Rate this Novel
Episode 31
اسلام و علیکم ! میر سبطین نے صفدر شاہ کے نذدیک پہنچ کر بلا جھجک مصافحے کے لئے ہاتھ بڑھایا ۔
ہوں ۔۔۔۔ صفدر شاہ نے ہنکارے کی صورت سلام کا جواب دیا ۔
مکتوم شاہ ان کے سرد مہر انداز پر جزبز ہو گیا مگر میر سبطین کے اعتماد میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ۔
کیا میں جان سکتا ہوں کس سلسلے میں آمد ہوئی ہے ۔۔۔۔۔؟ صفدر شاہ نے اسی سرد مہر انداز میں سوال کیا ۔
میں اپنے بھائی کی شادی کا انویٹیشن دینے کے لئے آیا ہوں ۔
میں چاہتا ہوں آپ لوگ اس شادی میں ضرور شرکت کریں اور اس نام نہاد دشمنی کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ اس گاؤں کی آنے والی نئی نسلیں گاؤں کی آزاد فضا میں سانس لے سکیں نا کہ اس دشمنی کہ گھٹن ذدہ ماحول میں پروان چڑھیں ۔
نہ کسی معصوم زرتاج کی عزت داغ دار ہو اور نہ کسی رانیہ کوبے قصور ہوتے ہوئے بھی سزا ملے گی ۔میر سبطین اپنے ازلی پراعتماد لہجے میں صفدر شاہ کے دماغ میں لگی گرہیں کھولنے کی کوشش کر رہا تھا ۔جبکہ مکتوم شاہ خاموشی سے صفدر شاہ کے چہرے پر اترتے چڑھتے تاثرات نوٹ کر رہا تھا ۔
تمھاری یہ بے سروپا باتیں میرے نذدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتیں ۔دشمنیاں نبھانے میں بچوں کا کردار اہم ہوتا ہے مگر دشمنیاں ختم کرنے کے لئے بڑوں کو آگے بڑھنا ہوتا ہے ۔
اگر دشمنی ختم کرنے کا عزم لے کر آئے تھے تو تنہا ہی چلے آئے ؟جو
تقریر میرے سامنے کر رہے ہو ۔۔۔۔۔۔اس کا تھوڑا سا بھی حصہ اپنے خاندان کے افراد کو بھی سنایا ہے یا صرف ہمیں ہی مرعوب کرنا چاہتے ہو ۔
اس کارِ خیر کی شروعات اپنے گھر سے شروع کروگے تو یہ ذیادہ بہتر رہے گا ۔
صفدر شاہ نے اس کی نیک نیتی کو چٹکیوں میں اڑا دیا اور تنہا چلے آنے پر زبردست چوٹ کی ۔
وہ ناگواری اسے مشوروں سے نواز کر وہاں رکے نہیں ، لمبے لمبے قدم اٹھاتے حویلی کے اندرونی حصے کی طرف بڑھ گئے ۔
میر سبطین کے چہرے پر سایہ سا لہرایا مگر جلد ہی اس نے اپنے چہرے پر پراعتماد مسکراہٹ سجالی ۔
ڈونٹ وری یار ! میں انہیں منا لوں گا اور وہ ضرور اس خوشی موقع پر ہمارے ساتھ شامل ہونگے ۔مکتوم شاہ نے اس کے کاندھے کو تھپکا ۔
میر سبطین کے چہرے پر سایہ سا لہرایا مگر جلد ہی اس نے اپنے چہرے پر پراعتماد مسکراہٹ سجالی ۔
اس کے مسکراتے چہرے کو دیکھ کر مکتوم شاہ کے ہونٹوں پر بھی آسودہ مسکراہٹ نے احاطہ کیا ۔
””””””””※””””””””
بڑی حویلی کے درو دیوار ، سبزہ زاروں کا ایک ایک درخت پیڑ پودہ بھی فینسی لائیٹس سے جگمگا رہا تھا ۔
مہندی کے مشترکہ فنکشن کے لئے حویلی کے پچھلے حصے کو بڑی نفاست اور شاندار طریقے سے سجایا گیا تھا ۔لیڈیز اور جینٹس کے درمیان پارٹیشن تھا ۔ زرتاج کو اسی مختص کئے گئے حصے میں مہندی کی رسم کے لئے لایا گیا تھا ۔
میرسجاول نے شہر کےنمبر ون ایونٹ پلینرکو ڈیکوریٹنگ کا زمہ سونپا تھا۔
ہر چیز سے میر سجاول کی زرتاج کے لئے والہانہ محبت اور دیوانگی چھلک رہی تھی ۔
حویلی والے تو حیران تھے ہی ، گاؤں والے بھی زرتاج کی قسمت پر رشک کر رہے تھے کہ میر سجاول کے صبیح چہرے پر رکساں بے پایاں خوشی اورشادی کی تقریبات کو اتنے منفرد انداز سے منعقدکرنے پر سب کو حیرت میں مبتلا ہونے پر مجبور کر دیا تھا ۔
جنہوں نے زرتاج کے ساتھ ہونے والے سانحے پر اس کے گھرانے سے منہ موڑ لیا تھا ۔ فائزہ بیگم کی زہر افشانی حویلی کے خاص ملازموں کی زبانی گاؤں کے ہر فرد کے کانوں تک پہنچ چکی تھی ۔
اکثریت نے فائزہ کے جھوٹ اور من گھڑت کہانیوں کو سچ مان کر زرتاج کو ہی قصور وار ٹہرایا تھا مگر اب شادی پر خرچ ہونے والی بے دریغ دولت اور دھوم دھام دیکھ کر سبھی کو زرتاج کے گھرانے سے ہمدردی محسوس ہو رہی تھی ۔
پاس پڑوس والوں نے ان کے گھر کی چوکھٹ ہی پکڑ لی تھی ۔زرتاج کا رشتہ بڑی حویلی سے جڑنے پر سارے گاؤں نے ہی ان لوگوں کو سر پر بٹھا لیا تھا ۔
پڑوس کی عورتیں صبح کو جو ان کے گھر میں ڈیرہ ڈالتیں تو رات ہوجاتی،
وہ زرینہ اور زرتاج کو گھر کے کسی کام کو ہاتھ نہیں لگانے دیتی تھیں ۔
زرینہ منع کرتی رہ جاتی مگر کوئی اس کی ایک بھی نہیں سنتی ۔
زرتاج لوگوں کے پل پل بدلتے رویوں کو دیکھ کر پہروں سوچتی رہتی ۔
اسے یقین ہوگیا تھا کہ اس دنیا میں صرف پیسے اور رتبے کا ہی بول بالا ہے ۔
جس کی سنہری چمک دمک کے سامنے دنیا والے اچھوت کو بھی معتبر بنا دیتے ہیں ۔ یہ دونوں چیزیں انسان کے پاس نا ہوں تو دنیا حقارت کی نظروں سے دیکھتی ہے ۔
لڑکیاں جب اسے میر سجاول کے نام پر چھیڑ رہی تھیں تو اس کے دل سے ہوک اٹھ رہی تھی ۔
وہ دکھ سے سوچ رہی تھی کہ یہی سب کچھ اگر اس کی پامالی سے پہلے طے پاتا تو یقیناً یہ اس کی ذندگی کے حسین ترین لمحات ہوتے مگر اب یہی سب کچھ اسے تکلیف دے رہا تھا ۔
میر سجاول کا نام اس کے من میں گلاب کھلانے کی بجائے تہمت لگ رہا تھا ۔
اس کے دل نے ان خوبصورت دنوں کی خواہش تو بڑی شدت سے کی تھی مگر جس طرح یہ خواہش پوری ہونے جارہی تھی ، یہ وقت اور لمحات،روشنیاں ، گہماگہمی اس کے لئے جان لیواثابت ہورہی تھی ۔
حاضرین کی خود پر اٹھنے والی ستائشی نظریں بھی اسے تمسخراڑاتی لگ رہی تھیں ۔اس پر فائزہ بیگم کی نظروں سے چھلکتی نفرت اور بیزاری
نے اسے خوف میں مبتلا کیا ہوا تھا ۔
اس کے چہرےپر اترتی اداسی کو رانیہ نے دور سے محسوس کیا وہ تیز قدموں سےاسٹیج تک پہنچی اور زرتاج کے پاس بیٹھتے ہوئے اس کی پیشانی پر جھولتی بندیا کو درست کیا ۔
زری بھابھی ! اتنی اداس کیوں ہیں ، اس وقت آپ کے چہرے پر یہ اداسی بلکل نہیں جچ رہی ۔
آپ اتنی پریشان کیوں لگ رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔ سجاول بھائی آپ سے بہت محبت کرتے ہیں ۔ اس تقریب کے ارینجمنٹ سے لے کر آپ کے بیڈروم کی سجاوٹ تک ہر چیز ان کی دلی خوشی اور محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔
آپ پریشان مت ہوں ، اب آپ کی ذندگی میں سب کچھ اچھا ہونے والا ہے ۔ سجاول بھائی آپ کو بہت خوش رکھیں گے ۔رانیہ نے محبت سے کہتے ہوئے دھیرے سے اس کا ہاتھ دبایا ۔
اب وہ رانیہ کو کیا بتاتی کہ میر سجاول ہی تو اس کی ادسی کا سبب تھا،اس کے نام کے ساتھ اپنے نام کاجڑنا اس کے لئے باعث مسرت نہیں بلکہ احساسِ ذلت میں مبتلا کر رہا تھا ۔وہ بس دھیمے سے مسکرا کر رہ گئی ۔
زرد جوڑے میں زرتاج کا دلکش سراپا جگمگا رہا تھا ۔بیوٹیشن کی مہارت نے اس کے حسن میں چار چاند لگا دئیے تھے ۔
میر سجاول نے شام میں ہی رانیہ کو بھیج کر زرتاج اور زرینہ کو حویلی بلوالیا تھا ۔حویلی میں ہی اس کو تیار کروایا گیا تھا ۔
میر سجاول نے دل کے بارہا شور مچانے پر بھی اسکا سامنا کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
وہ بمشکل ہی سہی خود کو سنبھالے ہوئے تھا مگر جب زرتاج تیار ہونے کے بعد رانیہ اور دیگر خواتین کی مدعیت میں اسٹیج تک لائی گئی تو حویلی کے دالان سے گزرتے ہوئے میر سجاول کی نظر اس پر پڑی تھی اور پھر پلٹنا بھول گئی ۔
زرتاج کا روپ اپسراؤں کو بھی مات دے رہا تھا ۔ میر سجاول کا دل اس کو ایک پل قریب سے دیکھنے کے لئے بے قابو ہو گیا تھا مگر خواتین میں اس کی انٹری کا کوئی سین نہیں تھا ،وہ دل مسوس کر رہ گیا ۔
※
جینٹس سائیڈ پر مہندی کی رسم زور و شور سے جاری تھی ۔ میر سجاول کے تقریباً سبھی دوستوں نے بھر پور طریقے سے شرکت کی تھی اور ہلا گلا کرنے میں مصروف تھے ۔ جو کسی کام کے سلسلے میں ملک سے باہر تھے وہ بھی شورٹ نوٹس پر شادی اٹینڈ کے لئے پہنچ چکے تھے ۔
میر سبطین بھی سگے بھائیوں سے بڑھ کر فرائض انجام دے رہا تھا۔اس نے ہر کام اپنی نگرانی میں کروایا تھا ۔اس کی وجہ سے میر سجاول بھی خود کو ریلیکس محسوس کر رہا تھا ۔
میر سجاول نے اپنے کسی دوست کی بات پر قہقہہ لگایا تبھی اس کی نظر صفدر شاہ اوراس کے ساتھ اندر داخل ہوتے ہوئے مکتوم شاہ پر پڑی۔
اس نے پاس کھڑے سبطین کو زبردست گھوری لگائی مگر میر سبطین نے اسے نظروں ہی نظروں میں خاموش رہنے کی التجا کی اور جلدی سے اسٹیج سے اتر گیا ۔
آپ کو یہاں دیکھ کر مجھے اتنی خوشی ہورہی ہے کہ میں بیان نہیں کر سکتا ۔آپ نے یہاں پہنچ کر میرا مان رکھ لیا ۔میر سبطین بے تکلفی سے صفدر شاہ کے گلے ملتے ہوئے بولا ۔
تم کیا سمجھتے ہو ۔۔۔۔۔فاصلے مٹانے کا سارا کریڈٹ تم اکیلے لے جاؤگے ۔۔۔۔۔۔یار ! تھوڑا حق تو ہمارا بھی بنتا ہے ۔ صفدر شاہ مصنوعی خفگی سے بولے ۔ میر سبطین کا قہقہہ برجستہ تھا ۔
اس نے کھلتی مسکراہٹ کے ساتھ مکتوم شاہ کو ویلکم کیا ۔ میر غضنفر بھی ان تک پہنچ چکے تھے اور ان کے پیچھے میر جعفر بھی سست قدموں سے آکھڑے ہوئے ۔
تم کچھ بھی کہہ لو صفدر ! پورا کریڈٹ میرے بیٹے کو ہی جاتا ہے ،اس نے ہی انا کو پس پشت ڈال کر فاصلے سمیٹے ہیں ورنہ یہ گرد اتنی جلدی مٹنے والی نہیں تھی ۔
میر غضنفر بھی صاف گوئی سے کہتے ہوئے صفدر شاہ سے بغل گیر ہوگئے آخر کو وہ سب بچپن کے دوست تھے اور دلوں کے رشتے خون کے رشتوں جتنے ہی مضبوط ہوتے ہیں ۔ وقتی طور پر گرد چھا بھی جائے تو وہ زرا سی پیش قدمی سے صاف بھی ہوجاتی ہے ۔
بیس سال کا طویل عرصے گزر جانے کے بعد ہی سہی وہ سب دلوں کے بندھن میں ایک بار پھر بندھنے جارہے تھے ۔
میر جعفر نے بھی بنا کسی پس و پیش کے خوش دلی سے انہیں ویلکم کیا ۔
میر سجاول کے دوستوں نے باقاعدہ ڈانس اسٹارٹ کر دیا تھا ۔ میر سبطین بھی اپنے ڈیسینٹ اسٹائل سے نکل کر دل کھول کر انجوائے کر تھا اور مکتوم شاہ ، میر حنین نے بھی اس کا بھر پور ساتھ دیا تھا ۔
بس ایک میر سجاول ہی تھا جو سب کے بھرپور اسرار اور بے انتہا خوشی کے باوجوددبھی خود کو ڈانس کے لئے آمادہ نہیں کر سکا تھا ۔
وہ صوفے پر بیٹھا ہوا یہ سب بہت بھر پور طریقے سے انجوائے کر رہا تھا ۔
وائیٹ شلوار سوٹ پر ویسٹ کوٹ میں ملبوس وہ ہمیشہ سے بڑھ کر چارمنگ لگ رہا تھا ۔چہرے پر بکھری دلی خوشی سے بھر پورمسکراہٹ نے اسے مزید دلکش بنا دیا تھا ۔
“””””””””””※”””””””””””
رانیہ ! جلدی سے پول سائیڈ پر پہنچو ،مجھ تم سے کچھ ضروری کام ہے ۔
میر سجاول نے عجلت میں کہہ کر کال کاٹ دی اور وہیں ٹہلتے ہوئے سگریٹ سلگا کر رانیہ کا انتظار کرنے لگا ۔
کچھ دیر بعد رانیہ اپنا لہنگا سنبھالتی ہوئی گھبرائی ہوئی سی دور سے آتی ہوئی نظر آئی ۔
جی سجاول بھائی ! اتنی ایمرجنسی کیوں بلایا ۔۔۔۔۔۔۔آپ کو ایسی کیا ضروری بات کرنی تھی ؟
بہت ہی ضروری کام تھا ،جو صرف تم کر سکتی ہو اور کوئی بھی نہیں ۔
میر سجاول بے تابی سے گویا ہوا ۔
جی بولیں ۔۔۔۔ رانیہ کو تجسس ہوا ۔
رانیہ تم کسی بھی طرح بس تھوڑی سی دیر کے لئے زرتاج کو اندر والے روم میں لے آؤ ۔۔۔۔۔ مجھے بس دو منٹ اس سے بات کرنی ہے ۔میر سجاول نے منت کی ۔رانیہ پہلے تو اس کے منت بھرے انداز پر مسکرائی جو اس نے پہلی بار دیکھا تھا پھر قدرے پریشانی سے بولی ۔
مگر میں انہیں سب کے درمیان سے کیسے لےکر آ سکتی ہوں ؟آپ جانتے بھی ہیں وہاں کتنا رش لگا ہوا ہے ۔سب پوچھیں گے نا کہ میں دلہن کو کہاں لے جارہی ہوں ۔رانیہ نے الجھتے ہوئے کہا ۔
تم کوئی بھی بہانہ کر دینا ۔بلکہ میں تمھیں بتاتا ہوں کیا کہنا ہے ۔وہ رانیہ کے شولڈر پر ہاتھ رکھے ٹہلتے ہوئے اسے ترکیب سمجھانے لگا ۔
پلیز ! اب جلدی سے جاؤ اور اسے لے کر آؤ ۔ میری پیاری سی بہن ہو ناں ۔۔۔۔۔میں تمھیں ڈھیر ساری چاکلیٹس لا کر دوں گا ۔وہ دلکشی سے مسکراتے ہوئے شرارت سے بولا ۔
اف ۔۔۔۔۔سجاول بھائی آپ بھی ناں ۔۔۔۔۔۔ میں کوئی چھوٹی سی بچی ہوں جو آپ مجھے چاکلیٹس کا لالچ دے رہے ہیں ۔ اس نے منہ پھلایا ۔
اچھا تم جو بولو گی وہ لا دوں گا ۔۔۔۔۔۔ابھی میرا کام کر دو، ذندگی بھر تمھاری فرمائیشیں پوری کروں گا ۔میر نے با لوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ۔
ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔ اپنا وعدہ یاد رکھئے گا ۔ وہ پلٹتے ہوئے انگلی اٹھا کر بولی ۔
میں وعدہ کر کے بھولنے والوں میں سے نہیں ہوں ۔اب جلدی جاؤ اور اسے ساتھ لے کر ہی آنا ۔ وہ ہاتھ جوڑ کر بولا ۔
رانیہ مسکراتے ہوئے ہاتھ ہلاتی ہوئی چلی گئی ۔
میر سجاول سگریٹ کے کش بھرتے ہوئے بے صبری سےرانیہ کےواپس لوٹنے کا انتظار کر رہا تھا ۔
جاری ہے
