59.7K
43

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

(ماضی)
صفدر شاہ نے گاڑی زنان خانے کے بلکل پاس لے جا کر روکی تھی۔
بی بی جان اور زینب اتر کر اندر چلی گئیں جبکہ صفدر شاہ کو میر پرویز
مردانے کے باہر ہی کھڑا نظر آگیا تھا ۔ اس نے صفدر شاہ کے نزدیک
پہنچ کر سلام کیا ،دونوں بغل گیر ہوئے اور مردانے کی طرف بڑھ گئے۔
زینب ! کتنے دنوں بعد آئی ہوتم ،بڑی بے وفا ہو۔اتنے دنوں سے تمھیں
میری یاد نہیں آئی ۔اب بھائی آئے ہیں تو کیسے دوڑی چلی آئیں ۔سندس اسے لے کر اپنے کمرے میں چلی آئی اور خوب لتاڑا ۔ زینب اس کی بات پر کھلکھلا کر ہنسی ۔
تمھارے اندر وہ بات نہیں ہے نا جو تمھارے بھائی میں ہے ۔دیکھو!
کیسے دوڑی چلی آئی ۔زینب نے شوخی سے کہا تو سندس پہلے حیران
ہوئی پھر شرارت سے بولی ۔
ابھی تو بھائی سے تمھاری ملاقات بھی نہیں ہوئی پھر بھی اتنی بے باک
ہورہی ہو ملوگی تو ناجانے کیا کروگی ۔زینب یکدم جھینپ گئی ،میر پرویز
سے روبرو بات کرنے کے خیال سے ہی اس کے من میں گدگی ہو رہی
تھی ۔
سندس! ایک بات پوچھوں ،سچ سچ جواب دوگی ۔تمھارے بھائی لندن میں کسی گوری میم کو تو اپنا دل نہیں دے آئے۔۔ ۔۔؟وہ سندس کو
چھیڑ رہی تھی ورنہ اسے میر پرویز کے وعدے اور اس کی ذات پر پورا بھروسہ تھا۔
میرے بھائی ایسے ویسےنہیں ہیں بلکہ فرنگی لڑکیوں سے تو وہ دور بھاگتے ہیں ۔سندس نے حسب توقع برا مان کر اس کا ہاتھ جھٹکا اور خفگی سے رخ موڑ گئی۔پھر یکدم بولی۔ویسے مجھے کیا پتہ ،تم خود ہی پوچھ لو۔اس کی نظر اچانک میر پرویز پر پڑی تو شرارت سے کہا۔
زینب نے نظر گھمائی تو میر پرویز دروازے میں کھڑا مسکرا رہا تھا۔اونچا
پورا ،صحتمند وہ پہلے سے بھی ذیادہ خوبصورت ہو گیا تھا۔لندن کی آب و
ہوا اسے خوب راس آئی تھی ۔زینب نے دل ہی دل میں اس کی نظر اتاری ۔پھر اس کی والہانہ نظریں خود پر جمی دیکھ کر سندس کے پیچھے اوٹ میں ہوگئی ۔
زینب ! میں بی بی جان کے پاس جارہی ہوں تم بھی وہیں آجانا ۔وہ
ان دونوں کو پرائیوسی دینے کے خیال سے فوراً ہی کمرے سے نکل گئی۔ زینب نے بھی اس کے کمرے سے نکلتے ہی پیچھے جانا چاہا مگر
دروازے میں کھڑے میر پرویز نے پاس گزرتے ہو ئےاس کی کلائی تھام لی ۔
ہاں ،اب پوچھو کیا پوچھنا چاہ رہی تھیں تم ۔۔۔؟میر پرویز اس کے
چہرے پر اترے دھنک رنگ پرشوق انداز میں دیکھ رہا تھا۔
یہی کہ لندن میں کسی میم سے دل تو نہیں لگا لیا ۔زینب نے بڑی
ادا سے منہ بنا کر اپنی بات دہرائی اور اس کے ہاتھ سے اپنی کلائی
چھڑانے لگی ۔میر پرویز نے اس کی اس ادا کو بڑی دلچسپی اور قدرے
حیرانی سے ملاحظہ کیا کیونکہ لندن جانے سے پہلے وہ اس سے بہت
لیا دیا سا انداز اپنائے رکھتی تھی بلکہ چھپتی پھرتی تھی ۔
جناب ! یہ ہاتھ میں نے چھوڑنے کے لئے نہیں تھاما ۔ اس لئے
کوشش بیکار ہے ،میر پرویز نے اپنی گرفت اور مضبوط کی ، اور رہی بات گوری میم کی تو اگر تمھاری یاد کےسحر سے نکلتا تو کسی گوری میم سے دل لگاتا ناں ۔تم نے تو ہمیں کسی قابل ہی نہیں چھوڑا ۔وہ مذاق ہی مذاق میں اپنے دل کے حال سے اسے آگاہ کر رہا تھا۔زینب نے نظراٹھا کر اسے دیکھا۔
زینب !تمھاری بات قابلِ غور ہے ،میں سوچ رہا ہوں اس بار جاؤں
گا تو واپسی پر ایک میم لے ہی آؤنگا ۔وہ شرارت سے اس کی آنکھوں
میں جھانکتے ہوئے بولا۔زینب نے اسے گھور کر دیکھا ۔
لے آئیے گا ! کس نے روکا ہے بلکہ ابھی بھی خالی ہاتھ کیوں آئے
ہیں، اس بار ہی ساتھ لے کر آنا چاہئے تھا ۔زینب نے اس کا ہاتھ
جھڑک دیا اور آنکھوں میں آئی نمی کو چھپانے کے لئے رخ موڑ گئی۔
یار ! ایک تو خود ہی مذاق کرتی ہو پھر خود ہی برا مان گئیں ۔اتنے دنوں
بعد مل رہی ہو ،اب اس طرح کروگی ۔میر پرویز نے اسے کندھوں
سے پکڑ کر اسکا رخ اپنی جانب کیا ۔وہ پلٹتے ہی کمرے سے نکل گئی۔
یار سنو تو سہی ! تمھاری خدمت کرے گی ،تم غلط کیوں سمجھ رہی ہو۔
میر پرویز نے اونچی آواز میں کہا اور پھر ایک جاندار قہقہہ لگایا ۔زینب
سنی ان سنی کر تی ہوئی سیڑھیاں پھلانگ گئی ۔

وہ لوگ ڈنر سے فارغ ہوئیں تبھی مردان خانے سے بھی بلاوا آگیا۔
زینب بی بی ! چھوٹے شاہ سائیں کا حکم ہی آپ لوگ جلدی آجائیں وہ گاڑی میں بیٹھے آپ کا انتظار کررہے ہیں ۔ملازمہ نے پیغام ان تک پہنچایا۔
بی بی جان فوراً ہی اٹھ کھڑی ہوئیں ۔
سندس !اب تم حویلی چکر لگانا ،بس میں ہی ہمیشہ آتی ہوں ۔تمھیں تو کبھی زحمت نہیں ہوتی ۔زینب نے سندس کو گلے لگا کر پیار بھرا شکوہ
کیا ۔
اس لئے تو ہم سب سوچ رہے ہیں ،تمھیں ہمیشہ کے لئے اس گھر میں
لے آئیں تاکہ روز روز کے ان چکروں سےتمھاری جان چھوٹ جائے۔
سندس شرارت سے گویا ہوئی ۔
بلکل پاگل ہو تم ! زینب شرم سے سرخ پڑ گئی ۔کچھ تو خیال کیا کرو اگر بی بی جان یا مہربانو بھابھی سن لیتیں تو ۔ بی بی جان اور مہر بانو کی موجودگی کے احساس سے گھبرا اس نے سندس کی کمر پر دھپ لگائی ۔
سندس شرارت سے ہنس دی ۔
پھر ان کے ساتھ زنان خانے کے باہر تک انہیں الوداع کرنے چلی آئی ۔
صفدر شاہ انہیں چھوڑ کر جا چکے تھے اور اب اسد شاہ خود انہیں لینے آیا تھا ۔
اس نے کبھی بھی میر حویلی کے زنان خانے میں قدم نہیں رکھا تھا۔
وہاں جانے پر اس کے لئے کوئی پابندی نہیں تھی لیکن وہ حویلی کے اصولوں کی پاسداری کرنے والوں میں سے تھا ۔ میر پرویز سے بھی وہ مردانے میں ہی ملا تھا اور ڈنر بھی اس نے میر پرویز کے ساتھ وہیں کیا تھا۔
سندس زینب کے ساتھ چلتی ہوئی زرا آگے بڑھ آئی تبھی اسد شاہ کی نظراس پر پڑی ،جوان ہونے کے بعد اس نے کبھی سندس کو نہیں دیکھا تھا ۔وہ حویلی بھی آتی تھی تو چادر سے نقاب کیا ہوتا ۔
اس نے بی بی جان کو کہتے سنا تھا کہ سندس جیسا حسن آس پاس کے دس گاؤں میں بھی کسی کا نہیں ہو گا مگر وہ اس درجہ حسین ہوگی یہ اس نے کبھی نہیں سوچا تھا۔
اسد شاہ کی نظریں اس پر پڑیں تو پلٹنا بھول گئیں ۔گہرے نیلے رنگ کے کڑھائی والے سوٹ میں وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔
بی بی جان کا اس کے بارے میں تجزیہ اسد شاہ کو سو فیصد درست
لگا ۔
بی بی جان اور زینب گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھ بھی گئیں مگر
اس کی محویت نہیں ٹوٹی ،دروازہ بند ہونے کی آواز پر وہ چونکا ۔
اسد شاہ کے پہلی بار اس طرح دیکھنے کو سندس نے بھی حیرانی سے دیکھا کیونکہ آج سے پہلے تو اسد شاہ نے کبھی اس پر ایک نگاہِ غلط بھی نہیں ڈالی تھی یا شاید اس کی عادت ہی نہیں تھی مگر یہ آج اس طرح کیوں دیکھ رہا ہے وہ سوچتے ہوئے واپس اندر جانے کے لئے مڑ گئی۔
بی بی جان اور زینب کو گھر ڈراپ کر کے وہ ڈیرے پر آگیا تھا۔
اپنی گن ہاتھ میں پکڑے وہ اس پر انگلیاں پھیر تے ہوئے مسلسل
سندس کے بارے میں سوچ رہا تھا۔رات کے تین بج رہے تھے پورا
گاؤں اپنی آدھی سے ذیادہ نیند پوری کر چکا تھا مگر اس کی آنکھوں سے
نیند کوسوں دور تھی ۔
ذندگی میں پہلی بار وہ کسی لڑکی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہا تھا۔اس سے پہلے بھی اس کی ذندگی میں بہت سی لڑکیاں آئیں تھیں
لندن میں بھی اس کی گرل فرینڈز کی فہرست طویل تھی مگر سندس اسےایک نظر میں ہی ان سب سے مختلف لگی ۔وہ اسد شاہ کے دل کو چھو گئی تھی ۔
وہ سب بیوی بنائے جانے کے قابل نہیں تھیں اور سندس کو ایک
نظر دیکھتے ہی وہ اسے اپنا ہمسفر بنانے کا خواہش مند ہو گیا تھا ۔
سندس سے شادی کوئی ناممکن بات تو نہیں ، جب زینب کا رشتہ میر
پرویز کو دیا جا سکتا ہے پھر ان لوگوں کو سندس کا رشتہ مجھے دینے پر بھلا کیا اعتراض ہوگا۔ ویسے بھی جو اسد شاہ کی بیوی بنے گی دنیا اس پر رشک کرے گی ۔وہ اپنی سوچ پر مطمئین سا ہوکر تفاخر سےمسکرایا،پھر کھڑا ہوا اور گن آسمان کی طرف تان کر کسی غیر مرئی نقطے پر نشانہ باندھا اور فائر کردیا ۔رات کے سناٹے میں دور تک فائر کی آواز گونجی تھی ۔
***
میر ظفر شاہ نے اپنی معمولی سی بیماری کو کچھ ذیادہ ہی سیریس لے لیا
تھا۔اسی وجہ سے انہوں نے فیصلہ کیا کہ میر پرویز اور زینب کا نکاح
کر دیا جائے ،رخصتی اور ولیمہ میر پرویز کی تعلیم مکمل ہونے پر کردی جائے گی ۔
حیدر شاہ شیرازی کو ان کا پیغام ملا تو انہوں نے بنا کسی پس و پیش
کے حامی بھر لی ۔
یوں آناً فاناً دونوں گھرانوں میں نکاح کی تیاریاں ہونے لگی ۔میر پرویز
نے تیمور علی غزینی کو کال کر کے معاملے سے آگاہ کیا ۔وہ بھی اس
فیصلے پر بہت خوش ہوا ۔
تیمور ! صرف خوش ہونے سے کام نہیں چلے گا ۔تمھیں نکاح میں شرکت کے لئے پاکستان آنا ہوگا ۔میر پرویز نے اصرار کیا۔
یار ! تم جانتے ہو سمسٹر سر پر ہیں ،ایک تو تم نے وہاں نکاح کا پروگرام
بنا لیا اور اب مجھے بھی بلا رہے ہو ۔تیمور نے میر پرویز کو چھیڑا ۔میر
پرویز بے ساختہ ہنس دیا ۔
بس یار ! بابا سائیں کو دعائیں دے رہا ہوں ،تم تو میری حالت
سے باخبر ہو ۔میر پرویز مزے سے بولا۔
ہاں ،ہاں !مجھے پتا ہے تم نے ہی کوئی چکر چلایا ہوگا ۔وہاں جاکر جو
بیٹھ گئے ہو زینب کو دیکھ کر تمھاری واپس آنے کی نیت ہی نہیں ہو
رہی ہوگی ۔تیمور غزینی دوبدو بول اٹھا ۔
سچا پیار کرنے والوں کے راستے خود بخود آسان ہوجاتے ہیں ،میں
تو کہتا ہوں تم بھی آزما کر دیکھ لو ۔بڑا سرور ہے اس میں ۔میر پرویز
نے لگے ہاتھوں اسے بھی اکسا یا ۔تیمور کی آنکھوں میں سندس کا چہرہ
ابھر آیا ۔
جب آزماؤں گا ،سب سے پہلے تمھیں ہی بتاؤں گا فی الحال میں یونیورسٹی کے لئے لیٹ ہو رہا ہوں ۔
اچھا ٹھیک ہے !میں تمھارا انتظار کروں گا ، جب تک تم نہیں پہنچوگے
میں نکاح کے پیپرز سائین نہیں کروں گا۔ٹیک کئیر ۔اللہ حافظ ۔میر پرویز کی آواز میں شوخی کا تاثر نمایاں تھا ۔تیمور کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔
اللہ حافظ ۔اس نے فون بند کر دیا ۔ریسیور رکھ کر وہ سوچ رہا تھا کہ
اب تو جانا ہی پڑیگا ۔
*** یار تیمور ! ایک کال ہی کر دیتے ہم تمھیں لینے ائیر پورٹ آجاتے ۔اسد شاہ نے اس سے گرمجوشی سے ملتے ہوئے کہا۔ پرویز کو سرپرائز دینے کا ارادہ تھا ورنہ جب کال پر میں نے اسے بتایا کہ میں نہیں پہنچ سکوں گا تو اس کا منہ لٹک گیا تھا۔اس نے مجھ سے کہا تھا کہ اگر میں نہیں پہنچوں گا تو یہ نکاح کے پیپرز سائین نہیں کرے گا ۔میں نے سوچا کیوں نا کنوارے کی خواہش پوری کردی جائے اور وہ بھی سرپرائز کے ساتھ اگر انفارم کردیتا تو اس کے چہرے پر یہ خوشی کیسے دیکھ پاتا ۔ تیمور نے شائستہ لہجے میں محبت سے تفصیلی جواب دیا۔میر پرویز نے اسکی محبت پر مشکور ہو کر سر کو زرا سا خم دیا اور سلیوٹ کے انداز میں ہاتھ ماتھے تک لے گیا ۔ مجھے کچھ ضروری شاپنگ کرنی ہے ،سوچ رہا ہوں شہر کا ایک چکر لگا لیا جائے ۔کیا خیال ہے۔۔۔تم دونوں ساتھ چلو گے ۔میر پرویز نے ایک ساتھ ان دونوں کو مخاطب کیا ۔وہ تینوں تیمور غزینی کے ڈرائنگ روم بیٹھے ہوئے تھے ۔ جیسی تمھاری مرضی ،میں تو بلکل فری ہوں ۔تیمور بے کندھے اچکائے۔ یار ! میں نہیں جا سکتا ،میرے کچھ دوست آئے ہوئے ہیں ۔مجھے ان کے ساتھ شکار پر جانا ہے بلوچستان کی سائیڈ ۔صبح روانگی ہے ۔اسد شاہ شیرازی نے سنجیدگی سے کہتے ہوئے معذرت کر لی ۔ وہ دونوں باتوں میں لگ گئے اور اسد شاہ سگریٹ سلگائے اپنی ہی سوچوں میں گم ہو گیا ۔ وہ سوچ رہا تھا کہ زینب کے نکاح کے ساتھ ہی اپنے اور سندس کے نکاح کے لئے بابا سائیں کو راضی کرے مگر وقت بہت کم رہ گیا تھا۔ میر ظفر شاید اتنی جلدی راضی نا ہوتے اور اگر ان لوگوں نے انکار کر دیا یا اس معاملے کو بعد کے لئے ٹال دیا تو یہ سبکی بھی اس کی انا کو گوارا نہیں تھی ۔وہ شدید کشمکش میں مبتلا تھا ۔ وہ جلد سے جلد سندس کا نام اپنے نام کے ساتھ جوڑنا چاہتا تھا۔سندس کو دیکھنے کے بعد سے وہ اتنا بے قرار ہوگیا تھا کہ کسی کام میں بھی اس کا دل نہیں لگ رہا تھا ۔ شکار تو صرف بہانہ تھا وہ تو راہِ فرار ڈھونڈ رہا تھا۔ ادھر تیمور غزینی یہ سوچے بیٹھا تھا کہ چپکے سے ثمینہ بھابھی کو اپنے دل کی بات بتادے گا وہ خود ہی ادا سائیں کو بتا دیں گی اور وہ دونوں میر ظفر سے اس کے اور سندس کے رشتے کی بات کر لیں گے۔ اس بار وہ اس معاملے کی طرف سے مطمئین ہو کر لندن جانا چاہتا تھا کیونکہ بھابھی کو اعتماد میں لئے بغیر جانا رسکی تھا ۔میر پرویز باتوں باتوں میں اشاراتاً ذکر کر چکا تھا کہ اس کے بابا سائیں اس کی شادی کے بعد جلد از جلد سندس کے فرض سے بھی سبکدوش ہونا چاہتے ہیں ۔یہ فریضہ وہ اس کے ولیمے کی تقریب میں ہی انجام دیں گے ۔ میر پرویز اور اس کی فیملی کی بھی دلی خواہش یہی تھی کہ تیمور غزینی ہی ان کا داماد بنے ۔ اسدشاہ کی غصیلی فطرت اور سخت گیری سے سبھی واقف ۔اسکی تمام تر وجاہتوں اور شاندار پرسنیلٹی کے باوجود بھی وہ لوگ نازک اور کومل سی سندس کے لئے اسے مناسب نہیں سمجھتے تھے ۔ اس کے با نسبت تیمور غزینی نہایت سلجھا ہوا ،سمجھدار اور نرم خو نوجوان تھا ۔اس لئے پوری فیملی کا جھکاؤ اسی کی جانب تھا۔ ***
پوری حویلی برقی قمقموں سے سجی دلہن بنی ہوئی تھی ۔آج میر پرویز کی
مہندی تھی ۔میر ظفر مہندی اور نکاح پر ہی سارے ارمان نکال لینا
چاہتے تھے ۔اس لئے حویلی کو بھی خوب سجوایا تھا ۔
ہر طرف رنگ و نور کا سیلاب امڈا ہوا تھا ۔سب لوگ مہندی لے کر
“شیرازی ولا “ جانے کے لئے تیار تھے ۔مسرور غزینی اور تیمور غزینی
لڑکے والوں کی طرف سے شامل تھے جبکہ ثمینہ بہن کی نند کی مہندی
میں شیرازیوں کی طرف سے شرکت کرنے کے لیے صبح سے ہی شیرازی ولا چلی گئیں تھیں ۔
تیمور غزینی کا گزر زنان خانے کی طرف سے ہوا تو اس کی نظر سجی سنوری سندس پر پڑی جو مکمل تیاری کے ساتھ بے حد حسین لگ رہی تھی۔وہ مبہوت رہ گیا ۔پورے ایک سال بعد اسے اسے دیکھ رہا تھا،
اور اس ایک سال میں اس نے سندس کو بہت مس کیا تھا مگر کبھی
بھی اس پر ظاہر نہیں ہونے دیا تھا حالانکہ اکثر وہ میر ظفرعلی کی خیریت
جاننے کے لئے حویلی فون کرتا رہتا تھا اور کئی بار یہ اتفاق بھی ہو کے
سندس نے خود کال اٹینڈ کی مگر اس نے کبھی بھی سندس پر اپنے جذبات عیاں نہیں ہونے دئیے تھے ۔
مگر آج وہ چند قدم کا فاصلہ طے کر کے سندس تک پہنچ گیا تھا۔
سندس ! کیسی ہیں آپ ۔۔؟تیمور نے سلام کے بعد اسے مخاطب کیا۔
سندس جو کسی کام سے وہاں کھڑی تھی اس کی آواز پر یکدم چونک گئی پھر سنبھل کر اس کے سلام کا جواب دیا ۔
ادا تیمور ! آپ کب پاکستان پہنچے ،ہمیں تو پتا ہی نہیں تھا آپ بھی شادی میں شرکت کرنے والے ہیں ۔۔۔؟اس نے خوشی اور قدرے
حیرانی سے استفسار کیا ۔
جی ! چند روز پہلے ہی آیا ہوں ۔۔۔میر پرویز نے بہت اسرار کیا تھا
اس لئے آنا ہی پڑا مگر اب سوچ رہا ہوں یہاں آنے کا فیصلہ بلکل
درست تھا ۔تیمور نے اس کے سراپے پر بھرپور نظر ڈالتے ہوئے
معنی خیزی سے کہا ۔اس کی بات کا مفہوم سندس کے سر سے گزر گیا
تھا ۔
بہت اچھا کیا آپ نے ،ثمینہ بھابی بھی آپ کو بہت یاد کر رہی تھیں
وہ اکثر ہی آپ کا ذکر کرتی رہتی ہیں ،ادا پرویز بھی آپ کو بہت مس کرتے اور انجوائے بھی نہیں کر پاتے ۔وہ سادگی سے بولی۔
تیمور غزینی اس کی سادہ لوحی پر مسکرا کر رہ گیا ۔
میر پرویز کو چھوڑ کر تقریباً پورا خاندان ہی شیرازی ولا جانے کے لئے
گاڑیوں میں سوار ہو رہا تھا ۔چند لمحوں بعد وہ لوگ روانہ ہوچکے تھے۔
“شیرازی “ولا پہنچنے پر ان کا زبردست استقبال کیا گیا۔ ڈھیروں ڈھیر پھولوں لی پتیاں نچھاور کی جا رہی تھیں ۔مگر اسد شاہ کو جس کا انتظار
تھا وہ اب تک نظر نہیں آئی تھی ۔اتنے دنوں سے بڑی بے صبری سے
اس نے آج کے دن کا انتظار کیا تھا کیونکہ اس کے علاوہ سندس کے
دیدار کی اور کوئی تدبیر بھی اس کے پاس نہیں تھی ۔
حیدر علی شاہ نے میر ظفر کو گلے لگایا پھر ان کے گلے میں شال پہنائی اسد شاہ نے بھی اسی طرح میر جعفر اور میر غضنفر کا استقبال کیا ۔
تبھی عورتوں کے جھرمٹ میں اسے سندس کی جھلک نظر آئی اور وقت جیسےتھم گیا ۔ سندس باٹل گرین کلر کی فراک اور تنگ پائجامے میں ملبوس بنا نقاب کے ڈیپ ریڈ لپ اسٹک لگائے قیامت ڈھا رہی تھی ۔
اسد شاہ بنا پلکیں چھپکائے اسے بے خودی کے عالم میں دیکھتارہ گیا۔
اسد شاہ ! یونہی کھڑے رہوگے یا اندر بھی چلوگے ۔ صفدر شاہ کے ٹوکنے پر وہ گڑبڑا گیا ۔سندس باقی سب کے ساتھ حویلی کے اندر جا چکی تھی۔
زرد جوڑے میں ملبوس ہاتھوں میں گجرے ، کانوں ،گلے اورما تھے پر پھولوں کے زیور پہنے زینب نظر لگنے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی ۔ مہر بانو بھابھی نے فوراً اس کی بلائیں لیں پھر اس کے ماتھے پر پیار کیا ۔جبکہ فائزہ نظرانداز کر کے ادھر ادھر دیکھنے لگی ۔وہ بھلا اپنی سوا کسی کی تعریف کیسے برداشت کر سکتی تھیں۔
زینب ! آج اگر بھائی تمھیں دیکھ لیں تو کل ہی رخصتی کروا کر دم لیں
گے ۔سندس جو اس کے پہلو سے چپکی بیٹھی تھی ،زینب کے کان میں
سرگوشی کی ۔زینب کے چہرے پر گلال بکھر گیا۔اس نے سندس کو کہنی سے ٹہوکا دیا۔سندس کھلاکھلا کر ہنس پڑی ۔
مہندی کی رسم اور کھانے سے فارغ ہونے کے بعد لڑکیاں ڈھولکی لئے
لہک لہک کر گانے گارہی تھیں ۔تبھی کچھ لڑکیاں کھڑی ہوکر ڈانس بھی
کرنے لگیں ۔ایک لڑکی نے ہاتھ پکڑ کر سندس کو بھی اٹھا لیا ۔ سندس پہلے تو زرا سا جھجکی پھر ان سب کے ساتھ شامل ہوگئی ۔اس کا نرم
گداز جسم ڈھولک کی تھاپ پر لچک رہا تھا۔تیمور کی نظریں بار بار بھٹک
کر سندس پر ہی جا رہی تھیں ۔
اوپر سے لان کا منظر بلکل صاف نظر آرہا تھا اور اسد شاہ اپنے کمرے میں کھڑا ،دونوں ہاتھ کھڑکی پر جمائے بڑی دلچسپی سے یہ سہانہ منظر دیکھ رہا تھا۔اسے پورے لان میں سندس کے سوا اور کوئی نظر نہیں آرہا تھا۔
اس نے انگلیوں میں دبے سگریٹ کو لبوں میں دبایا اور ایک گہرا کش
لیا ۔
بی بی جان اپنی جگہ سے کھڑی ہوئیں اور سندس پر نوٹ واری لگیں۔
سندس نے یکدم جھینپ کر چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا ۔اسد شاہ اس کی
اس معصوم سے انداز پر جی جان سے فدا ہو گیا ۔
سندس کو واش روم جانے کی ضرورت محسوس ہوئی تو وہ حویلی کے
اندرونی حصے کی طرف چلی آئی ۔وہ حویلی آتی رہتی تھی اس لئے اسے
واش روم کی سمت کا پتا تھا۔کچھ دیر بعد وہ واش روم سے نکلی اور
لان میں جانے والی راہداری کا رخ کیا تبھی کسی نے پیچھے سے اس کا ہاتھ پکڑا اور ایک ہاتھ اس کے منہ پر رکھ کر راہداری کے ساتھ بنے کمرے میں کھینچ لیا ۔
جاری ہے