59.5K
43

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 09

عروش آفس سے نکل آئی تھی ۔لفٹ سے باہر نکلنے تک وہ خود کو سنبھال چکی تھی ۔میر سبطین کے لہجے اور طرزِ تخاطب نے اسے
بہت ذیادہ ہرٹ کیا تھا،اسے میر سبطین سے اس رویے اور اتنی بد گمانی کی امید ہر گز نہیں تھی ۔
بلڈنگ سے باہر نکل کر وہ کیب کے انتظار میں کھڑی تھی ، جب
حماد نے اپنی کلٹس اس کے پاس آکر روک دی ۔ جو صبح سے
عروش کے پیچھے تھا اور اس کے انتظار میں آفس سے کچھ فاصلے
پر گاڑی پارک کئے کھڑا رہا تھا ۔
عروش ! آپ کی امی کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی ہے ۔میں
ان کو ہاسپٹل میں ایڈمٹ کروا کر آیا ہوں ۔انہیں شدید قسم کا
ہارٹ اٹیک آیا ہے۔ پھپو اور اریبہ ان کے پاس ہی ہیں ۔
پھپو نے کہا میں تمھیں جا کر لے آؤں۔ اس نے بڑی مکاری
سے عروش کے گرد جال بنا ۔
اس کی بات سن کر عروش کا سر چکرا گیا ۔ عام حالات میں تو
وہ اس کے ساتھ بیٹھنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی ،لیکن اس
وقت وہ بنا کچھ سوچے سمجھے اس کی گاڑی میں بیٹھ گئی۔
حماد نے دل ہی دل میں اپنی شاطر دماغی کو سراہا ۔
امی ہوش میں تو تھیں ناں۔۔۔؟ ڈاکٹر نے کیا کہا۔۔۔وہ ٹھیک تو
ہوجائیں گی ناں ۔۔؟عروش نے ایک ہی سانس میں سارے سوال
پوچھ ڈالے ۔وہ زارو قطار رو رہی تھی ۔
عروش ! خود کو سنبھالو پلیز ! سب ٹھیک ہوجائے گا ،آنٹی کا ٹریٹمنٹ
ہو رہا ہے ۔حماد نے مکاری کے تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے اسے تسلی
دی ۔
عروش جواب میں خاموش رہی اور دل ہی دل میں ماں کی صحتیابی
کے لئے رب سے دعا گو ہوگئی ۔یہ وقت اس کے لئے قیامت سے
کچھ کم نہ تھا ۔ثمینہ بیگم اس کے لئے ایک مضبوط سائبان تھیں ۔
ان کے بغیر یہ دنیا اس کے لئے جنگل بیابان تھی ۔آنے والے کسی
بے رحم وقت کا خوف اسے ہولائے دے رہا تھا انہیں سوچوں میں
گم ہونے کی وجہ سے اسے اس بات کا احساس ہی نہیں ہوسکا کہ
گاڑی کو چلتے ہوئے کافی دیر ہو چکی تھی اور اب وہ شہر کے جانے پہچانے راستوں سے نکل کر انجان اور سنسان راستے پر دوڑتی جارہی
تھی ۔
یہ ہم کہاں جا رہے ہیں ؟ آپ نے امی کو کونسے ہاسپٹل میں ایڈمٹ
کروایا ہے ۔عروش نے ناسمجھی کے عالم میں اسکی طرف دیکھتے ہوئے
پوچھا جو خاموشی سے ڈرائیونگ کرنے میں مصروف تھا۔
میری جان ! ابھی پتہ چل جائیگا ۔بس کچھ ہی دیر کی بات ہے ،اس کے بعد تم سب کچھ سمجھ ہوجاؤگی ۔ پھر تمھیں تمھاری امی سے
بھی ملوادوں گا ۔ حماد نے اپنی بات مکمل کر کے ایک مکروہ قہقہہ لگایا ۔
عروش نے بے یقینی سے اس کی طرف دیکھا ۔ مجھے آپ کے ساتھ کہیں نہیں جانا ۔گاڑی روکیں ۔۔۔عروش طیش میں صرف اتنا بولی اور پلٹ کر گاڑی کا لاک کھولنے کی ناکام کوشش کر نے لگی جو کہ آٹومیٹک تھا۔
اگر آپ نے گاڑی نہیں روکی تو میں شور مچاؤنگی ۔عروش نے سسکتے
ہوئے کمزور سی آواز میں اسے دھمکی دی ۔اور ساتھ ہی اس پر مکے
برسانے لگی ۔
ذیادہ مت پھڑپھڑاؤ میری مینا ۔اب تو تم مکمل میری گرفت میں ہو ۔اس بڑھیا نے میرا رشتے ٹھکرا دیا تو کیا ہوا ،مگر اب مجھ سے تمھیں کون بچائے گا ۔شادی تو میں تم سے کر کے رہوں گا ۔بہت رنگ رلیاں منا لیں تم نے اس فرنگی لندن پلٹ کے ساتھ ( میر سبطین)۔ آج ایسے پر کاٹوں گا کہ یاد رکھوگی ۔حمادنے اسکی کلائی پوری طاقت سے دبوچ کر کمینگی سے کہا۔
عروش مسلسل مزاحمت کر رہی تھی مگر وہ ایک ہاتھ سے اسٹئیرنگ
سنبھالے دوسرے ہاتھ سے عروش کو قابو کئے ہوئے تھا۔
•••••••••※•••••••••
پولیس کی پیٹرولنگ موبائل اس وقت گشت پر تھی ، جب میر سجاول
پر حملہ کیا گیا ۔اور سائرن کی آواز پر حملہ آور فوراً ہی وہاں سے بھاگ نکلے ۔
میر سجاول کے دونوں گارڈز موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ پولیس
کی بروقت مددسے میر سجاول اور اس کے ڈرائیور کو ہاسپٹل پہنچا دیا گیا
تھا ۔
میر کی حالت انتہائی نازک تھی ۔اسے چار گولیاں لگیں تھیں ۔دو سینے
پر اور دو کندھے اور بازو پر ۔ایک گولی اس کے بازو کو چیرتے ہوئے
نکل گئی تھی ۔تشویشناک حالت میں اسے ہاسپٹل لایا گیا تھا۔
اس کا آپریشن ہو چکا تھا ، لیکن اس کے ذندہ بچ جانے کے چانسز
بہت کم تھے ۔
فائزہ بیگم کی آہ و بقا ء نے پورے ہاسپٹل کو سر پر اٹھایا ہوا تھا۔رانیہ
انہیں سنبھالتے سنبھالتے ہلکان ہوئی جارہی تھی ۔
میر غضنفر ،سبطین اور رانیہ کچھ دیر پہلے ہی ہاسپٹل پہنچے تھے ۔
میر جعفر سر جھکائے ایک طرف چئیر پر بیٹھے تھے ۔انکی آنکھوں سے آنسو
رواں تھے ، غم کی شدت نے انہیں نڈھال کر دیا تھا ۔ اکلوتے جوان بیٹے کے خون میں لت پت وجود نے انکی گویائی سلب کردی تھی۔بیٹا بھی وہ جو ان کی طاقت ،ان کا بازو تھا ۔اس کے رہتے کسی کی مجال
نہیں تھی ان کے خاندان کی طرف میلی نگاہ کرنے کی۔
وہ اندر ہی اندر خود کو کوس رہے تھے ،کیونکہ اس دشمنی کو سب سے
ذیادہ ہوا دینے والے اور میر سجاول کو بھڑکانے والے وہی تھے ۔
وہ میر کو بھڑ کا کر شیرازیوں پر ہمیشہ حاوی رکھنا چاہتے تھے ۔لیکن وہ
نہیں جانتے تھے کہ ماضی کی طرح اس بار بھی نقصان سب سے ذیادہ
ان کا ہی ہوگا۔اور آج ان کا اکلوتا لاڈلا بیٹا ذندگی اور موت کی کشمکش میں تھا تو اس کے زمہ دار بھی وہی تھے ۔
ڈاکٹرز نے چوبیس گھنٹے کا وقت دیا تھا ،اگر اس دوران میر سجاول کو ہوش آجاتا تو اس کی ذندگی بچ سکتی تھی ۔مگر دن کے گیارہ بجنے والے
تھے ، میر سجاول کے اندر ذندگی کی کوئی رمق پیدا نہیں ہوئی تھی ۔
••••••••••※•••••••••
وہ رات بھر بے چین رہی تھی ،نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور
تھی ۔ جب اذان کی آواز اس کے کانوں میں پڑی تو وہ اٹھ کر وضو
کرنے چلی گئی پھر نماز سے فارغ ہو کر اس نے قران پاک کی تلاوت
کی ۔جب دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو خود بخود آنسو گالوں پر لڑھک آئے ۔اس کے بے چین دل کو کہیں قرار نہیں مل رہا تھا۔
جب کپڑے تبدیل کر کے وہ اسکول جانے کے لئے وقت سے بہت پہلے چادر اوڑھے اپنے سادے سے حلیے میں صحن چلی آئی تو اس کی
ماں نے حیرت سے اسے سر اٹھا کر دیکھا جو ناشتہ بنانے کے لئے
لکڑیاں سلگا رہی تھی ۔
زری !تو اتنی جلدی کیوں تیار ہوگئی ۔پگلی ہوگئی ہے کیا ؟اتنی جلدی
جا کر کیا کرے گی ؟اس کی ماں نے حیرت سے استفسار کیا ۔
اماں !آج مجھے زرا جلدی جانا ہے ،اسکول میں کچھ ضروری کام ہے
پرنسپل نے جلدی بلایا تھا۔وہ بہانہ بنا کر دروازے کی طرف بڑھ گئی
ناشتہ تو کرتی جا ،سارا دن بھوکی رہے گی کیا۔اسکی ماں آوازیں دیتی
رہ گئی ۔
بڑی خود سر ہوگئی ہے ،ہر بات میں من مانی کرتی ہے ۔وہ بڑبڑاتے
ہوئے لکڑیاں درست کر کے چولہے میں رکھنے لگی ۔
میر سجاول پر ہونے والے حملے اس کے شدید زخمی ہوجانے کی خبر
زرتاج پر بجلی بن کر گری تھی ۔
بریک ٹائم میں جب وہ تمام ٹیچرز کے ساتھ اسٹاف روم کے نام پر ایک ٹوٹے پھوٹے کمرے میں آکر بیٹھی تو سب سے پہلے یہی خبر
سننے کو ملی ،جس سے اس کے اوسان خطا ہوگئے ۔وہ پتھرائی ہوئی
آنکھوں سے سب کچھ دیکھ اور سن رہی تھی لیکن بولنے کے قابل
بھی نہیں رہی تھی۔
مس غزالہ سب کو بتا رہی تھیں کہ چھوٹے میر سائیں پر رات کسی
نے حملہ کروایا تھا ،جس میں وہ شدید زخمی ہوئے ہیں ۔ بڑی حویلی
والے تو خبر ملتے ہی شہر کے لئے روانہ ہوگئے تھے ۔حویلی میں تو صبح
سے قرآن خوانی ہورہی ہے ۔
شمائلہ بولی ،میرا شوہر بھی بتا رہا تھا ۔بڑی بری حالت ہے ،سنا ہے
چار گولیاں لگی ہیں چھوٹے میر کو ،ڈاکٹر نے چوبیس گھنٹے دئیے ہیں۔
اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے ،جتنا یہ لوگ غریبوں پر ظلم کرتے
ہیں اللہ ان کا حساب خود لیتا ہے ۔شمائلہ کانوں کو ہاتھ لگا کر بولی ۔
یاد ہے چاچا کرم دین کے بیٹا فصلوں کی کٹائی کے وقت بیمار پڑ گیا
تھا اور کھیتوں پر نہیں جا سکا تھا تو چھوٹے میر نے دونوں باپ بیٹے
کو اپنے سامنے کھڑے ہوکر کتنا پٹوایا تھا ،اس کے بعد چاچا کرم دین
بے چارہ اللہ کو پیارا ہی ہو گیا مگر اپنی ٹانگوں پر نا چل سکا ۔
غزالہ نے بھی میر سجاول کے ظلم کی داستان دہرائی ۔
زرتاج سے ان سب کی باتیں برداشت نا ہوسکیں غیر محسوس طریقے
سے وہاں سے اٹھ کر خالی کلاس روم میں چلی آئی ۔آنسؤں کا گولہ اس
کے حلق میں اٹکنے لگا ۔
(“زری !تم میرا انتظار تو کروگی ناں ،کسی اور کی تو نہیں ہوجاؤگی”)۔
میر کی آواز اس کے کانوں میں گونجنے لگی ،اس نے اپنے ہاتھ کانوں
پر رکھ لئے ۔آنسوؤں کو بہنے کا راستہ مل گیا تو بے تحاشہ رونے لگی۔
میر سجاول کا بے باک رویہ ،اس کی زور زبردستی ،اس کا خوف ،
دھمکیاں سب کچھ اپنی جگہ تھا مگر اس نے کبھی اس سے بے حد
خوف ذدہ یا بیزار ہو کر بھی اسے کوئی بد دعا نہیں دی تھی ۔
وہ اسکی دیوانگی کی عادی ہوچکی تھی ۔اس کے دل میں بھی سجاول کی محبت پنپنے لگی تھی دل انجانے میں ہی سہی اس کے ساتھ کا خواہاں ہو گیا تھا۔
اس کے زخمی ہونے کی خبر نے زرتاج کو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔دل بے
اختیار ہوگیا تھا ،اسکی ایک جھلک دیکھنے کے لئے مچل رہا تھا۔
زرتاج نے تڑپ کر اسکی ذندگی کے لئے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی ۔صرف
ایک بار اسے پھر سے ہنستا مسکراتا دیکھنے کے لئے اللہ سے منتیں
کرنے لگی ۔
اسکول سے طبیعت خرابی کا بہانہ کر کے اس نے آف لیا ۔اور گاؤں
سے چند کلومیٹر دور واقع ایک مزار پر چلی آئی جہاں اسکی ماں ہر جمعرات
حاضری دےنے جاتی تھی ۔اس کا ماننا تھا کہ وہاں جو بھی جائز دعا
صدقِ دل سے مانگی جائے ،پوری ہوجاتی ہے ۔
اس نے گڑگڑا کر میر سجاول کی ذندگی کے لئے دعائیں مانگیں ۔پھول
چڑھائے ۔پھر پر امید ہوکر وہاں سے لوٹی تھی کہ اس کی دعا ضرور
بارگاہِ الہی میں قبول ہوگی ۔
*
شاہ بہت خوشگوار اور مگن سے انداز میں ڈرائیو کر رہا تھا ۔میر سجاول
کے مرنے کی خبر تو اب تک اسے نہیں ملی تھی لیکن یہ خبر بھی اس کے لئے خوش کن تھی کہ وہ بہت سیریس ہے اور اس بچنے کے چانسز نا ہونے کے برابر ہیں ۔
اس دن کیمپئین میں ہونے والے ہنگامے سے جو بدنامی ہوئی تھی اس نے شاہ کو اتنا مشتعل کردیا تھا کہ اس نے اسی وقت میر سجاول لو دنیا سے رخصت کروانے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔ وہ اب اسے مزید کوئی موقع نہیں دینا چاہتا تھا کیونکہ میرسجاول ہر اس راہ میں کانٹا بن کر اٹک جاتا تھا جس پر شاہ قدم رکھتا تھا ۔
کچھ دیر پہلے ہی شاہ کے آدمی نے میر کی تشویشناک حالت سے اسے
آگاہ کیا تھا ،شاہ نے اسے مسلسل ان لوگوں کی نگرانی پر معمور کیا تھا
اور وہ یہ کام بخوبی انجام دے رہا تھا ۔
فیکٹری سے فارغ ہوکر اسکا رخ عروش کے گھر کی جانب تھا ۔شاہ کا
ارادہ عروش کو پک کر کے شاپنگ پر لے جانے کا تھا اور پھر اس نے سوچا تھا کہ عروش کو بنگلے پر لے جائے گا جو اس نے خاص طور پر اس کے لئے خریدا تھا ،جہاں شادی کے بعد وہ عروش کے ساتھ رہنے
والا تھا۔
شاہ عروش کو گاؤں میں رکھنا نہیں چاہتا تھا کیونکہ صفدر شاہ اس رشتے
کے حق میں بلکل راضی نہیں تھے ۔وہ عروش کو ان کے سامنے رکھ
کر اسے احساس کمتری میں مبتلا نہیں کر سکتا تھا ۔
اسے ہنستی مسکراتی مکمل با اعتماد عروش کا ساتھ چاہئے تھا۔جو اسکی
غیر موجودگی میں عدم تحفظ کا شکار نا ہو۔
انہی سوچوں پر مسکراتا ہوا وہ عروش کے گھر پہنچ گیا ۔گاڑی سے نکل
کر اس نے دروازے پر دستک دی ۔
ثمینہ بیگم جو عروش کا انتظار کرتے کرتے تھک گئیں تھیں ،اب سات بجنے والے تھے ،لیکن عروش اب تک نہیں لوٹی تھی ۔
وہ باقاعدہ رو رہی تھیں ۔اس طرح بنا بتائے اس نے کبھی اتنی دیر نہیں کی تھی ۔
انہوں نے سوچا اریبہ کے گھر جا کر اس سے عروش کے موبائل پر کال کروائں ۔ایان ابھی تک ٹیوشن میں ہی موجود تھا۔چادر اوڑھ کر وہ اریبہ کے گھر جانے کے لئے دروازے تک آئیں ،تبھی دروازے پر
دستک ہوئی انہوں نے جھٹ دروازہ کھول دیا ۔سامنے معظم شاہ کھڑا
تھا ۔اس کو دیکھ کران کا دل دھک سے رہ گیا ۔
شاہ سلام کر کے اندر چلا آیا ۔
ثمینہ نے کمزور سی آواز میں اس کے سلام کا جواب دیا ۔
کیسی طبیعت ہے خالہ جان آپ کی ۔۔؟
میں ٹھیک ہوں ۔ثمینہ کی آواز پر آنسو غالب آگئے ۔
اچھا !عروش کو بلائیں ،میں اسے لینے آیا ہوں ۔اس دن بہت سی چیزیں رہ گئیں تھیں ۔آج کچھ فرصت ملی ہے تو شاپنگ فائنل کر لی
جائے ۔یہ کہتے ہوئے وہ کمرے کی جانب بڑھا ۔
کھلے دروازے سے اندر جھانکا تو عروش وہاں موجود نہیں تھی ۔اس
نے پلٹ کر ثمینہ بیگم کی طرف دیکھا تو وہ چئیر پر بیٹھ گئیں اور بلک
بلک کر رونے لگیں ۔
عروش کہاں ہے ؟شاہ نے غضبناک ناک لہجے میں پوچھا ۔اسکی آنکھیں
لمحوں میں قہر برسانے لگیں تھیں ۔
وہ آج آفس گئی تھی لیکن اب تک واپس نہیں آئی ۔میں دو گھنٹے سے
اس کا انتظار کر رہی ہوں ۔ثمینہ بیگم نے بے بسی سے جواب دیا۔
شاہ موبائل پر عروش کو کال کرنے لگا ۔لیکن اس کا نمبر آف جا رہا تھا۔
وہ بغیر ایک لفظ بھی منہ سے نکالے گھر کے کھلے دروازے سے نکل
گیا۔چند لمحوں بعد گاڑی اسٹارٹ ہونے کی آواز آئی ۔
*
حماد سے مزاحمت کرتے کرتے وہ تھک گئی تھی ،خوف کی انتہا پر پہنچ
کر اس کے حواس ساتھ چھوڑ گئے تھے ۔بے ہوش ہوتے ہی اس کی
گردن ایک جانب کو ڈھلک گئی ۔
کچھ دیر کی مسافت اور طے کرنے کے بعد حماد اسے شہر سے بہت دور
ایک ویران ،نو تعمیر علاقے میں لے پہنچا تھا ۔ جہاں اس کے دوست
کا پلاٹ موجود تھا۔پلاٹ کی مکمل تعمیر میں ابھی کچھ وقت اور درکار تھا ۔قرب و جوار میں موجود تقریباً پلاٹ خالی تھے ۔ اکا دکا پلاٹ میں
تعمیر کا کام جاری تھا گوکہ دور دور تک بندہ نا بندے کی زات والی مثال
تھی ۔
حماد بڑی آسانی سے عروش کو گاڑی سے نکال کر کندھے پر ڈالے اندر
لے آیا ۔
ایک کمرے پر مشتمل وہ جگہ کافی کشادہ تھی ۔ مین گیٹ سے آگے بڑا ساصحن اور اس کے آگے ایک کونے میں کمرہ موجود۔تھا ایک کمرے پر چھت نہیں تھی اور اس میں بجری ،سیمنٹ کی بوریوں کا ڈھیر لگا تھا۔
حماد نے عروش کو کمرے میں موجود پلنگ پر لٹا دیا ۔ عروش پر مکمل
بے ہوشی طاری تھی ۔وہ عروش کے پاس ہی بیٹھ کر اس کے ہوش
میں آنے کا انتظار کرنے لگا۔اس دوران وہ عروش کو اپنی ہوس بھری
للچائی ہوئی نظروں سے گھورتا رہا ۔
جب اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو اس نے عروش کے گال کو دھیرے دھیرے سہلایا پھر مکمل اس پر جھک گیا ۔اس پل عروش
ہڑبڑا کر نیند سے بیدار ہوگئی ۔حماد سیدھا ہو گیا ۔
عروش عجیب سی نظروں سے حماد کو دیکھنے لگی ۔اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ۔سر بری طرح چکرا رہا تھا ۔کمرہ نیم تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا جس کی وجہ سے اسے یہ سمجھنے میں مشکل ہو رہی تھی کہ وہ کہاں ہے ۔
جب آنکھیں اندھیرے میں دیکھنے کے قابل ہوگئیں تو حماد کے چہرے
پر مکروہ مسکراہٹ دیکھ کر وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی ۔اسے سب کچھ یاد
آنے لگا ۔اس نے تیزی سے پلنگ سے اٹھنے کی کوشش کی لیکن حماد
نے اس سے بھی ذیادہ تیزی دکھاتے ہوئے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے خود
پر گرا لیا ۔
میری جان ! اب تم مجھ سے نہیں بچ سکتیں ،فکر مت کرو میں تم
سے شادی بھی کروں گا لیکن پہلے تم پر اپنی مہر تو لگادوں تاکہ تم
پھڑپھڑانا بند کردو ۔اس نے ایک نازیبہ حرکت کی پھر خباثت سے
قہقہہ لگایا ۔
عروش تڑپ کر اس سے خود کو چھڑا نے کی سعی کرنے لگی ۔اس
نے حماد کے چہرے پر حملہ کیا ، اس کے ناخنوں سے حماد کے
پر خراشیں ابھر آئیں ۔
حماد نے بنا کسی لحاظ مروت کے زناٹے دار تھپڑوں سے عروش
کا چہرہ لہو لہان کر دیا ۔ عروش کا نچلہ ہونٹ بری طرح پھٹ گیا ، ناک سے بھی خون کی لکیر بہہ کر ٹھوڑی تک پہنچ گئی تھی ۔
تمھیں اللہ کا واسطہ ہے مجھے چھوڑ دو ۔میری شادی ہونے والی ہے میری امی اس صدمے کو برداشت نہیں کر پائیں گی ۔وہ مر جائیں گی عروش تکلیف اور بے بسی سے تڑپ تڑپ کر رونے لگی ۔ اس
نے دونوں ہاتھ جوڑ کر حماد سے التجا کی۔
سیدھی طرح میری بات مان جاؤ پھر میں کل تک تم سے نکاح کر
کے اس بڑھیا کے پاس لے جاؤں گا لیکن جب تک تمھیں میری
بات ماننی پڑیگی ۔اگر نہیں بھی مانو گی تو ہوگا وہی ،جو میں چاہوں
گا ۔وہ ذلالت اور کمینگی کی انتہاؤں پر تھا ۔
عروش نے اس درندے کی گندی نیت اور غلیظ ارادوں کی خوفناکی
محسوس کی تو اس کی روح تک کانپ گئی ۔تبھی اس کی نظر پلنگ
کے نیچے پڑے اوزار پر پڑی ۔وہ لوہے کی راڈ نما چیز تھی ۔
عروش نے لپک کر وہ ہاتھ میں اٹھا لی اور اسے ہاتھ میں لئے تن
کر کھڑی ہو گئی ۔حماد نے اس کے خطرناک تیوروں کو خاطر میں
نا لاتے ہوئے کمینگی سے قہقہہ لگایا ۔
اگر اب تم نے اپنے ناپاک ہاتھوں سے مجھے چھونے کی کوشش کی تو میں یہ تمھارے سر پر دے ماروں گی ۔ وہ الٹے قدموں دروازے تک پہنچ گئی تھی ۔حماد کے ہونٹوں پر کمینی مسکراہٹ کھیل رہی تھی ۔
عروش نے اپنا دوسرا ہاتھ پیچھے کیا اور کنڈی ٹٹولنے لگی ،اسکی پل بھر کی غفلت سے حماد کو موقع مل گیا اور اس نے بڑھ کر عروش کا راڈ
والا ہاتھ جھپٹ لیا ۔
اس کے ہاتھ سے راڈ چھین کر دور پھینکی اور اسے گھسیٹتے ہوئے پلنگ
پر لے آیا ۔ عروش نے اونچی آواز میں چلانا شروع کر دیا مگر حماد جانوروں کی طرح اس پر پل پڑا تھا ۔عروش بھرپور مزاحمت کر رہی تھی ۔اس کے کپڑے جگہ جگہ سے پھٹنے لگے ۔اس نے شدت سے کسی کے وہاں آجانے یا اپنے مرجانے کی دعا کی ۔
جاری ہے