59.7K
43

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 35

عروش سلام پھیر کر کافی دیر سے تسبیح پڑھ رہی تھی ۔موبائل کی بیل پر اٹھ کر ٹیبل سے موبائل اٹھایا ۔نمبر دیکھ کر چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی ۔
شاہ ! آپ خیریت سے پہنچ گئے تھے،سفر میں کوئی پریشانی تو نہیں ہوئی؟
وہ پوچھ رہی تھی ۔
نہیں ، میری جان سفر بہت دشوار گزار تھا ۔شاہ گنبھیر آواز میں بولا ۔
کیوں ۔۔۔۔؟ عروش بے ساختہ بولی ۔
تمھاری یاد ستاتی رہی ،ایک منٹ بھی سکون سے نہیں گزرا ۔وہ بے چارگی سے بولا ۔اسکی آواز میں مسکراہٹ کا تاثر تھا ۔
مجھے بھی پوری رات نیند نہیں آئی ۔ آپ کی باتیں یاد آرہی تھیں ۔صبح کے وقت آنکھ لگی ۔وہ دھیمے لہجے میں بول رہی تھی ۔
تم اپنی نیندیں خراب مت کرو ۔میں پوری کوشش کروں گا ، جلد سے جلد واپس آجاؤں ۔وہ مضبوط لہجے میں بولا ۔
شاہ ! جب تک ڈاکٹرز خود نا بھیجیں ، تب تک آپ کوئی بھی کوشش نہیں کریں گے ۔ عروش فوراً سے پیشتر بولی ۔
ایک تو میرے بے بس ہونے سے سب کو موقع مل گیا ہے ۔۔۔۔۔یہاں مکتوم شاہ مجھ پر حکم چلا رہا ہے ،وہاں سے تم ۔ شاہ خفگی سے گویا ہوا ۔
ہم سب آپ کو مکمل صحتیاب ہونا دیکھنا چاہتے ہیں ۔آپ کو ہمارا پیار بھی برا لگ رہا ہے ؟ وہ تعجب سے بولی ۔
باقی سب کی چھوڑو ۔۔۔۔۔تم اپنی بات کرو ، مجھے کتنا چاہنے لگی ہو؟
شاہ نے یکدم بات بدلی ۔
خود سے بھی ذیادہ ۔ عروش بے ساختہ بولی پھر جھینپ گئی ۔شاہ نے قہقہہ لگایا ۔
اظہارِ محبت میں شرمانے والی کیا بات ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم محبوبہ نہیں ،میری بیوی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بیوی پر تو کھلم کھلا اظہار بھی جائز ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس طرح ہزبینڈ وائف کے درمیان محبت بڑھتی ہے۔شاہ نے دور بیٹھ کر بھی اس کی جھینپ محسوس کر لی تھی ۔
ہزبینڈ وائف کی محبت اظہار کی محتاج نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔یہ تو خود بخود پنپنے لگتی ہو ۔ عروش دھیمے لہجے میں بولی ۔
واؤ ۔۔۔۔۔ میری دبو سی بیوی کو تو بڑی بڑی باتیں کرنا آگئیں ہیں ۔
کبھی تو نظر بھی نہیں اٹھائی جاتی تھی ۔ شاہ خاصا محفوظ ہوا ۔
آپ کی صحبت کا اثر ہے ، وہ ترکی بہ ترکی بولی ۔
شکر ہے ، اثر مثبت ہے ۔وہ ذومعنی لہجے میں بولا ۔عروش سمجھ کر مسکرائی ۔
“”””””””””””❤️””””””””””””
وہ دونوں تر و تازہ سجے سنورے ایک ساتھ چلتے ہوئے ڈائیننگ روم میں پہنچے تھے ۔میر سجاول نے اپنی خواہش پر زرتاج کے لئے شاکنگ پنک اور لئیٹ پنک کے امتزاج کا ڈریس منتخب کیا تھا ۔وہ اپنی اسکن سے ملتے جلتے رنگ کے سوٹ میں بلا کی پرکشش لگ رہی تھی مگر چہرے پرسوگواری چھائی ہوئی تھی ۔
پورا خاندان ہی ڈائینگ روم میں موجود تھا ،ان دونوں کو دیکھ کر سوائے فائزہ بیگم کے سب کے چہرے کھل گئے ۔انہوں نے زرتاج کے بھیگے بالوں کو نفرت سے دیکھا ۔
میر نے بلند آواز میں سلام کیا جبکہ زرتاج کی آواز معمول سے بھی دھیمی تھی ۔ وہ دونوں برابر چئیر پر بیٹھ گئے ۔میر نے سب سے پہلے زرتاج کی پلیٹ میں آملیٹ میں ڈالا ، اس کا دیھان خود سے ذیادہ زرتاج کے ناشتے پر تھا ۔ وہ گاہے بگاہے کچھ نا کچھ زرتاج کے سامنے رکھ رہا تھا۔
یہی اندازے فکر فائزہ بیگم کو بری طرح کھٹک رہا تھا ۔
گڈمارننگ بھابھی ! نئی ذندگی کی پہلی صبح بہت بہت مبارک ہو ۔ رانیہ نے جھک کر زرتاج کے کان میں سرگوشی کی ۔زرتاج مسکرا کر رہ گئی۔
میر سائیں ! شام کے انتظامات پر ایک نظر ڈال لینا ، ایسا نا ہو کوئی کمی رہ جائے اور تم بعد میں ہم سب پر برسو ۔ میر جعفر نے شگفتہ لہجے میں کہا ۔
کوئی کمی رہنے کا تو سوال ہی نہیں اٹھتا ، پھر بھی میں دیکھ لوں گا ۔ میر نے چائے کا سپ بھرتے ہوئے جواب دیا ۔
اوکے۔آپ سب ناشتہ کریں ،میں اب مردانے میں جا رہاہوں ،دیکھوں مہمانوں کی تواضع کس طرح ہورہی ہے ۔ویسے تو غضنفر بھائی وہاں موجود ہیں ۔میر جعفر گھوم کر آئے اور زرتاج کے سر پر ہاتھ رکھا۔
بھابھی ! جلدی سے واچ دکھائیں ۔ پورے گاؤں میں آپ کی منہ دکھائی کے چرچے ہورہے ہیں ۔ ہمیں تو سجاول بھائی نے جھلک بھی نہیں دکھائی تھی پھر بھی رات سے بار بار نظروں کے سامنے آپ کی واچ گھوم رہی ہے ۔رانیہ میر جعفر کے نکلتے ہی بے صبری سے آنکھیں گول گول گھماکر بولی ۔
زرتاج نے جھجکتے ہوئے اپنی نازک کلائی اس کے سامنے بڑھائی ۔
واؤ ۔۔۔۔۔۔ بہت خوبصورت ہے ۔جتنا سوچا تھا اس سے بھی ذیادہ مگر ۔ مگر ۔ مگر ۔آپ کے ہاتھوں سے ذیادہ نہیں ۔ وہ کھلکھلا کر ہنسی ۔زرتاج کا چہرہ شرم سے سرخ پڑ گیا ۔
بس ، بس ۔۔۔۔۔ اب نظر مت لگا دینا ۔ان کی نئی نئی شادی ہوئی ہے ۔ حنین نے شرارت سے ٹوکا ۔
ہونہہ ۔۔۔۔ میری نظر ویسی نہیں ہے ۔اس نے ناک چڑھائی ۔
نا بابا ، کیسی بھی ہو لیکن تم میری دلہن کی ذیادہ تعریفیں مت کرو ۔پہلے ہی نازک سی ہے بے چاری ۔۔۔۔۔۔ اسے کچھ ہو میں برداشت نہیں کر سکتا ۔میر سجاول مصنوعی سنجیدگی سے بولا ۔
سجاول بھائی آپ کو تو بس میری ٹانگ کھینچنے کا موقع چاہئے ۔وہ فوراً برا مان گئی ۔
میر سائیں ! ابھی سے اتنا سر پر مت چڑھاؤ کے بعد میں اتارنا مشکل ہوجائے ۔فائزہ بیگم بلآخر بول پڑیں ۔
اماں ! کون کمبخت اتارنا چاہتا ہے ، میں تو چاہتا ہوں یہ ذندگی بھر میرے سر پر یوں ہی سوار رہیں۔ اس نے محبت پاش نظروں سے زرتاج کو دیکھا ۔
کرو چونچلے ۔ ہمیں کیا ، بعد میں خود ہی سر پکڑ کر روؤ گے ۔ وہ منہ بنا کر بولیں ۔
اے لڑکی ! جاؤ،میرے روم سے بی بی کی چادر لے کر آؤ ۔ میر سجاول نے برتن سمیٹتی ملازمہ کو حکم دیا ۔
کیوں ، یہ کہاں جارہی ہے ؟ فائزہ بیگم کو پھر مروڑ اٹھا ۔
ڈاکٹر کے پاس لے جارہا ہوں ، بیگم صاحبہ کی طبیعت ناساز ہے ۔ میر سجاول دھیرے سے کھنکار تے ہوئے بولا ۔
زرتاج نے چونک کر سر اٹھایا ۔ میر سجاول نے اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں چپ رہنے کا اشارہ کیا ۔
کل تک تو ٹھیک تھی ، مجھے تو ابھی بھی ٹھیک ٹھاک لگ رہی ہے ۔کیا ہوا ہے طبیعت کو ؟ فائزہ بیگم مشکوک ہوئیں ۔
ٹمپریچر ہو گیا ہے ، شاید تھکن کی وجہ ہے ۔ ڈاکٹر چیک اپ کرکے میڈیسن لکھ دیگی تو آرام آجائے گا پھر شام کو ولیمہ بھی ہے ،ذیادہ بیمار نا ہوجائے ۔وہ فکرمندی سے بولا ۔فائزہ بیگم بیٹے کا منہ دیکھ کر رہ گئیں ۔وہ ماں تھیں بیٹے کا جھوٹ سچ سب جانتی تھیں ۔
“””””””””””””❤️”””””””””””””
آپ نے جھوٹ کیوں بولا ، میں تو بلکل ٹھیک ہوں ۔ زرتاج فرنٹ سیٹ پر بیٹھتے ہی بگڑ کر بولی ۔
یار ! پورا دن تمھارے ساتھ گزارنا چاہتا تھا ۔دیکھ رہی ہو ،گھر میں کتنا رش لگا ہوا ہے ۔ میں کیسے تمھیں اپنے ساتھ رکھوں ۔ دن میں تمھیں لے کر روم میں بھی نہیں رہ سکتا ۔ اس نے زرتاج کے شانے پر بازو پھیلا کر معنی خیزانداز میں بتایا۔
شام میں ولیمہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔میں سب کی موجودگی میں رات تک تمھیں دیکھنے کے لئے بھی ترس جاتا ۔اس لئے بہانہ بنا کر لایا ہوں ۔
فارم ہاؤس پر ہمیں ڈسٹرب کرنے والا کوئی نہیں ہوگا ۔میر نے گہری نظروں سے زرتاج کو دیکھا ۔
اچھا تھا ناں ، اس بہانے ہی سہی میں پورا دن آپ سے دوررہتی ۔۔۔۔۔۔۔آپ کی موجودگی میرے لئے ناقابلِ برداشت ہے ۔زرتاج نے ونڈ اسکرین پر نظر جمائے صاف گوئی سے کہا ۔
مگر اب تو ذندگی بھر کا ساتھ ہے ، مجبوراً ہی سہی برداشت تو کرنا ہوگا۔
میر نے ہلکے پھلکے انداز میں کہتے ہوئے اس کا گال چھوا ۔
دلبر سائیں ! پلیز ! تم چادر سے چہرہ کور کرلو ۔
آپ کو اب بھی یہ سب مذاق لگ رہا ہے کیونکہ جو آپ کے دل نے کہا وہ آپ نے کیا ۔۔۔۔۔۔۔ جو آپ نے چاہا ،وہ پا لیا مگر اللہ کا انصاف ابھی باقی ہے اور مجھے اس پر پورا بھروسہ ہے وہ میرا انصاف ضرور کرے گا ۔ آپ ایک دن ضرور پچھتائیں گے ۔ زرتاج نے اس کا ہاتھ جھٹک کر آنکھوں میں اتری نمی کو پوروں پر سمیٹا ۔
مجھے بد دعا دے رہی ہو ۔۔۔؟ میر نے ایک جھٹکے سے بیچ سڑک پر گاڑی کو بریک لگایا ۔
زرتاج نے چونک کر اس کی تیزی سے سرخ ہوتی آنکھوں میں دیکھا ۔
بد دعا ہی سمجھ لیں ۔ آپ نے میرے ساتھ جو کیا ہے ، اس کے بعد صرف دل سے بدعا ہی نکل سکتی ہے ۔ وہ حد درجہ بے مروت ہو رہی تھی ۔
میر نے اس کے جواب پر مکمل خاموشی اختیار کرلی اور گاڑی واپس حویلی کےراستے پر ڈال دی ۔حویلی کے پورچ میں پہنچ کر اس نے فرنٹ سیٹ کو ان لاک کیا ۔زرتاج خاموشی سے اتر کر اندر کی طرف بڑھ گئی ۔
“””””””””””❤️”””””””””””
عروش ! کیا کرہی ہو ؟ رخسانہ دروازہ ناک کر کے اندر چلی آئیں ۔
نماز پڑھ رہی تھی خالہ جان ، فری ہو کر نیچے آنے ہی والی تھی ۔ عروش نے بیڈ سے اٹھنے کی کوشش کی ۔
ارے بیٹا ، بیٹھی رہو۔میں تو یہ پوچھنے آئی تھی ۔شام کو ہم سب ہی میر سجاول کے رسیپشن میں شرکت کے لئے جارہے ہیں ،ثمینہ بھی جائیگی ۔
جی ، امی نے مجھے بتایا تھا ۔
میر سبطین اس کے لئے علیحدہ کارڈ دے گیا تھا ۔تم بھی تیاری کر لو۔
ہم لوگ زرا جلدی جائیں گے ۔ رخسانہ بیگم اپنے پروگرام سے آگاہ کر رہی تھیں ۔عروش چند ثانیے خاموش رہی پھر سنبھل کر بولی ۔
خالہ جان ! میں بھی ضرور شرکت کرتی مگر میں اس کنڈیشن میں پارٹی اٹینڈ کرنا نہیں چاہتی ۔ پلیز ! آپ سب چلے جائیں ، میں پھر کبھی چلی جاؤں گی ۔عروش نے بات بنانے کی کوشش کی ۔اسے شاہ کی التجا یاد تھی ۔
پگلی ! اس میں شرمانے والی کیابات ہے ، ہم سب ہی اس مراحل سے گزرے ہیں اور شادیاں بھی اٹینڈ کی ہیں ۔ تم بس تیاری کر لو ۔
بیس برس بعد یہ موقع آیا ہے ۔میری خواہش ہیں ہم سب شرکت کریں۔
شاہ کی وجہ سے میں نے دو فنکشنز اٹینڈ نہیں کئے کہ وہ کہیں دل میں خیال نا کرے مگر آج تو شرکت کرنا لازمی ہے ورنہ ان لوگوں کو محسوس ہوگا ۔
خالہ جان ! پلیز ! یہ میری ریکوئیسٹ سمجھ لیں ، مجھے نہیں جانا ۔اس نے منت کی ۔رخسانہ چند پل اسے دیکھتی رہیں پھر توقف سے بولیں۔
چلو ٹھیک ہے ، جیسی تمھاری مرضی ۔کوئی زبردستی نہیں ہے مگر اس خاص موقع پت تم ساتھ چلتیں تو اپنے ننھیال کے سبھی رشتے داروں سے مل لیتیں ۔۔۔۔۔۔۔وہ سب بھی تمھیں دیکھ کر بہت خوش ہوتے ۔سندس والے زخم کو آرام مل جاتا ۔رخسانہ بیگم ہر حال میں اسے اپنے ساتھ لے جانا چاہتی تھیں اس لئے بولتی چلی گئیں ۔
امی تو جارہی ہیں ناں ، میں پھر کبھی امی کے ساتھ چلی جاؤں گی تو سب سے مل لوں گی لیکن مجھے دیکھ کر ان کا کونسا زخم بھر جائے گا ؟عروش اس موضع پر مسلسل بے چین ہورہی تھی ۔
خالہ جان ! سندس کون تھی ؟ عروش الجھ کر پوچھ رہی تھی ۔
کچھ نہیں ، بس بے خیالی میں ناجانے کیا کہہ گئی ۔ میں جا کر تیاری کرتی ہوں ۔ تم آرام کرو ۔وہ یکدم گھبرا کر کھڑی گئیں ۔
پلیز !خالہ جان!آپ کو بتانا ہوگا ، امی بھی ہمیشہ کچھ نا کچھ چھپاتی رہتیں ہیں۔آج آپ کو سب کچھ بتانا ہوگا ،دونوں خاندانوں کے درمیان دشمنی کی وجہ کیا تھی ۔ امی اپنے ہی گھروالوں سے اتنے عرصے تک کیوں نہیں ملتیں تھیں اور یہ سندس کون ہے ۔۔۔۔۔۔؟
عروش کو آج موقع مل گیا تھا ۔ وہ رخسانہ بیگم کے سر ہونے لگی ۔
دیکھو عروش ! یہ باتیں ہم پھر کبھی کریں گے ، ابھی تمھاری کنڈیشن ایسی نہیں کے تم اسٹریس لو ۔
میرا وعدہ ہے ، میں صحیح وقت آنے پر تمھیں سب کچھ بتا دوں گی ۔رخسانہ بیگم نے اسے ٹالنے کی کوشش کی۔
عروش بے بسی سے ان کی طرف دیکھتی رہ گئی ۔ رخسانہ بیگم فوراً سے پیشتر کمرے سے نکل گئیں ۔
“”””””””””””❤️””””””””””””
وہ دن بھر سلگتا ہوا فارم ہاؤس پر تنہا بیٹھ کر ڈرنک کرتا رہا تھا ۔ پورا دن وہاں گزارنے کے بعد شام ڈھلے حویلی لوٹا مگر پھر بھی اندر نہیں آیا تھا ۔مردانے میں ہی مہمانوں کے ساتھ بیٹھا رہا ۔
بیوٹیشن زرتاج کو تیار کرنے کے بعد سامان سمیٹ رہی تھی ۔ اس کی ہیلپر تھک کر صوفے پر پاؤں پسارے بیٹھ گئی ۔تبھی میر سجاول بغیر دستک دئیے روم میں داخل ہوا ۔اس نے ایک سخت نظر ان دونوں پر ڈال کر بیوٹیشن کو متوجہ کیا ۔
محترمہ ! یہ سامان وغیرہ بعد میں سمیٹ لینا ۔ ڈنر کے بعد آپ کو کراچی بھجوا دیتا ہوں ۔ فی الحال آپ گیسٹ روم میں جا کر آرام کریں ۔میر نے کھڑے کھڑے بیوٹیشن کو حکم دیا ۔
اوکے سر ۔ وہ دونوں انتہائی جاذب نظر الٹرا ماڈرن لڑکییاں تھیں ۔میر کے اکھڑ روئیے پر جزبز ہوکر فوراً سے پیشتر روم سے نکل گئیں ۔
زرتاج ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی مضطرب سی اپنی چوڑیوں کو چھیڑ رہی تھی ۔
گاڑی میں ہونے والے واقعے کی وجہ سے اسے میر سجاول کی موجودگی سے گھبراہٹ ہورہی تھی ۔
وہ ٹی پنک کلر کی اسٹائیلش میکسی میں ملبوس تھی ۔میچنگ جیولری اور اونچا سا ہئیر اسٹائل ، جس پر بہت اسٹائل سے دوپٹہ سیٹ کیا گیاتھا ۔ زرتاج کانچ کی گڑیا محسوس ہورہی تھی ۔
میر صبح کی تلخی بھلائے ، اس کی طرف کھینچا چلاگیا ۔اسے ایک بار پھر اپنی قسمت پر رشک آرہا تھا ۔زرتاج کی مکمل دلہن کے روپ میں اپنے
بیڈروم میں موجودگی نے اسے اندر تک سرشار کر دیا ۔
وہ پورادن ایک بار بھی اس کے سامنے نہیں آیا تھا ۔ زرتاج کی متلاشی نظریں سارا دن میر کو ڈھونڈتی ہی رہیں مگر اس نے دوبارہ حویلی کے اندرونی حصے میں قدم نہیں رکھا تھا ۔اب وہ آگیا تھا تو دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہورہی تھیں ۔سانسوں کی رفتار تیز ہوگئی تھی ۔
اب تو خوش ہو ناں ۔۔۔۔۔۔ پورا دن تم سے دور رہا ہوں ،میری موجودگی تمھارے لئے ناقابلِ برداشت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میری غیر موجودگی نے یقیناً سکون فراہم کیا ہوگا ۔وہ بغور اس کا جائزہ لیتے ہوئے ،دن بھر کی دوری کا غصہ اترنے کے لئے کٹیلے لہجے میں بولا ۔
اتنا ہی میری خوشی کا خیال ہے تو مجھے طلاق دے دیں ،تاکہ میں اپنی بقیہ ذندگی بھی سکون سے گزار سکوں ۔ زرتاج کا لہجہ اس سے ذیادہ کاٹ دار تھا ۔
جتنی گالیاں مجھے دینی ہیں دو ۔۔۔۔۔۔۔۔برا بھلا جو دل چاہے کہو مگر دوبارہ یہ لفظ اپنے منہ سے نکالا تو میں تمھاری زبان کھینچ لوں گا ۔مجھے کچھ غلط کرنے پر مجبور مت کرو ۔میر بھنا گیا ۔
جو آپ کر چکے ہیں ، اس سے ذیادہ کیا غلط ہوگا ۔ آپ نے تو غلط کی انتہا کر دی تھی ۔وہ تلخی سے بولی ۔
میر کاچہرہ سرخ ہوگیا،اس نے پلٹ کر ڈریسنگ ٹیبل کے شیشےمیں پوری قوت سے ہاتھ مارا ۔شیشہ بری طرح کریک ہوگیا ۔چند ٹکڑے ٹوٹ کر زمین بوس ہوگئے ۔ زرتاج کے منہ سے بے ساختہ چیخ نکلی ۔
یہ کیا کردیا آپ نے ، آپ پاگل ہوگئے ہیں ۔دیکھیں کتنا خون نکل رہا ہے ۔وہ میر کے ہاتھ سے خون کا فوارہ نکلتا دیکھ کر تڑپ گئی ۔
ہاں میں پاگل ہوگیا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔تم مجھے پاگل کر رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔تمھاری بد دعائیں رنگ لا رہی ہیں ۔ وہ دو قدم پیچھے ہٹتے ہوئے بولا تبھی دروازے پر دستک ہونے لگی ۔
آپ کے ہاتھ سے بہت خون بہہ رہا ہے ۔ زرتاج روہانسی ہوکر آگے بڑھی ۔
مجھ سے دور رہو ،میرے پاس مت آنا ۔مجھے تمھاری ہمدردی کی ضروت نہیں ہے ۔میر سرد مہری سے بولا۔زرتاج لب کاٹنے لگی۔
وہ زخم پر دوسرا ہاتھ رکھے خون روکنے کی کوشش کر رہا تھا ۔اس نے ہی جا کر دروازہ کھولا ۔
میر ! صبح سے تم غائب تھے ، اب بھی تیار نہیں ہوئے ہو،آپ دونوں کتنا ٹائم لیں گے ۔ ۔۔۔۔۔۔ پنڈال تقریباً مہمانوں سے فل ہوچکا ہے اور یہاں اب تک فوٹو سیشن بھی نہیں ہوا ہے۔فوٹو گرافرزبے چارے کب سے انتظار میں بیٹھے ہیں ۔
روانی سے کہتے ہوئے میر سبطین کی نظر اس کے زخمی ہاتھ پر پڑی تو وہ شاکڈ رہ گیا ۔
یہ کیا ہوا ۔۔۔۔یہ چوٹ کیسے لگی ؟اس نے پریشان سے استفسار کیا ۔
میر نے کوئی جواب نہیں دیا ۔
چلو ،جلدی چلو میرے ساتھ ۔ تمھارا دماغ خراب ہوگیا ہے ۔ یہ وقت ہے یہ سب حرکتیں کرنے کا ۔میں نے سمجھایا بھی تھا جوش سے نہیں ہوش سے کام لو مگر مجال ہے تم پر کوئی اثر ہو جائے ۔میر سبطین جھنجلاتے ہوئے اسے پکڑ کر حویلی کے بیک سائیڈ پر لے آیا ۔ اس نے موبائل نکال کر ڈرائیور کو کال کی ۔
ڈرائیور گاڑی لے کر پہنچا تو میر سبطین اس کے ساتھ بیک سیٹ پر بیٹھ گیا ۔جلدی سے قریب ہی کسی کلینک پر لے چلو ۔
جی سرکار ۔ ڈرائیور نے گاڑی ریورس کی ۔ وہ بھی میر سجاول کا زخمی ہاتھ دیکھ چکا تھا ۔
جاری ہے