59.7K
43

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

ثمینہ بیگم جائے نماز پر بیٹھیں مسلسل رو رہی تھیں اور دعا مانگ رہی
تھیں ۔ایان انکی گود میں سر رکھ کر سوچکا تھا ۔معظم شاہ کو نکلے ہوئے بھی دو سے تین گھنٹے گزر چکے تھے ۔مگر اب تک نہ عروش آئی تھی نہ اسکی کوئی خیر خبر ملی تھی۔ان کا دل اندیشوں سے بیٹھے جارہا تھا جب دروازے پر زور دار دستک ہوئی۔
وہ گرتی پڑتیں دروازے تک پہنچی تھیں ۔اور بے تابی سے دروازہ کھولا
تو سامنے عروش کو معظم شاہ کے ساتھ کھڑا پایا ۔عروش لپک کر ماں
سے لپٹ گئی ۔
عروش کے چہرے پر نشانات دیکھ کر ثمینہ بیگم کے قدموں کے نیچے سے زمین نکل گئی ۔اس کی حالت ابتر ہورہی تھی ،وہ ہچکیوں سے رونے لگی ۔ثمینہ نے اسے خود سے لپٹالیا وہ خود بھی رو رہی تھیں ۔ آج کا دن انہوں نے کس اذیت میں گزارا تھا یہ وہی جانتی تھیں ۔
معظم شاہ بھی اندر چلا آیا ،اس نے پلٹ کر دروازہ بند کردیا ۔وہ پشت
پر ہاتھ باندھ کر بے تاثر چہرے کے ساتھ کھڑا تھا ۔ اس نے بیٹھنے کی
بھی زحمت نہیں کی تھی ۔اس کے چہرے سے یہ اندازہ لگانا ناممکن
تھا کہ اس وقت وہ کس موڈ میں ہے ۔
دونوں ماں بیٹی مجرموں کی طرح سر جھکائے خاموش کھڑی تھیں ۔پھر
شاہ نے خود ہی یہ خاموشی توڑی اور براہ راست عروش کو مخاطب کر
کے پوچھا ۔
حماد کون ہے اور وہ تمھیں کیسے جانتا ہے ۔۔۔؟ یہاں تک نوبت کیسے
پہنچی کہ وہ تمھیں اٹھا کر لے گیا ۔اس کا لہجہ دھیما مگر اس میں چٹانوں
سی سختی تھی ۔
ثمینہ کو اسکی بات پر کرنٹ لگا تھا ۔انہوں نے پہلے شاہ کو اور پھر
عروش کو بے یقینی سے دیکھا مگر عروش کی حالت شاہ کی کہی بات
کو سچ ثابت کر رہی تھی ۔
عروش نے جھجکتے ہوئے ،اریبہ کے گھر حماد سے ہونے والی پہلی
ملاقات سے لے کر رشتہ بھیجنے سے انکار تک کی پوری کہانی دھیمی آواز میں اس کے گوش گزار دی ۔ثمینہ نے اپنا سر تھام لیا ۔
ہوں۔۔۔شاہ نے ہنکارا بھرا۔
خالہ جان ! میں نے کہا تھا ناں آپ سے ،اب عروش گھر سے
باہر قدم نہیں نکالے گی پھر کس کی اجازت سے یہ گھر سے نکلی تھی۔
کیا سوچ کر آپ دونوں نے اپنی من مانی کی تھی۔وہ بپھر رہا تھا۔
ثمینہ بیگم کے پاس اس کی بات کا کوئی جواب نہیں تھا وہ نادم سی
نظریں جھکا گئیں ۔
آپ لوگوں پر میری بات کا اثر نہیں ہوا ۔میری عزت کا جنازہ نکال دیا آپ کی اس بیٹی نے ،میری عزت دو کوڑی کی کردی ہے۔ میرے ملازموں کے سامنے ۔
معظم شاہ شیرازی کی ہونے والی بیوی کو کسی نے اغوا کیا ،پورا دن وہ اس کی قید میں گزار کر آئی ہے ۔۔۔میرا سر شرم سے جھکا دیا ہے اس نے دل کرتا ہے گولی مار دوں آپ کی لاڈلی کو ۔۔۔یا اس کی ٹانگیں توڑ کر ہمیشہ کے لئے گھر بٹھا دوں ۔کرب اور غصے کی ملی جلی کیفیت میں گھرا بری طرح تلملا رہا تھا ۔
ثمینہ بیگم نے دہل کر اس کی طرف دیکھا ۔
اب مجھے آپ پر بلکل بھروسہ نہیں ،مزید ایک منٹ بھی اب مہلت
نہیں دونگا ۔ اسی وقت آپ لوگ میرے ساتھ چلیں گے ۔میری
دی ہوئی ڈھیل کا بہت ناجائز فائدہ اٹھا لیا آپ دونوں نے ، آج
ہی میرا اورعروش کا نکاح ہو گا ۔شاہ نے پشت پر ہاتھ باندھےنفی میں سر ہلاتے ہوئے ایک لمحے میں اپنا فیصلہ سنادیا ۔
عروش کے سینے سے ایک ہوک سی اٹھی تھی۔اس کے دل کی سرزمین پر پہلا قدم رکھنے والا میر سبطین تھا ۔
عروش نے اسکی ہمراہی کے خواب بھی سجالئے تھے مگر اس کے
خواب اتنی جلدی چکنا چور ہو جائینگے ،وہ یہ نہیں جانتی تھی ۔
ثمینہ بیگم شاہ کے منہ سے نکلے الفاظوں پر ایک لمحے کے لئے ٹھٹکیں ضرور مگر انہیں شاہ کے فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں تھا ۔عروش کے
ساتھ آج جو کچھ بھی ہوا ،وہ سننے کے بعد تو بلکل بھی نہیں ۔
اس طرح عروش اور ایان کا مستقبل بھی محفوظ ہوجاتا ویسے بھی ان
میں شاہ کے فیصلے سے اختلاف کی جرأت بھی نہیں تھیں ۔
وہ ہر گز نہیں چاہتی تھیں برسوں پہلے گزری کہانی پھر دہرائی جائے۔
ایک بار پھر ان سب پر کوئی قیامت ٹوٹ پڑے جس سے تین خاندان تنکوں کی طرح بکھر گئے تھے ، جن کی دوستی کی مثالیں دی جاتی تھیں ۔
اگلے ایک گھنٹے میں وہ تینوں اپنے ضروری سامان کے ساتھ معظم
شاہ کی گاڑی میں سوار اس کے نئے بنگلے میں شفٹ ہونے جارہے
تھے جو شاہ نے عروش کے لئے خریدا تھا۔
ثمینہ بیگم ،عروش اور ایان تینوں بیک سیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے۔شاہ
نے بیک ویو مرر سےایک خفگی بھری نظر عروش پر ڈالی ،اس کے چہرے پر زخموں کے نشانات دیکھ کر شاہ کو نئے سرے سے غصہ چڑھنے لگا ۔
اب حماد کا وہ کیا حشر کرنے والا تھا یہ تو وہی جانتا تھا ۔

آفس کی ٹائمنگ ختم ہوئے گھنٹوں گزر چکے تھے ،پورا اسٹاف جا چکا تھا مگر وہ اب تک ایک ہی پوزیشن میں بیٹھا نا جانے کس ادھیڑ بن میں مصروف تھا ۔تبھی اس کا موبائل بج اٹھا،اس نے ٹیبل پر پڑے موبائل پر نظر ڈالی اور رانیہ کا نمبر دیکھ کر کال اٹینڈ کی ۔
ہیلو ! بھائی آپ اب تک گھر کیوں نہیں پہنچے ! ہم سب ڈنر پر آپ کا ویٹ کر رہے ہیں ۔
رانیہ بیٹا ! آپ لوگ ڈنر کریں مجھے گھر پہنچنے میں دیر ہو جائیگی ۔اس نے
آہستگی سے جواب دیا۔
بھائی ! اینی پرابلم ۔اس کی آواز کا بوجھل پن محسوس کر کے رانیہ نے
استفسار کیا ۔
ایوری تھنگ از آل رائٹ ،میں تھوڑا بزی ہوں کچھ دیر تک فری ہوکر گھر پہنچتا ہوں ۔اس نے رانیہ کو ٹال دیا۔
لیکن ڈیڈی کتنی بار آپ کا پوچھ چکے ہیں ۔۔۔رانیہ نے پریشانی سے کہا۔
تم انہیں کھانا کھلا کر میڈیسن دو ،میں گھر پہنچ کر ان سے مل لونگا۔میر
سبطین نے کہتے کے ساتھ ہی کال ڈسکنیکٹ کردی۔
مجھے عروش کے ساتھ مس بی ہیو نہیں کرنا چاہئے تھا ،وہ جو کچھ بھی بول رہی تھی یقیناً جھوٹ نہیں بول رہی ہوگی ۔۔۔مجھے اس کی بات کو
سمجھنا چاہئے تھا۔
معظم شاہ جیسا انسان جو ہر کسی پر اپنی دھونس جماناجانتا ہو ،ہر بات میں اپنی مرضی کرنے کا عادی ہو ۔۔۔اس کے لئے عروش جیسی دبو لڑکی کو اپنے اشاروں پر چلانا کونسا مشکل کام ہے ۔اس نے عروش کو بھی مجبور کیا ہوگا ۔
میں کیوں اس سے بدگمان ہوگیا۔۔ ۔ناجانے وہ میرے بارے میں کیا
سوچ رہی ہوگی کہ میری سوچ اتنی سطحی ہے ۔نہیں ،مجھے اس سے فوراً کانٹیکٹ کرنا چاہئے۔میر سبطین دونوں
ہاتھوں کی انگلیاں بالوں میں پھنسائے سوچ رہا تھا ،موبائل اٹھا کر اس
نے عروش کو کال ملائی ۔دو تین بار ٹرائے کرنے پر بھی عروش کا نمبر آف جارہا تھا۔
اس کا نمبر کیوں آف ہے ۔۔۔سوئی تو نہیں ہوگی ۔کچھ سوچ کر وہ اپنی جیکٹ ،موبائل اور کیز اٹھائے آفس سے باہر نکل آیا ۔
وہ بے مقصد سڑکیں ناپتا رہا پھر پر کچھ دیر ونڈ اسکرین پر نظر جمائے سوچنے کے بعد اس کی گاڑی کا رخ عروش کے گھر کے جانب تھا ۔
تقریباً بیس منٹ بعد ریش ڈرائیونگ کرتے ہوئے وہ عروش کی گلی میں
پہنچ چکا تھا۔
گاڑی سے اتر کر وہ عروش کے گھر کی طرف بڑھا مگر وہاں بڑا سا تالاپڑا
ہوا اسے منہ چڑا رہا تھا۔میر سبطین نے تالا ہاتھ میں پکڑے ادھر ادھر
نظر دوڑائی تو کچھ فاصلے پر ایک خاتون کو گیٹ سے جھانکتا دیکھ کر ان کی
طرف چلا آیا جو اس کی گاڑی کی آواز سن کر ہی دروازے تک آئی تھیں ۔
آنٹی ! کیا آپ کو معلوم ہے یہ لوگ کہاں گئے ہوئے ہیں اور کب تک واپس آجائیں گے ۔
بیٹا ! ان کے گھر پر تو دو تین دن سے تالا لگا ہوا ہے ۔ویسے تو یہ لوگ کبھی کہیں نہیں گئے ایسا پہلی بار ہوا ہے ۔خاتون نے تفصیلی جواب دیا۔
میر سبطین سر ہلا کر پلٹ گیا ۔اس وقت وہ خود کو بہت بے بس محسوس کر رہا تھا ۔اسی بے بسی میں خود کو کوس رہا تھا کہ اسے اتنی جلد بازی نہیں کرنی چاہئے تھی ۔
عروش تم کہاں چلی گئیں یار ! اب میں تمھیں کہاں ڈھونڈو ۔وہ خود کلامی کے انداز میں بڑبڑایا ۔اس نے غصے سے اسٹئیرنگ پر ہاتھ مارا ۔وہ پھر سے عروش کا نمبر ٹرائے کر رہا تھا جو مسلسل آف جا رہا تھا ۔

ان لوگوں کو معظم شاہ کے گھر میں ایک دن اور ایک رات گزر چکی تھی ۔گھر کیا تھا جیسے محل تھا ۔اس کی شان و شوکت حویلی سے کچھ کم نہیں تھی ۔جدید اور قیمتی فرنیچر سے آراستہ ،بہترین انٹئیریر ڈیکوریٹنگ کا شاہکار۔
وہ تینوں تو حق دق رہ گئے تھے ۔شاہ نے ان لوگوں کو ملازمہ کے ساتھ سیدھا بیڈروم میں پہنچا دیا تھا اور خود باہر سے ہی جو گیا تھا تو اب تک واپس نہیں آیا تھا۔پوری رات عروش کی آنکھوں سے نیند دور رہی تھی۔وہ جو بے حال ہو کر دوپہر کو سوئی اب اٹھی تھی ۔اپنے سامنے لگی شاہ کی تصویر کو گھورتے ہوئے اس کے ذہن میں کل گزرنے والا
واقعہ پوری جذائیت سے تازہ ہو گیا تھا ، وہ جھرجھر ی لے کر اٹھ بیٹھی۔
کمرہ بے حد کشادہ اور فل فرنیشڈ تھا ۔ ایک دیوار پر شاہ کی بڑی سی
تصویر لگی ہوئی تھی ۔چھوٹا سا روم فریج بھی موجود تھا ۔
ثمینہ بیگم صوفے پر اجنبی سے انداز میں بیٹھی کسی سوچ میں گم تھیں تبھی عروش نے انہیں اپنی جانب متوجہ کیا ۔
امی ! مجھے معظم شاہ سے شادی نہیں کرنی ،آپ کسی بھی طرح انہیں
روک لیں ۔میں اس نکاح کے لئے بلکل بھی تیار نہیں ۔وہ عاجزی
سے بولی ۔
عروش ! کیا چاہتی ہو تم بولو ، معظم سے نکاح نہیں کرنا تو کس سے کرنا ہے ۔۔؟ ثمینہ ترکی بہ ترکی بولیں ۔
عروش کی نظروں میں اس ستمگر کا چہرہ گھوم گیا جس نے ایک پل بھی
نہیں لگایا تھا بد گمان ہونے میں ،وہ چاہ کر بھی اب میر سبطین کا نام
نہیں لے سکتی تھی ۔اس لئے خاموش نظروں سے ماں کو تکتی رہی۔
اتنی رسوائی ہوچکی ہے کافی ہے ،اس سے ذیادہ کی متحمل میں نہیں ہوسکتی ۔معظم جو کچھ بھی کر رہا ہے ٹھیک کر رہا ہے ۔
کل جو کچھ بھی ہوا ہے اس نے مجھے سر سے پاؤں تک ہلا کر رکھ دیا ہے ۔اگر معظم وقت پر نہ پہنچتا تو قیامت ٹوٹ پڑنی تھی ۔ شکر کرو ! جو اس نے تمھیں بچا لیا اور اس سب کے باوجود بھی تمھیں اپنا نے کے لئے تیار ہے ۔ثمینہ بیگم نے اسے اچھی طرح لتاڑا ۔عروش لاجواب سی ہوکر رہ گئی ۔اسی دوران دروازے پر دستک ہوئی ۔
یس ! دونوں نے بے اختیار دروازے کی جانب دیکھا جبکہ جواب عروش نے دیا تھا ۔
سر کا حکم ہے آپ لوگ ڈائیننگ روم میں جا کر کھانا کھالیں ،وہ کسی
ضروری کام سے گئے ہوئے ہیں باہر ہی لنچ کر لیں گے ۔ملازمہ نے مؤودبانہ شاہ کا پیغام ان تک پہنچایا ۔
ٹھیک ہے ! تم جاؤ ،ہم کچھ دیر تک آتے ہیں ۔ثمینہ نے جواب دیا ۔
ملازمہ سر جھکائے واپس پلٹ گئی ۔
عروش ! تم فریش ہوجاؤ اور نیچے جاکر ایان کے ساتھ ڈنر کر لومجھے بھوک نہیں ہے ۔وہ تھکے تھکے انداز میں بولیں۔
عروش خاموشی سے اٹھ کر واش روم کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگئی ۔
ثمینہ بیگم نے صوفے کی پشت پر سر رکھ کر آنکھیں موند لیں ۔ان کے ذہن میں ماضی کے دریچوں کے در وا ہونے لگے ۔
••••••••••※••••••••••
(ماضی)
بیس برس پہلے شیرازی ، میر اور غزینی یہ تینوں خاندان ایک ہی گاؤں سن پورہ میں ایک ساتھ رہتے تھے ۔تینوں خاندانوں میں مثالی دوستی تھی ۔خواتین بھی ایک دوسرے کے گھر بلا جھجک جایا کرتی تھیں ۔
غزینی خاندان میں بس دو بھائی تھے بڑے بھائی مسرور غزینی اور ان
کی بیوی ثمینہ بیگم ، وہ دونوں شادی کے اتنے برس بیت جانے کے
بعد بھی اولاد کی نعمت سے محروم تھے۔چھوٹا بھائی تیمور علی غزینی جو
کہ لندن میں میر پرویز کا ہی ہم جماعت تھا۔مسرور غزینی اور ثمینہ کے
لئے وہی ان کی کل کائنات تھا ۔
اسد شاہ شیرازی بھی اسی یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا مگر ان دونوں
سے دو سال سینئیر ہونے کی وجہ سے تعلیم مکمل کر کے پاکستان
واپس لوٹ چکا تھا اور اب زمینداری اور بزنس دونوں سنبھال رہا
تھا۔حیدر علی شاہ اور صفدر علی شاہ دونوں ہی اس کی قابلیت اور
ذہانت پر مکمل اعتماد کرتے تھے ۔
تینوں خاندان دولت و حشمت میں ایک دوسرے سے کم نہیں تھے تقریباًسبھی ایک سے بڑھ کر ایک تھے ۔ لیکن میر ظفر علی چونکہ گاؤں
میں سب سے ذیادہ بزرگ اور معتبر تھے ، اس لئے ان کا رتبہ بڑا مانا
جاتا تھا ۔
پوراگاؤں اور باقی دونوں خاندان بھی ان کی رائے اور فیصلے کا احترام
کرتے تھے ۔گاؤں اور خاندان کے کسی بھی چھوٹے بڑے مسئلے میں
ان کا ہی فیصلہ حتمی مانا جاتا تھا ۔
میر ظفر علی کے تین بیٹے میر غضنفر ،میر جعفر اور میر پرویز تھے۔دونوں
بڑے بیٹے شادی شدہ تھے۔میر غضنفر او مہر بانو کی تین اولادیں تھیں ،
میر سبطین علی، میر حنین علی اور رانیہ ۔
میر جعفر اور فائزہ کو اللہ نے بڑی منت مرادوں کے بعد اولاد کی نعمت سے نوازہ تھا۔میر سجاول ان کا اکلوتا بیٹا تھا ، جبکہ گھر کا سب سے چھوٹا بیٹا میر پرویز تھاجس کو انہوں نے ہائر اسٹیڈیز کے لئے لندن بھجوایا تھا ۔سندس ان کی اکلوتی بیٹی تھی جو کہ گھر بھر کی لاڈلی تھی ۔
سندس تھی ہی اتنی پیاری ،سیدھی سادھی اور معصوم کے ہرایک کی زبان پر اسکا ہی نام رہتا تھا سوا فائزہ بیگم کے میر جعفر کی بیوی جو کہ سندس کی چھوٹی بھابی تھیں ۔
بظاہر تو فائزہ بیگم کا رویہ بھی اس کے ساتھ باقی سب لوگوں کی طرح شفقت اور محبت لئے ہوئے تھا۔ مگر اندرونی طور پر وہ اس سے بے حد حسد اور جلن رکھے ہوئےتھیں ۔فائزہ بیگم اپنے سامنے کسی اور کی اہمیت یا برتری برداشت کر ہی نہیں سکتی تھیں ۔ اور یہاں میر حویلی والوں نے سندس کو سر آنکھوں پر بٹھایا ہوا تھا ۔ یہ بات ان کے لئے ناقابل برداشت تھی ۔
سندس سے جان چھڑانے کے لئے انہوں نے میر جعفر سے اپنے اوباش عیاش بھائی کے رشتے کی بات چلائی تو میر جعفر سمیت پورا گھر ہی ان پر سخت خفا ہوا ۔ میر جعفر نے تو بند کمرے میں ان کی اچھی خاصی کلاس لی تھی ۔
فائزہ ! تمھارا دماغ تو ٹھکانے پر ہے ،کیا سوچ کر تم نے میری ہیرے
جیسی بہن کے لئے اپنے آوارہ بھائی کے رشتے کی بات کی تھی۔وہ بھی
براہ راست بابا سائیں سے ۔۔۔؟ میر جعفر نہایت غصے میں ادھر سے
ادھر ٹہل رہے تھے ،جیسے ہی فائزہ نے کمرے میں قدم رکھا میر جعفر
نے اسے آڑے ہاتھوں لیا ۔
میر سائیں ! آپ کو مجھے جو کہنا ہے کہہ لیں مگر میرے بھائی کے خلاف
میں ایک لفظ بھی برداشت نہیں کرونگی ۔ اپنے لاڈلے بھائی کے لئے آوارہ کا لقب سن کر وہ بھڑک گئی تھی ۔
ہنہہ۔۔۔آوارہ نا کہوں تو اور کیا کہوں ،آج تک اس سے کونسا عیب چھوٹا ہے ۔میر جعفر نے نخوت سے سر جھٹکا۔
ایسا کونسا گناہ کر دیا میں نے ،اس گھر میں تو کسی سے بھلائی کرنا بھی
گناہ ہے۔ایک تو میں آپ کی بہن کے لئے اچھا سوچ رہی ہوں ،راج
کرے گی وہ میرے بھائی کے ساتھ ۔بن ماں کی بچی ہے ،اپنوں میں
ہی جائیگی تو آپ لوگوں کو بھی سکون رہے گا ۔ فائزہ نے انہیں جذباتی
کرنے کی کوشش کی ۔
سندس بن ماں کی ہے مگر اس کے باپ اور بھائی ابھی ذندہ ہیں ،اس کی فکرہم سب کو تم سے ذیادہ ہے ۔تم اپنی ہمدردیاں اپنے پاس رکھو
اور آئندہ اس قسم کی فضول بات اپنے منہ سے نکالنے کی ضرورت نہیں ہے ۔میر جعفر نے اسے بری طرح جھڑک دیا ۔
اپنے شوہر کی بہن کے لئے اس قدر حمایت نے فائزہ کو مزید سیخ پا کر دیا ۔اس دن کے بعد سے تو سندس ہر پل ان کی نظروں میں کھٹکنے لگی ۔
*
حیدر شاہ شیرازی کے دو بیٹے تھے ۔سب سے بڑے صفدر شاہ جو شادی شدہ اور دو بیٹوں معظم شاہ اور مکتوم شاہ کے باپ تھے ۔ان کے بعد اسد شاہ شیرازی اورسب سے چھوٹی زینب تھی ۔
اسد شاہ میں حیدر شاہ شیرازی اور صفدر شاہ کی جان تھی ۔وہ دونوں
اس کی ہر جائز ناجائز بات پر حمایت کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے اور یہی وجہ تھی کہ اسد شاہ حد سے ذیادہ خود سر اور ضدی تھا۔
اپنے مزاج کے خلاف ایک بات بھی سننا پسند نہیں کرتا تھا ۔حویلی
کے مکینوں سے لے کر پورے سن پورہ کی عوام پر اس کی حکمرانی تھی۔
بی بی جان ! جلدی کریں ناں پلیز! دیکھیں شام ہونے لگی ہے،ہم اتنی
دیر سے جائینگے تو مزہ بھی نہیں آئیگا سندس سے ملاقات کا ،کتنے دن ہوگئےاس سے ملے ہوئے۔مجھے اس سے ڈھیر ساری باتیں کرنی ہیں ۔زینب پوری سج دھج سے تیار ہو کر بی بی جان کے سر پر کھڑی مسلسل بول رہی تھی ۔
زینب ! بہت بولتی ہوتم ،میں نے کہا ہے ناں ،اسد شاہ آجائے ہم
اس کے ساتھ جائیں گے ۔ اسے بلکل نہیں پسند گھر کی عورتوں کا
ملازموں کے ساتھ گاڑی میں بیٹھنا ۔بھائی کا بھی احساس نہیں تمھیں۔
بی بی جان نے اسے جھڑکا تو وہ منہ بسور کر رہ گئی ۔
میر ظفر کی طبیعت پچھلے دنوں زرا سی کیا بگڑی ، انہوں نے گھبرا کر
میر پرویز کو لندن سے بلوا لیا ۔ کل رات کی فلائیٹ سے وہ ایمرجنسی
میں آیا تھا ۔ وہ لوگ اس سے ملنے ہی جارہی تھیں ۔ زینب یہ بھی جانتی تھی کہ گھر میں اس کے اور میر پرویز کے رشتے کی بات چل رہی ہے
میر پرویز لندن جانے سے پہلے ہی اپنے اور اس کے دل کو محبت کے
بندھن میں باندھ گیا تھا ۔ آنکھوں ہی آنکھوں میں پنپنے والی محبت اب
مضبوط رشتے میں بندھنے جارہی تھی ۔
میر پرویزکے خاموش مگر واضح پیغام کو زینب نے پورے دل سے قبول
کیا تھا اور بڑی بے صبری سے اس کی واپسی کا انتظار کر رہی تھی ۔مگر آج اس کی اچانک واپسی نے اس کے دل میں ہلچل مچادی تھی ۔وہ جو سال بھر سے خود کو سنبھالے دل پر پہرے لگائے بیٹھی تھی،آج وہ بے قابو ہوا جارہا تھا۔
سال بھر جس بے تابی سے اس نے میر پرویز کی واپسی کا انتظار کیا تھا، کل رات اس کی اچانک واپسی کی اطلاع نے اس بے تابی کو
سوا کردیا تھا ۔
سندس نے اسے رات ہی میر پرویز کی آمد کی خبر سنادی تھی،اور وہ
جب سے بڑی حویلی پہنچنے کے لئے بے قرار تھی۔
بی بی جان ! اگر ادا کی واپسی رات تک ممکن نا ہوئی تو کیا ہم آج
وہاں نہیں جائیں گے ؟ زینب کے دل میں اس اندیشے نے سر اٹھایا
تو اس نے جھٹ ماں سے سوال کیا ۔
زینب ! آج جانا اتنا ضروری بھی نہیں ،اسد شاہ بھی زمینوں سے تھکا
ہوا آئے گا پھر تمھیں لے کر جائے گا تو میر پرویز کے خاطر اسے رات
کے کھانے تک وہیں ٹہرنا ہوگا ۔ایک کام کریں آپ لوگ کل صبح آرام
سے چلی جائیے گا ۔ رخسانہ نے مسکراتی آنکھوں سے زینب کو دیکھتے ہوئے مشورہ دیا ۔وہ اس کی دلی کیفیات سے واقف تھیں ،اس لئے اسے
چھیڑ رہی تھی ۔
بھابھی !اگر ہم کل جائیں گے تو بڑی حویلی والوں کو برا لگے گا ناں۔
زینب نے رخسانہ کو آنکھیں دکھائیں ۔اس کا اشاہ میر پرویز کی ناراضگی
کی طرف تھا ۔ رخسانہ نے سمجھ کر بے ساختہ امڈ آنے والی ہنسی کو
بی بی جان کی موجودگی کے خیال سے ہونٹوں میں ہی دبا لیا ۔
خیر !جانا تو آج ہی ہے ۔بی بی جان نے معظم شاہ کو رخسانہ کی گود سے
اپنی گود میں لیتے ہوئے کہا۔پھر کچھ سوچ کر بولیں۔
زینب !تم مردان خانے میں کسی کو بھیجوا کر پتا کرو،اگر صفدر شاہ موجود ہے تو ہم اس کے ساتھ چلے جائیں گے ۔انہوں نے زینب کو مشورہ دیا تو وہ فوراً سے پیشتر بھاگی چلی گئی ۔ بی بی جان اور رخسانہ اس کی جلد بازی پر مسکرا کر رہ گئیں ۔
جاری ہے