59.5K
43

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 34

قاضی صاحب نے آخری بار ایجاب و قبول کا سلسلہ جاری کیا مگر زرتاج کی چپ نہیں ٹوٹی ۔حاضرین میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی تھی ۔
وقت ساکت ہوگیا تھا ، میر سجاول کے اندر ایک طوفان برپا ہونے لگا ۔زرتاج کے اقرار کا منتظر اس کا پورا جسم سماعت بن گیا تھا ۔
زرینہ نے زرتاج کی پشت پر ہاتھ کا دباؤ بڑھا کر اپنی موجودگی اور مجبوری کا احساس دلایا ۔تبھی زرتاج چونک کر بھیانک خواب کے اثر سے واپس لوٹ آئی ۔
زری !ہمارے بعد اس پوری دنیاکہیں پناہ نہیں ملے گی ۔میر سائیں جیسے بھی ہیں ،تیرے لئے مضبوط سائیبان ثابت ہونگے ۔انکار سے پہلے اپنے بوڑھے ماں باپ کا ضرورسوچ لینا ۔ہم صدا نہیں جئیں گے۔
زرینہ کی سرگوشیاں زرتاج کی باغی ہوتی سوچوں پر بند باندھنے کا کام کر کرنے لگیں ۔
نظروں کے سامنے بے مروت زمانہ گھات لگائے کھڑا تھا کہ کب زرتاج نکاح سے انکار کرے اور وہ لفظوں سے اسے نوچ کھائیں ۔
اس نے ایک پل میں خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا ۔
“قبول ہے “ زرتاج کے منہ سے مبہم سا اقرار میر سجاول کے کانوں تک پہنچا ، اس کی روح میں طمانیت اتر گئی ۔ رکی ہوئی سانسیں بحال ہوگئیں ۔
زرینہ اور دین محمد کے چہرے کا تناؤ بھی اس کی اقرار پر سرخوشی میں تبدیل ہوگیا ۔
قاضی صاحب نے فٹافٹ زرتاج سے سائین کروائے ،مبارک سلامت کے بعد مرد حضرات اسٹیج سے اتر گئے ۔ ان کے جاتے ہی فائزہ بیگم دل کی بھڑاس نکالنے کے لئے زرتاج کے برابر آ بیٹھیں ۔ بہت دیر سے وہ خود پر جبر کئے ہوئےتھیں۔زرینہ اس کےدوسری جانب براجمان تھی ۔
لڑکی ! تجھے تو بہت نخرے دکھانے آتے ہیں ، انہیں اداؤں سے تو نے میرے میر سائیں کو پھنسایا ہوگا مگر یاد رکھ ، بہت جلد حویلی سے تیری چھٹی کروادوں گی ۔ ذیادہ ہواؤں میں اڑنے کی ضرورت نہیں ہے ۔
منہ کے بل گراؤں گی تو منہ چھپانے کو بھی جگہ نہیں ملے گی ۔
بڑی ڈرامے باز بن رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔اصل کی تھی تو انکار کر دیتی ناں ۔من میں تو لڈو پھوٹ رہے ہونگے ، انکار کیسے کرتی ۔تیرے پاس میرے بیٹے کو بے وقوف بنانے کے تمام حربے ہیں ۔وہ چبا چبا کر بول رہی تھیں ۔ منہ کے بگڑتے زاویوں کو مہمانوں کی موجودگی کے خیال سے بمشکل کنٹرول کیا تھا ۔
زرتاج نے حیرت سے نظریں اٹھا کر انہیں دیکھا ۔ زرینہ اپنی جگہ شرمندہ سی یوں ظاہر کر رہی تھی جیسے وہ کچھ سن نہیں پا رہی ہو ۔تبھی نگین بڑا سا دوپٹہ سنبھالتی ہوئی اسٹیج پر چلی آئی ۔
بڑی بی بی ! رانیہ باجی کہہ رہی ہیں ، آپ کھانا اسٹیج پر زری بھابھی کے ساتھ کھائیں گی یا مہمانوں کے ساتھ ؟ نگین نے ڈرتے ڈرتے پیغام پہنچایا ۔
کیوں نگین بی بی ! اپنی اوقات بھول گئی ہو کیا ؟ یہ تیری بھابھی کب سے ہوگئی ۔۔۔۔۔۔ چھوٹی بی بی بول ، سمجھی ۔ میں مہمانوں کے ساتھ کھاؤں گی ۔
ابھی اتنے برے دن نہیں آئے کہ ان بھوکے ننگوں کے ساتھ کھاؤں ۔ فائزہ بیگم نے حقارت سے کہا اور بھاری بھرکم دوپٹہ سنبھالتی ہوئی کھڑی ہوگئیں ۔زرتاج نے شرمندہ نظر نگین کے اداس چہرے پر ڈالی ۔
فائزہ بیگم ایک ہی تیر سے دو نشانے کر کے چلتی بنیں ۔
چھوٹی بی بی ! آپ کے لئے کھانا لگوادوں ۔۔۔۔۔؟ نگین نے آہستگی سے پوچھا ۔
نہیں ، مجھے بلکل بھوک نہیں ہے ۔پلیز ! تم اماں کو لے جاؤ ۔ انہیں اپنی نگرانی میں کھلوا دو ۔
پگلی ہوئی ہے ۔ صبح سے دیکھ رہی ہوں ۔ تو نے ڈھنگ سے کچھ بھی نہیں کھایا ۔ اب بھی منع کر رہی ہے ۔
پتا نہیں یہ ظالم لوگ گھر لے جاکر کچھ کھانے پینے کو پوچھیں گے بھی یا نہیں ۔ کیا رات بھر بھوکی رہے گی ؟ زرینہ یکدم پریشان ہوگئی ۔
کوئی پوچھے نا پوچھے ، آپ کا ظالم داماد تو ضرور پوچھے گا ۔ زرتاج کو پورا یقین تھا ۔اس نے دل میں سوچا ۔
اماں میں بعد میں کھالوںگی ناں ، ابھی مجھ سے ضد مت کریں ۔وہ بیزاری سے بولی۔زرتاج کی آنکھیں ایک پل میں جھلملانے لگیں تھیں ۔ زرینہ اس کی کیفیت سمجھ کر خاموش ہو گئی ۔
“””””””””””❤️””””””””””
رات کے بارہ بجے تقریباً سبھی لوگ واپس حویلی پہنچے تھے ۔ رانیہ اور حنین نے دلہن کے ویلکم کے لئے زبردست انتظامات کئے تھے ۔
ڈرائیو وے سے لاؤنج تک گلاب کے پھولوں کی پتیوں سے راستہ بنایا گیا تھا اور وہی راستہ خاص شکل میں میر سجاول کے بیڈروم تک پہنچ رہا تھا ۔
میر سجاول اپنی دلہن کا ہاتھ تھامے دروازے تک پہنچا تو رانیہ اس کا راستہ روک کر کھڑی ہوگئی ۔
آپ کی اکلوتی بہن ہوں ، بھاری بھرکم راستہ رکائی لوں گی ۔۔۔۔۔اس کے بعد ہی آپ دونوں کو اندر آنے دوں گی ۔ وہ ایک ہاتھ کمر پر ٹکائے ایک ہاتھ کو نچاتے ہوئے بولی ۔سب بے ساختہ ہنس پڑے ۔
میر سجاول کا قہقہ سب سے بلند اور ذندگی سے بھرپور تھا ۔اس نے بھرپور انجوائے کرتے ہوئے اپنے ہاتھ میں دبا زرتاج کا ہاتھ دبایا ۔
تمھیں بس موقع چاہئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر جگہ مانگنے کھڑی ہوجاتی ہو ، بھائیوں کو لوٹنے کے سوا کوئی اور کام ہے تمھارے پاس ؟ حنین میر سجاول کے قریب ہوتے ہوئے بولا ۔
تم ذیادہ مت بولو ، تمھاری شادی پر تو ہر ہر قدم پر نیگ لوں گی ۔ رانیہ چہکی ۔
توبہ ، تب تک ہمارے سروں پر سوار رہو گی ۔ چلو اب راستہ چھوڑو،
دولہا دلہن کو اندر آنے دو ۔ حنین ترکی بہ ترکی بولا ۔
ہر گز نہیں ، پہلے سجاول بھائی تگڑی سی نیگ دیں پھر اندر آئیں ۔
یار سجاول ! دیکھو ، جیب میں سکہ پڑا ہو تو بچی کو دے دلا دو ۔میر سبطین نے بھی مسکراہٹ دبائے حصہ لیا ۔
کیا ۔۔۔۔۔۔۔ بھائی آپ بھی حنین کے ساتھ شامل ہوگئے ۔رانیہ اچھل پڑی ۔ میر سجاول کو زرتاج کے نازک سی جان کا خیال ستایا،
وہ بھاری سوٹ اور جیولری کے بوجھ سے جھکی جارہی تھی ۔اس نے پیجھے کھڑے ملازم کو اشارہ کیا ۔
ملازم نے جھٹ سے نیکلس کا کیس اس کی جانب بڑھایا ۔
یہ لو ، کیا یاد کروگی ۔ میر سجاول جیسا بھائی ملا تھا ۔ میر سجاول نے گنبھیر آواز میں کہتے ہوئے اس کے سر پر تھپکی دی ۔
اووو۔۔۔واؤ ، یہ تو بہت خوبصورت ہے ۔ رانیہ نے جھٹ کیس اوپن کیا ۔ سب کی آنکھیں خیرہ ہوگئیں ۔ نیکلس بہت خوبصورت تھا۔
اتنی پیاری سی دلہن لے کر آئے ہیں ، یہ تحفہ تو ان کے سامنے بہت چھوٹا ہے پھر بھی تھینک یو سو مچ ۔رانیہ نے مسکراتے ہوئے میر سجاول کا دل خوش کردیا ۔
ان کی نوک جھونک ختم ہونے پر فائزہ بیگم نے دہلیز میں تیل ڈالا پھر ان کا صدقہ اتارا پھر وہ دونوں اندر آگئے ۔ میر سجاول نے اب تک بھی زرتاج کا ہاتھ نہیں چھوڑا تھا ۔
منہ دکھائی کی رسم کے لئے میر سجاول اور زرتاج کو ایک ساتھ بٹھا دیا گیا ۔فائزہ بیگم نے بڑا سا شیشہ ان دونوں کے سامنے رکھا پھر گھوم کر زرتاج کے پاس گئیں اور اس کا گھونگھٹ پلٹ دیا ۔
زرتاج کے ہوش ربا روپ کو دیکھ کر میر نظریں پلٹنا بھول گیا ۔وہ اتنی حسین لگ رہی تھی کہ میر کی سانسوں کی رفتار تیز ہوگئی ۔ وہ سرشاری سے مسکرایا ۔
البتہ زرتاج نےاپنی پلکیں اٹھانے کی زحمت نہیں کی تھی۔وہ اسی طرح سرجھکائےبیٹھی رہی ۔
دوچار مزید رسموں کے بعد میر سجاول اٹھ کر مردانے کی طرف چلاگیا ۔
“””””””””””❤️””””””””””
سب لڑکیاں معا فائزہ بیگم اسے میر سجاول کے وسیع و عریض شاندار کمرے میں بٹھا کر چلی گئیں تھیں ۔
زرتاج نے طائرانہ نظر پورے کمرے پر ڈالی ۔ کمرے کی سیٹنگ خصوصاً سیج کی سجاوٹ میر سجاول کی خوشی اور ارمانوں کا منہ بولتا ثبوت تھی۔
ایک دیوار پر زرتاج کی مہندی والے روز کی تصویر خوبصورت فریم میں سجی ہوئی تھی ۔
زرتاج کی نظروں میں پھر وہی قیامت خیز منظر گھوما ، اس کے سارے ارمان ایک زوردار چھناکے سے ٹوٹ گئے ۔
آنکھوں سے یکلخت گرنے والے آنسؤوں کو اس نے بے دردی سے رگڑ ڈالا ۔ وہ میر کی آمد کا انتظار کئے بغیر تکیے پر سر رکھ کر لیٹ گئی مگر باوجود کوشش کے کپڑے چینج کر کے میر سجاول پر ظلم ڈھانے کے لئے اس کا دل آمادہ نہیں ہوا تھا کہ وہ میر کے جذبات سے بخوبی واقف تھی ۔
بارہا وہ زرتاج کو اس روپ میں اپنے بیڈروم میں موجودگی کی خواہش کر چکا تھا ۔
ناجانے کب اس نے سوچتے سوچتے کروٹ لی اور تھکن کی وجہ سےچند لمحوں میں ہی غافل ہوگئی ۔
میر سجاول آدھی شب گزر جانے کے بعد بڑی مشکل سے دوستوں سے جان چھڑا کر آیا تھا ۔ کمرے کا ماحول مدھم روشنیوں میں خوابناک ہورہا تھا ۔
اس کی نظر بیڈ پر اوندھے منہ سوئی ہوئی زرتاج پر گئی۔ میر کے دل کو زبردست چوٹ لگی تھی ۔
اگر اس نے بدلے کی آگ میں اپنی محبت کو نا جلایا ہوتا توزرتاج اس رات کی بے قدری کبھی نہیں کرتی بلکہ صبح تک انتظار میں بیٹھی رہتی ،پلک نہیں جھپکتی ۔
وہ دکھ سے سوچتا دبے قدموں سے چلتا ہوا بیڈ تک پہنچا پھر جگہ بنا کر اس کے برابر ہی بیٹھ گیا ۔
زرتاج کی بیک کا گلا ڈیپ تھا ۔ اس کی نرم ملائم ریشمی جلد دوپٹے میں سے صاف جھلک رہی تھی ۔ میر نے دوپٹہ سرکا کر اسکی پشت کو سہلایا ۔
زرتاج اس کے ہاتھ کالمس محسوس ہوتے ہی جاگ گئی مگر پوزیشن چینج نہیں کی نا آنکھیں کھولیں ۔
دلبر سائیں ! اس رات کا انتظار صرف میں نے ہی نہیں تم نے بھی بڑی شدت سے کیا ہے ۔ اس مرادوں والی رات کو یوں سو کر مت گنواؤ ۔اٹھ جاؤ۔اس نے نرمی سے زرتاج کا بازو پکڑ کر اسے اٹھایا ۔
وہ جانتا تھا کہ زرتاج جاگ گئی ہے ۔
زرتاج بغیر پس و پیش کے اٹھ کر بیٹھ گئی ۔ وہ خواہ مخواہ ہی اپنا دوپٹہ درست کرنے لگی جو پوری طرح پن اپ تھا ۔
تم نے کھا نا نہیں کھایا ہے ،کھانا منگواؤں ؟اس نےزرتاج کا ہاتھ پکڑ کر اپنے گال سے لگایا ۔زرتاج کا دل پوری قوت سے دھڑکا ۔
مجھے بھوک نہیں ہے ۔اس نے آہستگی سے انکار کر دیا۔
پوری رات خالی پیٹ جاگو گی تو طبیعت خراب ہوجائے گی ۔ کل ولیمہ ہے ۔ وہ معنی خیزی سے بولا ۔
مجھے نہیں کھانا ۔زرتاج جھینپ گئی ۔
ہوں ۔۔۔۔میر نے ہنکارہ بھرا ۔
بہت ضدی ہوگئی ہو ۔وہ قدرے توقف سے بولا ۔
آج سے میرے گھر ،میرے دل ۔۔۔۔۔میرے دل کی دھڑکنوں حتی کے سانسوں پر بھی تمھاری حکمرانی ہوگی ۔
دلبر سائیں ! تم جو چاہو گی ، بس وہی ہوگا ۔میر نے اپنے سر سے دستار اتار کر اس کے سر پر رکھ دی پھرموبائل نکال کر زرتاج کی پک بنائی پھر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر سیلفی لی ۔
آپ نے مجھے ذلت بھری ذندگی سے نواز دیا ہے ۔۔۔۔۔۔میرے لئے یہی کافی ہے ۔۔۔۔۔۔۔میں اس اعزاز کے قابل نہیں رہی ہوں ۔
وہ تلخی سے بولی ۔ میر نے لب بھینچ لئے ۔
ششش۔۔۔۔۔ میری دلبر ! آج منہ میٹھا کرو،ان کڑوی باتوں کو کل پر اٹھا رکھتے ہیں۔اس نے زرتاج کے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر کہا پھر سائیڈ ٹیبل کی ڈراء سے ایک خوبصورت پیکٹ نکال کر کھولنے لگا ۔
پیکٹ میں سے جڑاؤ گھڑی برآمد ہوئی ۔ زرتاج کی آنکھیں گھڑی پر ٹہر سی گئیں۔گھڑی کے ڈائیل اورچین پر ننھے منے ڈائیمنڈز جگمگا رہے تھے۔
اس نے رانیہ کے منہ سے اڑتی پڑتی بات سنی تو تھی مگر غور نہیں کیا تھا ۔وہ کہہ رہی تھی کہ سجاول بھائی نے منہ دکھائی میں دینے کے لئے ڈائمنڈ روبی کی جڑاؤ گھڑی منگوائی ہے ، جس کی قیمت چالیس کروڑ ہے مگر وہ گھڑی اس قدر خوبصورت ہوگی یہ اس نے نہیں سوچا تھا ۔
پہلے تو مجھے دنیا کی کوئی بھی چیز تمھاری منہ دکھائی میں دینے کے لئے حقیر لگ رہی تھی پھر میں نے یہ گھڑی خرید لی ۔ اس گھڑی میں ہم دونوں
کی شادی کا انمول وقت ہمیشہ کے لئے یادگار بن کر قید ہوجائے گا ۔
میں چاہتا ہوں ، میری آنے والی نسلیں صدیوں تک یاد رکھیں کہ ہمارے خاندان میں کوئی ایسا عاشق مزاج گزرا تھا ،جسے اپنی محبوبہ سے مرجانے کی حد تک عشق ہواتھا۔میر سجاول اس کے نازک مومی دلکش مہندی کے ڈیزائن سے سجے ہاتھ میں واچ پہناتے ہوئے بھاری دلفریب آواز میں بول رہا تھا ۔
زرتاج حیرت سے اس کے وجیہہ چہرے پر اترتے رنگوں کو دیکھ رہی تھی ۔
جب اتنی عزیز تھی پھر مجھے کیوں اپنی دشمنی کی بھینٹ چڑھایا ۔کیوں مجھے رسوا کیا ۔ ذلت کی اتھا گہرائیوں میں دھکیل دیا۔ اس نے دکھ سے سوچا ۔آنکھوں سے دو موتی ٹوٹ کر
اس کی ہاتھ پر گرے ۔
میر سجاول واچ پہنا کر اس کے ہاتھ کو ہاتھوں میں لئے بیٹھا تھا ،آنسو کے قطرے پر نظر پڑتے ہی اس نے کھینچ کر زرتاج کو گلے سے لگا لیا ۔ وہ زرتاج کو بانہوں میں سمیٹے آنکھیں بند کر کے اس کے وجود کو محسوس کر رہا تھا ۔
میں جانتا ہوں تم کیا سوچ رہی ہو مگرآج میں کوئی صفائی نہیں دوں گا ۔ہم دونوں کا نکاح میرے جذبوں کی سچائی اور پاکیزگی کا گواہ ہے ۔
یہ پیپرز بھی تمھاری منہ دکھائی کے حصے میں شامل ہیں ۔میری تمام پراپرٹی میں تم سیوینٹی پرسینٹ کی مالک ہو اور میرے بعد پوری پراپرٹی کی بلا شرکت غیرے مالک ہوگی ۔اگر میں مر جاؤں تو میرے بعد بھی تمھیں کسی اور کا یا اپنی اولاد کا بھی محتاج نہیں ہونا پڑے گا بلکہ وہ ہمیشہ تمھارے محکوم رہیں گے۔اس نے زرتاج کو زرا سا الگ کر کے فائل اس کا ہاتھ پکڑ کر تھمائی ۔
میر سجال تکیے پر نیم دراز زرتاج کو اپنی نظروں کے حصار میں لئے دلچسپی سے دیکھ رہا تھا،اس نے ہاتھ بڑھا کر زرتاج کی ناک میں جھولتی نتھلی کو چھیڑ ا۔
آپ یہ سب کر کے اپنا کھویا ہوا مقام حاصل نہیں کرسکتے ۔ زرتاج حیرت کے سمندر میں غوطہ زن تھی ، یکدم حواسوں میں آگئی ۔اس نے فائل سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے ایک بار پھر اس کے ارمانوں پر پانی پھیرا ۔
دلبر سائیں ! میرا نام بھی میر سجاول ہے ۔۔۔۔۔جو کھو گیا ہے ،حاصل کر کے ہی رہوں گا ۔ مجھے اپنی صلاحیتوں پر بھرپور اعتماد ہے میر سجاول نے زبردست قہقہہ لگا کر اس کی دونوں کلائیاں تھام لیں ۔ زرتاج کی کئی چوڑیاں ایک ساتھ ٹوٹی تھیں ۔
میر سجاول ایک ایک کر کے اس کے دوپٹے کو پنز سے آزاد کر نے لگا ۔
زرتاج اس کی قربت پر بوکھلا کر پیچھے سرکی مگر میر سجاول کی دیوانگی حدود توڑنے لگی ۔ وہ سراپا عشق بن گیا تھا ۔
“”””””””””””❤️”””””””””””
دلبر ! اب لگ رہی ہے بھوک ؟ کچھ منگوا لوں ۔فجر کی اذان ہوچکی تھی ۔میر کو زرتاج کے بھوکا رہنا بے چین کر رہا تھا ۔
پلیز ! یار ! کچھ تو کھا لو ۔ میر نے اس کی نیند سے بوجھل ہوتی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا ۔
نہیں ۔۔۔۔زرتاج مختصراً بولی ۔
اچھا فروٹس کھالو ، وہ تو بیڈروم فریج میں موجود ہیں ۔نکال کر لاؤں ؟
میر نے پھر پوچھا ۔
نہیں ، میرا دل نہیں چاہ رہا ۔ پلیز ! مجھے سونے دیں ۔ زرتاج نے بیزاری سے کہہ کر کمفرٹر سر پر کھینچنا چاہا مگر میر نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
دلبر سائیں ! تھک گئی ہو ، سر دبا دیتا ہوں ۔وہ اس کی پیشانی چوم کر نرمی سے اس کا سر دبانے لگا ۔مقصد صرف زرتاج کے چہرے کو تکنا تھا ۔
میرے سر میں درد نہیں ہے ، مجھے سونا ہے ۔زرتاج نے اس کا ہاتھ جھٹکا مگر میر نہیں مانا ۔
زرتاج اگلے ہی پل بے سدھ ہوگئی ۔ میر نے اسے مخمور نگاہوں سے
دیکھا پھر اس کا گال تھپ تھپایا ۔زرتاج نے بمشکل آنکھیں کھول کر اسے دیکھا ۔
سورہی ہو ؟ وہ دلکشی سے مسکرارہا تھا ۔
جی ، اور خدا کے لئے اب آپ بھی سوجائیں ۔ زرتاج نے باقاعدہ ہاتھ جوڑ دئیے ۔میر کا قہقہہ بے ساختہ تھا ۔ وہ دوبارہ زرتاج پر جھک گیا ۔
مجھے نماز پڑھنی ہے ۔ وہ گھبرا کر بولی ۔
یار ! قضا پڑھ لینا بلکہ میں بھی پڑھوں گا ۔ابھی ڈسٹرب مت کرو ۔گنبھیر لہجے میں کہتے ہوئے اس کی شوخیاں بڑھنے لگیں ۔
زرتاج کسمسا کر رہ گئی ۔
جاری ہے .❤️