Rate this Novel
Episode 15
(ماضی)
کیا ہوا ، کوئی مسئلہ ہے کیا ۔۔۔؟تیمور نے اسے گن کے ساتھ الجھتے
دیکھا تو جانچتی نظروں سے گن کا جائزہ لینے لگا ۔
کافی دیر سے گولی اندر پھنس گئی ہے ،نکالنے کی کوشش کر رہا ہوں مگر
نکلتی ہی نہیں ۔وہ اب کھنجلاہٹ کا شکار تھا ۔
مجھے دکھاؤ ،میں کوشش کر کے دیکھتا ہوں شاید نکل جائے ۔تیمور نے
کہتے ہوئے گن اس کے ہاتھ سے لی اور چیک کرنے لگا ۔
وہ بار بار گن لوڈ ان لوڈ کرکے چیک کر رہا تھا اسی دوران گولی چلی
اور چونکہ گولی کا رخ مہروز کی جانب تھا ۔مہروز پیٹ پر ہاتھ رکھے
زمین پر گرا تڑپنے لگا ۔علی گل دور سے یہ کاروائی دیکھ رہا تھا ۔الٹے
پیروں دوڑ گیا ۔
تیمور نے مہروز کے گال تھپتھپائے مگر وہ نیند کی آغوش میں جا چکا تھا۔
ارد گرد کی زمین اس کے خون سے تر ہو رہی تھی ۔تیمور نے اس کی
نبز پر ہاتھ رکھا مگر وہ خاموش ہو چکی تھی ۔سکتے کی کیفیت میں تیمور کے
ہاتھ سے مہروز کا ہاتھ چھوٹ گیا ۔
تیمور اپنی حویلی کے مردان خانے میں بیٹھا پوری کہانی میر پرویز کے سامنے دوبارہ دہرا رہا تھا ۔ میر پرویز کسی غیر مرئی نقطے پر نگاہ جمائے
خلا میں گھور رہا تھا ۔
مسرور غزینی تاسف سے ہاتھ ملتے ہوئے ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہے
تھے جب اچانک فضا زبردست فائرنگ کی آواز سے گونجنے لگی ۔
وہ تینوں بد حواس ہو کر ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے ۔ تبھی مسرور غزینی نے باہر کے جانب قدم بڑھائے مگر تیمور نے دوڑ کر پیچھے
سے ان کا بازو تھام لیا ۔
بھائی ! آپ ٹھریں ؟ میں دیکھتا ہوں اور کب تک میں نا کہوں آپ
باہر نہیں نکلیں گے ۔یہ کہتا ہوا وہ دیوار پر لٹکی ہوئی گن اٹھائے باہر
نکل گیا ۔مسرور اسے روکتے رہ گئے مگر وہ ان سنی کرتا نکلتا چلا گیا ۔
میر پرویز اور تیمور سمجھ گئے تھی کہ شیرازیوں نے ان پر حملہ کر دیا ہے ۔
ایک گھنٹے سے وہ لوگ ایک دوسرے کا مقابلہ کر رہے تھے مگر میر پرویز
اور تیمور کے پاس گولیاں ناکافی تھیں جبکہ اسد شاہ پوری تیاری کے ساتھ آیا تھا ۔
پورا سن پورہ گولیوں کی آواز سے گونج رہا تھا ۔کسی میں ہمت نہیں تھی
کہ باہر نکل کر یہ خونہ ریزی روکنے کی کوشش کرے ۔سب اپنی گھروں
میں دبکے ہوئے تھے ۔
تیمور بری طرح زخمی ہو چکا تھا ۔ میر پرویز کو بھی ایک گولی لگ چکی تھی مگرانہوں نے ہار نہیں مانی تھی ۔وہ مسلسل اپنے بچاؤ کی کوشش کر رہے تھے ۔
اسد شاہ آج ہی سارے بدلے چکانے آیا تھا ۔درحقیقت وہ مہروز کے
قتل کا بدلہ نہیں اپنی محبت کے لٹ جانے کا حساب بے باق کر رہا
تھا ۔اس وقت اسے اپنی ذندگی کی بھی کوئی پرواہ نہیں تھی وہ بس تیمور
غزینی کو موت کے گھاٹ اتارنا چاہتا تھا ۔ مرنے سے پہلے وہ اپنے سلگتےدل کو طمانیت پہنچا نے کی کوشش کر رہا تھا ۔
اسکی سفید بے داغ قمیض خون کے دھبوں سے سرخ ہو چکی تھی مگر
اس کے سر پر خون سوار تھا ۔وہ اور اس کے کارندے اندھا دھند
فائرنگ کر رہے تھے ۔
ثمینہ بیگم اپنے کانوں پر ہاتھ رکھے مسرور غزینی سے لپٹی ہوئی دھاڑیں
مار مار کر رورہی تھیں ۔گولیوں کی آوازوں سے ان کا کلیجہ پھٹا جارہا
تھا ۔
بلاآخر مسرور غزینی خود پر اور جبر نا کر سکےاورحویلی کے اس احاطے
کی طرف پہنچ گئے جہاں سے تیمور اور پرویز ان لوگوں سے مقابلہ کر
رہے تھے ۔ انہوں نے تیمور کو خون میں لت پت گرا دیکھا تو لپک
کر اس تک پہنچے ۔اس کا سر اپنی گود میں رکھے وہ پھوٹ پھوٹ کر
رونے لگے ۔
اپنے ہاتھوں سے اس کے چہرے اور پیشانی سے بہتے خون صاف
کیا ۔تیمور بری طرح ہاتھ پیر پھینک رہا تھا ۔ان کا لمس پا کر قدرے
پرسکون ہوگیا ۔وہ بمشکل آنکھیں کھولے انہیں دیکھنے کی کوشش کر رہا
تھا مگر اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا رہا تھا ۔ اور پھر چند
لمحوں بعد ان کی گود میں سر رکھے دم توڑ گیا ۔
مسرور غزینی کی دہاڑ نے حویلی کے دروبام ہلا کر رکھ دئیے ۔میر پرویز
بھاگ کر وہاں پہنچا مگر تیمور غزینی اس کے بچپن کا دوست اس کا
اس کا رازدار ،اس سے ہمیشہ کے لئے بچھڑ چکا تھا ۔ مسرور غزینی
بھائی کے سینے پر سر رکھے بلک بلک کر رو رہے تھے ،میر پرویز کی
آنکھوں میں خون اتر آیا ۔
وہ اپنی گن سنبھالے یکدم اٹھا ،مسرور غزینی نے اس کا ہاتھ تھام لیا
اور نفی میں سر ہلا کر اسے مزید تباہی سے روکنے کا اشارہ کیا مگر وہ آپے
سے باہر ہو چکا تھا ۔اس نے دھیرے سے مسرور سے اپنا ہاتھ چھڑایا
اور مضبوط قدم اٹھاتا ہوا بیرونی دروازے کی طرف بڑھا ۔
دروازے کے باہر قدم رکھتے ہی میر پرویز نے اسد شاہ کے سینے کا نشانہ
لیا اور برسٹ کھول دیا ۔اسد شاہ اس غیر متوقع حملے کے لئے تیار نہیں تھا ،ایک ساتھ ان گنت گولیاں اسد شاہ کو لہو لہان کر گئیں ۔ اس کے ہاتھ سے گن چھوٹ کر گر گئی اور ساتھ ہی وہ خود بھی زمین پر بیٹھتا چلا گیا ۔
اسد شاہ کے کارندوں نے جواباً میر پرویز پر اندھا دھند فائرنگ کی اور وہ دیوار سے لگ کر اوندھے منہ زمین پر جا گرا ۔ اس کے بعد فضا جامد
ہوگئی ۔ہر طرف بارود کی بو پھیلی ہوئی تھی اوراس بو میں تین خاندانوں
کی دوستی ، رشتے داری اور پھر دشمنی کی داستان رقم تھی ۔
پشتنی دوستی نے دشمنی کی جگہ لے لی تھی ، اپنے اپنے علاقوں پر بھی
حدود مقرر کر دی گئیں تھیں اور ایک علاقے کے رہائشی کا دوسرے
کے علاقے میں قدم رکھنے پر بھی پابندی تھی ۔پابندی کا پاس نہ رکھنے
والے خاندانوں کو صفدر شاہ اور میر جعفر نے اتنی سخت سزائیں دیں
کہ دوبارہ پھر کسی نے یہ جرأت کرنے کی کوشش بھی نہیں کی ۔
صفدر شاہ اور میر جعفر کے ساتھ اب یہ دشمنی میر سجاول اور معظم شاہ بھی بخوبی نبھا رہے تھے ۔
اسد شاہ ،میر پرویز اور تیمور غزینی کی موت پر تینوں گھروں اور پورے گاؤں میں قیامت برپا تھی ،ہر آنکھ اشک بار تھی ۔صدیوں پرانی دوستی
اور رشتے داری کا اتنا بھیانک انجام ہوگا یہ کسی نے نہیں سوچا تھا۔
بی بی جان کو اپنا صدمہ سب سے بڑا لگ رہا تھا ۔ان کا شیر جوان بیٹا
ان سے ہمیشہ کے لئے جدا ہوگیا تھا جس میں ان کی جان بستی تھی اور ان کی نازوں پلی بیٹی زینب جس کی ذندگی ابھی شروع بھی نہیں ہوئی تھی ،ابھی اسے ذندگی کی کئی بہاریں دیکھنا باقی تھیں ،تقدیر نےبھر ی جوانی میں بیوگی کی چادر اڑھا کر اس کی ذندگی سے سارے رنگ چرا لئے تھے ۔
وہ اب تک سکتے کی کیفیت میں تھی ۔اسے یقین نہیں آرہا تھا ،جس کا
انتظار وہ انگلیوں پر دن گن کرکر رہی تھی ۔جو اس کی قسمت میں لکھ دیا جا چکا ہے وہ اس کا ہو کر بھی اس سے چھین لیا گیا ہے۔
وہ اب کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا اس ملال نے اس سے قوتِ گویائی
چھین لی تھی ۔
نہ وہ بی بی جان کی طرح بین کر رہی تھی نہ دھاڑیں مار مار کر رو رہی تھی بس ٹھس پتھر بنی ٹکر ٹکر سب کچھ دیکھ رہی تھی ۔کب اسد شاہ کا جنازہ اٹھا کر لے جایا گیا ،کب بی بی جان بے ہوش ہو کر گر گئیں ۔کب رخسانہ اسے اٹھا کر کمرے لے گئیں اسے کچھ خبر نہیں تھی ۔
پوری حویلی میں صفِ ماتم بچھی تھی۔بی بی جان سے لے کر گھر کے
ملازم تک ماتم کر رہے تھے ۔اس گھر کا لاڈلا شہزادہ لحد میں اتار دیا گیا
تھا مگر حیدر علی شاہ کو لگی چپ نہیں ٹوٹی ،پھر یہی چپ انہیں بہت
ہی جلد اسد شاہ کے پاس لے گئی۔وہ اسد شاہ کی موت کا صدمہ ذیادہ عرصہ جھیل نہیں سکے اور چند مہینوں کے وقفے سے بی بی جان اور حیدر علی شاہ دونوں ہی انتقال کر گئے ۔
رخسانہ پوری حویلی میں بولائی بولائی پھرتیں ،زینب نے خود کو ایک کمرے میں مقید کر لیا تھا ۔
میر اور غزینیوں سے دوستی کا تعلق ہمیشہ کے لئے توڑ دیا گیا تھا اس کی
جگہ خونی دشمنی نے لے لی تھی ۔
※
سندس نا تیمور غزینی کی ذندگی میں آسودہ تھی اور نا اس کے دن رات میں تیمور کی موت سے کوئی تبدیلی واقع ہوئی تھی۔اس کا دل ایک بار پھر اجڑ گیا تھا اور اس بار ایسا اجڑا تھا کہ اس کی روح تک ویران
ہوگئی تھی اس کی ذات میں موت کا سا سناٹا پھیلا ہوا تھا وہ قسمت کی اس ستم ظریفی پر اپنے رب سے شکوہ بھی نہیں کرنا چاہتی تھی ۔
تقدیر نے پہلے ہی اسد شاہ سے اسے جدا کر کے اس سے جینے کی وجہ چھین لی تھی مگر اس کی موت نے تو سندس کے حواس ہی چھین لئے تھے اس پر بیوگی کی تکلیف بھائی کی موت کا غم اور اسد شاہ کا آخری دیدار بھی اسے نصیب نا ہوا اس کسک نے اسے اندر سے کھوکھلا کر دیا تھا ۔
رات کے کسی پہر اسکی آنکھ کھلی تو اس نے اپنے پہلو میں شدید تکلیف
محسوس کی ۔ وہ بمشکل خود کو گھسیٹتی ہوئی ثمینہ بیگم اور مسرور کے کمرے کے دروازے تک پہنچی اور دستک دی ۔ چند لمحوں بعد ہی دروازہ کھل گیا ۔
اس حادثے نے ثمینہ بیگم کی نیندیں بھی چھین لیں تھیں ،تیمور کی موت نے انہیں بستر سے لگا دیا تھا۔بے اولاد ہونے کی
وجہ سے وہ تیمور کو اپنا دیور نہیں بیٹا سمجھتی تھیں اور تیمور نے بھی ہمیشہ بیٹا ہونے کا فرض نبھایا تھا ۔
سندس ! اتنی رات کو یہاں ،تم ٹھیک تو ہو ؟ ثمینہ نے اس کے پسینے
میں شرابور چہرے پر نظر ڈالتے ہوئے استفسار کیا۔
بھابھی ! مجھے بہت تکلیف ہورہی ہے ۔اس نے کراہتے ہوئے جواب
دیا۔
تم پریشان مت ہو ،میں تمھارے بھائی کو بتا کر آتی ہوں ۔انہوں نے
فوراً ہی اس کی تکلیف کی نوعیت کا اندازہ لگا لیا اور اس کا ہاتھ تھام
کر تسلی دی ۔ پھر پلٹ کر مسرور غزینی کو مسئلے سے آگاہ کیا اور میر حویلی فون ملایا اس خیال سے کہ وہاں سے فائزہ یہاں پہنچ جائے اور سندس کے پاس موجود رہے ۔
ویسے تو فائزہ نے پہلے سے ہی اپنی حویلی کی سب سے پرانی ملازمہ
جہاں آرا جس نے سندس کی پرورش بھی اپنے ہاتھوں سے کی تھی اسے تیمور کی موت کے بعد سے مستقل سندس کے پاس بھیجا ہوا تھا ۔
ملازمہ کی مدد سے ثمینہ اسے ایک کمرے میں لے گئیں ۔سارا انتظام انہوں نے پہلے سے ہی کر رکھا تھا مگر سندس کی بگڑتی حالت ان کے ہاتھ پاؤں پھلائے دے رہی تھی ۔ وہ خود بھی بیماری کی وجہ سے کمزور ہو گئیں تھیں ۔
سندس کی حالت سے مسرور کو آگاہ کرنے کے لئے وہ اپنے کمرے کی طرف گئی تھیں ۔ تبھی سندس نے بہت خوبصورت مگر کمزور سی جڑواں بچیوں کو جنم دیا مگر اس کی حالت ابتر ہو رہی تھی ۔اس نے
ہاتھ پاؤں چھوڑ دئے تھے ۔
ملازمہ ایک بچی کو گود میں لئے ثمینہ کو سندس کی تشویشناک حالت کی خبر دینے کے لئے دوڑ گئی ۔جہاں آراجو کسی کام سے کچن کی طرف گئی ہوئی تھی کمرے میں داخل ہوئی ۔
سندس نیم بے ہوشی کی حالت میں بستر پر پڑی تھی جبکہ ایک بچی اس
کے پہلو میں موجود تھی ۔جہاں آرا نے ادھر ادھر دیکھا اور بچی کو گود
میں اٹھا کر کمرے سے نکل کر کچن کی طرف چل پڑی ۔
کچن میں موجود کھڑکی کے پاس پہنچ کر اس نے ہاتھ بڑھا کر بچی باہر
کھڑے آدمی کو تھمادی اور اسے جلدی اس جگہ سے نکلنے کی تنبیہہ کر
کہ واپس کمرے کی طرف چلی گئی ۔
ثمینہ ،مسرور اور حویلی کی دوسری ملازمہ جب کمرے میں پہنچے تو سندس
کی روح پرواز کر چکی تھی مگر دوسری بچی وہاں سے غائب تھی ۔ثمینہ
چکرا کر مسرور کے بازوؤں میں جھول گئیں ۔
مسرور غزینی کو یقین ہوگیا کہ شیرازی ہی گھات لگائے بیٹھے تھے اور
انہوں نے ہی تیمور کی اولاد کو غائب کروا دیا ہے ۔اب ملازم بھی ان
کے لئے قابل بھروسا نہیں رہے تھے ۔
انہوں نے دونوں ملازماؤں کو سخت لہجے میں تاکید کی کہ سندس کے یہاں جڑواں بیٹیاں پیدا ہوئیں تھیں اس بات کی خبر حویلی کے اس
کمرے سے باہر نہیں نکلنی چاہئے ۔
مسرور غزینی دوسری بچی کو کسی بھی صورت کھونا نہیں چاہتی تھے وہ
ان کے چہیتے مرحوم بھائی کی آخری نشانی تھی ۔انہوں نے اپنے قریبی
اور قابلِ بھروسہ دوست کو کال کی اور سندس کی تدفین تک عروش کو
اس کی بیوی کے حوالے کردیا ۔
قسمت کی مہربانی سے عروش دشمنی کی بھینٹ چڑھنے سے وقتی طور پر تو بچ گئی تھی مگر وہ جانتے تھے وہ صفدر شاہ سے ذیادہ دیر تک اسے
نہیں بچا سکتے ۔
جب وہ حویلی میں سے بچی کو غائب کروا سکتا ہے تو بھائی کی موت کا
بدلہ لینے کے لئے وہ کسی بھی حد تک جا سکتا ہے اور وہ اس بچی کو
بھی ذندہ نہیں رہنے دیگا ۔ جب بھی اسے موقع ملے گا وہ ضرور وار کرے گا اور اب مسرور کوئی رسک نہیں لے سکتے تھے ۔ویسے بھی ان
کے بعد عروش ہی اس خاندان کی واحد نشانی ہوتی ۔
اسی خدشے کے پیشِ نظر مسرور نے سندس کی جڑواں بیٹیاں پیدا
ہونے والی بات اس کے گھر والوں سے بھی راز رکھی تھی ۔
تیمور اور اپنے خاندان کی آخری نشانی کو وہ کسی بھی قیمت پر صفدر شاہ کے ہاتھوں مٹانا نہیں چاہتے تھے۔ اس لئے انہوں نے ایک پل میں فیصلہ کیااورسندس کی تدفین کےٹھیک ایک ہفتے بعدوہ اپنی آبائی حویلی ،زمینداری ،گاؤں ،رشتے دار اور تقریباً سب ہی کچھ چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے روپوش ہوگئے ۔
※*
فائزہ نے جہاں آرا کو یہ کام نہا یت رازداری سے کرنے کے لئےسونپا تھا۔
فائزہ کا حکم تھا کہ سندس کے یہاں پیدا ہونے والے بچہ کسی بھی
صورت دنیا میں سانس نا لے سکے اور پیدا ہوتے ہی اس کا قتل کر دیا جائے ۔
اس کی حریص اور لالچی فطرت نے اسے انتہا پسند بنا دیا تھا۔وہ ہرگز بھی حویلی اور زمین جائیداد میں سندس کی اولاد کی حصہ داری نہیں چاہتی تھیں ۔اس کے بچے کو قتل کروا کر وہ کسی نا کسی طرح سندس کو بھی راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کر چکی تھیں ۔اسے اب حویلی اور
اس کے معملات میں کسی کی بھی شراکت یا مداخلت منظور نہیں تھی۔
میر غضنفر اور مہربانو کا کانٹا تو خود بخود ہی نکل چکا تھا ۔میر ظفر علی کے انتقال کے بعد میر غضنفر اپنی پوری فیملی کے ساتھ لندن مقیم ہو چکے تھے ۔
میر پرویز کی موت نے انہیں پوری طرح توڑ دیا تھا ۔وہ مسرور سے بھی
مشاورت کر چکے تھے کہ سندس کی ڈلیوری کے بعد وہ اسے بھی لندن
لے جائیں گے تاکہ اس کی آب و ہوا بدلے اور وہ اپنے بارے میں کوئی فیصلہ کر سکے ۔
مسرور کو بھی ان کے اس فیصلے سے کوئی اختلاف نہیں تھا ۔نہیں وہ
پست ذہنیت کے مالک تھے جو سندس کی دوسری شادی یا دوباری گھر
بسانے پر اعتراض کرتے بلکہ وہ تو خود چاہتے تھے کہ سندس اس ماحول
سے باہر نکل جائے ۔ مسرور نے سندس کے مستقبل کے کسی بھی فیصلے کا اختیار میر غضنفر کو سونپ دیا تھا ۔
اس کام کے لئے اس نے جہاں آرا کو بہت بڑی رقم سے نوازہ تھا اور ساتھ ہی دھمکی بھی دی تھی کہ اگر اس نے کوئی چالاکی یا اس سے غداری کی تو وہ جہاں آرا کو اس کے بیٹے سمیت قتل کروا دےگی ۔
چونکہ اب حویلی کے اندرونی معاملات میں فائزہ کی ہی حکمرانی تھی۔
وہ حویلی کی کل مختار فائزہ بن چکی تھی۔جہاں آرا کو اس کی حکم عدولی یقیناً مہنگئ پڑ سکتی تھی اس لئے اس نے اس وقت تو فائزہ کے حکم کے مطابق سندس کی بچی کو غائب کروا دیا تھا مگر اس کا ضمیر اسے اجازت نہیں دے رہا تھا کہ وہ اس معصوم کو موت کے گھاٹ اتروادے ۔
جہاں آرا نے اس کام کے لئے اپنے بیٹے کو شہر سے بلوا لیا تھا جو شہر میں مقیم تھا مگر اسے ہدایت دی تھی کہ وہ بچی کو اپنی سرپرستی میں لے کیونکہ وہ شادی کے دس سال گزر جانے کے باوجود بھی بے اولاد تھا ۔فائزہ کو اس نے یہی اطمینان دلایا تھا کہ اس کے شوہر نے بچی کو مار کر دفنا دیا ہے۔
جہاں آرا نے فائزہ کا ساتھ مجبوری میں دیا تھا۔وہ دل سے سندس یا اس حویلی کا برا نہیں چاہتی تھی مگر روزی روٹی کے خاطر مجبور ہو کر
رہ گئی تھی ۔اس نے اپنے بیٹے کو اسی رات سندس کی بیٹی کو اس
کے ساتھ شہر روانہ کر دیا تھا اور فائزہ کو بھنک بھی پڑنے نہیں دی
تھی کہ سندس نے ایک نہیں دو بیٹیوں کو جنم دیا ہے ۔
جاری ہے
