Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

“بولو ماں۔۔۔”
“آ۔۔۔”
“نوو نوو ماں۔۔۔بولو ماں چاہت۔۔۔”
اور وہ چھوٹی سی بچی رونے لگی تھی
“چاندنی۔۔۔ بس کرجاؤ ایسے تم اسے ڈرا رہی ہو۔۔۔”
“مہرما۔۔ نہیں دیکھو میری بچی کوشش کررہی ہے۔۔ دیکھا تم نے۔۔؟؟”
“چاندنی ڈاکٹرز کی بات کو دل پہ مت لو چاہت بڑی ہوجائے گی تو ہم علاج کروائیں گے۔۔”
“علاج۔۔؟؟ میری بچی بیمار نہیں ہے۔۔ بڑی ہونے تک وہ ہر کام کرے گی جو ڈاکٹرز کو نا ممکن لگتا ہے۔۔۔”
“سیریسلی۔۔؟ اوکے۔۔ اسے بولنا آجائے گا۔۔؟؟ سننا آجائے گا۔۔ مگر یہ دماغ کا حصہ جو بڑھ رہا ہے وہ علاج کے بغیر کم نہیں ہوگا۔۔”
مہرما چلائی تو چاندنی اس سے اونچی آواز میں بولی تھی
“اور ڈاکٹر نے کیا کہا تم بھول گئی ہو۔۔؟ اس کا آپریشن ہوا تو میری بچی کی جان بھی جا سکتی ہے۔۔۔ اور میں اپنی بچی کی جان اپنے ہاتھوں سے لے لوں۔۔
یہ میرا اکلوتا۔۔ میرا واحد سہارا ہے جس کے لیے نہیں۔۔ جس کی وجہ سے میں سانس لے رہی ہوں۔۔۔
پلیز ٹرائی ٹو انڈرسٹینڈ۔۔۔۔”
۔
اپنی بیٹی کو گود میں اٹھائے وہ ہال سے لیونگ روم میں چلی گئی تھی۔۔
اور تب سے چاندنی نے اپنی ہر بات کو سچ کردیکھایا تھا۔۔
اپنی بیٹی کی پرورش اس طرح کی تھی اسکی ممتا اسکی بچی کا علاج ثابت ہوئی تھی۔۔۔اور جس دن چاندنی کو ‘ماں’ لفظ بول کر چاہت نے بلایا تھا۔۔۔
وہ دن چاندنی کی زندگی کا سب سے خوبصورت دن تھا
۔
“ماں۔۔۔”
“میری چاہت۔۔۔مہرما۔۔۔ دیکھا میں نہ کہتی تھی ایک دن میری بچی مجھے ماں بولے گی۔۔۔”
مہرما نے آنکھیں ساف کرتے ہوئے موبائل واپس میز پر رکھ دیا۔۔ جس پر وہ یہ خوبصورت لمحات قید کررہی تھی۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“چار سال بعد۔۔۔”
۔
“ایم سوری مس چاندنی۔۔۔ آپ کی بیٹی کو ہم نے سپیشل آرڈر پر ایڈمیشن دیا تھا۔۔
مگر آپ بھی جانتی ہیں وہ اس نارمل سکول میں ایڈجسٹ نہیں کرسکتی ایم سوری۔۔۔”
ہیڈ آف سکول تو کرسی سے اٹھ کر چلی گئی تھی اور کھڑکی کے پاس بیٹھی اپنی بیٹی کو اسکی گڑیا کے ساتھ کھیلتے ہوئے ہوئے دیکھ چاندنی کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔۔۔
“وہ نارمل ہے۔۔۔ ابنارمل نہیں ہے میری بچی۔۔۔”
چاہت کو گود میں اٹھائے وہ اس سکول سے لے گئی تھی
“ماں۔۔۔ میں واپس یہاں نہیں آؤں گی۔۔؟؟”
جب چاندنی نے گاڑی سٹارٹ کی تو اس نے منہ دوسری طرف کرلیا تھا آنسو صاف کرنے کے لیے۔۔
“ہم ایک بہت اچھے سکول میں ایڈمشن کروائیں گے۔۔۔”
“ٹھیک ہے ماں۔۔۔ ویسے بھی یہ سکول مجھے اچھا نہیں لگتا تھا۔۔۔ سب میرا مذاق اڑاتے تھے۔۔۔”
“ہممم۔۔۔۔”
وہ بچی اپنی گڑیا کے ساتھ اتنی مگن تھی کہ اپنی ماں کا آنسوؤں سے تر چہرہ بھی دیکھ نہ پائی تھی۔۔
۔
“ماں ہم گھر نہیں جارہے۔۔۔؟؟”
“ہم آئس کریم کھائے بغیر گھر کیسے جا سکتے۔۔۔؟؟ کم آن لٹل پرنسز۔۔۔”
۔
منہ پوری طرح صاف کرکے چاندنی نے کہا تھا اور جلدی سے گاڑی سے نکل کر چاہت کی سائیڈ کا دروازہ کھولا تھا اور دونوں ماں بیٹی ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ہنستے ہوئے آئس کریم پارلر داخل ہوئی تھی۔۔۔
چاہت کو لوگ جیسے رک کر کر دیکھتے تھے چاندنی اب ایسی نظروں کو اگنور کردیتی تھی۔۔
پہلے اسے غصہ آتا تھا پر اب نہیں۔۔۔
“چاکلیٹ فلیور۔۔۔”
“سیریسلی۔۔؟؟ ونیلا نہیں۔۔؟؟”
چاہت کو گدگدی کرتے ہوئے پوچھا تھا جب دونوں خالی ٹیبل پر بیٹھی تھی
“ہاہاہاہا۔۔۔ نوووو۔۔۔ آج چاکلیٹ فلیور۔۔۔ آپ نے بتایا تھا بابا کا فیورٹ فلیور تھا اب سے چاہت بھی یہی کھائے گی اور۔۔۔”
چاہت باتیں کررہی تھی پر چاندنی اس لمحے کھو گئی تھی۔۔۔ کچھ دن پہلے ہی چاہت کی ضد میں اس نے اس شخص کی باتیں چاہت کو بتانا شروع کی تھی۔۔
بہروز حاکم کی پسند نہ پسند اس نے بہت پہلے اپنی بیٹی کو بتانا شروع کردی تھی۔۔۔
بس اس میں ہمت نہیں تھی بہروز کی تصویر دیکھانے کی۔۔
جسے پچھلے پانچ سال سے اس نے نہیں دیکھا تھا۔۔۔وہ اپنی بیٹی کو کیسے دیکھاتی۔۔؟؟
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بہروز صائمہ آپی نے بُلایا ہے ہمیں چلنا چاہیے ۔۔۔”
“تم چلی جاؤ۔۔۔ تمہارے پاس وقت ہوگا۔۔میرے پاس نہیں ہے۔۔”
“پر بہروز۔۔۔ “
“اننف۔۔۔ کہہ دیا۔۔۔ جاتے ہوئے دروازہ بند کرجانا۔۔”
اس نے بے رخی سے کہا اور واپس فائل پر نظریں مرکوز کرلی تھی۔۔
۔
“بہروز۔۔۔ اگر اتنا ہی میرا چہرہ زہر لگتا ہے تو آج سے چار سال پہلے بول دینا تھا۔۔
اس دوسری عورت کے پیچھے اپنی اور میری زندگی کیوں عذاب بنا رہے ہو۔۔؟”
“گیٹ آؤٹ۔۔۔”
وہ غصے سے پاؤں پٹک کر وہاں سے باہر آگئی تھی بہروز کے چلانے کی آواز تو سب کو سنائی دی تھی اور
وہ تو باہر چلی گئی بہروز حاکم کو کچھ سال پیچھے دھکیل کر۔۔۔
بہروز نے ریڈنگ گلاسز اتار کر دروازے کی طرف دیکھا تھا تھا اور پھر اپنے اس نئے کمرے کی طرف جہاں کوئی یاد کوئی تصویر کچھ نہیں تھا سوائے اس ٹیبل اور ایک بیڈ کے۔۔۔
اس ڈارک روم کی طرح سے وہ اپنی زندگی بھی گزار رہا تھا۔۔ غصے سے بھری زندگی ۔۔
ایک مغرور شخص کی زندگی۔۔۔
۔
۔
“کبھی جو بھولنا چاہوں۔۔
نجانے کیوں میرے دلبر۔۔
مجھے تم یاد آتے ہو۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“گڈ نائٹ بےبی۔۔۔”
“گڈ نائٹ ماما۔۔۔۔”
چاہت کی آنکھیں جیسے ہی بند ہوئی تھی چاندنی اسکے ماتھے پر بوسہ دے کر اٹھ گئی تھی اور روم لائٹس آف کرکے سیدھا دوسرے روم میں گئی تھی جو اکثر لاک رکھتی تھی وہ۔۔
۔
اس کمرے کی لائٹ جیسے ہی آن کی تھی اسکی نظر ایک ہی فریم پر گئی تھی جو اس نے پینٹ کیا تھا۔۔
“بہروز حاکم۔۔۔۔”
دروازہ بند کئیے وہ ٹیک لگا کر کھڑی رہی تھی سامنے پڑے اس فریم کو تکتی رہ گئی تھی۔۔۔
بہروز حاکم کو اس نے قید کرلیا تھا اس فریم میں۔۔۔
جو اس نے تب بنایا تھا جب اس کے پاس کچھ نہیں تھا اس شخص کا۔۔ کچھ بھی نہیں سوائے چاہت کے۔۔۔
۔
“کبھی ساون کے موسم میں۔۔۔ اگر گائے کہیں کوئل۔۔
کسی مہندی کی ٹہنی پر۔۔۔ نجانے کیوں میرے دلبر۔۔۔
مجھے تم یاد آتے ہو۔۔۔ مجھے تم یاد آتے ہو۔۔۔۔”۔
۔
“بہروز حاکم۔۔۔ آج آپ کی بیٹی نے آپ کی پسند کو اپنی پسند بنا کر اپنا لیا۔۔
کسی دن آپ بھی اسے اپنائیں گے۔۔۔کسی دن بہروز۔۔۔”
۔
ٹیک لگائے وہ زمین پر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
پچھلے کچھ دنوں سے وہ شخص شدت سے یاد آرہا تھا اسے۔۔۔ ایسی سرد راتوں میں وہ ایسے ہی روتے روتے سو جاتی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ویڈنگ اینیورسری بہت بہت مبارک ہو بہروز بھائی۔۔۔ رابیعہ بھابھی۔۔”
“تھینک یو سوو مچ صائمہ۔۔”
“بچوں بہت بہت مبارک ہو۔۔۔”
“تھینکس موم۔۔۔ ایکسکئیوز مئ۔۔۔”
بہروز اپنے بزنس پارٹنرز سے ملنے چلا گیا تھا۔۔۔
پارٹی اپنے عروج پر تھی۔۔ اور بہروز بے سد تھا سب سے مبارک باد لے رہا تھا میڈیا کے سامنے تصاویر کھچوا رہا تھا۔۔ سب کے سامنے ایک محبوب ثابت کررہا تھا خود کو اپنی بیوی کا۔۔۔
پر کزن جنید جیسے ہی بہروز کو مبارک باد دینے آیا بہروز کا موڈ خراب ہونا شروع ہوگیا تھا۔۔۔
“بہروز بیٹا آج نہیں۔۔۔”
معراج حاکم نے اپنے بیٹے کو جنید کے ساتھ الجھنے سے روکا تھا۔۔۔
“جی۔۔۔”
وہ ڈرنک کا گلاس اٹھائے جانے لگا تھا جب جنید نے آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگایا تھا۔۔
“بہروز بھائی آج کے بعد میں آپ سے نہیں لڑوں گا۔۔۔ چاندنی بھابھی کے لیے لڑتا تھا۔۔
کچھ دن پہلے اسلام آباد گیا ہوا تو پتہ چلا پچھلے سال ان لوگوں کو ایک لاوارث لاش کی خبر دی گئی تھی اور۔۔ پولیس نے تصدیق کردی تھی وہ چاندنی بھابھی کی ہے سووو۔۔۔ جب وہ زندہ ہی نہیں رہی تو کیا لڑائی کروں میں ۔۔؟؟”
دادا جی نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ لیا تھا۔۔ اور بہروز کے ہاتھ سے وہ شیشے کا گلاس نیچے گر کر ٹوٹ گیا تھا۔۔۔
۔
“گڈ رڈنس۔۔۔فائننلی۔۔۔”
بہروز یہ کہتے ہی ہال سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔ وہ جتنی جلدی باہر آیا تھا کھلے آسمان کے نیچے آتے ہی اس نے اپنی ٹائی کھول کر پھینکی تھی اور پھر کوٹ اتار کر شرٹ کے بٹن کھولے تھے
جیسے اس کا سانس بند ہورہا ہو۔۔۔
گاڑی کی چابی ڈرائیور سے لئیے وہ حویلی سے نکل گیا تھا
۔
“کسی کے ہاتھ سے چھوٹے۔۔۔ اگر شیشے کا پیمانہ۔۔
چھلک جائے اگر ساغر۔۔۔ نجانے کیوں میرے دلبر۔۔۔
مجھے تم یاد آتے ہو۔۔۔مجھے تم یاد آتے ہو۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آپ نے سنا کیا کہا ان لوگوں نے۔۔؟؟ چاندنی مر گئی ہے ہماری چاندنی۔۔
کیا جواب دوں گا شہاب کو۔۔؟؟”
“ابا جی ہماری بھتیجی نے بھی کونسا اچھا کیا تھا۔۔؟؟”
“بس کرجائیں حمدان بھائی۔۔ اب معراج بھائی یا بہروز نہیں ہے یہاں جو آپ چاندنی کو برا بھلا کہہ کر پوائنٹ سکور کر لیں گے”
چھوٹے بھائی نے بڑے بھائی کی بات کاٹ دی تھی
“اب تم مجھے سمجھاؤ گے۔۔؟ گھر میں تم نے بھی کچھ کم نہیں کیا تھا چاندنی کو کیسے ڈانٹتے رہتے تھے۔۔۔”
وہ دونوں لڑنے لگے تھے جب مجتبا حاکم کی نظر اپنی بہو کی قبر پر پڑی تھی۔۔۔
انہوں نے گلاب کے پھول ان دونوں نہیں تین قبروں پر ڈالے تھے۔۔۔
جو کچھ ہی وقت میں تیز ہوا کے ساتھ اڑ گئے تھے
دادا جی کے بجائے اب دونوں بھائیوں نے وہ پھول رکھے تھے اور اب بھی ایسا ہوا تھا
جب تیسری بار ایسا ہوا تو دادا جی نے اپنے دونوں بیٹوں کا ہاتھ روک دیا تھا
“وہ ناراض ہے۔۔۔ رہنے دو۔۔۔ وہ بات نہیں کریں گے ہم سے۔۔۔”۔
۔