59.5K
43

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

میر سائیں ! بڑی اہم خبر لے کر آیا ہوں ،اگر اجازت دیں تو عرض کروں ۔ ۔۔؟ساجد نے پھولی سانسوں کے درمیان جملہ مکمل کیا ۔
میر سجاول بلیک سوٹ میں ملبوس نفاست سے بال بنائے ڈارک گلاسز کے ساتھ اس خوبصورت موسم کا ہی حصہ لگ رہا تھا۔اس نے کارل میں کھڑے اپنے عزیز از جان گھوڑے کی پشت پر ہاتھ پھیر تے ہوئے بے ساختہ نظر اٹھا کر اسے دیکھا ۔اس وقت ساجد کی مداخلت اسے سخت ناگوار گزری تھی ۔پیشانی پر ڈھیروں بل پڑ گئے مگر “اہم خبر “ کے ذکر نے تھوڑا تجسس پیدا کیا تو ساجد کی خیر ہوگئی ۔
کہو ۔۔۔میر نے مختصراً کہا ۔
خبر ملی ہے معظم شاہ ایک ہفتے بعد بیرون ملک جارہا ہے ، اس کی فلائیٹ صبح چھ بجے کی ہے ۔جس کے لئے وہ رات بارہ بجے شہر کے
لئے روانہ ہوگا ۔ساجد نے کہتے ہوئے داد طلب نظروں سے اس کی طرف دیکھا ،آخر وہ میر سجاول کے مطلب کی خبر لایا تھا ۔
میر سجاعل گھوڑے کی گردن اور سرسہلاتے ہوئے بظاہر بے نیاز سا بنا وہ بغور ساجدکوسن رہا تھا ۔یکدم چونک کر ساجد کی طرف دیکھا ۔
خبر پکی ہے ۔۔۔؟ اس نے استفسار کیا ۔
بلکل سائیں ! سو فیصد پکی ہے ،غلط نکلی تو جو چور کی سزا وہ میری ۔
ساجد نے پورے وثوق سے کہا ۔اس کے پر اعتماد انداز پر میر سجاول نے یقین کرتے ہو ئے ہنکارہ بھرا ۔
ہوں ۔۔۔ خبر تو واقعی اہم ہے ۔ میر کے چہرے پر دلکش مگر خطرناک سی مسکراہٹ پھیل گئی ۔
ساجد !تم زبردست بندوبست کرنے کی تیاری کرو ۔ اس سے اچھا موقع مجھے پھر نہیں ملے گا کیونکہ معظم شاہ رات میں شہر تک کا سفر بہت کم کرتا ہے ۔
اس پر اٹیک کرنے کا یہی صحیح وقت رہے گا ۔۔۔۔اور ہاں ،جب وہ گاؤں کی حدود سے بلکل باہر نکل جائے ،حملہ اس پر اسی وقت کرنا ہے تاکہ اسے دور دور تک مدد نا مل سکے ۔وہ بلا تاخیر پلان ترتیب دےرہا تھا ۔
میں اب اسے تھوڑی سی بھی مہلت نہیں دینا چاہتا ۔اپنے بندوں کو یہ سب باتیں اچھی طرح سمجھا دینا ۔اگر تمھاری طرف سے اس کام میں زرا سی بھی لاپرواہی ہوئی اور وہ ذندہ بچ گیا تو تمھیں مجھ سے کوئی نہیں بچا سکے گا ۔میر سجاول نے انگلی اٹھا کر اسے تنبیہہ کی ۔
ساجد جو بغور اسے سن رہا تھا ،آخری بات پر ہڑبڑا کر میر کی طرف دیکھا
اور سر ہلانے لگا ۔
یہ موقع میرے ہاتھ سے جانا نہیں چاہئے ،اور دیکھو اس کام کے لئے گاؤں سے باہر کے بندوں کا انتظام کرو ،جو ماہر ایکسپرٹ ہوں ۔جن کا نشانہ کبھی نا چوکا ہو ،جنھیں اپنے کام میں مہارت حاصل ہو کسی بھی قسم کی سچوئیشن ہینڈل کرسکیں ۔معظم شاہ کے گارڈز کا بھرپور مقابلہ کریں۔
یہ بھی پتا لگانے کی کوشش کرو کہ وہ کس سلسلے میں جارہا ہے ،اکیلا ہے یا کوئی اور بھی اس کے ساتھ جائے گا ۔میر گمبھیرتا سے ہدایات دے رہا تھا جو ساجد پورے انہماک سے ذہن نشین کر رہا تھا۔
سائیں ! میں دیکھتا ہوں ،یہ تو آرام سے پتا چل جائےگا وہ کیوں جارہا ہے اور آپ بلکل بے فکر ہوجائیں ،ایسے ہی کچھ بندے ہیں میری نظر میں جو آپ کو ضرور خوش کریں گے ۔ میں کل ہی ان کو گاؤں بلوا کر آپ کی ملاقات کروا دیتا ہوں ۔
ساجد نے اسے مطمئین کرنے کی بھرپور کوشش کی ۔میر سجاول نے ہاتھ کے اشارے سے اسے خاموش کر وادیا ۔
صبح جو کام تمھیں دیا تھا ،اس کا کیا بنا ۔۔۔؟ میر سجاول اب اپنے گھوڑے کو رائڈنگ کے لئے کورل سے باہر نکال رہا تھا ۔
جی سائیں ! آپ کا پیغام بی بی تک پہنچا دیا تھا ۔ساجد کے منہ سے زرتاج کا نام نکلتے نکلتے رہ گیا تھا ،جس پر وہ دل ہی دل میں شکر منانے لگا ورنہ میر نے اس کی زبان کھینچ لینی تھی ۔ایک بار پہلے بھی وہ اسی غلطی پر میر کے ہاتھوں بری طرح پٹ چکا تھا ۔
ہوں ۔۔۔میر نے ہنکارہ بھرا پھرایک ہی جست میں گھوڑے پر سوار ہو گیا ۔ آنکھوں پر ڈارک گلاسسز چڑھائے ،گھنی مونچھوں اور قدرے بڑھی ہوئی شیو میں وہ کسی ریاست کا شہزادہ لگ رہا تھا۔
زرتاج سے ملنے کا وقت اس نے شام چار بجے طے کیا تھا اور ابھی دن کے بارہ بجے تھے ،باقی چار گھنٹے کا طویل انتظار اسے انتہائی صبر آزما لگ رہا تھا مگر آج کے سہانے موسم میں اس کے دل نے شام میں ہی ملاقات کی خواہش کی تھی ۔
اس لئے بڑی بے صبری سے وہ وقت گزارنے کی کوشش کر رہا تھا ورنہ وہ صبح سویرے ہی زرتاج کی دید سے سیراب ہوجاتا لیکن آج وہ زرتاج کے ساتھ بھرپور طریقے سے موسم انجوائے کرنا چاہتا تھا یوں مجبوراً خود پر جبر کئے ہوئے تھا ۔
—————————
معظم شاہ پچھلے پندرہ منٹ سے واش روم میں بند شاور لے رہا تھا ۔
عروش اس کے بیدار ہونے سے پہلے ہی فریش ہوکر بیٹھ گئی تھی ۔پوری رات اس کے لئے پریشان ہونے کے باوجود شاہ نے اٹھنے کے بعد اس سے معذرت کرنا تو دور ایک نگاہِ غلط بھی اس کے چہرے پر نہیں ڈالی تھی ۔
ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہو کر اس نے چہرے پر ابھر آنے والے زخموں پر انگلیاں پھیریں تو بے اختیار اسے رونا آگیا ۔آنسوؤں کا گولا اس کے حلق میں اٹکنے لگا ۔
اس چہرے کے ساتھ میں خالہ جان کا سامنہ کیسے کرونگی ،انہیں کتنا دکھ ہوگا مگر ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے چھپایا بھی تو نہیں جاسکتا ۔اس نے بے بسی سے سوچا ۔
یا اللہ ! آپ نے مجھے کس آزمائش میں ڈال دیا ہے۔۔۔؟ میں اس قابل نہیں ہوں کہ آزمائی جاؤں ۔مجھے ناکردہ گناہ کی سزا مل رہی ہے ۔پلیز ! شاہ کے دل میں میرے لئے رحم پیدا کردیں ۔اس نے روتے ہوئے دعا مانگی اور آنسو صاف کرتے ہوئےدروازہ کھول کر کمرے سے باہر نکل آئی ۔
شاہ کے لئے کپڑے وہ پہلے ہی نکال چکی تھی اور ناشتے کے متعلق شاہ نے کوئی فرمان جاری کیا نہیں تھا ، جس کا مطلب تھا کہ وہ ناشتہ سب کے ساتھ ڈائیننگ روم میں ہی کرے گا ۔
عروش سر پر دوپٹہ جمائے سست قدموں سے چلتے ہوئے ڈائینگ روم میں داخل ہوئی اور دھیمے سے لہجے میں سلام کر کے ایک چئیر گھسیٹ کر بیٹھ گئی ۔مکتوم شاہ زینب اور رخسانہ بیگم نے بیک وقت سلام کا جواب دیا جو پہلے سے وہاں موجود تھے ۔
رخسانہ بیگم نے والہانہ اس کی طرف دیکھا مگر اس کا ستا ہوا چہرہ اور گالوں پر تازہ ترین انگلیوں کے نشانات دیکھ کر حق دق رہ گئیں ۔
ان کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے لیا تھا ، چند لمحے وہ حیرت اور صدمے سے کچھ بول ہی نہیں سکیں ۔مکتوم شاہ کی آنکھوں میں بھی تاسف کی لہریں ابھری تھیں ،اسے معظم شاہ پر سخت غصہ آرہا تھا ۔زینب عروش کے برابر والی چئیر پر بیٹھی تھیں ،نرمی سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگیں ۔
عروش ! یہ سب کیسے ہوا ، کیوں مارا ہے اس نے تمھیں ۔۔۔؟کس بات پرلڑائی ہوئی ہے تم دونوں کی ۔۔۔؟ رخسانہ بیگم کے لہجے میں غصہ نمایاں تھا مگر آواز نہایت کمزور تھی ۔
خالہ جان ! دراصل میں واش روم میں گر گئی تھی ،جس کی وجہ سے چوٹ لگ گئی ۔انہوں نے کچھ نہیں کیا ہے ،ہماری کوئی لڑائی بھی نہیں ہوئی ۔عروش نے ٹہر ٹہر کر دانستہ جھوٹی بات بنائی کیونکہ اگر وہ سچ بولتی تو لڑائی کی وجہ بھی بتانی پڑتی ۔
عروش ! بیٹا مجھ سے جھوٹ مت بولو ،میں جانتی ہوں یہ سب کس نے کیا ہے ۔ میرے ہوتے ہوئے تمھیں اس سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔وہ اس طرح میری موجودگی میں تم پر ظلم نہیں کرسکتا ۔بتاؤ ، کیوں مارا ہے اس نے تمھیں ۔۔۔؟انہوں نے نرمی اور پیار سے اس کی ہمت باندھنی چاہی ۔
اماں ! آپ کو اس سے کچھ بھی پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے ، اب وہ آپ کی بھانجی نہیں ،میری بیوی ہے اور میں اپنی بیوی کے ساتھ جو مرضی کروں ، مجھے ٹوکنے کا حق کسی کو نہیں ہے ۔ عروش تذبذب کا شکار تھی جب معظم شاہ نے ڈائیننگ روم میں قدم رکھا اور گمبھیر لہجے
میں سنجیدگی سے کہتے ہوئے عروش کے عین سامنے والی چئیر گھسیٹ کر بیٹھ گیا ۔
پورا حق ہے میرا کہ میں عروش پر کی گئی تمھاری ذیادتیوں کا جواب طلب کروں ۔تمھاری ہمت کیسے ہوئی اس پر ہاتھ اٹھانے کی ، ایسا کیا کر دیا تھا اس نے جو تم نے اسے وحشیوں کی طرح پیٹا ہے ۔۔۔؟ رخسانہ غضبناک لہجے میں پوچھ رہی تھیں ۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ ۔۔۔۔یہ میرا اور میری بیوی کا پرسنل میٹر ہے ،میں کسی کو بھی انٹر فئیرنس کی اجازت نہیں دوں گا ۔۔۔۔دوسری بات کچھ تو ایسا کیا ہوگا اس نے جو مجھے مشتعل کر گیا ۔اس نے آہستگی سے کہتے ہوئے نظریں عروش کے چہرے پر گاڑ دیں ۔ عروش نے سٹپٹا کر نظریں جھکا لیں ۔
دماغ خراب ہوگیا ہے تمھارا ۔۔۔شاہ !تم کیا سمجھتے ہو تم میری بچی پر یوں ظلم کروگے اور میں چپ رہوں گی ۔سڑک سے اٹھا کر نہیں لائے ہو تم اسے ،بھانجی ہے وہ میری ۔آئیندہ اگر تم نے اس پر ہاتھ اٹھایا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔ ایک منٹ عروش کو تمھارے ساتھ نہیں رہنے دونگی ۔سمجھے تم !
اس میں تمھارا بھی کوئی قصور نہیں ہے ، تمھارے باپ نے ذندگی بھر بیوی کو پاؤں کی جوتی سمجھا ہے ۔تم ان سے مختلف سوچ کیسے رکھ سکتے ہو ۔برہمی سے کہتے ہوئے انہوں نے منہ پھیر لیا ۔
یہ رخسانہ شاہ ہی تھیں جواس پر گرج برس رہی تھیں ورنہ وہ تو کسی کی اونچی آواز بھی برداشت نہیں کرتا تھا مگر اب لب بھینچے خاموشی سے سن رہا تھا ۔ماں بیٹے کی تکرار میں مکتوم شاہ اور زینب خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے ۔
اٹھو تم ۔۔۔۔کمرے میں جاؤ ۔ خبردار ! تم نے اگر میری اجازت کے بغیر کمرے سے قدم بھی باہر نکالا تو میں تمھیں شوٹ کردوں گا ۔
شاہ انگلی سے عروش کو اوپر جانے کا اشارہ کرتے ہوئے دہاڑا۔رخسانہ بیگم سے ملنے والی ذلت کی بھڑاس اس نے عروش پر نکال دی۔عروش بدحواس ہوکر فوراً ہی اپنی جگہ چھوڑ کر کھڑی ہوئی ،چئیر پیچھے دھکیل کرتقریباً بھاگتے ہوئے ڈائیننگ روم کا دروازہ عبور کر گئی ۔
شاہ ! یہ کیا حرکت ہے ، اس نے ابھی ناشتہ بھی نہیں کیا تھا۔رخسانہ بیگم نے افسوس سے اسے جاتے ہوئے دیکھا ۔
اماں ! ایک دن ناشتہ نہیں کرے گی تو مر نہیں جائیگی ۔وہ سنجیدگی سے کہتے ہوئے ہاتھ میں پکڑا چائے کا کپ ٹیبل پررکھ کر چئیر دھکیل کر کھڑا ہوگیا ۔
مکتوم شاہ نے ملامت بھری نظر معظم شاہ کے بے تاثر چہرے پر ڈالی۔ رخسانہ بیگم نے اپنا سر تھام لیا ۔
ڈائینگ روم سے نکل کر وہ مردانے کی طرف جا رہا تھا ،ملازمہ پر نظر پڑی تو اسے آواز دے کر روک لیا ۔
نسرین !
جی شاہ سائیں ! ملازمہ پلک جھپکتے میں اس تک پہنچی اور سر جھکا کر موؤدبانہ کھڑی ہوگئی ۔
ناشتے کی ٹرے تیار کرو اور اوپر میرے روم میں پہنچا دو ۔ہری اپ ۔ملازمہ کو حکم دے کر اس نے مردانے میں جانے کے بجائے لان کارخ کیا ۔ملازمہ سر ہلا کر کچن کی طرف چل پڑی ۔
———————-
موسم صبح سے ہی بے حد خوبصورت تھا ،پورا آسمان ابر آلود ہو رہا تھا ۔ ہلکی ہلکی پھوار برس رہی تھی جو وقفے سے دھواں دھار بارش میں بدل جاتی ۔اور بھلا یہ کیسے ممکن تھا کہ اتنے حسین موسم میں میر سجاول کو زرتاج کی یاد نا ستائے ، دل اس سے ملاقات کے لئے نا مچلے ۔
حسبِ توقع میر کا پیغام اسے اسکول میں ہی مل چکا تھا کہ شام چار بجے شہر جانی والی سڑک کنارے وہ اس کا انتظار کرے گا ۔ساتھ حکم بھی تھا اور دھمکی بھی کہ کسی بھی طرح زرتاج اس سے ملنے کے لئے پہنچے
ورنہ وہ خود آجائیگا ۔
اس کی یہ دھمکی کارگر ثابت ہوئی تھی اور اب زرتاج کافی دیر سے صحن میں بیٹھی بے چینی سے پہلو پر پہلو بدل رہی تھی اور ماں کو موسم کے پکوان بناتے ہوئے دیکھ رہی تھی ۔
زرتاج ! آج آرام نہیں کرے گی ۔۔۔؟آج تو بارش کی وجہ سے بچے بھی پڑھنے نہیں آئیں گے ۔اس کی ماں نے اسے اس وقت بیٹھے دیکھا تو ٹوکنا ضروری سمجھا کیونکہ اسکول سے آنے کے بعد وہ پوری دوپہر سو کر گزارتی تھی ۔
پتا نہیں کیوں ۔۔۔آج مجھے نیند نہیں آرہی ،شاید آپ کے پکوڑوں کی خوشبو کی وجہ ہے ۔زرتاج نے کھنکتی ہوئی آواز میں ہنستے ہوئے ماں سے کہا ۔یکدم ہی اس کو میر سے ملنے جانے کا بہانہ مل گیا ۔
اماں ! میں یہ پکوڑے نازی کے گھر لے جاؤں ،اسے آپ کے ہاتھ کے پکوڑے بہت پسند ہیں ۔وہ اکثر مجھ سے کہتی رہتی ہے کہ اماں
جب پکوڑے بنائیں تو مجھے ضرور کھلانا ۔اس نے بات بنائی ۔
ہیں ۔۔۔اس نے کب کھائے ؟ اس کی ماں اچھنبے سے بولی ۔
اس نے ایک بار کھائے تھے ،برسات میں ۔آپ کو یاد نہیں ،بہت پرانی بات ہے ۔زرتاج جھٹ سے بولی ۔
اچھا ،ٹھیک ہے لے جا ۔میں پلاسٹک کی تھیلی میں باندھ دیتی ہوں تاکہ
بھیگ نا جائیں ۔وہ کہتے ہوئے شاپر ڈھونڈھنے لگی ۔زرتاج کمرے میں
بھاگ گئی ۔
جلدی سے آئینے میں دیکھ کر بال سنوارے ،آنکھوں میں کاجل ڈالنے سے ہی اس کا حسن دو آتشہ ہوجاتا تھا ،اسے خود کو نمایاں کرنے کے لئے کسی بھی قسم کے میک اپ یا قیمتی کپڑوں کی ضرورت نہیں پڑتی تھی ۔سادگی میں بھی جہاں جاتی چھا جاتی تھی ۔
وہ باہر نکلی تو ماں نے اسے شاپر تھمایا اور سنبھل کر جانے کی تاکید کر
کے اپنے کام میں مگن ہوگئی ۔
زرتاج سر ہلا کر ماں کو خدا حافظ کہتی ہوئی گھر سے باہر نکل آئی ،شاپر کو چادر کے پلو میں دبائے وہ گھر سے نکل کر چور نظروں سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھی ۔ بارش کی وجہ سے گلیاں قدرے
سنسان پڑی تھیں ۔
شہر کی طرف جانے والی سڑک کا راستہ اس کے گھر سے کافی دور تھا مگر اچھا خاصہ راستہ وہ تیز قدموں کے ساتھ طے کر چکی تھی ۔ سڑک بھی دور سے ہی دکھائی دینے لگی تھی جب سامنے سے آتی ہوئی معظم شاہ کی گاڑی پر اس کی نظر پڑی اور زرتاج کے بڑھتے قدم وہیں رک گئے ۔اس کا دل دھک سے رہ گیا تھا ۔
جاری ہے