Rate this Novel
Episode 01
آج آفس میں اسکا پہلا دن تھا ۔
اسلئے وہ شدید نروس تھی،اور جب اسکی کولیگ ماہم نے
اسے بتایا کہ اس کے باس بہت غصیلے اور ریزرو طبیعت کے مالک ہیں ،کام سے متعلق زرا سی بھی کوتاہی برداشت نہیں کرتے ،تو بے ساختہ اس کے ہاتھوں میں نمی پھوٹ پڑی۔
یہ اسکا پہلا تجربہ تھا کسی آفس میں جاب کا جو وہ صرف مجبوری کے تحت کرنے جارہی تھی کیوںکہ والد کی وفات کے بعد ماں اور چھوٹے
بھائی کی ذمے داری اس پر آ پڑی تھی ،اپنے گھر میں سب سے بڑی اولاد ہونے کی وجہ سے اس نے بہت چھوٹی عمر میں یہ ذمیداری اپنے کاندھوں پرلے لی تھی۔یہ اسکی خوش قسمتی تھی یا بد قسمتی یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکتا تھا لیکن اپنی ذندگی کے فرسٹ انٹرویو میں ہی اسے اپائنٹ کر لیا گیا تھا۔وہ اپنی سوچوں میں گم تھی کہ انٹر کام کی بیل بجنے لگی تو اس نے چونک کر ریسیور اٹھایا۔
مس عروش علی ! ماہم سے میرے آج کے اپائنٹمنٹس اور میٹنگ کے شیڈولز کی فائل لے کر میرے آفس میں آئیے۔ماہم سے فائل لینے کے بعد اس کے چہرے پر گھبراہٹ نمایاں تھی۔ماہم نے وکٹری کا نشان بنا کر شریرسی مسکراہٹ کے ساتھ اسے جانے کا اشارہ کیا۔
اس نے دروازے کو دھیرے سے ناک کیا تو میر سبطین کی گمبھیر آواز اسکی سماعتوں سے ٹکرائی۔
“یس”۔
وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گئی، فل اے سی میں بھی اس کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں شبنم کے قطروں کی طرح چمک رہی تھیں۔
پلیز سٹ ڈاؤن،مس عروش! وہ جھجھکتے ہوئے کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی۔
مس عروش ،آج آفس میں آپکا پہلا دن ہے اور میں جانتا ہوں یہ آپکا فرسٹ ایکسپیرینس ہے پھر بھی مجھے امید ہے آپ جلد ہی کام کو سمجھ جائینگی اور کسی قسم کی شکایت کا موقع نہیں دیں گی ۔آفس کے تمام معاملات سمجھنے میں مس ماہم آپکی ہیلپ کریں گی۔
سر میں کوشش کروں گی آپکو شکایت کا موقع نہ دوں۔اس نے دھیمے لہجے میں کہا۔
اب آپ جا سکتی ہیں۔اور جاوید صاحب کو بھیج دیجئے ۔
تھینک یو سر۔
عروش نے دل ہی دل میں خیر ہوجانے پر شکر ادا کیا اور جانے کے لئے کھڑی ہو گئی۔پنک کلر کے سمپل سے ڈریس میں لمبے خوبصورت بالوں کو سلیقے سے پن اَپ کئے عروش ،میر سبطین کو اس دن
سے بھی ذیادہ اٹریکٹ کر رہی تھی جب آج سے چند ماہ پہلےاسے سگنل پر کالج یونیفارم میں کھڑا دیکھ کر سبطین علی ساکت رہ گیاتھا،نا جانے اسے عروش میں ایسی کونسی کشش محسوس ہوئی تھی کہ وہ یہ بھی دھیان نہیں رکھ سکا کہ سگنل ہو چکا ہے ۔پھر جب انٹرویو کے لئے آفس میں داخل ہونے والی عروش کو دوسری بار دیکھا تو اسی وقت اس نے اپنی پرسنل سیکریٹری کی جاب اسے دینے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
میرسبطین اپنی تیس سالہ ذندگی میں سے بیس سال لندن میں گزار کر چند سال پہلے ہی پاکستان لوٹا تھا۔
بیوی کے گزر جانے کے بعد اس کے والد میر غضنفر کا دل پردیس سے اچاٹ ہو گیا تھا۔اور انہوں نے وطن واپس جانے کا فیصلہ کر لیا تھا ، گو کہ ابھی ان کی بیٹی رانیہ اور سب سے چھوٹے بیٹےحنین کی تعلیم نا مکمل تھی لیکن انہوں نے رانیہ کو اپنے ساتھ لے جانے کا فیصلہ کیا تھا اور حنین کو اپنی پڑھائی لندن میں ہی مکمل کرنے کی اجازت دے دی تھی ۔جبکہ رانیہ کا ایڈمیشن انہوں نے کراچی کی ایک پرائیوٹ یونیورسٹی میں کروا دیا تھا۔
ان چند سالوں میں میر سبطین نے بزنس پر اتنی محنت کی تھی کہ لندن کی طرح یہاں بھی کاروباری دنیا میں اسکا نام جگمگا رہا تھا۔لیکن جو فیلنگز اس نے عروش کو پہلی نظر دیکھنے کے بعد محسوس کی تھی وہ کبھی کسی اور کے لئیے محسوس نہیں کی تھی بلکہ صنفِ نازک سے اسکا واسطہ ہی نہیں پڑا تھا نہ وہ اس قسم کی فطرت کا مالک تھا کہ لڑکیوں میں دلچسپی رکھتا ہو یوں کہہ سکتے ہیں کہ لندن میں رہنے کے باوجود بھی وہ ایک پارسا قسم کا نوجوان تھا۔
پاکستان پہنچنے کے بعد میرغضنفر کچھ ذیادہ بیمار رہنے لگے تھے ۔ماضی کے بد ترین واقعات انہیں اب بھی سکون نہیں لینے دے رہے تھے باوجود اس کے کہ انہوں نے وطن واپسی پر گاؤں میں اپنے آبائی گھر میں موجود ہوتے ہوئے ، شہر میں ہی رہائش رکھنے کو ہونے کو فوقیت دی تھی۔
•••••••••••••••••••
صبح کے چھ بج رہے تھے اور وہ آئینے کے سامنے وائیٹ شلوار سوٹ میں ملبوس ایک ہاتھ سے ریسٹ واچ کا لاک بند کرتے ہوئے تنقیدی نظروں سے اپنا جائزہ لے رہا تھالیکن قدرت نے اسکے سراپے میں کسی بھی قسم کی تنقید کی گنجائش نہیں چھوڑی تھی۔ اونچا لمبا قد ،حسین نقوش سے سجامغرور چہرہ اور انتہائی گہری اور روشن چمکدار آنکھیں اسکی شان میں بے پناہ اضافہ کر دیتی تھیں۔
وہ ان لوگوں میں سے تھا جنہیں کسی کومتاثر کرنے کے لئےلفظوں کے سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی انکی ایک نظر ہی مقابل کو چاروں خانے چت کر دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
آج کے الیکشن کئیمپین کی ساری زمیداری تم پر ہے ۔خیال رہے کسی بھی قسم کی کوئی گڑبڑ نہیں ہونی چاہئے۔خوبصورت اور بھاری آواز کمرے میں گونجی ۔
تم ہر پل بابا سائیں کے ساتھ رہوگے،میری غیر موجودگی کی وجہ سے
وہ کچھ برہم ہونگے لیکن میں واپس آکر انکو منا لونگا مجھے ضروری کام سے شہر نا جانا ہوتا تو میں خود ہی سب کچھ سنبھال لیتا۔
میرے جانے کی خبر بابا سائیں کو میرے یہاں سے نکل جانے کے بعد ملنی چاہئے۔
معظم علی شاہ شیرازی اپنے سب سے وفادار ملازم خادم حسین سے مخاطب تھا۔اس نے جھک کر ٹیبل سے سگریٹ کیس اٹھایا اور ایک سگریٹ نکال کر لبوں میں دبا لیا۔
سائیں ! سب کچھ آپ کے حکم کے مطابق ہوگا۔ خادم حسین نے خوشامدی انداز میں جواب دیا۔
ہوں۔۔۔لائیٹر سے سگریٹ جلاتے ہوئے اس نے ہنکارا بھرا ۔ڈرائیور سے کہو گاڑیاں نکالیں۔
حاضر سائیں۔۔۔خدا بخش کہتے کہ ساتھ ہی حکم بجا لانے کے لئے پلٹ گیا۔
••••••••••••••••
شدید گرمی اور چلچلاتی دھوپ میں جب وہ گھر پہنچی تو ثمینہ اسے اپنا انتظار کرتے ہوئے دروازے پر ہی مل گئیں۔
اسلام و علیکم امی ! آپ دروازے پر کھڑی ہو کر میرا انتظار کیوں کر رہی تھیں ؟عروش گرمی کی حدت سے تمتماتےہوئے چہرے کے ساتھ سوال کرتے ہوئے اندر آگئی۔
اس لئے کے میری بیٹی کو باہر کھڑے رہنے کی تکلیف سے نہ گزرنے پڑے۔ثمینہ نے لیمن جوس کا گلاس اسکی طرف بڑھاتے ہوئے جواب دیا جو انہوں نے پہلے سے اس کے لئیے تیار کر رکھا تھا۔
یہ بتاؤ آفس میں پہلا دن کیسا گزرا۔کسی قسم کی کوئی پریشانی تو نہیں ہوئی؟
آفس کا ماحول بہت اچھا ہے ،اسٹاف بھی بہت کو آپریٹو ہے۔
ثمینہ اسکا تسلی بخش جواب سن کر مطمئین ہو گئیں۔
تم ہاتھ منہ دھو لو جب تک میں تمھارے لئے کھانا گرم کرتی ہوں۔
رہنے دیں امی،میں نے لنچ آفس میں ہی کر لیا تھا۔بس کچھ دیر سونا چاہتی ہوں۔
ایان کہاں ہے۔۔۔؟ادھر ادھر نظریں گھماتے ہوئے اس نےپوچھا ۔
وہ ٹیوشن گیا ہوا ہے۔۔۔آج وہ کہہ رہا تھا کہ امی ٹیچر نے آپکو بلوایا ہے ،میں تو وہاں جا کر کیا بات کروں گی تم ہی کچھ وقت نکال کر چلی جانا۔عروش نے اثبات میں سر ہلا یا تواس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے وہ کھڑی ہو گئیں۔
عروش کے صبیح چہرے کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے وہ سوچ رہی تھیں کہ وقت انکو کہاں سے کہاں لے آیا تھا ۔
آج سے بیس سال پہلے انہوں نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ ذندگی انہیں اس مقام پر لی آئے گی جہاں ان کے گزر بسر کے لئے ان کی نازوں پلی شہزادی کو زمانے کی سختیوں کو تنہا جھیلنا پڑیگا۔
•••••••••••••••••
گاڑی کچی سڑک سے پکی سڑک پر ڈالتے ہوئے سامنے سے آنے والی گاڑیوں کو دیکھ کرسجاول شاہ کا حلق تک کڑوا ہو گیا۔
ایسی نازک صورتحال دیکھ کر دونوں طرف کے گارڈز الرٹ ہو گئے تھے۔
مرسڈیز میں بیٹھے ہوئے معظم علی شاہ نے قہر برساتی نگاہوں سے میر سجاول کو دیکھا اور اس کے برابر سے زن گاڑی زن سے اڑا لے گیا۔
یونیورسٹی میں ہونے والے جھگڑے کے بعد سے دونوں طرف آگ برابر لگی ہوئی تھی ،دونوں ہی موقع کی تلاش میں تھے کہ کب موقع ملے اور وہ دونوں ایک دوسرے پر دل کی بھڑاس نکالیں۔بیس سال پرانی یہ دشمنی دن بہ دن بڑھتی ہی جارہی تھی ۔اس دشمنی کی بھینٹ نہ جانے
کتنی ہی معصوم جانیں چڑھ چکی تھیں اور کتنی چڑھنےوالی تھیں یہ کسی کو نہیں پتا تھا۔
صبح سویرے معظم شاہ سے ٹکراؤ اسے خاصہ بد مزہ کر گیا تھا لیکن ۔اسکی ساری بد مزگی پل بھر میں ہوا ہوگئی جب نظر سامنے سے آتی ہوئی زرتاج پر پڑی ۔
وہ ہاتھ میں فائل دبائے بڑی سی چادر میں خود کو لپیٹےاسکول جانے کے لئے گھر سے نکلی ہی تھی جب میر سجاول کی گاڑی کے ٹائر اس کے قدموں سے زرا فاصلے پر چرچرا ئے اور گاڑی ایک جھٹکے سے روک دی گئی۔
سرکار !صبح ہی صبح نکل پڑیں ہمارے نازک دل پربجلیاں گرانے کے لئے۔میر سجاول نے نہایت بے باکیسے اسکے گال کو چھوا۔
نیوی بلیو شلوار سوٹ میں ملبوس آنکھوں پر ڈارگ گلاسز چڑھائے ،گھنی
مونچھوں اور ہلکی بڑھی ہوئے شیو کے ساتھ وہ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔
زرتاج اس کی بے باکی پر جی جان سے سلگ گئی ،مگر ستم یہ تھا کے وہ اس بگڑے امیر زادے کی اس بے باکی پر اسے ایک سخت جملہ بھی کہنے کی جرات نہیں کر سکتی تھی۔کیونکہ وہ اس گاؤں کا وڈیرہ تھا اور وہ ایک غریب ہاری کی بیٹی جن کے پاس عزت کے سوا کچھ بھی نہیں تھا ۔
حالانکہ اس گاؤں کی کچھ حدود بندیاں تھیں اور یہ علاقہ میر سجاول کی حدود سے باہر تھا لیکن چونکہ وہ جس اسکول میں پڑھاتی تھی وہ گاؤں سے کچھ فاصلے پر رہائشی علاقے سے الگ واقع تھا۔یوں اکثر ہی میر سجاول اس کے دیدار کے لئے اس راستے کا انتخاب کرتا تھا اور یہ زرتاج کی بد قسمتی سمجھ لیں کے اس کے گھر سے اسکول تک آنے کا یہ واحد راستہ تھا۔
زرتاج نے آگے نکلنے کے لئے قدم بڑھائے تو اس نے زرا سا ایکسیلیٹر دبا کر پھر اس کی راہ روکی ۔
تم مجھ سے دور جانے کی جو راہ ڈھونڈوگی ،مجھے پہلے سے وہاں اپنا منتظر پاؤگی ۔اس نے سندس کے چہرے پر اترتے چڑھتے تاثرات دیکھتے ہوئےشوخی سے کہا۔
زرتاج کو اپنے چہرے پرجمی اس کی نگاہیں جھلسائے دے رہی تھیں ۔
دل تو کرتا ہے تمھارے اسکول جانے پر پابندی لگا دوں بس دل کے ہاتھوں مجبور ہوں کے میں تمھارے دیدار سے محروم نہیں ہونا چاہتا ،اور نہ میرے پاس اتنی فرصت ہوتی ہے کے تمھارے در دولت پر بہ نفسِ نفیس حاضری دوں۔اس نے کافی مغرورانہ انداز اپنایا۔اور سگریٹ کا ایک گہرا کش لے کر دھواں فضا میں بکھیر دیا۔
زرتاج نے خوفزدہ ہوکر اسکی طرف دیکھا۔
دھوئیں کے مرغولے میں وہ بھی اس پر نظریں جمائے بڑی گہری نظروں سے اس کو ہی دیکھ رہا تھا۔
زرتاج نے فوراً نظریں جھکا لیں اور آہستگی سے کہا۔
پلیز !میرا راستہ چھوڑ دیں۔
چھوڑدیتے ہیں !پہلے یہ بتاؤ منع کیا تھا نا میں نے شیرازیوں سے دور رہو ،پھر انکی حویلی کیوں گئیں؟ میر نے خطرناک تیور لئے اس سے جواب طلب کیا تو زرتاج نے سہم کر اسکی طرف دیکھا۔
اتنی معمولی سی بات سے بھی میر سجاول کی با خبری نے اسے اندر تک سہما دیا۔
وہ بڑی بی بی نے بلوایا تھا۔زرتاج نے دھیمےسے جواب دیا۔
کیوں تمھاری ماں کے پیروں پر مہندی لگی ہوئی تھی ؟وہ نہیں جا سکتی تھی حاضری دینے کے لئے ۔۔؟میر سجاول بد لحاظی سے غرایا۔
زر تاج اس کے پل میں بدلتے روپ کو دیکھ کر مزید خوفزدہ ہو گئی۔
آج کے بعد اگر مجھے یہ خبر ملی کے تم “شیرازی ولا “کے قریب سے بھی گزری ہو تو تمھارے اور تمھارے خاندان کے حق میں بہتر نہیں ہوگا۔
میر سجاول نے وارننگ کے انداز میں انگلی اٹھائی اور ایک جھٹکے سے گاڑی بڑھا لے گیا۔
زرتاج بے بسی سے دھول اڑاتی گاڑیوں کو دور ہوتا ہوا
دیکھتی رہی۔
•••••••••••••••••••
ڈور بیل بجانے کے بعد وہ دروازہ کھلنے کا انتظار کر رہی تھی جب ہی کسی نے اس کے بے حد نزدیک آکر کہا۔۔۔جی کس سے ملنا ہے آپ کو ۔۔۔پر شوق انداز میں استفسار کرتے ہوئے وہ بہت دلچسپی سے عروج کا جائزہ لے رہا تھا۔
وہ ایکدم بدک کر پیچھے ہٹی اور نہایت ہی غصے میں سخت سست کہنے ہی والی تھی کہ دروازہ کھل گیا ۔
اور اندر سے برآمد ہونے والی لڑکی نے نہایت خوش دلی سے کہا ۔۔۔
ارے عروش!آپ آئی ہیں،اندر آجائیے۔
جی ہاں ،آج تو بڑے بڑے لوگ ہمارے گھر آئے ہیں ۔اس گھر کی تو قسمت ہی کھل گئی۔وہ بلا وجہ بے تکان بولے چلے جارہا تھا۔
عروش سر جھٹک کر آگے بڑھ گئی۔اس کے پیچھے داخل ہونے والے حماد نے اپنے کمرے میں جانے کا ارادہ ملتوی کر کے لاؤنج میں ہی بیٹھ جانا ضروری سمجھا۔
ایان کی ٹیوشن ٹیچر اریبہ عروش کو ڈرائینگ روم میں لے آئی۔یہ حماد بھائی ہیں میرے کزن ،ان کا گھر تولاہور میں ہیں لیکن جاب کی وجہ سے یہ ہمارے یہاں قیام پزیر ہیں۔آپ ان کے انداز کا برا مت مانئیے گا ۔
عروش اس بات کو یکسر نظر انداز کر کہ ایان کے متعلق اریبہ سے سوالات کرنے لگی مگر اس پورے دورانیے میں عروش کو خود پر کسی کی نظریں چبھتی رہیں۔
جاری ہے
