59.5K
43

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 42

(چھ ماہ بعد)
حویلی میں شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں ۔ شادی کی تقریبات شروع ہونے میں بس دو دن باقی رہ گئے تھے ۔ اس وقت بھی لڑکیاں لہک لہک کر ڈھولک پر گانے گا رہی تھیں ۔ پورے گھر میں رونق لگی ہوئی تھی ۔ہر طرف خوشیوں کے رنگ بکھرکر ماحول کو خوشگوار بنا رہے تھے ۔
طے یہ پایا تھا کہ میر سبطین اور نگین کے ولیمے رانیہ کی بارات آئے گی ،جبکہ مہندی کی رسم تینوں کی ایک ہی ساتھ ہوگی ۔
میر سجاول صبح سے نکلا ہوا تھا ۔وہ شام کو کمرے میں آیا تو زرتاج مکمل تیاری سے خود کو آخری بار ہر اینگل سے آئینے میں دیکھ کر تسلی کرلینے کے بعد ڈھولکی میں شرکت کے لئے روم سے نکلنے ہی والی تھی کہ میر نے دروازہ لاک کر کے بولٹ لگا دیا ۔
خود کو میری نظروں سے دیکھوگی تو اور بھی ذیادہ حسین لگو گی ۔۔۔۔۔۔۔یہ آئینہ تمھیں وہ کچھ نہیں دکھا سکتا جو میری نظریں دیکھ سکتی ہیں ۔ میر سجاول دلفریب لہجے میں کہتا ہوا صوفے پر بیٹھ گیا ۔
مجنوں کو لیلیٰ بھی سب سے حسین لگتی تھی کیونکہ وہ اس کی محبوبہ تھی ۔ ہر محبوب کا یہی خیال ہوتا ہے ۔ زرتاج ایک ادا سے کہتے ہوئے اس کے برابر میں بیٹھ گئی ۔ میرمخمور آنکھوں سے اسے دلچسپی سے دیکھ رہا تھا ۔
بات تو گھوم پھر کر وہیں آگئی ۔۔۔۔۔۔۔۔تمھیں آئینے سے گواہی کیوں چاہئے ، تمھیں تو بس میری آنکھوں میں دیکھ کر پڑھ لینا چاہئے کہ تم کیسی لگ رہو ۔ تم نیند سے اٹھ کر بھی مجھے اتنی ہی حسین لگتی ہو جتنا کہ اتنا سج سنور کر خود کو آئینے میں دیکھ رہی تھیں ۔وہ زرتاج کو باتوں میں الجھا رہا تھا تاکہ وہ اس کے سامنے بیٹھی رہے ۔
اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے نا کہ میں یونہی نیند سے اٹھ کر محفل میں چلی جاؤں ۔ گھر میں جو مہمان آئے ہیں وہ مجھے آپ کی نظروں سے نہیں دیکھیں گے ۔ وہ جھنجلا کر بولی ۔ میر سجاول نے قہقہ لگایا ۔
میر سائیں پلیز ! اب مجھے نیچے جانے دیں ناں ۔۔۔۔۔۔۔۔کتنی رونق لگی ہے وہاں ، سب گانے گا رہی ہیں ۔مجھے بھی ڈھولک بجانی ہے ۔اپنی شادی سے لے کر اب تک میں کسی کی ڈھولکی میں نہیں گئی ہوں ۔اب گھر کی شادی تو مجھے اٹینڈ کرنے دیں ۔ زرتاج نے دہائی دی ۔
میں نے کب منا کیا ہے ڈھولکی بجانے سے ، یہاں منگوا دیتا ہوں خوب بجانا ، میں بھی دیکھوں گا تم کیسی ڈھولک بجاتی ہو ۔ وہ زرتاج کو خود میں سمیٹتے ہوئے بولا ۔
آخر آپ مجھے نیچے کیوں نہیں جانے دے رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔یہاں ڈھولک منگوائیں گے تو سب مجھ پر ہنسیں گے ۔ زرتاج بے بسی سے بولی ۔
میں نے کہا تھا اتنی سج سنور کر بیٹھو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمھیں دیکھ کر میرا دل بے ایمان ہوگیا ہے تو اس میں میرا کیا قصور ہے ۔ وہ زرتاج کی بے بسی پر محفوظ ہوتے ہوئے بولا ۔
بس میں نے کہہ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے نیچے جانا ہے ، آپ بھی جلدی سے تیار ہوکر آجائیں ۔ میں نے آپ کے کپڑے بھی پریس کروادئیے ہیں ۔وہ دوٹوک انداز میں بول کر اٹھ گئی ۔
دلبر سائیں ! اس طرح تو آپ کہیں نہیں جا سکتی ، ہاں کوئی رشوت دو تو شاید بات بن جائے ۔ میر سجاول نے اس کا آنچل تھام کر لبوں سے لگایا ۔
ٹھیک ہے ، میں کہیں نہیں جارہی ۔۔۔۔۔۔۔۔یہیں آپ کے پاس بیٹھی ہوں ۔مہندی میں بھی نہیں جاؤنگی اور شادی بھی اٹینڈ نہیں کرونگی ۔ زرتاج نے اس کے برابر میں بیٹھ کر رخ دوسری طرف موڑ لیا ۔
دلبر سائیں ! ناراض ہوگئیں ؟ تم کیسی لڑکی ہو ۔۔۔۔۔۔۔ میں پور پور تمھارے عشق میں ڈوبا جارہا ہوں اور تم کنارہ ڈھونڈ رہی ہو ۔ میر سجاول کے لہجے میں تاسف تھا ۔
میں ایسا تو کچھ نہیں کر رہی ، تقریب میں سب کے ساتھ شریک ہونا چاہتی ہوں ۔ اتنی سی بات کو آپ دل پر لیں گے ؟
آپ چھوٹی سی بات کے لئے میری محبت پر شک کرہے ہیں ؟ زرتاج نے فوراً سے پیشتر وضاحت دی پھر اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر شکوہ کیا۔
یہ تمھارے لئے چھوٹی سی بات ہوگی ، میرے لئے بہت بڑی ہے ۔تم مجھ سے ذیادہ کسی اور چیز میں دلچسپی لوگی ، میں برداشت نہیں کر سکوں گا ۔ میر سجاول نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کہا ۔
میں چاہتا ہوں تم بس میری بن کر رہو ، باقی سب کچھ بھول جاؤ ۔ میری موجودگی سے بڑھ کر تمھارے لئے کچھ بھی ضروری نہیں ہونا چاہئے ۔ میر سجاول نے بے خود ہو کر اس کی مسکارے سے بوجھل پلکوں کو لبوں سے چھوا ۔زرتاج مبہم سا مسکرادی ۔
میں یہی کچھ کر رہی ہوں پھر بھی آپ مطمئین نہیں ہوتے ۔ خیر، چھوڑیں ۔
مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے ،آپ مائینڈ تو نہیں کریں گے۔۔۔۔؟
آج تک کچھ بھی مائینڈ کیا ہے جو اب کروں گا ۔جب کہ تم اتنی ظالم بیوی ہو ، مجھے بے دردی سے پیٹتی بھی ہو۔ وہ سر اٹھا کر سنجیدگی سے بولا مگر شریر آنکھیں مسکرا رہی تھیں ۔
ہیں ، میں آپ کو کب مارتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔کیوں مجھے بدنام کررہے ہیں ۔ زرتاج حیران ہوئی ۔
یاد نہیں اس رات کتنی زور سے میری ناک پر ہاتھ مارا تھا ، تمھارے ناخن کے نشان کی وجہ سے کتنے دنوں تک میں لوگوں سے منہ چھپاتا پھرا۔زرتاج بے اختیار منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنستی چلی گئی ۔
وہ تو میں نیند میں تھی ، جان بوجھ کر تو نہیں مارا تھا ۔ زرتاج کو شرمندگی ہوئی ۔
میں کچھ کہہ رہی تھی ۔
جی سرکار ! میں سن رہا ہوں ۔ میر سجاول نے اپنا کان جھک کر اس کے سامنے کیا ۔
آپ سیریس ہونگے تو میں بات کروں گی ناں ۔ زرتاج اسے گھور کر بولی ۔
آپ حکم کریں ، اب میں بلکل سیریس ہوں ۔وہ صوفے کی پشت پر ہاتھ پھیلا کر سنجیدگی سے بولا ۔
وہ میری دوست ہے ناں، نازیہ ۔ اس کی بھی شادی ہے ۔ کل اماں آئیں تھیں ، وہ کارڈ دے کر گئیں ہیں ۔ کہہ رہیں تھیں نازیہ نے بہت اسرار کیا ہے کہ میں اس کی شادی میں ضرور آؤں ۔
اس کی یا اس کے گھر والوں کی تو ہمت نہیں ہوئی حویلی میں آنے کی اس لئے اماں کے ساتھ کارڈ بھیجا ہے ۔ زرتاج نے اسے پوری تفصیل سے آگاہ کیا ۔
کب ہے شادی ؟ میر سجاول نے استفسار کیا ۔
نیکسٹ ویک ۔۔۔۔۔۔۔۔تب تک ہمارے گھر کی شادی کے تمام فنکشنز ہوچکے ہونگے ۔ زرتاج حساب لگائے بیٹھی تھی ۔
چلی جانا، مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے ۔میر سجاول اس کے شانے پر بکھرے بالوں کو چھیڑتے ہوئے بولا ۔
میں اکیلی نہیں جاؤں گی ، آپ کو بھی ساتھ چلنا پڑے گا ۔ وہ حکمیہ بولی ۔
یار ! میں وہاں کیسے جاسکتا ہوں۔ میر سجاول کی پیشانی پر بل پڑ گئے ۔
ہاں آپ غریبوں کی محفل میں کیسے جاسکتے ہیں ،آپ کی شان گھٹ جائے گی ۔ زرتاج کا منہ اتر گیا ۔وہ دھیرے سے بولی ۔
اچھا ناں ! منہ مت لٹکاؤ ۔ لے چلوں گا ۔ایسا ہو سکتا ہے میں تمھاری حکم عدولی کروں ۔ تم دن کو رات کہتی ہو تو وہ بھی مان لیتا ہوں ۔وہ گنبھیر آواز میں بولا ۔
زرتاج کے چہرے پر دھنک رنگ اترآئے ۔ اس نے دونوں بازو میر سجاول کے گلے میں ڈال دئیے ۔
آئے لو یو ۔۔۔۔۔۔۔ وہ کھنکتی بولی ۔
آئے لو یو ٹو ۔۔۔۔۔۔۔۔مور دین یو ۔ میر سجاول نے اسے گلے سے لگا کرمصروف سے انداز میں جواب دیا ۔
“”””””””””””※”””””””””””
میر سبطین ، نگین اور رانیہ تینوں اسٹیج پر بیٹھے تھے ۔ مہندی کا فنکشن زور و شور سے جاری تھا ۔ملازمہ فائزہ بیگم کو وہیل چئیر پر دھکیلتی ہوئی لائی پھر دو ملازماؤں نے پکڑ کر انہیں اسٹیج پر چڑھایا ۔
میر سبطین اور نگین کے سر پر اپنا کپکپاتا ہوا ہاتھ رکھتے ہوئے ان کی آنکھوں میں دھند چھانے لگی ۔ وہ چاہتے ہوئے بھی انہیں دعا نہیں دے سکتی تھیں کیونکہ فالج کے اٹیک نے انہیں بری طرح مفلوج کردیا تھا ۔ فزیوتھراپی اور میڈیسن کی مدد سے ان کا جسم حرکت تو کرنے لگا تھا مگر وہ بول نہیں سکتی تھیں ۔
میر سبطین نے ان کا کانپتا ہاتھ اپنے ہاتھوں سے پکڑ کر سر پر رکھا تھا ۔
تبھی ہر طرف ہلچل مچ گئی کہ لڑکے والے مہندی لے کر پہنچ گئے ہیں۔
گیٹ پر ان لوگوں کا زبردست استقبال کیا گیا ۔ میر غضنفر نے سب مردوں کے گلے میں ہار شال ڈالیں جبکہ زرتاج نے خواتین کو گجرے پہنائے ۔
یہ اندازہ لگانا مشکل ہورہا ہےکہ دونوں میں سےکون ذیادہ پیارالگ رہا
ہے ۔ رانیہ یا نگین۔زرتاج نے بلائیں لیتے ہوئے کہا ۔ وہ خود پیچ کلر کامدار غرارے اور شرٹ میں بالوں کو کرل کئے ان دونوں سے ذیادہ حسین لگ رہی تھی ۔
بے چارے سبطین بھائی کا حسن تو ان دونوں پریوں کے ساتھ بیٹھ کر ماند ہی پڑگیا ہے ۔ میر حنین نے شرارت سے ٹکرا لگایا ۔ میر سبطین خجل سا ہو گیا ۔
کوئی نہیں ، ہمارے شہزادے کی تو شان ہی نرالی ہے ۔ دور سے ہی دولہا لگ رہا ہے ۔ اتنی مشکل سے گھوڑی چڑھ رہا ہے ، مجھے تو لگتا ہے کل اگر گاڑی کی جگہ گھوڑی پر سوار کروایا تو گھوڑی بھی بدک جائے گی ۔ میر سجاول نے اس کی ٹانگ کھینچنا اپنا فرض سمجھا ۔وہ بے باکی سے زرتاج کے گلے میں ہاتھ ڈال کر بولا۔
وہ اتنی مزاحیہ بات اتنی سنجیدگی سے بولا تھا کہ اسٹیج پر کھڑے سبھی افراد بے ساختہ ہنس پڑے ۔
میر سائیں پلیز ! یہاں تو مجھے بخش دیں ۔ سب لوگ دیکھ رہے ہیں ۔زرتاج اس کا ہاتھ ہٹاتی دانت بھینچ کر غصے سے بولی ۔
کیوں اتنی پیاری لگتی ہو ، میرا دل بے قابو ہوجاتا ہے پھر میری کہاں سنتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی مرضیاں کرتا ہے۔اس نے شرارت سے ایک آنکھ دبا کر سرگوشی کی ۔ زرتاج نے فقط گھورنے پر اکتفا کیا تھا ۔
مکتوم شاہ کے گھر والے اسٹیج پر پہنچے تو عروش ان میں سب سے آگے تھی ۔ میر سبطین نے ادھر ادھر نظریں گھما کر اسے بلکل اجنبیت کا تاثر دیا ۔
عروش نے پہلے نگین اور پھر رانیہ کی پیشانی پر پیار کیا پھر جھک کر نگین کو شادی کی مبارک باد دی ۔
عروش سے مل کر نگین کا دل بھر آیا ۔ اس کی آنکھوں میں پانی تیرنے لگا ۔
رونا مت گڑیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ موقع خوشی کا ہے ۔ میر سبطین بہت نائس ہیں ۔تمھاری ہر تشنگی مٹ جائے گی، یہ تمھیں اتنا خوش رکھیں گے ۔عروش نے اس کے برابر میں بیٹھ کر دھیرے سے کہا ۔
عروش ! تم شادی تک میرے پاس نہیں رک سکتیں ۔ مجھے تمھاری بہت ضرورت ہے ۔ نگین اس کا ہاتھ تھام کر بولی ۔
کیسے رک سکتی ہو ں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سسرال میں پہلی شادی ہے ۔ سارے کاموں کی زمہ داری بھی مجھ پر ہے پھر خالہ جان کو بھی برا لگے گا ۔ تم فکر مت کرو ، میں کل دن میں بھی چکر لگا لوں گی ۔
کل رات کو تو بارات ہے پھر نکاح کے بعد تمھیں میر سبطین کے علاوہ کوئی بھی یاد نہی رہے گا ۔ وہ شرارتاً کہہ کر ہنسی ۔
نگین نے شرما کر سر جھکا لیا ۔
سب سے پہلے رسم زینب کرے گی ۔اس کے بعد ہم سب کریں گے۔ رخسانہ بیگم نے بلند آواز میں کہا ۔
بھابھی ! آپ کیسی باتیں کررہی ہیں ، میں کیسے رسم کر سکتی ہوں ۔زینب نفی میں سر ہلاتے ہوئے دھیرے سے بولیں ۔
کیوں ۔۔۔۔۔۔۔ تم کیوں نہیں کر سکتیں ؟ رخسانہ بیگم نے تعجب سے کہا ۔
کیونکہ میں نہیں چاہتی میرے نصیب کی سیاہی ، ان بچوں کی آنے والی خوبصورت ذندگی میں اندھیرا کردے ۔ آپ زبردستی مجھے یہاں لے آئی ہیں مگر مجھے دور رکھیں ۔میرا ہاتھ لگوا کر بد شگونی مت کریں ۔زینب آنسو پیتے ہوئے نم لہجے میں بولیں ۔
تم نے یہ فضول باتیں سوچ سوچ کر خود پر خوشیاں حرام کر رکھی ہیں ورنہ یہ سب نصیبوں کے کھیل ہیں ۔ سب کچھ اللہ کی رضا سے ہوتا ہے ۔ وہ ہی اچھے اور برے نصیب لکھتا ہے ۔ اس میں کسی بھی انسان کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ۔ چلو اب چپ چاپ رسم کرو ورنہ میں تم سے بہت ذیادہ ناراض ہوجاؤں گی ۔ رخسانہ بیگم دوٹوک انداز میں دھمکی دی ۔
زینب مجبوراً جھجکتے ہوئے رانیہ کے برابر میں بیٹھ گئیں ۔ انہوں نے رانیہ کی بلائیں لے کر رسم شروع کی ۔
“”””””””””””※”””””””””””
معظم شاہ بیڈ پر نیم دراز عروش پر نظریں جمائے ہوئے تھا ۔ عروش زعیم کے کپڑے چینج کر رہی تھی ۔ وہ گرین کلر کی بھاری فراک اور چوڑی دار میں دوپٹہ ادب سے سر پر سیٹ کئے ہوئے تھی ۔ وہ لوگ کچھ دیر پہلے ہی بڑی حویلی سے واپس لوٹے تھے ۔
ڈمپل گرل ! اگر اپنے بیٹے سے فرصت مل جائے تو ہم پر بھی نظریں کرم ڈال دیں ۔ ہم آپ کی ایک نظر کے منتظر بیٹھے ہیں ۔ معظم شاہ
کوفت بھرے لہجے میں بولا ۔
بس دو منٹ ، پلیز ! عروش نے مصروف انداز میں التجا کی پھر وہ زعیم کی نیپی چینج کرنے کے بعد واش روم گئی ۔ ہاتھ واش کرنے کے بعد وہ ڈریسنگ ٹیبل سے سامنے کھڑی ہوکر جھمکے اتارنے لگی ۔
انہیں مت اتارو ، رہنے دو ۔ بہت اچھے لگ رہے ہیں ۔ شاہ نے ایک ہاتھ ڈریسنگ ٹیبل کے مرر پر جما کر دوسرے ہاتھ سے اس کے جھمکے کو چھوا۔
اف بہت الجھن ہورہی ہے ۔ ہیوی ہیں ناں ۔ عروش واپس لاک کرتے ہوئے بولی ۔
آج تم بہت خوبصورت لگ رہی تھیں ، دل کر رہا تھا تمھیں سب سے چھپا کر کہیں دور لے جاؤں ۔ شاہ گنبھیرتا سے بولا ۔
آپ کا دل اس قدر انتہا پسند کیوں ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟ عروش ہنستے ہوئے بولی ۔
یہ تو میں خود بھی نہیں جانتامگر جیسا بھی ہے تمھارے لئے ہی دھڑکتا ہے۔اس نے کندھے اچکائے ۔
شاید مجھ سے پہلے کسی اور کے لئے بھی دھڑکتا تھا ۔ عروش نے چور نظر سے اس کی طرف دیکھا ۔
یہی کہہ سکتا ہوں کہ ضرور تمھیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی کیونکہ میرے دل میں گھر کرنے والی تم پہلی اور آخری لڑکی ہو ۔شاہ سنبھل کر بولا۔وہ لمحے کے ہزاریں حصے میں بات کی تہہ تک پہنچ چکا تھا ۔
اچھا آپ کہتے ہیں تو مان لیتی ہوں ویسےصبح جب آپ شاور لے رہے تھے ، کسی نگار کی کال آئی تھی ۔ اس نے تو بڑے حق سے آپ کا نام پکارہ تھا ۔ اس کا انداز بھی خاصا جتاتا ہوا تھا کہ جیسے آپ کے د ل میں اس کے لئے بھی مخصوص جگہ ہے ۔ عروش تنک کر بولی ۔ معظم شاہ کا فلک شگاف قہقہہ بے ساختہ تھا ۔
اوہ ، تو یہ بات ہے ، اس لئے محترمہ صبح سے اکھڑی اکھڑی سی ہیں ۔
شاہ گہری سانس بھر کر بولا ۔
نگار کون ہے ۔۔۔۔۔؟ عروش نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا ۔
بہت کمال کی چیز ہے مگر تم سے شادی کے بعد اسے مڑ کر بھی نہیں دیکھا ۔
تو پھر اس کی تعریفیں کیوں کر رہے ہیں ، اتنی ہی پسند ہے تو اسی کے پاس جائیں ۔ یہاں کیا کر رہے ہیں ۔ وہ بگڑ کر بولی ۔
یار ! تم نے پوچھا تو میں نے بتا دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔جھوٹ بولنا میری سرشت میں ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اگر وہ میرے دل میں ہوتی تو یہاں تم نہیں وہ ہوتی ۔ تم میں زرا سی بھی عقل ہوگی تو سمجھ جاؤگی ۔وہ ہاتھ اوپر کرتے ہوئے سنجیدگی سے بولا ۔عروش زعیم کے برابر میں خاموشی سے لیٹ گئی ۔ اس نے زعیم کا ننھا سا ہاتھ اپنے رخسار سے لگایا ۔
عروش کی جگہ میرے بیڈروم میں کوئی اور لڑکی نہیں ہو سکتی تھی ، اس لئے اللہ نے کس طرح ہمیں ملایا ہے ، میں نے یا تم نے سوچا بھی نہیں تھا ۔ میرا حال اور مستقبل صرف تم سے ہے ۔
نگار جیسے سہارے تو وقتی ہوتے ہیں ۔ جیسے کوئی مسافر منزل تک پہنچنے کے لئے تھک کر چند گھڑی چھاؤں میں سانس لے اور تھکن اترجانے پر اسے مڑ کر دیکھنا بھی پسند نہیں کرے ، مگن اور مطمئین سا دوبارہ منزل کی طرف گامزن ہوجائے ۔
عروش وہ منزل ہے جس تک پہنچنے کے لئے معظم شاہ نے دشوار گزار راستوں کی بھی پرواہ نہیں کی ۔جس کو پانے کے لئے مجھ میں زمین آسمان ایک کردینے کا حوصلہ تھا ۔ شاہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتا ہوا مضبوط لہجے میں بولا ۔عروش کے چہرے پر شرم کی سرخی بکھرگئی۔
کیا اب میں یقین کرلوں کہ تم کبھی ہمارے درمیان اس نگار نامے کو موضوع نہیں بناؤ گی ۔۔۔؟ شاہ نے سوالیہ نظریں اس پر مرکوز کیں ۔
کبھی بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ مجھے آپ پر اور آپ کی محبت پورا بھروسہ ہے ۔ عروش پر اعتماد لہجے میں بولی ۔
تھینکس گاڈ ، تم نے جاہل شکی بیوی کا کردار ادا نہیں کیا ورنہ تمھیں یقین دلانے کے لئے مجھے نگار کی ڈیڈ باڈی پیش کرنی پڑتی ۔ شاہ کھل کر مسکرایا ۔
دل دہلانا بہت ضروری ہے ۔۔۔۔۔؟ آپ شرافت کی زبان میں بات نہیں کرسکتے ۔ عروش کی آنکھیں پھیل گئیں ۔
ہمارا مزاج ہی کچھ ایسا ہے ۔ اس نےنفی میں سر ہلاتا ہوئے عروش کو قریب کیا۔ ٹھنڈ کے باوجود بھی عروش گھبراہٹ کا شکار ہوگئی تبھی زعیم شاہ کے منہ سے کلکاری نما چیخ برآمد ہوئی ۔
شاہ نے گہری سانس لے کر سر تکیے پر گرادیا ۔ عروش کی خوبصورت ہنسی کمرے کے فسوں خیز ماحول میں گونج اٹھی ۔
“”””””””””””※””””””””””””
نگین دلہن بنی بےحد گھبرائی ہوئی گھوگھٹ میں بیٹھی تھی۔دل اتنی قوت سے دھڑک رہاتھا کہ لگتا تھانکل کر باہر آجائے گا۔اس حویلی کے مکینوں نے چنددنوں میں اسےاتنا پیاراور مان دیا تھاکہ وہ اب کافی حد تک سب کےساتھ ایڈجسٹ ہوگئی تھی فائزہ کے علاوہ باقی سب کارویہ تو پہلے بھی برا نہیں تھامگر میرسبطین شوہرکےروپ میں کیسا ثابت ہوگا،یہ سوچ نہایت پریشان کن تھی ۔
چھ ماہ سے وہ اس کے نام کےساتھ منسلک تھی مگر میرسبطین کی طرف سے ایک بھی لطیف جملہ یا شوخ نظر کی منتظر ہی رہی ۔ وہ سامنا ہونے پر بھی کترا کر گزر جاتا تھا ۔
وہ یہ سب جان بوجھ کے کر رہا تھا یا پھراحتیاط برت رہا تھاوہ یہ سمجھنے سے قاصر ہی رہی ۔
آج دلہن بنی اس کے بیڈروم میں بیٹھی تھی تو ایک نئی سوچ نے حملہ کیا تھا کہ آیا وہ اس رشتے سے خوش بھی ہے یا نہیں ؟ یہ سوالیہ نشان اسے وہم میں مبتلا کررہا تھا ۔
میر سبطین نے کمرے میں داخل ہوکر دھیمی آواز میں سلام کیا ۔وہ ہاتھ میں پکڑی ہوئی دستار سینٹر ٹیبل پر رکھ کر نگین کے پاس آکر بیٹھ گیا ۔
وہ گود میں رکھے نگین کے نازک ہاتھوں کی کپکپا ہٹ دلچسپی سے دیکھ رہا تھا پھر اس نے ہاتھ بڑھا کر نگین کا گھونگھٹ پلٹ دیا ۔ مرون کلر کے شرارے میں ڈارک میک اپ کے ساتھ وہ پہچانی ہی نہیں جارہی تھی ۔ خوشبؤوں میں بسا اس کا وجود میر سبطین کو مبہوت کر گیا ۔
طویل خاموشی کے بعد اس نے دھیرے سے کھنکارہ ۔
ہماری شادی ارینج میرج ہے مگر میں بھرپور کوشش کروں گا کہ اسے لو میں بدل دوں اور اس کوشش میں تمھیں بھی میرا اتنا ہی ساتھ دینا ہوگا ۔میر سبطین نے ہونٹوں پر دلفریب مسکراہٹ سجا کر خوشگوار موڈ میں کہا اور وعدہ لینے کے لئے ہاتھ بڑھایا ۔اس کی کھلی ہتھیلی منتظر تھی تب نگین نے اپنا نازک چھوٹا سا کپکپاتا ہوا ہاتھ اس کے ہاتھ میں رکھ دیا ۔
میر سبطین نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام کر پہلی بار استحقاق کا استعمال کیا ۔ نگین کا جھکا سر مزید جھک گیا ۔
تم چینج کرلو،تھک گئی ہوگی ۔ کب سے ایک ہی پوزیشن میں بیٹھی ہو ۔ اس نے نگین کا ہاتھ پکڑے ہوئے اسے بیڈ سے اترنے میں مدد دی۔نگین بھاری شرارہ سنبھالتی ہوئی اتر گئی ۔ میر سبطین اسے ڈریسنگ روم کی طرف لے گیا۔وارڈروب کھولی اور نائیٹی نکال کر اسے تھمائی۔
وہ خود چینج کر کے سر کے نیچے بازو دبائے اس کا انتظار کر رہا تھا ۔ نگین پہلے تو نائیٹی کے ڈیپ گلے کو دیکھ کر پریشان ہوگئی پھر کچھ سوچ کر اس نے وارڈروب سے قدرے ہلکا دوپٹہ نکالا اور اچھی طرح لپیٹ کر باہر نکل آئی ۔
میر سبطین کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی ۔ اس نے ہاتھ کے اشارے سے نگین کو اپنے پاس بلایا ۔ نگین جھکتے ہوئے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ہوئی آئی اور بیڈ کے کنارے پر زرا سی ٹک گئی ۔
میر سبطین نے سائیڈ ٹیبل سے نیکلس کا باکس اٹھا کر نکالا اور نگین کے برابر میں بیٹھ کر دوپٹہ زرا سا نیچے سرکایا پھر نیکلس اس کے گلے میں پہنا دیا ۔
اس نیکلس اور میر سجاول کی واچ کی قیمت میں کچھ ذیادہ فرق نہیں لیکن پیار کی پیمائش ایک برابر ہے ۔ تم میرے پیار میں کبھی کمی نہیں پاؤگی ۔ کہتے ہوئے اس نے نگین کے ڈمپل کو چھوا ۔
یہ میرے پیار کی طرح دن بہ دن گہرا ہوتا جائیگا ۔وہ پرشوق نظروں سے ڈمپل کو دیکھ رہا تھا ۔
عروش کے جانے سے جو خلا اس کی ذ ندگی میں آیا تھا وہ نگین کی آمد سے پر ہوگیا تھا ۔ میر سبطین مسرور ہوتا ہوا اٹھا اور لائیٹس آف کرکے نائیٹ بلب آن کردیا ۔
جاری ہے