59.7K
43

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 39

زرتاج بجھی بجھی ، بے دم سی ہوکر بیڈ پر آڑھی ترچھی لیٹی ہوئی تھی ۔صبح سے شام ہوگئی تھی ۔ میر سجاول کی یاد نے اسے ہلکان کردیا تھا ۔
میر سجاول جاتے ہوئے فرمائش کر گیا تھا کہ وہ واپسی پر وہی ساڑھی پہن کر اس کا انتظار کرے جو اس نے کل ہی مال سے خریدی تھی پھر وہ گھومنے جائیں گے اور پوری شام باہر گزاریں گے ۔
میر سجاول کی خواہش کے عین مطابق وہ سج سنور کر اس کا انتظار کر رہی تھی مگر یہ دو گھنٹے بھی گزر گئے پر میر کی کوئی خیر خبر نہیں تھی ۔
وہ بیڈ سے اٹھ کر روم سے باہر نکلی اور ونڈو کے پاس چلی آئی ۔ خوبصورت نظارے بلند و بانگ بلڈنگز،روشنیاں ، چہل پہل کچھ بھی تو اس کے بغیر آنکھوں کو بھلا نہیں لگ رہا تھا ۔ اس کے بغیر چند گھنٹوں میں ہی پوری دنیا ویران لگنے لگی تھی ۔اس نے تھک کر دیوار سے ٹکا دیا ۔اس کی پلکیں بھیگنے لگیں۔
میر سجاول کی غیر موجودگی میں ویل ڈیکوریٹڈ ہنی مون سوئیٹ کاٹنے کو دوڑ رہا تھا ۔ اس کی گھٹی گھٹی سسکیاں کمرے میں گونجنے لگیں تبھی میر سجاول نے دروازے میں کی کارڈ سوائپ کیا اور روم ان لاک ہوتے ہی زرا سا سر نکالا ۔
دلبر سائیں !
میر کی خوبصورت آواز نے اس کے بے جان جسم میں روح پھونک دی ۔ زرتاج نے یکلخت پلٹ کر دیکھا ۔
میر سجاول گرے پینٹ پر بلیک شرٹ جس کے اوپری دو بٹن کھلے ہوئے تھے۔ٹائی کی ناٹ کو ڈھیلا کیاہواتھا جوگریبان سے زرا نیچے جھول رہی تھی ۔اس نے گاڑی میں ہی سلیوز کہنی تک فولڈ کرلی تھیں ۔وہ لبوں پر شریر مسکان سجائے پرنس چارمنگ لگ رہا تھا۔
ایسے کیا دیکھ رہی ہو ۔۔۔۔۔۔لوفر لگ رہا ہوں ناں ؟دیکھو تمھاری دن بھر کی جدائی میں کیا حال ہوگیا ہے ۔ وہ معصوم سی شکل بنائے دروازے میں کھڑے کھڑے اپنا جادو چلانا شروع ہوگیا ۔
زرتاج کی سسکی ہچکیوں میں بدلی اور میر سجاول ساری چوکڑی بھلائے پلک جھپکتے میں اس تک پہنچا ۔
دلبر ! سوری یار لیٹ ہوگیا ۔ میں نے جلدی نکلنے کی بہت کوشش کی مگر کام بہت تھا ۔ اس نے زرتاج کا سر دونوں ہاتھوں میں تھام کر اپنے سینے سے لگایا ۔
زری ! اس میں اتنا رونے والی کیا بات ہے ۔پلیز ! ایسے مت رو مجھے بہت تکلیف ہورہی ہے ۔ اس نے زرتاج کا سر تھپکا ۔
میر سائیں ! میں آپ کو بہت مس کر رہی تھی ۔ آپ کے بغیر پورا دن میں نے بہت مشکل سے گزارا ہے ۔ اب تو اس کمرے میں میرا دم گھٹنے لگا تھا ۔ وہ سوں سوں کرتی سر اونچا کئے بول رہی تھی ۔
سائیں ! اتنا ظلم نہ کرو ، غریب بندہ ہوں ۔یہ دل میں اترنے والی باتیں ایک دن مجھے مار ڈالیں گی ۔ ڈائیریکٹ دل پر اٹیک کرتی ہیں۔میر سجاول فدا ہونے والے انداز میں دل پر ہاتھ رکھ کر بولا ۔
زرتاج کے گلابی رخسار دہکنے اٹھے ۔
مائے گاڈ ! تم نے ساڑھی پہنی ہے ، تمھارے رونے دھونے میں نوٹ ہی نہیں کر سکا ۔ ساڑھی میں تو فلم ایکٹریس لگ رہی ہو ۔ یہ میچنگ چوڑیاں کہاں سے آئیں ؟ اس نے زرتاج کی چوڑیوں سے بھری کلائیاں پکڑ کر اسے خود سے دور کیا۔وہ زرتاج کا مکمل جائزہ لے رہا تھا۔
یہ میں گھر سے لائی تھی ، ساڑھی سے میچڈ تھیں تو پہن لیں ۔ زرتاج نے سادگی سے جواب دیا ۔
اب ہم باہر نہیں جارہے ۔۔۔۔۔وہ فاصلہ سمیٹتا نذدیک آیا ۔
کیوں ؟
کیونکہ دل ہی نہیں چاہ رہا کہ تم چینج کرو اور ساڑھی میں باہرلے جا نہیں سکتا ۔ اس کا اشارہ زرتاج کے ڈیپ گلے والے بلاؤز کی طرف تھا ۔
اس نے زرتاج کا چہرہ قریب کیا اور ایک بھرپور مہر ثبت کی ۔
زرتاج نے اس کی نظروں سے محجوب ہوکر سر جھکا لیا ۔
میر سجاول نے بیک سے ساڑھی کا پلو اٹھا کر زرتاج کے سر پر رکھا ۔
اب بلکل میری دلہن لگ رہی ہو ۔ وہ زرتاج کو سر تاپا دلچسپی سے دیکھ رہا تھا ۔ اسے ساتھ لگائے صوفے پر آکر بیٹھ گیا ۔
اب بتاؤ ، میں تو کل بھی شام تک بزی رہوں گا تو کیا تم اسی طرح روتی رہوگی ۔۔۔۔۔؟ اس نے زرتاج کی آنکھوں میں جھانک کر سوال کیا ۔ زرتاج کے چہرے پر خوف کا سایا لہرایا ۔
میر سائیں ! میں اکیلی نہیں رہوں گی ۔ مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا ۔وہ پریشانی سے بولی ۔
اچھا ،پریشان مت ہو ۔ میں کہیں نہیں جاؤں گا ، میٹنگز کینسل کروادیتا ہوں۔اس نے زرتاج کے شانے پر بکھرے بال سمیٹ کر ایک سائیڈ پر کئے ۔
اس طرح تو آپ کا بہت نقصان ہوجائیگا ۔ زرتاج کو فکر ستائی ۔
دلبر سائیں ! آپ کے لئے میں بڑے سے بڑا نقصان برداشت کر سکتا ہوں مگر آپ کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا ۔اگر مجھے اندازہ ہوتا کہ میرے پیچھے میری دلہن ایسے روئے گی تو میں آج بھی نہیں جاتا ۔ اس نے زرتاج کی چوڑیوں کوچھیڑ کر لبوں سے لگایا ۔
(یہ شخص نفرت کے قابل تو نہیں ، یہ تو صرف چاہے جانے کے لئے بنا ہے ۔)زرتاج نے دھڑکتے دل سے سوچا ۔
یا پھر ایسا کرتے ہیں ، کل میں تمھیں اپنے ساتھ ہی لے جاؤں گا ۔
وہ سوچتے ہوئے بولا ۔
میں کیا آپ کے ساتھ آفس جاتے ہوئے اچھی لگوں گی ۔۔۔۔۔؟ زرتاج کھلکھلا کر ہنسی ۔
ہاں کیوں نہیں،سب کو پتا ہے کہ میں ہنی مون ٹرپ پر آیا ہوا ہوں ۔ کل شام کو ہمارے لئے پارٹی بھی رکھی گئی ہے ۔اس نے واچ اتار کر ٹیبل پر رکھی ۔
مجھے ٹھنڈا پانی پلاؤ ۔ اس نے سر صوفے کی پشت سے لگا کر دکھتی ہوئی پیشانی کو مسلا ۔ زرتاج فوراً ہی اٹھ گئی ۔
میر سجاول کی فریفتہ نگاہوں نے زرتاج کے نازک دلکش سراپے کا دور تک پیچھا کیا ۔
“”””””””””””””※””””””””””””””
میر سبطین ! آخر ایسی کونسی بات ہو گی جو جہاں آرا صرف ہم کو ہی بتانا چاہتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔میر جعفر اور فائزہ وہاں موجود ہیں پھراس نے ہم کو ہی کیوں بلایا ہے اور یہ تاکید بھی ہے کہ کسی کو خبر نا ملے ۔میرغضنفر پیشانی مسلتے ہوئے بولے ۔
اس بات نے مجھے بھی رات سے پریشان کیا ہوا ہے خیر ،اب تو وہاں پہنچنے پر ہی پتا چلے گا کہ وہ کونسی اہم بات کرنا چاہتی ہیں ۔ میر سبطین
ڈرائیونگ کر رہا تھا جبکہ رانیہ بیک سیٹ پر اونگھ رہی تھی ۔
میر سجاول کل رات کی فلائیٹ سے واپس پہنچا ہے مگر گھر نہیں آیا ، گاؤں کیوں چلا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا اس سے کوئی بات ہوئی تھی ؟
میر غضنفر نے استفسار کیا ۔
کل میری اس سے بات ہوئی تھی مگر اس نے ایسا کوئی ذکر نہیں کیا۔میں نے بھی نہیں پوچھا تھا کیونکہ مجھے لگا ، وہ کراچی ہی اسٹے کرے گا لیکن آپ اسے جانتے ہی ہیں ۔اپنی مرضی کا مالک ہے ،کب کیا کرے گا کسی کو پتا نہیں ہوتا ۔
یہ تو تم بلکل درست کہہ رہے ہو ۔ میر غضنفر نے تائید کی ۔
اب یہ بتاؤ ، کرنا کیا ہے ۔۔۔۔۔ پہلے ہاسپٹل جانا ہے یا پہلے رانیہ کو گھر ڈراپ کر دیں ؟ میر غضنفر بولے ۔
ہاسپٹل ہی چلتے ہیں کیونکہ پہلے حویلی گئے تو پھر وہاں سے فوراً نکلنے کا کیا جواز دیں گے ۔ جعفر چاچا ضرور سوال کریں گے ۔
ٹھیک ہے پھر تم پہلے ہاسپٹل لے چلو ۔ میر غضنفر نے کہہ کر پیچھے سوئی ہوئی رانیہ پر پیار بھری نظر ڈالی ۔
“”””””””””””※””””””””””””
میر اور زرتاج صبح سات بجے حویلی پہنچے تھے ، میر سجاول نے کراچی پہنچنے کے بعد وہاں اسٹے کرنے کی بجائے حویلی پہنچنے کو ترجیح دی تھی ۔
وہ ناشتہ کرنے کے بعد فوراً ہی زرتاج کو لے کر روم میں آگیا اور اس نے حکم سنایا تھا کہ جب تک وہ خود نا اٹھے تب تک اسے جگایا نا جائے اور نا زرتاج کو اس کے پاس سے ہلنے کی اجازت تھی مگر اب دوپہر کا ایک بج رہا تھا ، زرتاج چند گھنٹے کی نیند لینے کے بعد بیدار ہوچکی تھی ۔وہ لیٹے لیٹے بیزار ہونے لگی تو اٹھنے کا ارادہ کیا ۔
اس نے میر سجاول کے گہری نیند میں ہونے کا اطمینان کیا پھر آہستگی سے اس کے بازو سے سر اٹھا کر اس کا ہاتھ ہٹایا اور بیڈ سے اتر گئی۔
وہ فریش ہونے کے بعد بیگ میں سے فائزہ بیگم اور میر جعفر کے لئے لائے ہوئے گفٹس نکال کر بیڈروم سے نکل آئی ۔
نگین ! بڑی بی بی کہاں ہیں ۔۔۔۔؟ اس نے نگین کو دیکھا تو اس سے فائزہ بیگم کی بابت سوال کیا ۔
وہ تو جی اپنے کمرے میں ہیں ۔نگین مؤودبانہ بولی ۔
اچھا ٹھیک ہے ، تم جاؤ ۔ وہ نگین کو کہتی ہوئی فائزہ بیگم کےدروازے تک پہنچی پھر کچھ سوچ کر دھیرے سے دستک دی ۔
آجاؤ ۔ فائزہ بیگم کی کرخت آواز گونجی ۔
زرتاج نے اندر داخل ہو کر دروازہ بند کیا پھر دھیرے سے سلام کر کے آگے بڑھی ۔
ایک ملازمہ کمرے کی صفائی کر رہی تھی جبکہ دوسری فائزہ بیگم کے سر کی مالش کر رہی تھی ۔
کیسے آنا ہوا ۔۔۔۔۔؟ زرتاج کو دیکھ کر ان کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔فائزہ بیگم نے لٹھ مار انداز میں استفسارکیا۔
ہم آپ کے لئے یہ گفٹس لائے تھے ، وہی دینے آئی ہوں ۔ اس بیگ میں آپ کا سامان ہے اور یہ والے بیگ میں۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی زرتاج کی آدھی بات منہ میں ہی تھی کہ فائزہ بیگم نے اٹھ کر اس کے ہاتھ سے بیگز چھین کر زمین پر دے مارے ۔
میرے سامنے تیری دو ٹکے کی اوقات نہیں ہے اور تیری یہ جرأت کے تو میرے لئے تحفے خرید کر لائے گی ۔ میں تجھ جیسی نیچ ، کم ذات کی لائی ہوئی چیزیں استعمال کروں گی ۔
میر سجاول کی وجہ سے تو اس حویلی تک تو پہنچ گئی ہے مگر میری برابری کرنے کا سوچنا بھی مت ورنہ واپس اسی کوڑے کے ڈھیر میں پھنکوا دوں گی جہاں سے تو آئی ہے ۔
وہ تو میرے بیٹے کا دل بہت بڑا ہے تبھی تجھ جیسی بھکارن کو سڑک سے اٹھا کر گھر لے آیا ہے مگر ذیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو بس دو چار دن کا شوق ہے میر سائیں کا ، ابھی وہ تجھ سے اپنا دل بہلا رہے ہیں،جس دن ان کا دل تجھ سے بھر گیا اسی دن تو حویلی کے باہر کھڑی نظر آئے گی ۔ اس لئے اپنی اوقات میں رہنا سیکھ ، اوقات بھول گئی تو بہت پچھتائے گی ۔ فائزہ بیگم نے حقارت سے کہا ۔
دونوں ملازمائیں منہ پر ہاتھ رکھ کر زرتاج کی بے عزتی کا تماشہ دیکھ رہی تھیں ۔ زرتاج کو دیکھ کر کاٹو تو بدن میں لہو نہیں کی مثال صادق آرہی تھی ۔ اس کی آنکھوں سے آبشار رواں ہوا۔
چل اب اٹھا یہ سب کچھ اور اپنی منحوس شکل لے کردفع ہوجا ، آئیندہ میرے کمرے میں قدم مت رکھنا ۔
ہونہہ ۔۔۔۔۔۔۔ بڑی آئی تحفے لانے والی ۔
زرتاج جھک کر سامان سمیٹنے لگی پھر ایک جھٹکے سے اٹھ کر کمرے سے نکلی ۔ سامنے نگین کھڑی تھی جو فائزہ کی بلند آواز پر وہاں پہنچی تھی ۔ اسے اندازہ تھا فائزہ بیگم زرتاج کے ساتھ کیا سلوک کریں گی ۔
زرتاج کی نظر اس سے ملی مگر وہ رکی نہیں تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے کاریڈور پار کرگئی ۔ نگین بھی اس کے پیچھے تقریباً بھاگ رہی تھی ۔
زری بی بی ! بڑی بی بی بہت بری ہیں ، سب کو ایک لکڑی سے ہانکتی ہیں مگر آپ تو اس گھر کی بہو ہیں ۔ انہیں اس بات کا بھی خیال نہیں رہا ۔
آپ چھوٹے میر سائیں سے ان کی شکایت ضرور کرنا ، بڑی بی بی بس ان کے سامنے ہی کنٹرول میں رہتی ہیں ورنہ کسی کی دل آزاری کرنے سے نہیں چوکتیں ۔
آپ چھوٹےمیر سائیں کو بتائیں گی تووہ ضرور آپ کی حمایت لیں گے۔
وہ آپ سے بہت پیار کرتے ہیں ، آپ کو بے عزت نہیں ہونے دیں گے ۔
نگین کو زرتاج سے بے حد ہمدردی محسوس ہورہی تھی ، وہ خود گاہے بگاہے فائزہ بیگم کے عتاب کا نشانہ بنتی رہتی تھی مگر رانیہ کی مہربانی سے کچھ دن کے لئے ہی سہی اسے سکون ملا تھا لیکن دادی کی طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے وہ ولیمے کے بعد کراچی نہیں گئی تھی بلکہ گاؤں میں ہی رہ کر دادی کی خدمت کے فرائض انجام دے رہی تھی ۔
وہ جہاں آرا کے ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہونے کی وجہ سے دوبارہ فائزہ بیگم کے شکنجے میں پھنس گئی تھی ۔
ہونہہ ۔۔۔۔۔ وہی تو ہیں سارے فساد کی جڑ ، ان کی وجہ سے ہی میری ذندگی قابلِ رحم ہوگئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔مجھے ذلیل کروا کے رکھ دیا
ہے ۔ وہ کیا میری عزت کروائیں گے جنہوں نے سرِ عام میری عزت اتاری ہے ۔ زرتاج غم و غصے سے پاگل ہورہی تھی ۔ نگین سے ہاتھ چھڑا کر بھاگتی ہوئی کمرے میں پہنچی ۔
اس نے روم میں پہنچ کر کتنی ہی دیر دروازے سے ٹیک لگائے گہرے گہرے سانس لئے پھر ایک نفرت بھری نظر بے خبر میر سجاول پر ڈالی اور واش روم میں بند ہوگئی ۔
اس کے دل کا بوجھ تواتر سے آنسو بہانے کے بعد بھی کم نہیں ہوا ۔
“””””””””””””※””””””””””””
وہ تینوں ہاسپٹل کے پرائیوٹ روم میں کھڑے تھے ۔ جہاں آرا نے انہیں دیکھا تو ہاتھ جوڑ دئیے ۔ میر سبطین فوراً آگے بڑھا اور اس کے ہاتھ تھام لئے ۔
میں بہت شرمندہ ہوں ، آپ کو تکلیف دی ہے مگر میں یہ راز اپنے ساتھ نہیں لے جانا چاہتی تھی ۔ذندگی کا کوئی بھروسا نہیں ہے اور مجھے ایسا لگ رہا ہے میرا آخری وقت آن پہنچا ہے ۔ وہ نحیف آواز میں بولی ۔ میر غضنفر بھی بیڈ کے نذدیک آگئے ۔
رانیہ بھی خاموشی سے میر غضنفر کے ساتھ کھڑی تھی ۔
ارے آپ ایسا کیوں سوچ رہی ہیں ، اللہ پاک آپ کی عمر دراز کریں،
میں نے ڈاکٹرز سے بات کی ہے۔آپ بہت جلد صحتیاب ہو جائیں گی۔
میر سبطین نے اس کا ہاتھ تھپ تھپایا۔
ڈاکٹرز کچھ بھی کہیں مگر مجھے پتا ہے ، جانے کا وقت آگیا ہے اس لئے میں یہ راز آپ کو بتانا چاہتی ہوں ۔ میں جانتی ہوں اس حقیقت کو سننے کے بعد آپ مجھ سے نفرت کریں گے مگر میں بہت مجبور تھی ۔
جہاں آرا کا جھریوں ذدہ چہرہ بھیگنے لگا ۔ اس نے کمزور ڈوبتی ہوئی آواز میں کہنا شروع کیا ۔
بیس برس پہلے مجھ سے بہت بڑا گناہ ہوگیا مگر یہ گناہ میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا تھا ، مجھ سے کروایا گیا تھا ۔ میں اپنی غربت کی وجہ سے خاموش تھی اور حکم کی تعمیل کرنا میری مجبوری تھی ۔ وہ تینوں بغور اسے سن رہے تھے ۔
بیس سال پہلے سندس بی بی کی یہاں جو اولاد پیدا ہوئی تھی وہ جڑواں تھیں ۔ انہوں نے ایک نہیں دو بچیوں کو جنم دیا تھا مگر فائزہ بی بی کا
حکم تھا کہ سندس بی بی کی اولاد کو پیدا ہوتے ہی ختم کر دیا جائے ۔
میر غضنفر کے سر پر بم پھٹا تھا ۔
ایک بچی تو ثمینہ بی بی کے پاس تھی مگر میں نے دوسری کو موقع ملتے ہی چپکے سے چرا لیا ۔ فائزہ بی بی کا حکم تھا کہ بچی کو مار دیا جائے مگر میرا دل اس ظلم کے لئے نہیں مانا اور میں نے اپنے بے اولاد بیٹے کو شہر سے بلوا کر بچی اس کے سپرد کر دی ۔
بہت عرصے سے میں یہ راز بتانے کی کوشش کر رہی تھی مگر اپنے بیٹے اور بہو کے آگے مجبور ہوگئی تھی ۔ وہ کسی صورت بھی بچی کو خود سے جدا کرنے پر راضی نہیں تھے ۔ ان دونوں نے بچی کو اپنی سگی اولاد کی طرح پالا تھا پھر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ وہ دونوں وقت سے پہلے ہی دنیا سے چلے گئے ۔
کون ہے وہ بچی ۔۔۔؟میر غضنفر کی آواز گہرے کنویں سے نکلی تھی ۔
نگین ۔۔۔۔۔ جہاں آرا نے لڑکھڑاتی آواز میں انکشاف کیا۔
میر غضنفر اور میر سبطین نے چونک کر ایک دوسرے کی طرف دیکھا ۔رانیہ کی آنکھیں خوشی سے بھر آئیں ۔
آج میں بہت شرمندہ ہوں کہ محلوں میں پیدا ہونے والی بچی میری بذدلی اور لالچ کی وجہ سے جھونپڑی میں پلی بڑھ کر جوان ہوئی مگر میرے بیٹے نے اپنی اوقات سے بڑھ کر اس کے ناز اٹھائے ہیں اور آج اللہ کی مہربانی سے صحیح سلامت اپنوں کے ہاتھوں میں پہنچ گئی ہے ۔
جہاں آرا ! تم نے گناہ تو کیا ہے مگر مجھے احساس ہے تم کن حالات سے گزری ہوگی ، نگین کو ذندہ رکھ کر تم نے ہم پر بہت بڑا احسان کیا ہے ۔ تمھاری خطا کے سامنے یہ احسان بہت اونچا ہے کہ تمھارے گناہ کو چھپا گیا ہے ۔ میر غضنفر بھاری آواز میں بول رہے تھے ۔
میر سبطین ! تم ڈاکٹرز سے بات کرو ، وہ جہاں آرا کا بہترین ٹریٹمنٹ کریں ۔ مجھے جلد سے جلد گھر پہنچنا ہے ۔ ان کی آنکھوں میں خون اتر رہا تھا ۔
نگین کا ڈرا سہما وجود ، اس کے معمولی کپڑے ، اس کے ساتھ فائزہ کا ہتک آمیز رویہ ان کا خون کھولائے دے رہا تھا ۔ سندس کا معصوم چہرہ ان کی نگاہوں میں چکرانے لگا ۔ وہ آج ہر قیمت پر فائزہ کا مکروہ چہرہ بھائی کے سامنے لانے کا ارادہ باندھ کر ہاسپٹل سے نکلے تھے ۔
جاری ہے