59.7K
43

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode

میر سبطین اور نگین کے لئے الگ اسٹیج بنوایا گیا تھا جبکہ مکتوم شاہ اور رانیہ کے لئے الگ اسٹیج سجایا گیا تھا ۔
میر سبطین اور نگین کی انٹری شاندار طریقے سے کی گئی ۔ گرے میکسی میں آرٹسٹک میک اوور نے نگین کو یکسر بدل کر رکھ دیا تھا ۔ ہمیشہ سادگی سے رہنے والی نگین پر بہت روپ آیا تھا ۔
میر سبطین بلیک تھری پیس سوٹ میں مسکراتے ہوئے نگین سے باتیں کررہا تھا ، وہ ہر نگاہ کا مرکز بنے ہوئے تھے ۔
نکاح کے بعد مکتوم شاہ کو بھی رانیہ کے برابر اسٹیج پر بٹھا دیا گیا ۔ مکتوم شاہ کی خوشی چھپائے نہیں چھپ رہی تھی ۔ رخسانہ بیگم نے دور سے ہی نظروں میں اس کی بلائیں لیں ۔
مکتوم بھائی ! آج تو آپ کو اپنا لاڈلا بھتیجا بھی یاد نہیں رہا ۔ دلہن گھر پہنچی نہیں ہے اور ہمارے دیور صاحب بیگانے ہوگئے ۔ عروش اس کے ساتھ بیٹھ کر شرارت سے بولی ۔
جب پہلو میں چاند براجمان ہو تو چھوٹے موٹے تارے ستاروں کو کون پوچھتا ہے ۔ مکتوم شاہ نے اپنی آواز رانیہ تک پہنچانے کے لئےقدرے بلند آواز میں کہا ۔ رانیہ گھونگھٹ میں بھی جھینپ گئی ۔
اف ، آپ تو ابھی سے دیوانے ہورہے ہیں ، اللہ خیر کرے صبح تک ناجانے کیا کیا دیکھنے کو ملے گا ۔ عروش نے معنی خیزی سے کہہ کر کانوں کو ہاتھ لگائے ۔مکتوم شاہ قہقہہ لگا کر ہنسا ۔
ہمارا کپل ان دونوں کے جتنا رومینٹک تو نہیں ہوگا کیونکہ میں میر سجاول کی طرح کانفیڈینٹ اینڈ بولڈ نہیں ہوں مگر کسی سے کم بھی نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔آخر لو میرج ہے ہماری ، اب لو میرج کی لاج تو رکھنی ہے ۔وہ زرتاج اور میر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا ۔
یہ تو سچ ہے ۔۔۔۔۔۔۔میر سجاول کی زرتاج کے لئے دیوانگی کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے ۔ عروش نے تائید کی ۔
میر اور زرتاج اسٹیج کی طرف ہی طرف ہی آرہے تھے ۔ زرتاج زرقون سے مزین بیش قیمت اسٹائیلش ڈریس میں ملبوس تھی ۔میر سجاول بلیک شلوار سوٹ پر کوٹ پہنے ہینڈسم لگ رہا تھا ۔ زرتاج نے ایک ہاتھ سے اس کا بازو تھاما ہوا تھا ۔دونوں ہنستے مسکراتے اسٹیج پر پہنچے ۔
ہمیں دیکھ کر یکلخت خاموش ہوگئے ، اس کا مطلب ہے یقیناً ہم دونوں کے متعلق ہی کوئی بات ہورہی تھی ۔ میر سجاول کی پیشانی پر لکیریں گہری ہوگئیں ۔
یار ! آپ ہمیشہ ہی غلط کیوں سوچتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ ہم آپ کی تعریف کر رہے ہوں ۔ مکتوم شاہ رسان سے بولا درحقیقت کے وہ میر سجاول کے اکھڑ لہجے پر گڑبڑا گیا تھا ۔
حیرت ہے اتنی پیاری اور خوش مزاج بیوی ملنے پر بھی آپ کی گرم مزای میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہو سکی ۔ عروش نے منہ پر انگلی رکھ کر کمال اداکاری سے کہا ۔
ڈئیر کزن ! تصیح کرلیں ، یہ مجھے ملی نہیں ہیں ۔ میں نے انہیں حاصل کیا ہے ۔ دنیا سے چرا کر اپنا بنایا ہے ورنہ آپ کے شوہر نامدار نے تو کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی انہیں مجھ سے جدا کرنے کے تمام جتن کئے۔میر سجاول زرتاج کی آنکھوں میں جھانک کر شوخ ہوا ۔ زرتاج اس کے بے باک انداز پر بری طرح جھینپ گئی ۔
آپ کا تو کوئی جواب ہی نہیں ، آپ تو لاجواب ہیں ۔ عروش اس کے برملااظہار پرعش عش کراٹھی تبھی معظم شاہ بھی اسٹیج پر چلا آیا۔شادی کی تمام ترتقریبات میں ایک باربھی میر سجاول نے اس سے کلام کرنے کی کوشش نہیں کی تھی حتی کے اس کا سامنا کرنے سے بھی گریز کیا تھا مگر معظم شاہ ان سب کو ایک ساتھ اسٹیج پر دیکھ کر فوراً یہاں چلا آیا ۔
وہ بھی اپنے بچپن کی دوستی کو ایک بار پھر موقع دینے کا خواہاں تھا ۔
اس نے مبہم سی مسکراہٹ کے ساتھ اپنا ہاتھ بڑھایا جسے میر سجاول نے ناگواری کا تاثر دیتے ہوئے نظرانداز کردیا ۔ زرتاج نے میر کے ہاتھ میں دبے ہوئے ہاتھ سے اس کی ہتھیلی کو زور سے بھینچا ، اس کی آنکھوں میں میر کے لئے خفگی تھی ۔ اس کی آنکھوں میں خفگی ہی نہیں اسرار بھی تھا کہ میر سجاول معظم شاہ سے مصافحے کرے ۔
میر سجاول نے اسے گھورتے ہوئے شاہ کا بڑھا ہوا ہاتھ تھام لیا ۔
بچھڑے ہوئے دوست ایسے نہیں ، ایسے ملتے ہیں ۔کسی نے پیچھے سے ان دونوں پر دباؤ ڈال کر ایک دوسرے کی طرف دھکیلا ۔
مکتوم شاہ جو معاملے کو سیریس ہوتا ہوا دیکھ کر دم بخود بیٹھا تھا کہ میر سجاول کی سرد مہری سے کہیں کوئی بدمزگی نا ہوجائے کھل کر مسکرا دیا۔
میر کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ دوڑ گئی ۔
تمھارا بے بی بہت کیوٹ ہے ، شکر ہے تم پر نہیں گیا ورنہ مجھے اس پر کبھی اتنا پیار نہیں آتا ۔ میر سجاول نے شاہ کی گود میں موجود زعیم کے گال کو نرمی سے چھوا ۔اس کا مزاق میں کہا گیا جملہ طنز سے بھرپور تھا مگر پھر بھی اس کے انداز پر شاہ سمیت سب محفوظ ہوئے ۔
ہنستے مسکراتے وہ سب ایک بار پھر دلوں کے بندھن میں بندھ گئے تھے اور شاید یہ بندھن پہلے سے ذیادہ مضبوط ہونے والا تھا کیونکہ یہ صرف دلوں کا ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سچے پیار اور خوبصورت رشتوں کے بندھن میں بندھ چکا تھا ۔
عروش اٹھ کر رانیہ کے ساتھ بیٹھ گئی اور معظم شاہ مکتوم کے برابر میں براجمان ہوگیا ۔فوٹوگرافر نے ایک ساتھ کئی منظر کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کئے ۔
تم کیسے مرد ہو ؟ تمھیں اپنی نئی نویلی دلہن میں زرا سی بھی دلچسپی محسوس نہیں ہو رہی ۔ دوڑ دوڑ کر کبھی یہاں تو کبھی وہاں گھومتے نظر آرہے ہو ۔ مجھے دیکھو ، میں نے اپنی شادی کو ایک سال بعد بھی تازہ دم رکھا ہوا ہے ۔ میر سجاول ایک آنکھ دبا کر بولا ۔
تم تو اول درجے کے بدمعاش ہو انسان ہو اور میں ٹھرا شریف النفس بندہ۔تمھارا مقابلہ کہاں کرسکتا ہوں۔میر سبطین نے اس کی کمر پر دھپ لگائی ۔میر سجاول نے قہقہہ لگایا ۔
میر تمھاری شادی کو ایک سال گزرنے والا ہے لیکن اب تک تمھاری طرف سے کوئی گڈ نیوز نہیں ملی ۔۔۔۔؟ میر سبطین نے اسے ٹوکا ۔
ہوں ۔۔۔۔۔۔ میر سجاول نے ہنکارہ بھرا ۔ وہ دونوں اسٹیج سے اتر آئے تھے ۔
میں زرتاج کا ٹریٹمنٹ کروارہا ہوں ، انشاءاللہ بہت جلد گڈ نیوز ملے گی۔ وہ پریقین لہجے میں بولا ۔
انشاءاللہ ۔۔۔۔۔۔میر سبطین نے برجستہ کہا ۔
“”””””””””””※”””””””””””
رانیہ روتی رلاتی ، سب کی دعاؤں کو آنچل میں سمیٹے رخصت ہو کر شیرازی ولا آگئی تھی ۔ ایک پل کو شیرازی ولا میں پہلا قدم رکھتے ہوئے اس کا دل کانپ گیا مگر پھر مکتوم شاہ کے پہلو میں ہونے کے احساس پر دل کو کچھ تکویت پہنچی ۔
رسومات سے فارغ ہونے کے بعد عروش اسے مکتوم شاہ کے کمرے میں لے آئی۔ اس نے رانیہ کو بیڈ پر بٹھایا اور خود باہر چلی گئی پھر کچھ دیر بعد واپس آئی ۔
رانیہ تم یہ جوس پی لو ،مجھے پتا ہے تم نے صبح سے کچھ نہیں کھایا ہوگا۔
جب میری شادی ہوئی تھی میں نے بھی ایسا ہی کیا تھا ۔ وہ خود ہی وضاحت دے کر ہنس پڑی ۔
عروش ! تم اس گھر میں خوش تو ہو ناں ۔۔۔۔۔۔؟ من میں مچلتا سوال خود بخود رانیہ کے ہونٹوں پر چلا آیا ۔ناجانے کیوں اس کا دل بیٹھا جارہا تھا ۔ اس کے میک اوور کو ٹچنگ کرتے ہوئے عروش کے ہاتھ یکدم رک گئے ۔ اس نے ٹھٹک کر رانیہ کو دیکھا ۔
سچ کہوں تو پہلے میں بلکل بھی خوش نہیں تھی مگر شاہ کا رویہ بھی میرے ساتھ بہت برا تھا مگر دھیرے دھیرے سب کچھ نارمل ہوتا چلا گیا اور آج میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ میں بہت خوش ہوں ۔
اگر تم خالہ جان اور گھر کے دوسرے فیملی میمبرز کو لے کر خوف ذدہ ہو تو بلکل مطمئین ہو جاؤ کیونکہ سب بہت لونگ اینڈ کئیرنگ ہیں ، اسپیشلی مکتوم شاہ جو کہ اب صرف تمھارے ہیں عروش اس کی ٹھوری کو چھو کر کھلکھلائی ۔
رہ گئی بات میرے شوہر کی تو وہ پہلے کی نسبت بلکل بدل چکے ہیں ، صرف میرے لئے ہی نہیں سب کے ساتھ ان کا بی ہیویر چینج ہوچکا ہے ۔ پہلے تو بہت اکڑو، سڑو،ریوڈ ، پراؤڈ ،بیسٹ ان فیکٹ ویمپائرسے کم نہیں تھے ۔ عروش نے کہتے ہوئے جھرجھری لی ۔
اور اب کیسا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔؟ شاہ جو اسے ڈھونڈھتا ہوا یہاں آیا تھا ، ادھ کھلے دروازے میں کھڑے رہ کر ساری باتیں سن چکا تھا۔عروش کی ہنسی کو بریک لگے۔شاہ نےپشت پرہاتھ باندھےنہایت سنجیدگی سے پوچھا ۔
اب تو بہت سوئیٹ ، انوسینٹ ، پولائٹ ،لائل پرفیکٹ ہسبینڈ ہیں ۔
وہ چلتے ہوئے شاہ کے نذدیک آئی اور اس کا بازو تھام کر بولی ۔
اگر یونیہ کھلے عام میری برائیں کرتی نظر آؤ گی تو مجھے پرانا والا شاہ بننے میں دیر نہیں لگے گی ۔شاہ نے آنکھیں سکیڑ کراسے گھوری سے نوازا ۔
نا ، بابا ۔ میری توبہ ۔ میں تو رانیہ کو سمجھانے کے لئے بتا رہی تھی ۔ وہ سچ سمجھ کر یکدم حواس باختہ نظر آنے لگی ۔
اسے مکتوم شاہ سمجھا دے گا ۔۔۔۔۔۔۔تم میری فکر کرو ۔ تمھیں احساس بھی ہے کہ میں پچھلے ایک گھنٹے سے تمھارا ویٹ کر رہاہوں اور تم ہو کے بیڈروم میں آنے کا نام بھی نہیں لے رہی ہو ۔ معظم شاہ اس کے شانے پر ہاتھ پھیلا کر بولا ۔
وہ میں بس آرہی تھی سوچا پہلے رانیہ کو جوس دے آؤں ۔ آپ چلیں میں بس دو منٹ میں آتی ہوں ۔ وہ جھجکتے ہوئے بولی ۔
تم میرے ساتگ چل رہی ہو ۔ رانیہ کو مکتوم شاہ دیکھ لے گا ۔ وہ اس کی بیوی ہے ۔ وہ خود سنبھال لے گا ۔ شاہ اس کی ہڑبڑاہٹ پر محفوظ ہوا ۔
جی ۔ عروش نے نظروں ہی نظروں میں رانیہ کو اشارہ کیا پھر شاہ کے ساتھ باہر نکل آئی ۔
آپ کے اندر کہیں میر سجاول کی روح تو نہیں آگئی ۔۔۔؟ شاہ اس کے شانے پر ہاتھ رکھے چل رہا تھا ۔کوریڈور سنسان ہی تھا مگر پھر بھی عروش کو ڈھیروں شرم آرہی تھی ۔
یہی سمجھ لو ۔ یہ اس سے ملاقات کا ہی اثر ہے ۔ یہ بات اس میں اچھی لگی مجھے کہ وہ اپنی نفرت کی طرح محبت کا اظہار بھی سرعام کرتا ہے ۔
جب بھی کوئی انسان کسی دوسرے انسان سے ملتا ہے تو وہ ضرور اس سے کچھ نا کچھ سیکھتا ہے ۔ اگر ہمیں کسی کی کوئی بات اچھی لگے تو اسے اپنانے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہئے اور مجھے میر سجاول کا اپنی بیوی کو احترام دینا ، اسے پریفئیر دینا بہت اچھا لگا ۔شاہ نے بے جھجک میر سجاول کے ایٹیٹیوڈ کو سراہا ۔
میں بھی آپ کے اس ایٹیٹیوڈ سے بہت خوش ہوں ۔۔۔۔۔۔ سچی شاہ اب آپ پہلے سے بھی ذیادہ اچھے لگ رہے ہیں ۔ عروش اس کے بازو سے لپٹ کر بچوں کی طرح خوش ہوتے ہوئے بولی ۔
تو پھر اب مجھے بھی خوش کردو ، صبح سے بجلیاں گرا رہی ہو ۔ اب کچھ دل کی راحت کا سامان کرو۔شاہ نے دروازہ بند کرکے بازو وا کئے۔
عروش جھک کر زعیم کے ماتھے پر پیار کر رہی تھی ۔ پلٹ کر آئی اور شاہ کے سینے سے لگ گئی ۔
یو آر مائے ڈمپل گرل ۔ شاہ نے پیر بھرے لہجے میں کہہ کر اسے اپنے مضبوط حصار میں قید لیا ۔
“”””””””””””※”””””””””””
رانیہ ! سچ پوچھو تو یہ جو دشمنی ختم ہوگئی ہے ، لڑائی جھگڑے ختم ہوچکے ۔۔۔۔۔سب پھر سے مل گئے ہیں ۔اس سب کی وجہ تم ہو ۔تم سے ملاقات نا ہوئی ہوتی تو شاید مجھے بھی یہ اسٹیپ لینے میں بہت وقت لگ جاتا ۔ میں چاہتا تو تھا کہ سب دوبارہ ایک ہوجائیں ہمارے گھرانوں میں پہلے جیسی بے تکلفی ہوجائے مگر اتنی ہمت نہیں ہوپاتی تھی کہ عملاً کچھ کر سکوں ۔
تم سے ملنے کے بعد تمھیں پانے کی جستجو میں ناممکن کو بھی ممکن کرتا چلا گیا یا پھر ہم دونوں کا ملنا تقدیر میں لکھا تھا یوں ساری رکاوٹیں خود بخود دور ہوتی چلی گئیں ۔ مکتوم شاہ رانیہ کے سامنے نیم دراز مسکراتے ہوئے گویا تھا ۔
سجاول بھائی کے تیور دیکھ کر تو میں نے امید ہی چھوڑدی تھی ۔ جس قدر وہ اس رشتے کی بات پر خفا ہورہے تھے ، یقین ہی نہیں آرہاتھا کہ ایک پل میں مان جائیں گے ۔ رانیہ نے سردی کی شدت سے آپس میں ہاتھ مسلے ۔
سوئیٹ ہارٹ ! تمھیں یقین دلانا تو واقعی بہت مشکل کام ہے ۔ تمھیں تو تببھی یقین نہیں آرہا تھا جب میں نے تمھیں پرپوز کیا تھا ۔تمھاری بے یقین نظریں اب تک مجھے یاد ہیں ۔ مکتوم نے اس کا ہاتھ تھام کر شرات سے کہا ۔ رانیہ کی نظریں اس کی شوخ نظروں سے ٹکرائیں تو پلکیں لرز کر جھک گئیں ۔
آج زیورک کے ہوٹل میں ان کا دوسرا دن تھا۔شاہ، عروش اور مکتوم ،رانیہ چاروں ہنی مون کی غرض سے یورپ ٹوؤر کے لئے پچھلے ایک مہینے سے نکلے ہوئے تھے ۔ دروازے پر ہونے والی دستک سے مکتوم شاہ کے رومینٹک موڈ پر یکدم اوس پڑگئی ۔وہ منہ بناتا ہوا اٹھ گیا۔
یار ! تم ابھی تک تیار نہیں ہو ۔کیا بات ہے باہر نکلنے کا موڈ نہیں ہے؟
سامنے شاہ اور عروش گھومنے جانے کے لئے بلکل تیار کھڑے تھے اسے سلیپنگ ڈریس میں دیکھ کر شاہ نے حیرت سے استفسار کیا۔
وہ بس کچھ سستی سی ہورہی تھی ۔ آپ لوگ جارہے ہیں تو چلے جائیں۔ہم کچھ دیر بعد آپ کو جوائن کرتے ہیں ۔ مکتوم شاہ نے سہولت سے انکار کردیا ۔
اٹس اوکے ۔اگر تمھارا موڈنہیں ہے تو ریسٹ کرو۔ہم تو جارہے ہیں۔
محترمہ نے تو خون پی رکھا ہے ۔ انہیں ایک پل بھی روم میں نہیں گزارنا ۔ ناجانے کیا چاہتی ہیں ۔شاہ نے عروش کو گھورا۔
ٹوؤر پر نکلے ہیں تو ہوٹل میں بیٹھ کر ٹائم ویسٹ کیوں کریں ۔۔۔۔۔۔
جلدی جلدی گھوم پھر کر گھر واپس جائیں ۔ ویسے بھی مجھے گھر کی بہت یاد آرہی ہے ۔ عروش زعیم کو گدگداتے ہوئے بولی ۔
آپ بجا فرمارہی ہیں ۔بھابھی فل ٹائم انجوائے کے موڈ میں ہیں ۔تم کیوں دانت چبا رہے ہو ۔ مکتوم شاہ ہنس پڑا ۔
اوکے بائے۔شام کو ملتے ہیں ۔وہ دونوں ہاتھ ہلاتے ہوئے پلٹ گئے ۔
مکتوم نے شاہ مسکراتا ہوئے دروازہ لاک کیا ۔
ہمیں بھی ان کے ساتھ جانا چاہئے تھا ۔ ہم پورا دن روم میں کیا کریں گے ۔ رانیہ نے اسے دیکھتے ہی شکوہ کیا ۔
ہم پورا دن روم میں ہی انجوائے کریں گے ۔ ان کی شادی کو سال سے ذیادہ ہوچکا اور ہماری شادی کا یہ پہلا مہینہ ہے ۔ ایسا موسم اور تنہائی بار بار میسر نہیں ہوگی ۔ اس لئے اب آپ مزید کوئی سوال نہیں کریں گی کیونکہ میں یہ خوبصورت لمحات سوالوں کی نظر نہیں کرنا چاہتا۔
مکتوم شاہ نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے خاموش کروادیا ۔
“””””””””””※”””””””””””
(ایک سال بعد )
دلبرسائیں ! تم سچ کہہ رہی ہو ۔۔۔۔۔۔؟ میر سجاول نےلہجے میں بے یقینی سموئے استفسار کیا ۔زرتاج نے اثبات میں سر ہلاکر نظریں جھکا لیں ۔اس کے چہرے پر شرمگیں مسکراہٹ ابھری ۔
اف ۔۔۔۔۔۔میں کتنا خوش ہوں ۔ یہ تم نے کیا کرڈالا ۔ میرا ننھاسا
راج کمار آنے والا ہے ۔ میر سجاول نے اسے بازؤوں پر اٹھا کر زوردار چکر دے ڈالا ۔
میں کب سے آپ کا انتظار کر رہی تھی کہ آپ گھر آئیں اور میں آپ کو گڈنیوز دوں ۔ زرتاج نے اسی طرح جھکی پلکوں سے کہا ۔
ہوں ۔۔۔۔۔۔ فصلیں اتر رہی ہیں اس لئے بہت بزی ہوں گھر چکر لگانے کا موقع بھی نہیں مل رہا ۔ تم کال کردیتی میں سب کچھ چھوڑ کر آجاتا ۔ میر اسے بازؤں میں لئے صوفے پر بیٹھ گیا ۔
فون پر بتا کر میں آپ کے چہرے پر یہ خوشی دیکھنے سے محروم رہ جاتی۔مجھے اندازہ ہے آپ اس خبر کے لئے کتنی شدت سے منتظر تھے ۔ زرتاج اس کی شرٹ کے بٹن کو چھیڑتے ہوئے دھیرے سے بولی ۔
تمھیں کیسے اندازہ ہوا ۔۔۔۔۔۔۔ میں نے تو ایک بار بھی تقاضا نہیں کیا ؟ لیڈی ڈاکٹر سے اپائینمنٹ بھی تمھاری خواہش پر لی تھی ۔میر سجاول کی بھنویں سکڑ گئیں ۔
اتنا توآپ بھی نہیں جانتے خودکو جتنا میں جانتی ہوں میں آپکی خاموشی کوبھی سمجھتی ہوں ۔ بھلے آپ نے زبان سے کبھی نہیں کہا مگر مجھے آپ کی بے چینی کا احساس تھا اور میں آپ کے صبر پر آپ کی بہت مشکور ہوں ۔ زرتاج کی آنکھیں نم ہوگئیں تھیں ۔
ارے یار ! آج تو رونا مت پلیز ! آج میرے لئے بہت خوشی کا دن ہے ۔ تمھارے آنسو میری خوشی کا مزہ خراب کردیں گے ۔ آج تو ہم جشن منائیں گے ۔وہ گنبھیر لہجے میں بولا ۔
“””””””””””※”””””””””””
میر سجاول نے اسے ہاتھ کاچھالابنا لیا تھا ۔وہ زرتاج کو ہل کر پانی بھی نہیں پینے دے رہا تھا حتی کہ اپنے سارے کام کاج چھوڑ کر گھر بیٹھ گیا تھا ۔
زری ! خبردار جو اب تم نے کسی کام کو ہاتھ لگایا ۔ میں تمھارا گلا دبانے میں ایک منٹ نہیں لگاؤں گا ۔ اس نے زرتاج کے ہاتھ سے کپڑے چھینتے ہوئے سخت لہجے میں تنبیہہ کی ۔
یہ تو کوئی کام نہیں ۔ میں دومنٹ میں پریس کرلوں گی ۔
کیوں کرلوگی ۔۔۔۔۔۔۔ اس گھر میں ملازموں کی کمی ہے یا میں نے تمھیں اپنے ذاتی کاموں کے لئے تاکید کی ہے کہ صرف تم ہی کروگی ۔وہ بگڑتے ہوئے بولا۔
پورا دن بیٹھے بیٹھے گزارنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ یہ چھوٹے موٹے کام ہیں۔ان سے کچھ نہیں ہوتا ۔ آپ سمجھتے کیوں نہیں ؟ وہ منمنائی ۔
میں تمھارے معاملے میں کوئی بھی رسک لینا نہیں چاہتا اس لئے تمھیں ایفیشینسی دکھانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ چپ چاپ جاکر بیڈ پر بیٹھ جاؤ ورنہ دو چار ہاتھ کھالوگی ۔میر سجاول نےقطعی انداز کہا۔
زرتاج پیر پٹختے ہوئے چل دی ۔
اب منہ بنا کر مت بیٹھو ۔ میرے بیٹے کی صحت پر برا اثر پڑے گا ۔وہ بھی تمھاری طرح بات بے بات منہ بگاڑا کرے گا ۔میر سجاول نے بالوں میں برش چلاتے ہوئے زرتاج کے پھولے ہوئے چہرے پر نظر ڈال کر شرارت سے کہا ۔
آپ مجھ سے بات مت کریں ۔ ہر بات پر ڈانٹتے ہیں ۔ میں کوئی بچی نہیں ہوں ، اپنا خیال رکھنا جانتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ضروری نہیں کہ آپ ہر وقت میرے سر پر سوار رہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایسا بھی نہیں ہے کہ دنیا بھر میں صرف میں ہی پہلی بار ماں بننے جارہی ہوں ۔ہمارے ہی گاؤں کی عورتیں زمینوں پر مردوں کے ساتھ کام بھی کرتی ہیں اور بچے بھی پیدا کرتی ہیں یہ بات آپ اچھی طرح جانتے ہیں مگر پھر بھی آپ نے تو حد کردی ہے گھر کے چھوٹے موٹے کام کو بھی ہاتھ نہیں لگانے دے رہے ۔زرتاج یکدم پھٹ پڑی ۔
دلبر سائیں ! یہ بات تو آپ بھی اچھی طرح جانتی ہیں،میں کوئی بھی کام حد میں رہ کر نہیں کرتا اور آپ سے پیار تو بے حد کرتا ہوں اور یہی پیار ہے جو مجھے آپ کی بے حد پرواہ کرنے پر مجبور کردیتا ہے ۔ وہ بیڈ پر زرتاج کے پاس بیٹھ کر اس کی ناک کو انگلی سے چھو کر بولا۔
ایک بات اور آئیندہ کبھی بھی خود کو دوسری عورتوں سے کمپئیر مت کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے لئے تم دنیا کی سب سے خاص سب سے منفرد عورت ہو ۔ میری نظر میں تمھارے آگے کسی کی بھی اہمیت نہیں ۔دوسری عورتیں کیسے ذندگی گزارتی ہے کیسے نہیں ، اس سے مجھے کوئی غرض نہیں ہے مگر میری زری کیسے ذندگی گزارے گی یہ صرف میں طے کروں گا ۔ میر سجاول اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر حتمی انداز میں بولا ۔
*
اف ۔۔۔۔۔۔ سجاول بھائی یہ تو بلکل آپ کے جتنا کیوٹ ہے ۔
زرتاج بھابھی ! کیا آپ ہر وقت بھائی کو دیکھتی رہتی تھیں ۔۔۔۔۔اس میں اور سجاول بھائی میں زرا سا بھی فرق نہیں ہے ۔ رانیہ ان کے بیٹے کو گود میں بھرتے ہوئے شرارت سے بولی ۔
ہر وقت میرے سر پر منڈلاتے رہتے تھے تو ان پر ہی جائے گا۔ زرتاج کی بڑبڑاہٹ رانیہ تو نہیں سن سکی مگر میر سجاول جو بیڈ پر زرتاج کے ساتھ بیٹھا تھا سن کر اسے گھورا ۔
جی بھابھی ، آپ نے کچھ کہا ؟
کچھ نہیں ۔ زرتاج مبہم سا بولی ۔
یہ صرف مجھے ہی سناتی ہیں ، کوئی اور انہیں نہیں سن سکتا ۔میر سجاول نے اس کے بے حد قریب سرگوشی کی ۔زرتاج کا چہرے پر گلال بکھر گیا ۔ ویسے بھی وہ ان دنوں بہت خوبصورت ہوگئی تھی ۔
یہ ہنستا ہے تو اس کے گال میں بلکل عروش جیسا ڈمپل پڑتا ہے ۔دیکھو عروش!رانیہ نے بچے کو بغور دیکھا پھر عروش کے پاس لے گئی۔
ہاں اس کا ڈمپل سندس پھپھو جیسا ہے ۔ میں نے صبح ہی نوٹ کرلیا ۔
واؤ ۔یہ ڈمپل تو ہماری خاندانی نشانی بن گیا ہے ۔ عروش خوشی اے بولی ۔ میر سجاول بے ساختہ ہنس پڑا ۔
میر ! تم نے اس کا کوئی نام سوچا ہے ؟ مکتوم شاہ نے سوال کیا۔
“میر زوار علی “ ۔ میر سجاول فوراً سے پیشتر بولا ۔
ایک ہی دن میں نام بھی سوچ لیا ۔ رانیہ متحیر ہوئی ۔
پہلے سے سوچ رکھا تھا ۔ میر سجاول نے زرتاج کو محبت پاش نظروں سے تکتے ہوئے کہا ۔
آپ کو امید تھی بیٹا ہی ہوگا ۔ عروش نے جھٹ سے کہا ۔
امید نہیں یقین تھا ۔ وہ تفاخر سے بولا ۔
اماں ہوتیں تو آج ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا ، مجھے زندگی بھر افسوس رہے گا وہ اپنی سب سے بڑی خواہش دل میں لئے چلی گئیں۔
میر سجاول رنجیدہ ہوگیا ۔
آپ اداس مت ہوں ، اللہ کو یہی منظور تھا ۔ وہ جہاں بھی ہونگی آپ کی خوشی پر بہت خوش ہونگی کیونکہ وہ آپ سے بہت پیار کرتی تھیں ۔ رخسانہ بیگم نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا ۔
ہوں ۔۔۔۔۔ میر سجاول نے ہنکارہ بھرکر رہ گیا ۔ اس نے آنکھوں میں ابھرنے والی نمی کو مہارت سے اندر اتارا ۔
سجاول بھائی ! خالی مٹھائی سے کام نہیں چلے گا ، آپ کو اپنے شہزادے کی آمد کی خوشی میں زبردست سی پارٹی دینی ہوگی ۔ رانیہ جوش سے بولی ۔
کیوں نہیں ، زرتاج ہاسپٹل سے ڈسچارج ہوجائے،گاؤں پہنچتے ہی شاندار عقیقہ کروں گا ۔ تم ابھی سے تیاری شروع کردو ۔ میر سجاول بھی اسی کے انداز میں بولا ۔
وہ سب ہنستے مسکراتے بہت سارا وقت زرتاج اور میر سجاول کے ساتھ گزار کر واپس لوٹ گئے ۔شام کے سائے گہرے ہورہے تھے مگر اب غموں کی تاریکی نہیں بلکہ خوشیوں کی چاندنی ان تینوں خاندانوں کی ہمسفر بن گئی تھی ۔
ختم شد