Rate this Novel
Episode 25
ارادہ تو میرا تمھیں پوری عزت سے اپنانے کا تھا مگر تمھارے گاؤں کے سردار نے تم سے یہ حق چھیننے پر مجھے مجبور کر دیا ہے ۔اس نے میرے خاندان کی عزت پر ہاتھ ڈالا ہے ۔۔۔۔۔۔۔میری بہن کو اغوا کرنے جیسا گناہ کیا ہے۔
اب میں اسے بتاؤں گا کہ عزت کو پامال کرنا کسے کہتے ہیں ۔جب تم اپنی لٹی پٹی عزت کے ساتھ گاؤں پہنچوگی تب اس کے ہوش ٹھکانے آئیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تب اسے پتا چلے گا کہ میر سجاول کے ساتھ کھیل کھیلنے کا کیا نتیجہ نکلاہے ۔میرے خلاف کی گئی سازش اسے کتنی مہنگی پڑی ہے ۔۔۔۔۔۔یہ بات اسے آنے والا وقت اچھی طرح سمجھا دے گا ۔آئیندہ وہ میرسجاول سے ٹکرانے سے پہلے سو بار سوچے گا۔
اپنے گاؤں کی ہر لڑکی کی عزت کو وہ اپنی عزت سمجھتا ہے ،اب دیکھتا ہوں کیسے وہ میر سجاول سے اپنی عزت بچاتا ہے ۔۔۔۔میرا بدلہ یہیں پر ختم نہیں ہو جائے گا ۔۔۔۔اس کا غرور توڑنے کے بعد اس کو قبر تک پہنچا کر ہی دم لوں گا ۔میر کے لہجے میں اس وقت ایک درندہ بول رہا تھا ،اس کے اندر کا عاشق جیسے مر چکا تھا ۔انتقام کی آگ میں وہ اندھا ہوگیا تھا ۔
زرتاج اس کی باتیں سن کر پتھر ہوگئی تھی وہ اپنا رونا بھول کر ٹکر ٹکر میر کو دیکھ رہی تھی ۔اس کی آنکھوں سےبیک وقت حیرت ،بے یقینی اور نا امیدی چھلک رہی تھی مگر میر سجاول نے انہیں پڑھتے ہوئے بھی نظر چرانے کی کوشش نہیں کی تھی ۔وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑا تھا ۔ زرتاج یکدم ہوش میں آکر میر کے قدموں سے لپٹ گئی ۔
میر سائیں ! اپنی محبت کو اس دشمنی کی بھینٹ مت چڑھائیں ۔مت بھولیں کے آپ نے مجھ سے بے حد پیار کیا ہے ،مجھ سے ان گنت وعدے کئے ہیں ،قسمیں کھائی ہیں ،پلیز !مجھے برباد مت کریں ۔وہ اس کے پاؤں پکڑے پھوٹ پھوٹ کر رودی ۔
نہیں کی میں نے تم سے کبھی محبت ،کوئی وعدہ نہیں کیا ،کوئی قسم مجھے یاد نہیں ۔اس وقت مجھے صرف اتنا یاد ہے کہ تم معظم شاہ کی عزت ہو ،اس کے گاؤں کی عزت ہو ۔میر سجاول نے دہاڑتے ہوئے کہا ۔
ابھی آپ بہت غصے میں ہیں ۔۔۔۔۔دماغ کو ٹھنڈا کر کے سوچیں ، اس میں ہم دونوں کی بربادی ہے ۔۔۔۔۔آپ کا یہ جذباتی پن ہم دونوں کو جدا کر دے گا ۔وہ اب تحمل سے اسے سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی ۔
برباد تو میں ہو چکا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔میں تمھارے عشق میں دنیا بھلائے بیٹھا تھا، نہ مجھے دشمنی کی کوئی فکر تھی نا اس (گالی) کی کوئی پرواہ ۔۔۔۔وہ مجھے زک پر زک پہنچاتا رہا اور میں تمھاری محبت کے خمار میں گم اسے ڈھیل دیتا گیا ۔۔۔۔۔مگراب مجھے ہوش آگیا ہے ۔وہ درشتگی سے کہتا اسے اپنے قدموں سے اٹھا کر کھینچتا ہوا بیڈ تک لے آیا ۔
زرتاج نے روتے ہوئے بیڈ سے اٹھنے کی کوشش کی مگر میر سجاول نے اس کے سر سے چادر کھینچ لی ۔
زرتاج نے دونوں ہاتھوں سے خود کو چھپالیا ۔وہ سر جھکائے بیٹھی تھی مگر اس کے سامنے اس کا محبوب نہیں ایک وحشی درندہ کھڑا تھا ۔جس نے اس دن اپنی وحشت اور درندگی دکھانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی ۔
زرتاج تڑپ تڑپ کر روتی رہی ،اس کی چیخ و پکار ،سسکیوں نے بھی میر سجاول کے اندر سوئے ہوئے انسان کو نہیں جگایا ۔زرتاج کی بھر پور مزاحمت بھی اس کی درندگی کے سامنے دم توڑ چکی تھی کیونکہ وہ میر سجاول کی مضبوط گرفت میں تھی ۔
آج اسے محبت اور احترام سے چھونے والے ہاتھ نوچ کھسوٹ رہے تھے ۔ بس صرف گھٹی گھٹی سی سسکیاں باقی رہ گئی تھیں۔
میر سگریٹ پر سگریٹ پھونکتا رہا ۔۔۔۔۔جب طبیعت حد سے ذیادہ بوجھل ہوگئی تو اس نے کروٹ لے کر سونے کی ناکام سی کوشش کی
مگر دل پر پڑے بوجھ نے اسے ایک پل کی بھی نیند نہیں لینے دی ۔
“”””””””””””””””””
دوسرے دن دوپہر کے بارہ بجے جب میر سجاول اس کے پہلو سے اٹھا
تو زرتاج کے پاس عزت کے نام پر کچھ بھی نہیں بچا تھا ۔میر سجاول نے اس کی عزت کے ساتھ ساتھ اس کے وجود کی بھی دھجیاں بکھیر دیں تھیں ۔ اس میں اتنی بھی ہمت نہیں تھی کہ وہ اپنے بکھرے وجود کو سمیٹ لے ۔
میر سجاول کچھ دیر بعد واش روم سے فریش ہو کر نکلا ۔شیشے میں بال
بناتے ہوئے اس نےایک نظر زرتاج پر ڈالی ،وہ بے سدھ پڑی تھی۔
میر سجاول کی درندگی کےنشانات اس کے چہرے اور جسم پر نمایاں تھے ۔وہ قدم بڑھا کر اس کے نزدیک پہنچا ،پھر جھک کر اس کے ادھڑے ہوئے لباس کو سمیٹا ۔چھونے پر احساس ہوا کہ وہ شدید بخار میں پھنک رہی تھی ۔ایک لمحے کو میر سجاول کے دل کو کچھ ہوا مگر دوسرے ہی پل اس نے خود پر بیگانگی طاری کر لی ۔
وہ خود کو کسی قیمت پر بھی زرتاج کی محبت میں کمزور نہیں کرنا چاہتا تھا اس لئے ذہن سے ہر سوچ کو جھٹک کر اسے جلد ہی بازؤں میں بھر کر بیس مینٹ سے نکل آیا ۔
میر نے اچھی طرح زرتاج کو چادر سے کور کر دیا تھا تاکہ کوئی بھی اس کے پھٹے ہوئے لباس سے اس کے جسم کا زرا ساحصہ بھی نا دیکھ سکے ۔پتا نہیں کیوں وہ اب بھی اتنی احتیاط کر رہا تھا ۔جبکہ وہ اسے خود پوری طرح برباد کر چکا تھا۔وہ لاکھ اسے چادر سے چھپا دیتا مگر زمانہ اس کے ساتھ کیا سلوک کرنے والا تھا اس حقیقت سے وہ انجان نہیں تھا ۔
اس نے بے ہوش زرتاج کو گاڑی کے پچھلے حصے میں ڈال دیا اور خود فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا ۔دونوں ہاتھوں کی انگلیاں بالوں میں پھنسائے وہ بے حد مضطرب تھا مگر چہرے کے نقوش انتہائی سختی لئے ہوئے تھے ۔
اس کی آنکھوں میں ہلکورے لیتا اضطراب گزری شب کا احول سنا رہا تھا مگر چہرے پر کسی پچھتاوے کی پرچھائیں تک نہیں تھی ۔گاڑی سست روی سے فارم ہاؤس کے گیٹ سے باہر نکلی تو اس نے سر سیٹ کی پشت سے ٹکا کر آنکھیں سختی سے بند کر لیں ۔
“”””””””””””””””
اماں ! میں نے کسی کا کبھی برا نہیں چاہا اور نہ میں اللہ پاک کی بنائی ہوئی حدود توڑنے کی کوشش کی پھر کس جرم کی سزا کی صورت مجھے میں
معظم شاہ جیسا جابرشوہر ملا ہے ۔ان کےنذدیک میری کوئی وقعت نہیں ہے ہ دل گرفتگی سے کہہ رہی تھی۔
عروش ماں کے گلے سے لگ کر روپڑی۔سب کے سامنے تو اس نے خود کو کنٹرول کیا ہوا تھا مگر تنہائی ملتے ہی وہ ماں سے لپٹ کر دل کا بوجھ ہلکا کر رہی تھی ۔
عروش ! ایسی باتیں مت کرو ،آپا سن لیں گی تو انہیں بہت برے لگے گا۔تم اس رشتے کو تھوڑا وقت دو خود بخود آسانیاں پیدا ہوتی چلی جائیں گی ۔شروعات میں ایسا ہوتا ہے ،ایک دوسرے کو سمجھ نے میں تھوڑا وقت لگتا ہے مگر وقت کے ساتھ سب کچھ ٹھیک ہوجاتا ہے ۔تم ابھی سے گھبرا جاؤ گی تو باقی ذندگی کیسے گزارو گی ۔ثمینہ بیگم اس کی پشت سہلاتے ہوئے سمجھا رہی تھیں ۔
شاہ نے انہیں آج ہی شہر سے بلوایا تھا ،اس نے عروش کی آنکھوں میں رقم التجا پڑھ لی تھی یا پھر اس کی حالت پر ترس آگیا تھا۔
اماں ! آپ انہیں نہیں جانتیں ،وہ اپنی انا کے خول میں بند ہیں کبھی اس سے باہر نہیں نکلیں گے ۔مجھ سے شادی انہوں نے صرف اپنی انا کو تسکین پہنچا نے کے لئے کی تھی ۔مجھ سے انہیں کسی بھی قسم کا لگاؤ نہیں ہے ۔
لگاؤ بھی ہو جائیگا بہت جلد ، جب وہ اپنے بچے کو دیکھے گا ۔اولاد بہت بڑی نعمت ہے ،یہ بڑے سے بڑے جابر اور پتھر دل کو بھی پگھلا دیتی ہے ۔وہ بھی بدل جائے گا اور تمھاری بھی قدر کرنے لگے گا ۔خیر سے اللہ پاک تمھیں اس رتبے پر فائز کرنے والے ہیں ۔
تم بس اپنا خیال رکھو ، دماغ سے ہر فضول سوچ کو نکال پھینکو ۔اس سے تمھاری صحت پر برا اثر پڑیگا ۔ثمینہ ہر ممکن کوشش کر رہی تھیں کہ عروش معظم شاہ سے بدظن نہ ہو ۔
عروش نے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا کہ تبھی دروازے پر دستک ہوئی اور ملازمہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگئی ۔
عروش بی بی کو چھوٹے شاہ جی نے اپنے کمرے میں بلوایا ہے ۔ملازمہ پیغام دے کر پلٹ گئی ۔
اماں ! وہ بلا رہے ہیں ۔۔۔۔۔میں ابھی آتی ہوں ،آپ تب تک آرام کریں ۔سفر سے تھک گئی ہوں گی ۔عروش کہتے ہوئے کمرے سے نکل گئی ۔اس کے چہرے پر یکدم گھبراہٹ پھیل گئی تھی ۔ثمینہ بیگم کو دل ہی دل میں بہت افسوس ہوا ۔
سست روی سے چلتی ہوئی وہ بیڈروم تک پہنچی ، اس نے دروازہ کھولنے سے پہلے دوپٹے کے پلو سے اچھی طرح اپنی آنکھیں خشک کیں اور روم کے اندر داخل ہوگئی ۔
شاہ صوفے پر براجمان تھا ، اس نے گہری نگاہ سر سے پاؤں تک عروش کا جائزہ لیا ۔
اب تو خوش ہونا تم ۔۔۔۔تمھیں تمھاری اماں اور بھائی سے ملوا دیا ہے ۔دل کو تسلی مل گئی ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔کم از کم اب تو تمھارے چہرے پر چھائی سوگواری رخصت ہوجانی چاہئے ۔شاہ نے قدرے تیکھے لہجے میں جتایا ۔عروش کے اندر ہونے والی خوشگوار تبدیلی نے بھی شاہ کی اکھڑ مزاجی میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کی تھی ۔
جی ! بہت خوش ہوں ۔عروش کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ امڈ آئی ۔وہ شاہ کے لہجے کی کاٹ محسوس کرتے ہوئے بھی خوش دلی سے بولی ۔اس نے چہرے پر آئی لٹوں کو کان کے پیچھے اڑسا۔وہ ٹرکش کلر کے انتہائی نفیس سوٹ میں کمزوری کے باوجود بھی ہمیشہ کی طرح بلا کی پرکشش لگ رہی تھی ۔شاہ چند لمحے بے خودی میں اسے دیکھا گیا ۔
میری جان ! میں جانتا تھا ، تم بہت خوش ہوگی کیونکہ تم مطلبی ہو نا مطلب کی بات پر خوش ہوتی ہو۔میر سبطین سے بھی تمھارا کوئی مطلب جڑا ہوا تھا ،اس لئے اس کی گاڑی سے اترتے وقت بلکل ایسی ہی مسکراہٹ سے روشن تھا تمھارا چہرہ ۔شاہ مضبوط قدم اٹھاتا اس کے بے حد نذدیک آ گیا اور اپنے ہاتھ کی پشت سے نرمی سے اس کا گال سہلاتے ہوئے طنز کا تیر چلایا ۔عروش کے چہرے سے یکدم مسکراہٹ غائب ہوگئی اور اس کی جگہ سراسیمگی نے لے لی ۔
میں پچھلے تین ماہ سے بلکل ایسی ہی مسکراہٹ تمھارے چہرے پر کھوج رہا ہوں مگر میری ہمراہی میں ایک بار بھی یہ مسکراہٹ ، یہ سکون مجھے ڈھونڈھنے سے بھی نہیں ملا۔اس نے عروش کے بالوں کو زرا سا جھٹکا دیتے ہوئے زہر خند لہجے میں کہا ۔
ان حالات میں میرے چہرے پر مسکراہٹ آ بھی کیسے سکتی ہے ،جب بات بے بات آپ مجھے کچوکے لگاتے ہیں ۔آپ جب تک یہ فتور اپنے دماغ سے نہیں نکالیں گے اس وقت تک نہ میری ذندگی میں سکون ہو سکتا ہے اور نہ آپ کی ذندگی میں ۔۔۔۔جب میں آپ کی نظر میں اتنی ہی گناہ گار تھی پھر مجھ سے شادی کیوں کی تھی ۔۔۔۔کیوں اپنی اور میری ذندگی کو جہنم بنا دیا ؟ عروش اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے یکدم پھٹ پڑی ۔
اس لئے کہ میں تم سے محبت۔۔۔۔۔۔محبت نہیں کرتا میں تم سے ،،،وہ کہنا کچھ اور چاہتا تھا مگر عین وقت پر انا بیچ میں آگئی اور شاہ نےلفظوں کے ساتھ معنی بھی بدل دئیے ۔
مائے ڈئیر وائف ! میں تمھیں پہلے بھی کلئیر کر چکا ہوں کہ میں نے تم سے شادی صرف اپنی ضد پوری کرنے کے لئے کی تھی ۔اپنی ضد پوری کرنے کے لئے میروں کو نیچا دکھانے کے لئے میں کسی بھی حد تک جا سکتا ہوں ۔
تم سے شادی بھی صرف اس لئے ہی ضروری تھی ورنہ ایسی لڑکی کی میرے نذدیک کوئی اوقات نہیں جو مجھ سے پہلے ہی کسی اور کی منظورِ نظر رہ چکی ہو ۔وہ بے رحمی سے عروش کی تضحیک کر رہا تھا ۔
اپنی ذات پر ہونے والے اس شرمناک تبصرےپر عروش کی زبان گنگ ہوگئی تھی ۔وہ زخمی نظروں سے شاہ کو تک رہی تھی ۔
مجھے اس طرح دیکھنے سے حقیقت بدل نہیں جائیگی ۔یہ معصوم صورت میر سبطین کو تو موم کر سکتی ہے مگر معظم شاہ کو پگھلا نہیں سکتی ۔اس نےتلخی سے کہا۔
آخر میں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے ۔۔۔۔۔مجھے کس بات کی سزا دے رہے ہیں ۔۔۔۔اتنی نفرت ہے مجھ سے تو اپنی ذندگی سے نکال کر باہر پھینک دیں مگر خدارا مجھے یوں ذندہ درگور مت کریں ۔وہ شاہ کا گریبان پکڑے کھڑی تھی ۔
عروش بی بی !اس خوش فہمی میں کبھی مت رہنا کہ میں کبھی تمھیں آزاد کر دوں گا ۔آخری سانس تک تم میرے ساتھ رہوگی ۔۔۔۔صرف
میری بن کر۔میرے مرنے کے بعد بھی میرا نام تمھارے نام سے جڑا رہے گا ۔اس لئے سنہری خواب دیکھنا چھوڑ دو ۔
شاہ نے اپنا گریبان عروش کے ہاتھوں سے چھڑایا پھراس کی تھوڑی کو جکڑا ۔اس حرکت پر چند لمحے اس نے عروش کو غصیلی نگاہوں سے گھورا پھر جھک کر اس کے ہونٹوں پر استحقاق سے بھرپور مہر ثبت کی اور بغیر کچھ کہے اسے دھکیلتا ہوا دروازے کی طرف بڑھ گیا ۔
عروش خود کو سنبھاتے سنبھالتے بھی بیڈ پر بیٹھتی چلی گئی ۔اپنی بے ترتیب ہوتی دھڑکنوں کو ہموار کیا ،اسے شاہ کی خاموشی سے خوف تو محسوس ہوا مگر اب اس نے اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا تھا ۔
عروش نے ہتھیلی سے آنکھیں رگڑتے ہوئے تہیہ کر لیا تھا ،اب وہ اس شخص کے سامنے ایک آنسو بھی نہیں بھائے گی اور ناہی اب کوئی صفائی پیش کرے گی ۔
“”””””””””””””
زرتاج کا باپ دوڑتا ہوا پھولی سانسوں کے ساتھ اس جگہ پر پہنچا تھا جہاں زرتاج کے ارد گرد لوگوں کا مجمع لگا ہوا تھا ۔مجمعے سےکچھ دور ہی اس کے قدم زمین نے جکڑ لئے ۔
وہ پوری آنکھیں کھولے زمین پر بے ہوش پڑی زرتاج کو دیکھ رہا تھا مگر اس میں اتنی بھی ہمت باقی نہیں رہی تھی کہ جھک کراپنی نازوں پلی بیٹی کے بے آبرو وجود کو سمیٹ لے ۔
وہ پچھلے چوبیس گھنٹوں سے دیوانہ وار اسے تلاش کر رہا تھا ہر ایک کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا مگر اب وہ سامنے تھی تو دل کہہ رہا تھا کہ اسے اپنی بیٹی ماننے سے انکار کردے اور واپس پلٹ جائے یا زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائے ۔
اجنبیوں کی طرح کیا دیکھ رہا ہے ،اپنی بیٹی کو انصاف نہیں دلوائے گا ؟ زرتاج کی ماں نے اس کا بازو دبوچ کر کہا ۔ضبط کے باوجود اس کی آنکھوں سے موٹی لکیریں بہہ رہی تھیں ۔ اس نے لوگوں کے بیچ سے راستہ بنایا اور جھک کر زرتاج کو بازؤں پر اٹھا لیا ۔
اپنی پشت پر ہونے والی چہہ مگوئیاں جان لیوا تھیں مگر اس وقت اسے اپنی بیٹی پر گزری قیامت سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں تھا ۔اپنی لٹی ہوئی عزت بھی نہیں ۔اس کا رخ میر حویلی کی جانب تھا ۔
مجھے اندر جانے دو ،تمھیں رب کا واسطہ ہے ۔وہ چوکیدار کے سامنے گڑگڑا رہا تھا ۔
وہ زرتاج کو بازوؤں میں اٹھائے حویلی کے دروازے کے باہر کھڑا تھا ۔
کل سے تو نے دماغ خراب کر دیا ہے ،اس وقت صاحب لوگ گھر میں نہیں ہیں تو بعد میں آنا ، ابھی یہاں سے جا ۔اگر میر سائیں کو پتا چل گیا تو نے اس علاقے میں قدم رکھا ہے تو وہ تجھے ذندہ نہیں چھوڑیں گے ۔چوکیدارنے اسے جھڑکتے ہوئے دھمکایا ۔تبھی میر سبطین کی گاڑی گیٹ کے پاس آکر رکی ۔
بشارت ! کیا مسئلہ ہے ،کون ہے یہ آدمی ؟ میر سبطین گاڑی کا شیشہ اتار ے چوکیدار سے استفسار کر رہا تھا ۔اس کے ساتھ میر غضنفر بھی
فرنٹ سیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے ۔
سائیں ! بس ایک بار میری فریاد سن لیں ،میری نصلوں پر آپ کا احسان ہوگا ۔وہ بھی سبطین کی طرف مڑا ۔
بشارت اسے اندر آنے دو ۔میر سبطین اس کی اور اس کے کاندھے سے لٹکی لڑکی کی حالت پر گہری نظر ڈالتے ہوئے سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں بات کی تہہ تک پہنچ گیا اور اسے اندر آنے کی اجازت دے دی کہتے ہوئے گاڑی گیٹ سے اندر لے گیا ۔
میر غضنفراور میر سبطین گاڑی سے اتر کر ایک ساتھ چلتے ہوئے حویلی کے اندرونی دروازے تک پہنچے جہاں زرتاج کے ماں باپ اسے لئے کھڑے تھے ۔زرتاج کے باپ نے اسے زمین پر لٹا دیا اور جھک کر میر غضنفر کے پاؤں پکڑ لئے ۔
میر سائیں ! ہم غریبوں کے پاس عزت کے سوا کچھ بھی نہیں اور آج وہ بھی سرِ بازار نیلام ہوگئی ۔میر سجال مے میری بیٹی کی ذندگی برباد کردی ۔وہ زار و قطار رو رہا تھا ۔
تمھیں کیسے یقین ہے ،اس کے ساتھ یہ سب میر سجاول نے کیا ہے ؟ میر غضنفر کی آواز کسی کوئیں میں سے آئی تھی ۔
سائیں ! لوگوں نے بتایا ہے کہ کل میر سائیں نے ہی اسے اغوا کیا تھا ،انہوں نے چھوٹے میر کو اپنی گاڑی میں لے جاتے ہوئے دیکھا تھا ۔وہ گھگیا کر بولا ۔
جھوٹ بول رہا ہے یہ ، پھنسا رہا ہے میرے بچے کو ۔ان بھوکے ننگوں کے پاس بس یہی پینترا ہوتا ہے ،اپنی خوبصورت بلاؤں کو اونچے گھروں میں بسانے کا ۔فائزہ بیگم بیچ میں بول پڑیں جو اطلاع ملنے پر فوراً سے پیشتر باہر نکل آئی تھیں ۔
ناں بڑی بی بی ! ہم جھوٹ نہیں بول رہے ، ہم اپنے ہاتھوں سے اپنی عزت مٹی میں کیوں ملائیں گے ۔گاؤں کے لوگوں نے چھوٹے میر کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔زرتاج کی ماں ہچکیاں لیتے ہوئے بولی ۔
خبردار ! اب تم دونوں میں سے کسی نے میر سائیں کا نام بھی اپنی زبان سے لیا تو زبان کھینچ لوں گی ۔اس کوڑے کے ڈھیر کو لے کر یہاں سے دفع ہو جاؤ ۔فائزہ بیگم اتنے زور سے چیخیں کے ان کی آواز پھٹ گئی ۔
فائزہ ! اپنی آواز نیچی رکھو اور اندر جاؤ ۔۔۔۔۔کیا تم اس گھرانے کے قاعدے قانون بھول چکی ہو ۔۔۔؟میں یہاں موجود ہوں ،یہ معاملہ میں خود دیکھ لوں گا ۔میر غضنفر ناگواری سے بولے ۔میر سبطین لب بھینچے کھڑا تھا ،اس کے لئے یہ تماشا ناقابلِ برداشت تھا ۔
میر سائیں ! گستاخی معاف مگر یہاں بات میرے بیٹے کی ہورہی ہے ۔۔۔۔۔۔جب تک یہ تینوں حویلی سے دفع نہیں ہوجاتے ۔۔۔۔۔۔۔میں کہیں نہیں جاؤں گی ۔وہ قہر برساتی نظروں سے انہیں گھورتے ہوئے بولیں ۔
بی بی ! ہم پر رحم کریں ۔ہماری زرتاج کی ذندگی برباد ہوگئی ہے ۔سارے گاؤں میں ہم کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے ۔اب ہماری بیٹی سے شادی کون کرے گا ۔
آپ لوگوں کو اللہ کا واسطہ ہے ،اسے اپنا لیں ورنہ ہم اسے زہر دے کر خود بھی خود کشی کر لیں گے ۔
ہاں تو کر لو خود کشی ،تینوں کہیں جا کر ڈوب مرو مگر ہمارا پیچھا چھوڑ دو۔ اس حویلی میں قدم جمانے کے خواب مت دیکھو ۔ اس گند کو میں اپنے گھر میں جگہ ہر گز نہیں دونگی ۔
تم نے حویلی کے وارث کو پھنسانے کے لئے زبردست چکر چلایا ہے مگر میں تم جیسوں سے نپٹنا اچھی طرح جانتی ہوں ۔فائزہ بیگم نے نفرت سے کہتے ہوئے ان تینوں کو دھکے دینا شروع کر دئیے ۔
رک جائیں ۔۔۔۔۔فائزہ چاچی ۔۔۔۔ایک منٹ رک جائیں ۔میر سبطین بلند آواز میں دھاڑا ۔
فائزہ بیگم نے تیوری چڑھائے پلٹ کر اس کی طرف دیکھا ۔
زرتاج سے شادی میں کروں گا ۔”میر سبطین مستحکم لہجے میں بولا ۔
فائزہ بیگم کے ہاتھ جہاں کے تہاں رہ گئے ۔
جاری ہے
