Rate this Novel
Episode 30
میر سجاول بھنا تا ہوا ڈرائینگ روم سے نکلا تھا ۔
ساجد ! گاڑی نکالو ۔ اس نے دالان میں کھڑے ہوکر کرخت آواز میں حکم صادر کیا ۔
اس نے گاڑی میں بیٹھتے ہی فل اسپیڈ میں حویلی کا داخلی دروازہ پار کیا تھا ۔
وہ لمحے کی بھی تاخیر کئے بغیر دندناتا ہوا زرتاج کے گھر پہنچا تھا ۔اس نے بریک لگائے توٹائرز کے چرچرانے کی آواز دور دور تک سنائی دی ۔
میر سجاول نے ہاتھ بڑھا کر دروازے پر دستک دی تو دروازہ کھلتا چلا گیا ۔ نظروں کے عین سامنے زرتاج پلنگ پر سر جھکائے بیٹھی تھی جبکہ زرینہ کمرے کے دروازے میں ایستادہ تھی ۔
زرتاج پر پہلی نظر پڑتے ہی مشتعل جذبات پر اوس گرنے لگی ۔
دین محمد جو زرتاج کے پلنگ کے پاس ہی کھڑا تھا اور زرتاج کا برین واش کر رہا تھا ، کھٹکے کی آواز پر مڑ کر دیکھنے لگا ۔
میر سجاول پر نظر پڑی تو دوڑتا ہوا دروازے تک پہنچا ۔زرینہ بھی چند قدم آگے آگئی تھی ۔
کیا میں اندر آسکتا ہوں ؟اس نے سلام کے بعد گمبھیر آواز میں اجازت طلب کی ۔
سائیں ! آپ کا اپنا گھر ہے ۔ اس نے خوشامدی انداز میں کہتے ہوئے راستہ چھوڑ دیا ۔میر سجاول بھاری قدم اٹھاتا اندر داخل ہوا اور زرتاج کے پلنگ سے کچھ فاصلے پر کھڑا ہوگیا ۔زرتاج اسے دیکھتے ہی خوفذدہ سی ماں کے پیچھے جا کھڑی ہوئی تھی ۔
چاچا ! مجھے زرتاج سے اکیلے میں بات کرنی ہے ۔”اس بار میر نے اجازت طلب نہیں کی تھی ،دین محمد کو آگاہ کیا تھا اور زرتاج کی طرف قدم بڑھائے ۔
جی سائیں ! آپ ہی سمجھائیں ، ہماری تو کسی بات کا اس پر کوئی اثر نہیں ہورہا ۔دین محمد نے آہستگی سے جواب دیا کہ اس کے سوا اس کے پاس کوئی اور چارہ بھی نہیں تھا ۔
میر نے بڑھ کر زرتاج کا ہاتھ پکڑا ،وہ ماں کا پلو ہاتھ میں دبوچے کھڑی تھی۔میر نے اس سے پلو چھڑایا اور کمرے میں لے گیا ۔
زرتاج ٹرانس کی کیفیت میں اس کے ساتھ کھنچتی چلی گئی ۔اس بے ایمان کو اتنے دنوں بعد روبرو دیکھنے پر سانسیں بھی راستہ بھٹکنے لگیں تھی ۔زخم پھر سے ٹیس دینے لگے تھے ۔میر سجاول کے کپڑوں سے اٹھتی مسحور کن خوشبو گئے دنوں کی یاد دلا گئی ۔آنکھیں یکبارگی آنسؤوں سے لبریز ہوگئیں ۔
دوہاتھ ماروں گا تو سیدھی ہوجاؤ گی اور دماغ بھی ٹھکانے پر آجائے گا جو ضرورت سے کچھ ذیادہ ہی چل رہا ہے ۔
چار دن مجھ سے دور کیا رہی ہو ، زبان کینچی کی طرح چلنے لگ گئی ؟اس زبان کو کھینچ لوں گا ،جس سے تم نے میرے باپ کے سامنےمجھ سے شادی سے انکار کیا ہے۔”میر سجاول نے کمرے میں داخل ہوتے ہی اس کا منہ دبوچ لیا ۔زرتاج نے اس سے نظریں نہیں ملائیں تھیں۔
سر جھکا کر آیا ہوں۔۔۔۔۔۔معافی مانگ رہا ہوں ۔۔۔۔۔اپنی غلطی تسلیم کر لی ہے ۔۔۔۔۔اعتراف بھی کر رہا ہوں اور ازالہ بھی کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔پوری دنیا کہ سامنے بے عزت کیا ہے تو سب کہ سامنے عزت سے اپنا بھی رہا ہوں ۔۔۔۔۔اس لئے رشتہ بھیجا ہے ۔۔۔۔۔ایسا عاشق کہیں ملے گا ؟میرے رشتے سے انکار کرنے کی تمھاری ہمت کیسے ہوئی۔میر کی انگلیاں زرتاج کے گالوں میں دھنسی جا رہی تھیں ۔
جانتی نہیں ہو کہ تم صرف میر سجاول کی ہو ۔۔۔۔۔اگر بھول گئی ہو تو یاد دلا دیتا ہوں ۔ میر دانت بھینچے غضبناکی سے گویا تھا ۔یکدم ہی اس کے چہرےپر جھک گیا ۔زرتاج پھڑپھڑانے لگی مگر میر نے پوری قوت سے اسے جکڑ لیا تھا ۔
اب شادی تک اپنا منہ بند رکھنا ورنہ شادی کہ بغیر ہی لے جاؤں گا اور ذندگی بھر ایسے ہی اپنے ساتھ رکھوں گا پھر کوئی شکوہ زبان پر لائی تو وہ حشر کروں گاذندگی بھر یاد رکھوگی ۔میر نے پیچھے ہٹتے ہوئے اسے دھمکایا۔
میں انکار کروں گی ۔۔۔۔۔ایک بار نہیں ہزار بار کروں گی ۔آپ کیا سمجھتے ہیں ،اس طرح ڈرا دھمکا کر مجھے راضی کر لیں گے ۔۔۔۔۔میں اب ہر گز بھی آپ کی نام نہاد محبت کے جھانسے میں نہیں آؤں گی ۔
زرتاج نے اس کے پیچھے ہٹتے ہی اپنی بے قابو ہوتی سانسوں کے درمیان نفرت سے کہا ۔
مجھے آپ سے شدید نفرت ہے ۔میرا تماشہ بنانے کے بعد آپ کو میری عزت کا خیال آیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔جب میں آپ کی منتیں کرہی تھی تب یہ محبت کہاں سوئی ہوئی تھی جو اب یکدم جاگ اٹھی ہے ۔
آپ کو اس دن ایک بار بھی اس محبت کا خیال کیوں نہیں آیا تھا ،
میری ذات اتنی ارزاں تھی کہ آپ نے ایک پل میں روند ڈالی ۔
اس دن آپ نے میرے جسم کو ہی نہیں میری روح کو بھی زخمی کیا تھا ۔میرے مان کو ، میرے بھروسے کو توڑا تھا ۔۔۔۔۔۔میری آنکھوں سے خواب نوچ لئے تھے ۔
اس دن جس طرح آپ کا ضمیر مر گیا تھا ۔۔۔۔۔۔اسی طرح اب میرے احساسات بھی مردہ ہو چکے ہیں ۔
زرتاج نےسسکیوں کے درمیان اس کاگریبان پکڑکر پے در پے کئی تھپڑ جڑے پھر وہ رخ موڑ گئی تھی ۔میر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی ۔
محبت ہی توکرتا ہوں تم سے اس لئے اتنی شرافت سے سر جھکا کر اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا ۔۔۔۔۔ورنہ میر سجاول اپنے باپ کے سامنے بھی نہیں جھکتا ۔تبھی تو اتنی اکڑ دکھا رہی ہو مگر مجھے اکڑ نکالنا بھی آتی ہے۔اس نے زرتاج کا بازو پکڑ کر رخ اپنی جانب موڑا اور اس کا گلا پکڑ لیا ۔میر نےسختی سے اس کی نازک گردن دبوچ لی ۔
زرتاج کی آنکھیں باہرکو ابلنے لگیں ۔آنسؤوں کی دھار آنکھوں کے کناروں سے بہہ رہی تھیں ۔وہ خود کو چھڑانے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی۔
بولو ، کرنی ہے شادی ۔۔۔۔۔یا نہیں کرنی ؟اس نے جھٹکا دیتے ہوئے سرد لہجے میں پوچھا ۔
زرتاج نے شدید گھٹن کے باوجود بھی نفی میں آنکھوں سے اشارہ کیا۔
زری ! اب اگر انکار کیا تو سچ میں تمھیں مار ڈالوں گا ،اس سے ذیادہ برداشت نہیں ہے مجھ میں ۔۔۔۔۔۔۔میرے غصے کو ہوا مت دو ۔
بولو ، اب بھی نہیں ۔۔۔۔۔میر نے غراتے ہوئے ہاتھ کا دباؤ مزید بڑھایا ۔
زرتاج کو لگا اس کا دم نکلنے والا ہے یا پھر اس کا دماغ پھٹ جائے گا یا وہ اگلے پل تک ذندہ نہیں رہ پائے گی ۔اس نے بے بسی سے اثبات میں سر کو جنبش دی ۔میر نے فوراً اس کا گلا چھوڑ دیا ۔وہ قہر آلود نظروں سے زرتاج کو گھور رہا تھا ۔
زرتاج کھانستے ہوئے اوندھے منہ پلنگ پر گری اور گہرےگہرے سانس لینے لگی ،اس میں کھڑے رہنے کی سکت باقی نہیں رہی تھی۔وہ دونوں ہاتھوں سے اپنا گلا سہلا رہی تھی ۔
دلبر سائیں ! اگر اجازت ہو تو اٹھائیس کی بجائے کل ہی بارات لے کر آجاؤں ؟ وہ زرتاج کے برابر میں بیٹھ گیا اور بھرپور نظروں سے دیکھتے ہوئےمعصومیت سے پوچھا ۔اس نے زرتاج کےہاتھ گلے سے ہٹائے اور خود نرمی سے سہلانے لگا ۔
اب میرے لئے مزید صبر کرنا نا ممکن ہو گیا ہے ۔وجہ سے تو اب تم انجان نہیں رہی ہو۔وہ مسکراہٹ دبائے ڈھٹائی سے گویا تھا پھر جھک کر اس کے گلے پر پڑنے والے اپنے ہاتھوں کے نشانات کا جائزہ لینے لگا ۔
زرتاج کی گلابی گردن پر اس کی انگلیوں کے نشانات ابھر آئے تھے ۔میر سجاول نے اس کی گردن میں سر گھسا کر اپنے ہونٹ رکھ دئیے۔
زرتاج نے بدک کر دونوں ہاتھ اس کے سینے پر جما کر دھکا دیا اور پلک جھپکتے میں دور جا کھڑی ہوئی۔میر کا بلند خوبصورت قہقہہ بے ساختہ تھا ۔
تمھاری ناراضگی اور نفرت بجا ہے ۔۔۔۔۔شادی کے بعد یہ بے رخی ۔۔۔۔قطعیت ،ناز نخرے سر آنکھوں پر اٹھاؤں گا۔میں تمھارا گناہ گار ہوں اور میرے نذدیک اس گناہ کا کفارہ ہماری شادی ہے ۔ وہ دھیمے قدموں سے زرتاج کے پاس آیا اور سنجیدگی سے کہتے ہوئے دونوں ہاتھوں میں اس کا چہرہ تھام لیا ۔
زرتاج نے آہستگی سے اس کے ہاتھ جھٹک دئیے ۔اس کی آنکھیں اب بھی جھلملا رہی تھیں ۔
دلبر سائیں ! میری جان ہو ناں ۔۔۔۔۔۔۔کیا تم ایک بار مجھے معاف نہیں کر سکتیں ؟ میں مرتے دم تک تمھارا غلام بن کررہوں گا ۔وہ ہاتھ جوڑے عاجزی سے مخاطب تھا ۔
میری طرف دیکھو ۔۔۔۔۔۔۔یہ دیکھو ، ہاتھ جوڑ رہا ہوں ۔میر نے جڑے ہاتھوں کو ماتھے سے لگایا ۔
پلیز دلبر سائیں ! مان جاؤ ، اب غصہ تھوک دو ۔ذندگی بھر تمھارا ہر حکم مانوں گا ۔بس ایک بار معافی دے دو ۔وہ ہاتھ جوڑے بولے جا رہا تھا ۔
زرتاج نے بھی اس کی ہر معافی کے جواب میں فقط خاموشی کو اس کی سزا مقرر کر دیا تھا ۔ دل میں اٹھنے والے درد کو دبائے اس نے میر سجاول کے جڑے ہاتھوں پر مکمل بے نیازی ظاہر کی ۔
میر چند لمحے آس بھری نظروں سے اسے دیکھتا رہا پھر سر جھٹک کر خاموشی سے اپنے سلکی گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا پلٹ گیا ۔
“”””””””””””””””””
عروش سوپ کا پیالہ ایک ہاتھ میں تھامے دوسرے ہاتھ سے شاہ کو سوپ پلا رہی تھی ۔
عروش!یہ سوپ تم خود بنا کرلائی ہو ؟ شاہ نے زرا مختلف ذائقہ محسوس کیا تو اس کا ہاتھ روک کر استفسار کیا ۔
جی ۔۔۔۔۔
یار ! گھر میں اتنے نوکر ہیں ۔۔۔۔تم کیوں خود کو اتنا تھکاتی ہو ۔دن رات میری خدمتوں میں لگی رہتی ہو اور جب تھوڑی سی دیر کے لئے گھر جاتی ہو تب بھی آرام نہیں کرتی ۔ شاہ قدرے غصے سے بولا ۔
اف ۔۔۔۔سوپ بنانے میں کیسی تھکن ، جھٹ پٹ بن جاتا ہے ۔اس نے چٹکی بجا کر شاہ کو مطمئین کرنا چاہا ۔
مگر مجھے تمھارا یہ سب کام کرنا پسند نہیں ۔پلیز ! کچھ تو میرے دل کا خیال کرو ۔ شاہ کا انداز التجائیہ تھا ۔
اچھا ناں ! اب نہیں کروں گی مگر اب یہ تو ختم کریں۔اس نےپیالے کی طرف اشارہ کرکے شاہ کو ٹالنے کی کوشش کی ۔
گھریلو کام کاج سے تمھارے مخملی ہاتھوں پر زرا سی بھی خراش آئی تو مجھ سے برداشت نہیں ہوگا ۔وہ پیالے کو پرے کرتے ہوئے سنجیدگی سے بولا ۔ شاہ کی سوئی وہیں اٹکی ہوئی تھی ۔
اچھا بابا ! اب نہیں کروں گی ۔۔۔۔۔۔یہ تو ختم کریں ،پھر گھر جا کر پیکنگ بھی کرنی ہے ۔ہوسکتا ہے تھوڑی شاپنگ بھی کرنی پڑ جائے۔
آپ کی یو ۔کے کی فلائیٹ میں چند دن تو رہ گئے ہیں ،آپ کو یاد نہیں؟
عروش نے اسپون اس کے منہ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ۔
مجھے کہیں نہیں جانا ۔۔۔شاہ نے نروٹھے پن سے جواب دیا ۔
کیوں نہیں جانا ؟
کیوں کہ مجھے معلوم ہے ، میرا علاج کہیں نہیں ہے ۔۔۔۔۔مجھے ساری ذندگی اسی معذوری کے ساتھ گزارنی ہے ۔اس نے مایوسی سے کہتے ہوئے چہرہ دوسری طرف موڑ لیا ۔
شاہ ! پلیز ! میری طرف دیکھیں ۔۔۔۔۔آپ پر اس قدر مایوسی سوٹ نہیں کررہی ۔۔۔۔۔یہ وہ معظم شاہ تو نہیں جس نے چند گھنٹوں میں مجھے ڈھونڈ لیا تھا اور بے خوف و خطر ایک درندے کے چنگل سے آزاد کروانے پہنچ گیا تھا ۔اس نے دونوں ہاتھوں میں شاہ کا چہرہ تھام کر اس کا رخ اپنی جانب کیا ۔
مکتوم بھائی نے تمام تر تسلی کر لینے کے بعد ہی ڈاکٹرز سے اپائینمنٹ لی ہے ۔ آپ کی رپورٹس میں نیگیٹوٹی کے چانسز مائینر ہیں ۔مکتوم بھائی خود ڈاکٹر ہیں بغیر تسلی کئے وہ کوئی فیصلہ کبھی نہیں کرتے ۔
مجھے مکتوم بھائی پر پورا بھروسا ہے ۔
سب سے بڑھ کر مجھے اللہ پاک پر بھروسا ہے ۔مجھے پوری امید ہے آپ پھر سے پہلے کی طرح اپنے پیروں پر چلنے لگیں گے ۔وہ پر اعتماد لہجے میں بولی ۔
تم ساتھ چل نہیں سکتی ، میں وہاں تمھارے بغیر کیسے رہوں گا ۔مجھے تمھاری فکر رہے گی ۔۔۔۔۔۔تمھیں ایسی حالت میں چھوڑ کر کیسے جا سکتا ہوں ۔وہ پریشانی سے پیشانی مسلنے لگا ۔
میں یہاں اکیلی تو نہیں ہوں ،سب موجود ہیں اور پھر بس کچھ عرصے کی تو بات ہے ۔عروش نے یوں ظاہر کیا جیسے کوئی مسئلہ ہی نہیں مگر درحقیقت ڈلیوری کے دوران شاہ کی غیر موجودگی کا احساس اسے چبھ رہا تھا ۔
شاہ نے اس کی آنکھوں میں سوچ کی چبھن محسوس کی تو اس کا سر اپنے کاندھے سے لگا لیا ۔
یہی وجہ ہے کہ میں ابھی نہیں جانا چاہتا ۔۔۔۔۔ میرا ٹریٹمنٹ اتنا ضروری نہیں جتنی تمھارے پاس میری موجودگی ضروری ہے ۔وہ عروش کے بالوں میں انگلیاں چلا رہا تھا ۔
لیکن میں جلد از جلد آپ کو چلتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہوں اس کے لئے آپ کی کچھ دن کی جدائی مجھے منظور ہے اور اب آپ ضد نہیں کریں گے ۔۔۔۔۔خوشی خوشی جائیں گے ۔پلیز ! میرے لئے ۔عروش نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر بات مکمل کی ۔
شاید میں تمھیں چھوڑ کر کبھی نہیں جاتا مگر تمھارا یہ انداز بہت خوبصورت ہے ۔شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا اور اس کا ہاتھ تھام کر انگلی کو لبوں سے لگا لیا ۔
“””””””””””””””””
میر سبطین نے شیرازی ولا کے سامنے گاڑی روکی تو گارڈ کو حیرت سے غش آنے لگا ۔
مکتوم شاہ گھر میں موجود ہیں ۔۔۔۔؟ میر سبطین نے مسکراتے ہوئے دریافت کیا ۔ وہ گارڈ کی حیرت پر خاصا محفوظ ہوا تھا ۔
جی بلکل موجود ہیں ۔ گارڈ نے مؤودبانہ کہتے ہوئے دروازہ کھلوایا ۔
میر سبطین اندر گاڑی بڑھا لے گیا ۔
وہ گاڑی پارک کرنے کے بعد ملازم کی رہنمائی میں وسیع و عریض ڈرائینگ روم تک پہنچا تھا ۔
وہ صوفے پر ٹانگ پر چڑھائے بیٹھا ارد گرد کا جائزہ لے رہا تھا ،تبھی مکتوم شاہ نے ڈرائینگ روم میں قدم رکھا ۔اسے میر سبطین کو دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی ۔
میر سبطین کی نظر اس پر پڑی تو اپنی جگہ سے اٹھ کر مکتوم شاہ سے بغل گیر ہوا ۔
مجھے یقین تھا ، تم مجھے انوائیٹ کرنے ضرور آؤگے مگر شیرازی ولا آؤگے اس بات کا اندازہ نہیں تھا ۔بحرحال تمھیں یہاں دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ۔مکتوم شاہ گرمجوشی سے ملتے ہوئے بولا ۔
تم صحیح کہہ رہے ہو ،اگر صرف تمھیں انوائیٹ کرنا ہوتا تو میں ہاسپٹل ہی جاتا مگر میں پورے شیرازی ولا کو انوائیٹ کرنا چاہتا تھا اس لئے یہاں آیا ہوں ۔ میر سبطین صوفے پر بیٹھتے ہوئے کارڈ بڑھایا ۔
دیٹس گڈ ۔۔۔مکتوم شاہ نے کارڈ پر سرسری نظر دوڑائی ۔
معظم شاہ کی اب کیسی حالت ہے ۔۔۔۔ اسے ہوش تو آگیا تھا ناں ؟
ہمم ۔۔۔۔ اب وہ بہتر ہیں ۔امپروومنٹ تو کوئی نہیں لیکن میں انہیں نارووڈ لندن کے ہاسپٹل میں ٹریٹمنٹ کے لئے لے جارہا ہوں ،انشاءاللہ وہاں ان کا علاج اچھے طریقے سے کیا جائیگا ۔وہاں کے اسپیشلسٹ سے میری بات ہو چکی ہے ۔مکتوم شاہ نے تفصیلاً جواب دیا ۔
اس کا مطلب ہے تم شادی بھی اٹینڈ نہیں کر سکوگے ، کیونکہ شادی کے فنکشنز دو دن بعد اسٹارٹ ہیں ۔
مہندی تو اٹینڈ ہوجائیگی ۔ فلائیٹ میں ابھی ٹائم ہے ۔ پوری شادی تو اٹینڈ نہیں کر سکوں گا ۔ جس کا مجھے بے حد افسوس رہے گا ۔ آخری جملہ اس نے دل میں کہا تھا ۔ وہ تصور کی آنکھ سے رانیہ کو سجا سنورا دیکھ رہا تھا ۔
میر سجاول نے بہت عقلمندانہ فیصلہ کیا ہے ۔ اس کے فیصلے پر مجھے دل سے خوشی ہوئی ہے ۔اس فیصلے سے زرتاج کی کھوئی ہوئی معصومیت تو واپس نہیں لوٹے گی مگر معاشرے میں اسے عزت اور مقام ضرور مل جائیگا ۔میر سجاول کا نام اس کے نام سے جڑ جائیگا تو لوگوں کے منہ خود بخود بند ہو جائیں گے ۔مکتوم شاہ نے میر سجاول کے فیصلے کو دل سے سراہا ۔
میر سجاول کا فیصلہ حقیقتاً بہترین ہے ۔اس نے اعتراف کر کے ہم سب کو ہی حیران کر دیا ہے ۔
مجھے تو اس سے اتنی جذباتیت کی بھی امید نہیں تھی کہ وہ یہ سب کر گزرے گا کیونکہ وہ ہمیشہ سے کریکٹر وائز نیٹ اینڈ کلین ہی رہا ہے پھر نجانے کیوں اس پر یہ شیطانیت سوار ہوئی بحرحال وقت رہتے اسے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا یہی بہت ہے ۔میر سبطین بھی اس کا ہم خیال تھا ۔
یار ! اب اجازت دو ۔۔۔۔بہت کام پڑے ہیں ۔شادی میر صاحب کے شایانِ شان ہونی ہے اور وقت ان کی خواہش کے مطابق بے حد کم ہے ۔ میر سبطین نے چائے ختم کی اور جانے کی اجازت لی ۔
اماں سے تمھیں ضرورملواتا وہ تم سے مل کر بہت خوش ہوتیں مگر انہیں حویلی کے اس حصے میں آنے کی پرمیشن نہیں ہے ۔
وہ اکثر پرانی باتوں کا ذکر کرتے ہوئے تمھیں یاد کرتی ہیں ۔تم انہیں بہت اچھی طرح یاد ہو اور تمھاری شرارتیں بھی ۔مکتوم شاہ اس کے ساتھ ہی ڈرائینگ روم سے باہر نکل آیا ۔میر سبطین کھل کر مسکرایا ۔
اماں کو شادی میں ضرور لے کر آنا ۔ میں وہاں ان سے ملاقات کر لوں گا ۔مجھے بھی وہ یاد ہیں ۔
میر سبطین بولتے بولتے خاموش ہوگیا ۔ دونوں کی نظر ایک ساتھ صفدر شاہ پر پڑی تھی ۔
صفدر شاہ پشت پر ہاتھ باندھے انہیں ہی گھور رہے تھے ۔
جاری ہے
