مار کر۔۔۔
اس چھوٹے سے بچے کو مار دیا۔۔۔؟؟ کیوں۔۔۔؟؟”
اسکے چلانے کی آواز نیچے تک گئی تھی۔۔۔
چیزیں ٹوٹنے کی آوازیں نیچے تک آئی تھی
“تم اس قابل نہیں تھی۔۔ تم چاہے جانے کے قابل نہیں تھی۔۔
تم محبت کے قابل نہیں تھی چاندنی۔۔۔”
“تم ماں بننے کے قابل بھی نہیں۔۔۔ افسوس تم نے مجھ سے باپ بننے کی خوشی بھی چھین لی میرے بیٹے کو مار کر۔۔۔”
۔
۔
“روؤں یا ہنسوں تیری حرکت پہ۔۔۔
یا پھر تیری تعریف کروں۔۔۔
میرے دل سے تو ایسے کھیل گیا۔۔
اب جی نہ سکوں۔۔ مر بھی نہ سکوں۔۔۔”
۔