Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

“حاکم حویلی۔۔۔”
“شمیم۔۔۔میں ابھی بات نہیں کرنا چاہتا۔۔”
“جوان بچی گھر نہیں آئی اور آپ کہہ رہے ہیں بات نہیں کریں گے مجتبا۔۔؟؟ کیا ہوگیا ہے آپ کو۔۔؟”
“کیا ہوگیا ہےمجھے۔۔؟؟ کیا ہوگیا تھا اس کو۔۔؟ یہ صلہ دیا اس نے ہماری محبت کا۔۔؟؟”
وہ جیسے ہی پلٹے تو معراج حاکم اور بہروز کی والدہ بھی وہیں پیچھے کھڑی آنسو بہا رہی تھی
“یہ دیکھو شمیشم بیگم۔۔۔ انکا کا کیا قصور تھا۔۔؟ یہ تو چاندنی کو بیٹی سے زیادہ پیار کرتے تھے پھر کیوں چاندنی نے شایان کے ساتھ اتنا ظلم کیا۔۔؟؟”
بات کرتے کرتے انہیں سینے میں درد شروع ہوا تھا
“بابا سائیں۔۔آپ بیٹھ جائیں۔۔ ماں آپ بھی بس کریں۔۔۔ پلیز بہروز کے سامنے چاندنی کا نام مت لیجیے گا۔۔”
معراج حاکم باہر جانے لگے تھے جب دادی کی بات نے انہیں روک دیا تھا
“اس کا مطلب یہ ہے تم میں سےکسی کو چاندنی پر یقین نہیں کسی کو بھی اپنی تربیت پر یقین نہیں۔۔۔
تمہیں شاہ زیب کے خون پر یقین نہیں اسکا مطلب ہے تم سب کو لگتا ہے چاندنی جو کسی مکھی کو نہیں مار سکتی تھی اس نے ایک بچے کی جان لے لی اسکی جان۔۔۔ جس میں چاندنی کی جان بستی تھی۔۔؟؟
دادی چلاتے ہوئے اور رونے لگی تھی۔۔۔
“امی بس کریں آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں۔۔۔”
“زینب ایک بار۔۔ بس ایک بار میری بچی کو میرے سامنے لے آؤ۔۔۔”
“بس شمیشم۔۔۔ اب وہ ہمارے سامنے نہ ہی آئے تو ٹھیک ہے۔۔ بہروز جان سے مار دے گا اسے۔۔۔ اچھا ہے وہ جہاں ہے۔۔۔”
“بس کرجائیں۔۔۔ مجتبا اتنے پتھر نہ بنے۔۔ ایک بار پتہ کرلیں جوان بیٹی کل رات سے کہاں ہے۔۔زندہ ہے۔۔”
سب کے دل دھڑک اٹھے تھے۔۔ معراج صاحب نے بہت مشکل سے آپنے آنسو کنٹرول کئیے تھے
“زندہ ہی ہوگی۔۔ مر جاتی تو خبر آجاتی۔۔”
مجتبا صاحب کہتے ہوئے کھڑکی کے پاس جاکر کھڑے ہوگئے تھے
“آپ کو۔۔ آپ کو آپ سب کو۔۔۔ شاہ زیب ۔۔۔ شازین کبھی معاف نہیں کریں گے۔۔
جو آپ لوگ انکی بیٹی کے ساتھ کررہے۔۔۔ یتیم ہے اس لیے۔۔؟؟ میں ہوں اسکی دادی ماں اسکو واپس لیکر آؤں گی۔۔”
دادی کمرے سے باہر چلی گئی تھی
“معراج۔۔۔”
“بابا فکر نہ کریں میں نے کل ہی کچھ لوگوں کی ڈیوٹی لگا دی تھی چاندنی کو کچھ نہیں ہوگا۔۔”
“ان لوگوں سے کہہ دینا۔۔ چاندنی اس گھر کے پاس بھی نظر نہ ائے۔۔ جیسے ہی ملے اسے کچھ پیسے د ے کر یہاں سے بھیج دینا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔۔۔”
“یا اللہ۔۔۔بابا سائیں بس کریں۔۔۔ شازین مجھے کبھی معاف نہیں کرے گی۔۔۔”
۔
زینب اس کمرے سے چلی گئی تھی اور پھر معراج صاحب بھی۔۔۔
چھری کو مظبوطی پکڑے وہ دروازے تک آئے تھے اور دروازہ بند کردیا تھا۔۔
لڑکھڑاتے قدموں سے دادا جی پھر بیڈ کی سیدھی سائڈ پر بیٹھ گئے تھے اپنی عینک اتار کر بستر پر رکھ دی تھی اور ٹیبل پر پڑے فریم کو اٹھایا تھا جس کی ایک طرف انکے چار بیٹوں کی تصویر تھی اور دوسری طرف چاندنی کی جو دادی اور دادا کے ساتھ کھڑی تھی۔۔۔
مجتبا حاکم نے وہ فریم اس طرح موڑ دیا تھ کہ چاندنی کی تصویر پیچھے چلی گئی تھی اور ایک سائیڈ آگے آگئی تھی۔۔
“چاندنی۔۔ مجھے شاہ زیب معاف کرے یا نہ کرے۔۔ پر میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا۔۔
تم نے سب مٹی میں ملا دیا۔۔ ہمارا نام بھی۔۔۔چاندنی۔۔۔ یہ لوگ تمہیں ہی نہیں میرے بیٹے کو بھی بُرا کہیں گے۔۔۔ میری بہو کی تربیت کو برا کہیں گے میں تمہیں معاف نہیں کروں گا۔۔۔”
وہ آنکھیں بند کرکے لیٹ گئے تھے۔۔۔
انہوں نے تو چاندنی سے اپنی جان چھڑا لی تھی مگر وہ باتیں انکا پیچھا چھوڑنے کو تیار نہ تھی
۔
“دادا جان۔۔۔ “
“میں بات نہیں کررہا ناراض ہوں۔۔”
“اچھا جی ناراض ہیں۔۔؟؟ ٹھیک ہے میں بھی ناراض ہوں۔۔ نہ ہی کھانا کھاؤں گی نہ پانی پئیوں گی۔۔۔
بس۔۔۔”
“بس کیا۔۔؟؟”
“بس برگر بوتل پر گزارا کروں گی۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا۔۔۔ شیطان۔۔۔ ادھر آؤ بتاتا ہوں۔۔”
“رہنے دیں۔۔۔ مسٹر مجتبا۔۔۔ مان لیجئے اپ پانچ منٹ سے زیادہ مجھ سے ناراض نہیں رہ سکتے۔۔۔”
“اور وہ کیوں مس چاندنی۔؟؟”
“کیونکہ میں آپ کی ہرٹ بیٹ ہوں مسٹر مجتبا۔۔ مجھ سے ناراض رہیں گے تو دھڑکن بند ہوجائے گی نہ۔۔۔؟؟”
۔
“چاندنی۔۔۔”
۔
آج مجتبا حاکم نے دل پر پتھر رکھ لیا تھا اور ساری زندگی ناراض ہونے کی قسم کھا لی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“فرحین ، نگین تم دونوں سنبھالو اسے۔۔ جنازہ لے جانے کا وقت ہوگیا ہے۔۔”
زینب نے اپنی دیورانیوں سے التجا کی تھی اور خود واپس دادی کے پاس جاکر بیٹھ گئی تھی۔۔
وہ لوگ سن رہے تھے لوگوں کی باتیں۔۔ وجہ پوچھ رہے تھے پر کسی میں ہمت نہیں تھی کچھ بھی بتانے کی مرد حضرات اندر داخل ہوگئے تھے بہروز جس کی آنکھیں لال ہوچکی تھی پوری طرح۔۔ وہ شایان کی میت کے پاس جیسے ہی آکر بیٹھا تھا اسے نے اپنے لب اسکے ٹھنڈے ماتھے پر رکھ دئیے تھے
“بہت افسوس ہوا بہروز بیٹا بس اللہ کو جو منظور۔۔”
“بس جو بہروز حاکم کی دوسری بیوی کو منظور تھا۔۔ اسے چاندنی نے مارا ۔۔۔سنا آپ لوگوں نے۔۔”
رابیعہ چلائی تو کسی میں ہمت نہ ہوئی اسے چپ کروانے کی۔۔
“وہ بانجھ تھی دوسری عورت تھی۔۔ برداشت نہ ہوا اسے۔۔۔ بہروز اور میرا بیٹا میری طرف مائل ہونا شروع ہوگئے تھے۔۔۔ اس نے بہروز کو واپس حاصل کرنے کے لیے یہ سب کیا۔۔۔ وہ گھٹیا عورت۔۔۔ بدکردار،، میرے بچے کی قاتل نکلی۔۔۔”
بہروز خاموشی سے چاندنی پر اسکے کردار پر ہر بات سنتا رہا جو رشتے دار چاندنی کے سگے تھے انکو تو بہت غصہ آیا خاص کر چاندنی کی خالہ کو۔۔
“وہ بدکردار تھی۔۔؟؟ تو تم کیا تھی شوہر کو کسی اور مرد کے لیے چھوڑ گئی تھی بیٹا یاد نہیں آیا۔۔؟؟ میری بھانجی کو بدکردار کہہ رہی ہے۔۔ اسکے کردار کی قسم حاکم خاندان کا ہر فرد کھا سکتا۔۔۔
“تو کہیں کھائے قسم۔۔۔ کوئی کیوں اسے ڈیفینڈ نہیں کررہا۔۔؟؟”
اور جب خالہ نے نظر دہرائی تو ہر ایک نظر میں انہیں نفرت دیکھائی دی چاندنی کے لیے۔۔۔
“بہروز۔۔۔؟؟ یہ تمہاری بیوی کو بدکردار کہہ رہی قاتل کہہ رہی۔۔ تم چپ ہو۔۔؟”
“ہاں کیونکہ وہ غلط نہیں کہہ رہی۔۔۔ سب سچ ہے۔۔ یہ دیکھیں میرا بیٹا۔۔۔
اسے مار کر آپ کی بھانجی فرار ہوگئی۔۔ اب آپ لوگ یہاں کیوں تماشا دیکھنے آئے ہیں۔۔؟؟
نہیں رہتی اب آپ کی کی بھانجی یہاں۔۔ کوئی تعلق نہیں ہمارا آپ لوگوں سےجائیں یہاں سے۔۔”
“بہروز۔۔۔”
“نہیں نائلہ۔۔۔ بہروز حاکم۔۔ ہم جا رہے ہیں اور اپنی بھانجی کو بھی ڈھونڈ لیں گے۔۔۔
آج کے بعد ہمارے راستے رشتے ہی نہیں ہمارا بزنس بھی الگ سمجھو۔۔۔
جہاں میری بھانجی کی جگہ نہیں وہاں ہمارے کاروبار کا بھی کوئی وجود نہیں۔۔۔”
چاندنی کے مامو۔۔ خالہ۔۔ کزنز اور نانی چلے گئے تھے ۔۔۔
“چاندنی کہاں ہے ابراہیم۔۔؟؟”
“امی۔۔ ہم ڈھونڈ لیں گے۔۔۔”
“ابراہیم ہماری بچی نے کوئی قتل نہیں کیا۔۔۔ ہماری شازین کی تربیت ایسی نہیں۔۔ ہماری چاندنی تو محبتیں بانٹتی تھی۔۔۔”
ابراہیم صاحب اپنے گھر والوں کو تو ساتھ واپس لے گئے تھے۔۔ پر دل میں ایک ڈر بیٹھ گیا تھا چاندنی کے نہ ملنے کا ڈر۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بہروز ایک بار مجھے شایان کو دیکھنے دیں۔۔۔”
سب مرد قبرستان سے جا چکے تھے جب ایک گاڑی کا دروازہ کھلا اور رابیعہ بھاگتے ہوئے قبرستان کی طرف ائی تھی۔۔
“رابیعہ پلیز۔۔۔ وہ۔۔ وہ جا چکا ہے۔۔”
“نہیں وہ نہیں گیا اسے بھیجا گیا ہے۔۔ اس نے بھیجا تمہاری محبت تمہاری بیوی نے۔۔۔”
وہ ہاتھ پاؤں مارنے لگی تھی خود کو بہروز کی گرفت سے چھڑانے کے لیے جب بہروز نے زبردستی اسے اپنے گلے سے لگا کر چپ کروانے کی کوشش کی تھی
۔
بہروز کو مظبوطی سے جیسے ہی رابیعہ نے تھاما تھا بہروز کی نظر سامنے گھنے درختوں کی طرف گئی تھی۔۔
عین اسی وقت چاندنی پیچھے چھپ گئی تھی۔۔۔
“حوصلہ کریں۔۔۔”
سلیمان نے چاندنی کے کانپتے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیکر کہا تھا
“وہ۔۔۔ میرا شوہر۔۔ کسی اور کی بانہوں میں ہے مجھ میں اور ہمت نہیں رہی۔۔میں بس دور جانا چاہتی ہوں اب۔۔۔ میری کوئی جگہ نہیں رہی۔۔۔”
۔
“اک تجھ پہ تھا بھروسہ۔۔ تو زبان سے پھر گیا۔۔
مجھ پہ تو آسمان سا۔۔۔ کوئی جیسے گرگیا۔۔۔
تیرے قدموں پہ تھا رکھا۔۔ میں نے یہ جہاں۔۔۔
ٹھکرایا تو نے مجھ کو۔۔۔ جاؤں میں کہاں۔۔۔”
۔
۔