59.7K
43

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

اپنے روم سے نکل کر وہ کارچ پورچ میں آیا تھا ۔الرٹ کھڑے ڈرائیور اور گارڈز اسے دیکھتے ہی پھرتی میں آگئے ۔گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے
ڈرائیور کو شہر لے جانے کا حکم دیا ۔
صبح بیڈ پر رونما ہونے والے قصے اور عروش کے ہاتھ میں میر سبطین
کے بریسلٹ نے اس کا موڈ انتہائی خراب کر دیا تھا ۔ اب تین چار دن اس کا گاؤں میں رہنے اور عروش کا سامنا کرنے کا قطعی موڈ نہیں
تھا ۔
اسی بگڑے ہوئے موڈ میں اس نے بادل ناخواستہ نگار کی کال اٹینڈ کی
جس نے دو مہینے سے شاہ کو دن رات کالز کر کے پریشان کیا ہوا تھا۔
میں نے تمھیں سمجھایا تھا نا کہ میں ان دنوں بہت بزی ہوں مجھے ڈسٹرب مت کرنا پھر یہ بات تمھارے دماغ میں گھستی کیوں نہیں ہے ؟شاہ نے برہمی سے اسے بے نقط سنائیں ۔
میں گاؤں آیا ہوں اور بہت بزی ہوں ، ایک ہفتے تک میرا کراچی آنے کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔تم مجھے اب دوبارہ کال کر کے تنگ مت کرنا
مجھے جب فرصت ملے گی میں خود تمھیں کال کرلوں گا ۔
شاہ !چھ مہینے ہو گئے نا آپ خود آئے ہیں نا آپ کا چیک آیا ہے ۔یہ
تو میرے ساتھ ذیادتی ہے ۔نگار نے کھنکتی ہوئی آواز میں شکوہ کیا ۔
اس پر شاہ کی برہمی کا اثر تو ہوا مگر پھر بھی ڈھٹائی سے بولی ۔
ہوں۔۔۔ڈونٹ وری ! چیک تمھیں مل جائیگا لیکن کان کھول کر سن لو اب تم مجھے کال نہیں کروگی ۔ شاہ نے شانِ بے نیازی سےکہتے ہوئے تنبیہہ کی ۔
شاہ ! کہیں آپ نے شادی تو نہیں کرلی ۔اس نے خدشہ ظاہر کیا ۔
تم بس یہی سمجھ لو ۔معظم شاہ نے اسے کھل کر بتانے یا چھپانے کی
ضرورت محسوس نہیں کی ۔عروش سے پہلی ملاقات کے بعد سے وہ اس قسم کے تعلقات اور ملاقاتوں کو خیر باد کر چکا تھا مگر یہ نگار کسی
صورت اس کی جان چھوڑنے کے لئے تیار نہیں تھی ۔
اس کا موبائل پھر سے وائبریٹ ہونے لگا ،اپنے خاص بندے کا نمبر دیکھ کر کال رسیو کر لی ورنہ اس وقت وہ کسی سے بھی بات کرنے کے موڈ میں نہیں تھا ۔عروش کو ہرٹ کر کے وہ خود بھی بے حد مضطرب تھامگر اس کی انا اسے یہ سب کرنے پر مجبور کر رہی تھی ۔
یس ! اس نے موبائل کان سے لگا کر گمبھیر آواز میں کہا ۔
سائیں ! پولیس کو حماد کی لاش مل گئی ہے لیکن ساتھ ایک گڑ بڑ بھی ہو
گئی ہے ۔اس کی آواز میں پریشانی کا عنصر نمایاں تھا ۔
کیسی گڑبڑ ۔۔؟ شاہ کی آواز بے تاثر تھی ۔
سائیں ! حماد کے گھروالے اس کی موت کے ساتھ بی بی اور ان کے
خاندان کی اچانک گمشدگی کو جوڑ رہے ہیں ۔انہوں نے ایف۔آئی۔آر
میں بھی نام لکھوایا ہے ۔
ٹھیک ہے ، میں دیکھ لوں گا ۔بس تم ان لوگوں پر نظر رکھو ۔مجھے ایک ایک پل کی رپورٹ چاہئے ۔
حاضر سائیں !
شاہ نے اسکی کال ڈسکنیکٹ کی پھر ایک نمبر ملایا ،اپنے رسوخات استعمال کرتے ہوئے ایف ۔آئی۔آر غائب کرنے اور کیس کو ختم کرنے کی ہدایت دیں ۔ کچھ دیر کال پر مصروف رہنے کے بعد اس نے فون بند کر دیا ۔ اس تمام دورانیے میں اس کی پیشانی پر گہری تفکر کی لکیروں کا جال پھیلا ہوا تھا ۔کال سے فارغ ہو کر اس نے ڈرائیور کو مخاطب کیا ۔
نواز !
جی سائیں !
یہ میری طرف سے اپنی بیوی کو دی دینا ۔ اس نے پاکٹ سے بریسلٹ نکال کر اس کی طرف اچھا لا ۔ڈرائیور نے چمکتی آنکھوں سے
قیمتی بریسلٹ کو دیکھا اور پاکٹ میں ڈال لیا ۔
مہربانی سائیں !
ہوں ۔۔۔شاہ کو وہ بریسلٹ اپنے پہلو میں کسی زہریلے سانپ کی مانند
لگ رہا تھا ۔ اسے نکالتے ہی جیسے سکون سا مل گیا تھا ۔ وہ سیٹ کی
پشت سے ٹیک لگائے سگریٹ کے کش لیتے ہوئے مسلسل عروش کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا ۔گاڑی کی دبیز خاموشی میں اس کی دھیمی سی بڑبڑاہٹ گونجی ۔
ڈمپل گرل !
“””””””””””””
دلبر سائیں ! کیسے مزاج ہیں آپ کے ؟ گھر آنے پر تو آپ نے پابندی لگادی اور خود دو دن سے غائب ہیں۔۔۔۔۔۔کیا میں ساری قسمیں اور وعدے بھلا دوں؟لہجے میں دنیا بھر کا پیار سموئے میر سجاول کی آنکھوں سے غصہ چھلک رہا تھا ۔اسکائے بلیو کلر سوٹ میں آنکھوں پر گلاسز چڑھائے وہ سخت تیورلئے استفسار کر رہا تھا ۔
اماں کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی ،اس لئے گھر پر ہی تھی ۔آج ہی اسکول جا رہی ہوں ۔زرتاج نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
ادھر اُدھر کیا دیکھ رہی ہو ،میری طرف دیکھو ناں ۔میر نے شوخی سے
کہا ۔زرتاج نے زرا سی نگاہ اس کے چہرے پر ڈالی ، میر دلکشی سے مسکرا دیا ۔
جانتی بھی ہو ،ایک دن ناں دیکھوں تمھیں تو پاگل ہونے لگتا ہوں پھر بھی ظلم کرتی ہو ۔زری ! تم بہت ظالم ہو ۔
میں بھی گن گن کر بدلے لوں گا ۔ وہ غصہ دبا کر اب معصوم سی شکل بنائےشکوہ کر رہا تھا ۔
سائیں ،مجبوری تھی ورنہ مجھے چھٹی کرنے کا کوئی شوق نہیں ۔اب میں
جاؤں ؟دیر ہو رہی ہے ۔ زرتاج نے کہتے ہوئے جانے کے لئے قدم
بڑھائے اس نے ایکسیلیٹر دبا کر اس کا راستہ روک لیا ۔
جانتا ہوں ، تمھیں لور لور پھرنے کا بہت شوق ہے ۔شادی ہوجائے پھرحویلی سے باہر قدم نہیں رکھنے دوں گا ۔بس میرے دل میں رہوگی۔اس نے زرتاج کی جاب پر طنز کرتے ہوئے دل پر ہاتھ رکھ کر یوں کہا جیسے سچ میں اسے دل میں ہی رکھنے کا ارادہ ہو ۔
زرتاج کے ہونٹوں پر بے ساختہ مسکراہٹ ابھری ۔شرم سے گلابی رخسار سرخ ہوگئے۔گارڈز کے سامنے میر کی کھلے عام عاشقی پر وہ شرم سے زمین میں گڑ جاتی تھی ۔ وہ دو قدم پیچھے ہو گئی اور جانے کے لئے راستہ دیکھنے لگی ۔
یار سنو ! یہ میں تمھارے لئے لایا ہوں ۔ایک خوبصورت پیکنگ میں پیکڈ گفٹ اور اس کے ساتھ ہی ایک سمپل کاغذ کا پیکٹ زرتاج کی طرف بڑھایا ۔زرتاج نے زرا توقف کے بعد ہاتھ بڑھا کرتھام لیا اور پیکٹس کو دیکھنے لگی۔
سوئیٹی ! کھول کر دیکھو ۔اس نے پیار بھرے لہجے میں سمپل پیکبگ والے پیکٹ کی طرف اشارہ کیا ۔
زرتاج نے پیکٹ کھولا تو اس میں فریش موتیے کے گجرے تھے ۔اس
نے خوشگوار حیرت سے میر کی طرف دیکھا ۔
اب اسے پہن کر دکھاؤ۔آنکھوں میں شرارت لئے سنجیدگی سے اس نے
فرمائش کی ۔زرتاج کے چہرے کا رنگ اڑ گیا ۔
میر سجاول کی اتنی بے خوفی اور ایسی فرمائیشوں سے اس کی جان پر بن
جاتی تھی ۔
میر سائیں ! کوئی دیکھ لے گا ، پلیز ! میں گھر جا کر پہن لوں گی ۔ابھی
مجھے جانے دیں ۔وہ بے بس سی ہو کر بولی ۔
ہر گز نہیں ، ابھی پہن کر دکھاؤ گی ۔ورنہ میں اسکول میں سب کے سامنے پہناؤں گا ۔وہ ہٹ دھرمی سے ضدی لہجے میں بولا ۔
زرتاج جانتی تھی ،اب وہ ٹلنے والا نہیں اور جو کہہ رہا ہے وہ بھی کر کے دکھائے گا ۔ اس لیے ہار مان کرکپکپاتے ہاتھوں سے جلدی جلدی گجرے پہنے لگی ۔
گلاسز سر پر چڑھائےاس کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ کو میرسجاول بڑی دلچسپی سےدیکھا ۔زرتاج کے گورے گلابی نازک ہاتھوں میں گجرے خوب سج رہے تھے ۔
زرتاج نے گجروں والے ہاتھ اٹھا کر میر سجاول کی طرف یوں دیکھا ،جیسے کہہ رہی ہو ۔۔۔۔بس،خوش۔۔۔میرسرشاری سے کھل کر مسکرایا ۔اس کی خوبصورت براؤن آنکھیں جگمگا رہی تھیں ۔
بہت خوش۔۔۔وہ بڑ بڑانے کے انداز میں بولا ۔اس کی نظریں زرتاج کے ہاتھوں پر ٹہر سی گئی تھیں ۔
میر نے چاہت چھلکاتی نظروں سے اسے دیکھا پھر ہلکی رفتار میں گاڑی
آگی بڑھا دی ۔وہ سائیڈ مرر میں زرتاج کو دیکھتا ہوا جا رہا تھا ۔
زرتاج نے گاڑی نظروں سے اوجھل ہوتے ہی گجرے اتار کر پرس میں
رکھ لئے ۔
“””””””””””””
پورا دن اس نے کسی پر ظاہر نہیں ہونے دیا تھا کہ وہ ڈپریس ہے ،حتی
کہ رانیہ پر بھی نہیں ۔
وہ کتنی ہی بار اس کے پاس آئی تھی مگر میر سبطین نے اس سے بلکل نارمل بی ہیو کیا تھا پھر وہ میر سجاول کے ساتھ زمینوں کا چکر لگانے چلا گیا شام گئے ان دونوں کی واپسی ہوئی تھی ۔
سب کے ساتھ ڈنر کرنے کے بعد جب وہ کمرے میں پہنچا تو پھر وہ خود پر قابو نہیں رکھ سکا۔
دونوں ہاتھوں میں سر تھامے صوفے پر ڈھے سا گیا ۔عروش کی شادی
کے مناظر اس طرح اس کی نظروں کے سامنے تھے جیسے وہ خود وہاں
شریک رہا ہو ۔
عروش اگر میں یہ مان بھی لوں کہ معظم شاہ نے تم سے زبردستی ہی شادی کی ہوگی مگر تم ایک بار مجھ سے رابطہ تو کر سکتی تھی ۔تمھاری
یہ لاتعلقی تو تمھیں سو فیصد بے وفا ثابت کر رہی ہے ۔
تم نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا ، اگرتمھیں معظم شاہ میں دلچسپی تھی
تو پھر مجھے خواب کیوں دکھائے ،کیوں میرے جذباتوں کا مذاق بنایا ،
میرے ساتھ دھوکہ کر کے تمھیں کونسی تسکین مل گئی ہے ۔ یہ سب سوال اسے نڈھال کر رہے تھے مگر اب وہ چاہ کر بھی عروش سے رابطہ نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
عروش نے اسے بے وفائی کی ہو مگر وہ اس کی نئی ذندگی میں زہر نہیں
گھولنا چاہتا تھا نا ماضی کی کہانی دھرانا چاہتا تھا ۔صوفے کی پشت سے
سر ٹکائے وہ اپنے بالوں میں انگلیاں چلا کر خود کو ریلیکس کرنے کی بھر
پور کوشش کر رہا تھا مگر بے سکونی اور گھٹن بڑھتی ہی جا رہی تھی ۔
میر سبطین نے اپنے سفری بیگ سے نیند کی ٹیبلیٹس نکالی اور دو ٹیبلیٹ
لے کر بیڈ پر لیٹ گیا ۔اس نے فیصلہ کرلیا تھا کہ عروش سے وابستگی
کی کتاب آج رات ہی ہمیشہ کے لئے بند کر دیگا ۔اس میں ہی سب کی بہتری تھی ۔اس سوچ نے اسے کافی حد تک پر سکون کر دیا تھا ۔
“””””””””””””
ہیلو ! ڈاکٹر صاحب ! کیا ہم اندر آسکتے ہیں ۔۔۔؟میر سبطین زرا سا
دروازہ کھولے سر نکال کر اجازت طلب کر رہا تھا ۔
اوہ ۔۔۔واٹ آ پلیزنٹ سرپرائز ۔۔۔آج تو بڑے بڑے لوگ آئے ہیں
ہمارے غریب خانے پر ۔مکتوم شاہ اپنی جگہ چھوڑ کر میر سبطین سے گلے ملا۔اس کے پیچھے رانیہ کو اندر آتا دیکھ کر سر کے اشارے سےسلام
کیا۔
یار ! تمھیں تو فرصت نہیں ملتی ہاسپٹل سے ، ہم نے سوچا کیوں نا خود
ہی چل کر تم سے مل لیا جائے ۔
گڈ ! پچھلے کچھ دنوں سے مصروفیت کچھ ذیادہ ہی ہوگئی تھی ۔تم سے بھی کوئی رابطہ نہیں ہو سکا ۔وہ عروش اور معظم کی شادی کا ذکر کرنا نہیں چاہتا تھا اس لئے وجہ صاف چھپا گیا ۔
آپ لوگ کب سے یہاں آئے ہوئے ہیں ؟ مکتوم شاہ نے سوالیہ نظروں سے ان دونوں کو دیکھا ۔
اس بار ویک اینڈ گاؤں میں گزارنے کا پروگرام بنایا تھا ،سوچا اس بہانے تم سے بھی ملاقات ہو جائیگی اور تمھارا ہاسپٹل بھی دیکھ لوں
گا ۔میر سبطین گویا ہوا ۔
رانیہ اس کے کیبن کاجائزہ لینے میں مصروف تھی ۔لائیٹ پنک کلر کے اسٹائیلش ڈریس میں ہمیشہ کی طرح پونی ٹیل بنائے وہ دلکش لگ رہی تھی ۔اس نے میر سبطین کی موجودگی میں بہت احتیاط سے رانیہ پر نظر ڈالی تھی ۔یکدم بول اٹھی ۔
چلیں پھر ہاسپٹل دکھا دیں پہلے باقی باتیں بعد میں ہونگی ۔رانیہ نے میر
سبطین کی بات اچک لی تھی ۔مکتوم شاہ چئیر چھوڑ کر اٹھ گیا ۔
ایک ساتھ چلتے ہوئے ان لوگوں نے پورے ہاسپٹل کا دورہ کیا ۔
رانیہ کو اس کا ہاسپٹل بہت پسند آیا تھا ۔
ڈاکٹر مکتوم شاہ ! آپ کا ہاسپٹل لاجواب ہے ،بہت کم وقت میں آپ
نے بہت محنت بھی کی ہے اور ترقی بھی ۔وہ جب لندن سے آئی تھی اردو کچھ اٹک اٹک کربولتی تھی مگر اٹکتی تو تھی مگر اچھی اردو بول لیتی
تھی ۔مکتوم شاہ کو اس کا تعریفی انداز بہت پسند آیا ۔
تھینکس ! دراصل ہاسپٹل کا کام ابھی بھی مکمل نہیں ہواہے مگر مریضوں
کے لئے یہاں تقریباً ہر طرح کی سہولیات میسر ہیں ۔ اب کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں گاؤں والوں کو شہر جانے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔مکتوم شاہ بھرپور اعتماد کے ساتھ کہہ رہا تھا ۔
گاؤں والوں کے لئے تم بہت محنت کر رہے ہو ، تمھارے اندر خدمت خلق کا جذبہ قابلِ تعریف ہے ۔ ورنہ ہماری جیسی سوسائیٹی
میں اس پیشے کو لوگ دولت کمانے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں ۔میر سبطین
دل سے اس کے جذبے کا متعرف تھا ۔
انہی باتوں کے دوران وہ لوگ واپس کیبن میں پہنچ گئے ۔مکتوم شاہ نے چائے اور ریفریشمنٹ آرڈر کیا تھا جسے ملازم ٹیبل پر سیٹ کر رہا تھا ۔ تینوں نے چئیرز سنبھال لی ۔
مکتوم شاہ ! ہماری اس ملاقات سے تمھیں کوئی پرابلم تو نہیں ہوگی ؟میر مطلب ہے کہ معظم شاہ تم سے باز پرس کرے ۔میر سبطین نے خدشہ
ظاہر کیا ۔
ہممم ۔۔۔پرابلم توانہیں پہلے بھی ہوئی تھی مگر میں اپنے معملات کااختیار اپنے پاس رکھتا ہوں ، دخل اندازی کرنے کی تو ان کو عادت ہے مگر مجھے کوئی پرواہ نہیں بلکہ میں چاہتا ہوں ہم اس دوستی کو مضبوط کریں۔
میں ایک بزنس اسٹارٹ کرنا چاہتا ہوں جس کے لئے مجھے اےک پارٹنر کی ضرورت ہے اور آپ جیسے بزنس ٹائیکون سے بہتر مجھے کوئی اور
پارٹنر مل نہیں سکتا۔
کیا آپ میرے ساتھ پارٹنر شپ کریں گے ؟مکتوم شاہ نے مسکراتے
ہوئے میر سبطین کی طرف ہاتھ بڑھایا ۔
وائے ناٹ ! مجھے بہت خوشی محسوس ہورہی ہے ،یقیناًہم اچھے دوست ہونے کے ساتھ بہترین بزنس پارٹنر بھی ثابت ہونگے ۔میر سبطین نے
بخوشی اس کی آفر قبول کی اور اس کا بڑھا ہوا ہاتھ تھام لیا ۔رانیہ کے
چہرے پر بھی خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔
مکتوم شاہ یہ سب اسی کے لئے تو کر رہا تھا ۔وہ رانیہ کو اپنی ذندگی میں
شامل کرنے کے لئے راہ ہموار کر رہا تھا ۔
“”””””””””””
معظم شاہ رات گئے حویلی لوٹ کر آیا تھا ۔ اسے یقین تھا کہ اب تک عروش بے خبر سو چکی ہوگی ۔ روم کا دروازہ کھولا تو پہلی نظر بیڈ پر ہی گئی جہاں عروش بے ترتیبی سے سوئی ہوئی تھی ۔ اس کا دوپٹے سے بے نیاز دلکش وجود نیند میں اور بھی ذیادہ دلکش لگ رہا تھا ۔
معظم شاہ دھیرے دھیرے چلتا ہوا بیڈ کے سرہانے پہنچ کر کھڑا ہوگیا ۔وہ بہکنےلگا تھا مگر یکدم ہی اس نے سنبھل کر نظریں چرالیں پھر کچھ سوچتے ہوئے ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گیا ۔
شاور لے کر جب وہ باہر نکلا ،عروش اس کی طرف کروٹ لے چکی تھی ۔ شاہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا بال بنا رہا تھا ۔اس کی نظریں بار بار شیشے میں نظرآنے والی بے خبر سوئی عروش کے وجود پر بھٹک رہی تھیں ۔برش رکھ کر اس نے اسپرے کیا پھر پلٹ کر آیا اور بیڈ پر بیٹھ گیا ۔
سائیڈ ٹیبل سے سگریٹ کا پیکٹ اٹھایا اور سگریٹ سلگا کر بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائےگہرے گہرے کش لینے لگا ۔ یکدم ہی اس نے انگلیوں میں دبے سگریٹ سمیت عروش کے گال کو اپنے ہاتھ کی پشت سے سہلایا ۔
گہری نیند میں بھی کسی احساس کے تحت عروش کی آنکھ کھل گئی ۔اس نے مندی مندی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش تو معظم شاہ کو اپنی
طرف دیکھتا پاکر اس کی نیند بھک سے اڑ گئی ۔سانس جہاں کا تہاں رہ گیا ۔