Rate this Novel
Episode 41
بہت ذیادہ اسٹریس لینے کی وجہ سے آدھی رات کو ہی عروش کی طبیعت بگڑ گئی ۔ ثمینہ اور رخسانہ بیگم اسے لے کر ہاسپٹل آگئی تھیں ۔
وہ دونوں بینچ پر بیٹھی مسلسل عروش کے لئے دعائیں کر رہی تھیں ۔صبح کے سات بج چکے تھے تبھی نرس ننھے منے سے وجود کو لے کر باہر آئی ۔
مسز شاہ ! آپ دادی بن گئی ہیں ، آپ کو پوتابہت مبارک ہو ۔ نرس نے احتیاط سے بے بی کو رخسانہ کی گود میں منتقل کیا ۔
خیر مبارک ! ماشا اللہ بہت پیارا ہے ۔ دیکھو ثمینہ ! بلکل مکتوم جیسا ہے ناں ۔ رخسانہ بیگم کا چہرہ خوشی سے تمتمارہا تھا ۔
ماشااللہ ! اللہ نظرِ بد سے بچائے ۔ نرس عروش کیسی ہے ۔۔۔۔۔؟ ثمینہ نچے کو چوم کر نرس کی طرف مڑیں ۔
وہ بلکل ٹھیک ہیں ۔ کچھ دیر بعد ہم انہیں روم میں شفٹ کر دیں گے پھر آپ ان سے مل سکتی ہیں ۔ نرس نے بچے کو واپس لیتے ہوئے مسکرا کر جواب دیا ۔
ثمینہ تم یہاں بیٹھی رہو ، میں ڈرائیور کو کہہ کر مٹھائی منگواتی ہوں ۔
رخسانہ چادر سنبھالتی ہوئی چلی گئیں ۔ ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں تھا ۔
—————-※—————
عروش بچے کو گود میں لئے پیار بھری نظروں سے ٹک ٹکی باندھ کر دیکھ رہی تھی ۔ماں بنے کی خوشی سے اس کا زرد چہرہ بھی دمک رہا تھا ۔ اس نے زور سے بچے کو سینے سے لگایا تو وہ کسمسا کر چیخا ۔ عروش کھلکھلا کر ہنس دی ۔
اماں ! یہ کتنا کیوٹ ہے ناں ۔ میرا دل چاہ رہا ہے بس اسے دیکھتی رہوں ، پلکیں بھی نا جھپکوں ۔اس کی آواز شدتِ جذبات سے چور تھی ۔ثمینہ اور رخسانہ کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی ۔
اسلام و علیکم ! رانیہ ، نگین اور میر غضنفر ایک ساتھ روم میں داخل ہوئے ۔
وعلیکم بھائی صاحب ! وہ دونوں اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑی ہوگئیں ۔
عروش اور نگین بغیر پلکیں جھپکائے ایک دوسرے کو دیکھ رہی تھیں۔نگین کا سکتہ ٹوٹا تو وہ دوڑ کر عروش سے لپٹ گئی ۔ وہ دونوں کتنی دیر تک ایک دوسرے سے لگی روتی رہیں ۔ کسی نے بھی انہیں الگ کرنے یا چپ کروانے کی کوشش نہیں کی پھر میر غضنفر نے آکر ان دونوں کے سر پر ہاتھ رکھا ۔
ہماری کوتاہی اور لاپرواہی کا خمیازہ تم دونوں کو بھگتنا پڑا ۔بے شک تم تو اپنوں کی آغوش میں رہیں مگر فائزہ کی وجہ سےجو بدگمانیاں پیدا ہوئیں،
نگین کی گمشدگی کا قصور وار صفدر شاہ کو سمجھا گیا ، اسی وجہ سے مسرور اور ثمینہ تمھیں لے کر روپوش ہوگئے ۔اس سب میں ہم
عروش تمھیں بیٹا بہت مبارک ہو ۔ نگین نے اپنی آنکھیں صاف کرتے ہوئے بھانجے کو جھک کر چوما ۔
ہاں یہ واقعی بہت مبارک ہے ، آج ہی یہ ملا ہے اور آج ہی مجھے تم ملی ہو ۔ عروش نے پیار سے نگین کے گال کو چھوا ۔
پھر تو اس کا نام مبارک ہونا چاہئے ۔ رانیہ نے لقمہ دیا ۔ سب بے اختیار ہنس پڑے ۔
اس کا نام تو اس کے باپ نے رکھ بھی دیا ۔ اس نے پہلے ہی سوچا ہوا تھا ۔ جب میں نے اس کے آنے کی خبر اسے دی تو اس نے نام بھی بتا دیا ۔
اچھا معظم بھائی نے اس کا کیا نام رکھا ہے ۔۔۔۔۔؟ نگین نے خوشگوار حیرت سے پوچھا ۔
زعیم شاہ شیرازی ۔۔۔۔۔عروش نے بہت پیار سے اس کا نام لیا۔
ماشااللہ بہت پیارا نام ہے ۔ سب نے تعریف کی ۔
صفدر شاہ نظر نہیں آرہے ۔۔۔۔۔۔۔ کہیں گئے ہوئے ہیں کیا ۔
وہ صبح شہر سے سیدھا یہیں آگئے تھے ، ریسٹ کرنے کے لئے ابھی کچھ دیر پہلے ہی گھر گئے ہیں ۔ رخسانہ بولیں ۔
—————※—————
بھائی پھر آپ میر سبطین کی شادی کب کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟ میر غضنفر اور میر جعفر فرصت سے لیونگ روم میں بیٹھے ہوئے تھے ۔میر سجاول بھی وہیں موجود تھا ۔ وہ صوفے پر بیٹھا ریموٹ ہاتھ میں پکڑے چینل پر چینل چینج کر رہا تھا ۔
بچے تیاریوں میں لگے ہوئے ہیں،ان کے کام مکمل ہوجائیں ۔چھ مہینے کے اندر ہی کوئی ڈیٹ فائنل کر دوں گا مگر رانیہ کے لئے بہت پریشان ہوں ۔ اس کا بھی رشتہ طے ہوجاتا تو میں بلکل بے فکر ہوجاتا ۔
مجھے رانیہ کی بہت فکر ستا رہی ہے ، میر سبطین اور نگین کے ساتھ ہی اس کی بھی شادی ہو جانی چاہئے تاکہ رانیہ بھی اپنے گھر کی ہوجائے۔ذندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہے ۔ اپنی ذندگی میں اسے بھی ہنستا بستا دیکھ لوں تو پھر مجھے ذندگی کی کوئی پرواہ نہیں ہوگی ۔وہ بہت فکرمند ہورہے تھے ۔
دل چھوٹا مت کریں ، اللہ اس کے لئے بھی کوئی نا کوئی اسباب بنا دے گا ۔ میر جعفر نے انہیں تسلی دی ۔
صفدر شاہ کا فون آیا تھا ، وہ جواب مانگ رہے ہیں اور بضد ہیں کہ جواب ہاں میں ہی ہو ۔ مکتوم شاہ کی خوشی بھی اس رشتے میں شامل ہے ۔ میر غضنفر آہستگی سے بولے ۔ میر سجاول نے چونک کر انہیں دیکھا ۔
آپ لوگ انہیں صاف جواب کیوں نہیں دے رہے ۔۔۔۔۔۔۔ یہ تماشا ختم کیوں نہیں کر دیتے ۔
رانیہ میں کوئی کمی نہیں ہے ، لنگڑی لولی یا بد صورت نہیں ہے نا ہی اس کی عمر نکلی جا رہی ہے جو آپ اتنے فکر مند ہورہے ہیں ۔ بہترین رشتہ مل جائیگا اس کے لئے مگر آپ سب اس خوش فہمی میں مت رہنا کہ میں راضی ہوجاؤں گا ۔ وہ بھڑک کر بولا ۔
کہیں ایسا نہ ہو مجھے اس مکتوم شاہ کا کوئی بندوبست کرنا پڑ جائے تبھی اس مصیبت سے جان چھوٹے گی ۔ آپ سب لوگ اچھی طرح سمجھ لیں میں ہر گز بھی یہ شادی نہیں ہونے دوں گا بھلے اس کے لئے مجھے مکتوم شاہ کا قتل ہی کیوں نا کرنا پڑے ۔ وہ غضبناکی سے بولا ۔
میر سجاول تم ایسا کچھ بھی نہیں کروگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے مکتوم شاہ سے کوئی غرض نہیں ہے مگر میں پھر تمھیں کسی مشکل میں پڑنے نہیں دینا چاہتا ۔ سمجھے تم ۔ میر جعفر تڑپ کو بولے ۔
بے شک رانیہ میں کوئی کمی نہیں ہے مگر اس کا بہترین رشتہ آچکا ہے ، اچھے رشتے کو بلا جواز ٹھکرانا کفرانِ نعمت ہوتا ہے ۔ جب ہماری دشمنی ختم ہوچکی ہے ۔سارے معاملے درست ہوگئے ہیں ، سب سے ذیادہ غصہ ان پر یہی تھا نا کہ انہوں نے سندس کی بچی کو اغوا کیا تو اب وہ راز بھی کھل چکا ہے پھراتنا جذباتی ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ میرغضنفر نے اسے قائل کرنے کی کوشش کی ۔
اٹ مینز ۔۔۔۔۔۔۔۔آپ نے فیصلہ کر لیا ہے کہ آپ اپنی مرضی کر کے رہیں گے کیونکہ شیرازیوں سے دوبارہ رشتہ جوڑنا آپ کے لئے بہت ضروری ہو گیا ہے تو پھرکھل کر بول دیں نا کہ میں گھر چھوڑ کر چلاجاؤں ۔وہ ریمورٹ زمین پر مار کر کھڑا ہوگیا ۔
آخر تمھارے ساتھ مسئلہ کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے ایسی کوئی بات کی ہے کہ میں ان کا پرپوزل قبول کرنے والا ہوں یا ابھی وہاں جارہا ہوں پھر اتنی جلدی کیوں ہائیپر ہوجاتے ہو ۔اپنے دماغ کو ٹھنڈا رکھا کرو ، ہر وقت گرمی اچھی بات نہیں ہے ۔ میر غضنفر رسان سے بولے ۔
آپ چاہے جو کچھ بھی کہیں میں مرتے دم تک بھی اس رشتے کے لئے راضی ہونے والا نہیں ہوں نا میں آپ کو یہ رشتہ جوڑنے دوں گا ۔بہتر ہوگا آپ انہیں کلئیر انکار کردیں تاکہ یہ بات یہیں ختم ہوجائے ورنہ انجام آپ کی سوچ سے بھی ذیادہ برا ہوگا ۔ وہ سرد لہجے میں دھمکی دیتا ہوا لیونگ روم سے باہر نکل گیا ۔
کوریڈور کےآخری سرےپر رانیہ کھڑی ہوئی ان کی باتیں سن رہی تھی۔
میر سجاول کی باتیں اسے نیزے کی انی کی طرح محسوس ہوئیں۔
اس کی آنکھیں جھر جھر بہہ رہیں تھیں ۔
میر سجاول کی نظر اس پر پڑی تو وہ ٹھٹک کر رک گیا ۔ رانیہ نے اسے شکوہ کناں نظروں سے دیکھا ۔میر سجاول کو اس کا دیکھنا ہلا کر رکھ گیا ۔ وہ کتنی ہی دیر تحیر سے اسے دیکھتا رہا پھرسست قدموں سے چل کر رانیہ کے پاس آیا ۔
رانیہ میں اس سے نظر ملانے کی جرأت نہیں تھی ۔وہ یوار کو تکنے لگی مگر اس کی متورم آنکھیں چیخ چیخ کر سارا فسانہ سنا رہی تھیں ۔
میر سجاول جیسے زیرک اور ذہین انسان کو اس کے دل کی آواز سننے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگا ۔اس کی دلی کیفیات سمجھنا میر سجاول جیسے عاشق کے لئے کوئی مشکل کام نہیں تھا ۔میر کے تنے ہوئے اعصاب ڈھیلے پڑ گئے ۔ اس کے چہرے پر پھیلی خطرناک حد تک سنجیدگی یکدم ہی نرم مسکراہٹ میں بدل کر اس کے دلکش چہرے کو مزید رونق بخش گئی ۔
اس نے رانیہ کے سر پر ہاتھ رکھا پھر اس کا سر سہلا کر انگلی کی پور سے اس کا آنسوںسمیٹ لیا ۔
اب رونا مت ،تم جو چاہتی ہو وہی ہوگا بھلے تمھاری خواہش پوری کرنے کے لئے مجھے اپنا سر کیوں نا جھکانہ پڑے۔میر نے بھاری گنبھیر آواز میں کہا ۔
پہلے تو رانیہ کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں پھر اس نے دونوں ہاتھ میر کے گرد حمائل کئے اور اس کے سینے سے لگ کر سسک اٹھی ۔
میر نے دھیرے سے اس کا سر تھپکا ۔
میر سجاول کی نظر اوپر اٹھی تو ریلنگ پر زرتاج جھکی ہوئی تھی ۔اسے دیکھ کر فوراً مسکرائی ۔ اسے جیسے ہی پتا چلا کے میر سجاول گھر آیا ہے، وہ تب سے جلے پیر کی بلی کی طرح چکر کاٹ رہی تھی مگر میر کی بلند غصیلی آواز پر نیچے آنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی ۔
میر نے ایک چبھتی ہوئی سخت آر پار ہوجانے والی نظر اس پر ڈالی پھر وہیں سے پلٹ گیا۔
اس کی بے رخی پر زرتاج کو اپنے جسم سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی ۔وہ اضطراری کیفیت میں اپنی انگلیاں مروڑتی ہوئی بے جان قدموں سے دوبارہ بیڈروم میں چلی گئی ۔
میر سجاول اتنے دن سے خود پر جبر کئے بیٹھا تھا مگر زرتاج کی ایک جھلک نے اس کے غصے کو جھاگ کی طرح بٹھا دیا تھا ۔وہ بے قرار سا ہو کر پشت پر ہاتھ باندھے لان میں ادھر سے ادھر ٹہلنے لگا ۔
دل کہہ رہا تھا کہ خفگی بھلا کر دل ہمیشہ کی طرح اس کے قدموں میں رکھ دے مگر دماغ کے تقاضے کچھ اور تھے ۔ وہ چاہتا تھا اس بار اپنی انا کا سر مت کچلنا زرتاج کو ہر حال میں جھکنا ہوگا ۔ وہ عجیب سی کشمکش میں گھرا جھنجھلا کر گاڑی کی طرف بڑھ گیا ۔
__※__
عروش آئینے کے سامنے کھڑی لپ اسٹک کو کوٹ پر کوٹ لگا کر گہرا کر رہی تھی ۔ میک اپ اس نے لائیٹ ہی کیا تھا مگر لپ اسٹک بہت ڈارک لگائی تھی ۔
اس نے آئینے میں ایک بار پھر اپنا تفصیلی جائزہ لیا اور سر ہلاتی ہوئی ہینڈ کیری کی طرف گئی ۔ بے بی کو گود میں اٹھایا پھر روم سے باہر نکل آئی ۔
پورے تین ماہ بعد معظم شاہ گھر واپس آرہا تھا وہ بھی مکمل صحتیاب ہونے کے بعد ۔وہ شاہ کے لئے بہت دل سے تیار ہوئی تھی ۔
خالہ جان ! وہ لوگ کب پہنچے گے ۔۔۔۔۔۔؟ اس نے بے بی کو رخسانہ کی گود میں ڈالا کر بے صبری سے پوچھا ۔
بس پہنچنے ہی والے ہونگے ۔ مکتوم شاہ نے اسی ٹائم پہنچنے کا کہا تھا۔
ائیر پورٹ سے تو صبح ہی آگئے تھے مگر شاہ کو شہر میں ضروری کام نمٹانے تھے اس لئے نکلنے میں زرا دیر ہوگئی ۔ رخسانہ بیگم اس کی بے صبری پر مسکرائیں ۔
زینب ، ثمینہ اور رخسانہ بھی ان کے انتظار میں بیٹھی ہوئی تھیں ۔
تم نے اچھا کیا جو تیار ہوگئیں ، اب زرا کچن کا ایک چکر لگا لو ۔دیکھنا سب کچھ ٹھیک سے ہو بھی رہا ہے ۔ میں نے آج ساری ڈشز ان دونوں کی پسند کی بنوائی ہیں ۔ رخسانہ بیگم بہت خوش تھیں ۔
عروش بے بی کو پیار کر کے وہاں سے اٹھ گئی ۔
وہ ملازمہ کے ساتھ مل کر کچن میں کام کروا رہی تھی جب پورچ میں گاڑیوں کے رکنے کی آواز سنی ۔ وہ بے قرار ہوگئی مگر بمشکل خود کو باہر جانے سے روکا ۔
رخسانہ بیگم نے معظم شاہ کا سر اپنے سینے سے لگایا ۔ اسے ڈھیروں دعائیں دینے کے بعد بچے کے پاس لے آئیں ۔
معظم شاہ ! تم نہیں جانتے میں کتنی خوش ہوں تمھیں دوبارہ اپنے پیروں پر چلتا ہوا دیکھ کر میرا کلیجہ ٹھنڈا ہوگیا ہے۔وہ کہتے ہوئے رو پڑیں ۔
آپ کی دعاؤں سے میں ٹھیک ہو گیا ہوں ناں پھر آپ کیوں رو رہی ہیں ۔ شاہ نے ماں کے شانے پر ہاتھ پھیلایا ۔
اماں ! یہ ہے زعیم شاہ ۔۔۔۔۔۔ یہ کتنا چھوٹا سا ہے ۔مکتوم شاہ نے بچے کو ایسے چھوا جیسے وہ موم کا ہو ۔کمرے میں موجود سبھی افراد اس کی بچکانہ بات پر بے ساختہ ہنسے ۔
مکتوم شاہ نے اسے بے تحاشہ چومتے ہوئے معظم شاہ کی طرف بڑھایا۔
یہ بلکل تمھارے جیسا ہے ۔ شاہ نے اسے بغور دیکھتے ہوئے مکتوم شاہ سے کہا ۔
ہم سب نے ہی اسے پہلی بار دیکھ کر یہی کہا تھا ۔ یہ ہو بہو مکتوم شاہ ہے ۔ زینب پھپھو بولیں ۔
عروش نظر نہیں آرہی ، کہاں ہے وہ ۔۔۔۔۔؟ شاہ کی بے تاب نظریں کب سے اسے ہی ڈھونڈ رہی تھیں مگر وہ تھی کہ چھپ کر بیٹھی تھی ۔ دروازے سے لگی عروش کا دل زور سے دھڑکا ۔وہ ترس گئی تھی مغرور شاہ کے اس لہجے اس آواز کے لئے ۔
کچن میں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کھانا بنوارہی ہے ۔ میں اسے بلواتی ہوں ۔
رخسانہ بیگم نے فوراً کہا تبھی عروش سر پر دوپٹہ جماتی ہوئی اندر آگئی اور دھیرے سے سلام کیا ۔
معظم شاہ کی نظر اس سے ملی تو پوری دنیا روشن ہوگئی ورنہ اس کے بغیر ویرانی ہی ویرانی تھی ۔ وہ رسٹ کلر کاٹن کے امبرائیڈد سوٹ میں ملبوس تھی ۔ ڈارک میک اپ میں اپسرا لگ رہی تھی ۔شاہ نے بھنویں اچکا کر اس کی بھرپور تیاری کو نظروں ہی نظروں میں سراہا ۔عروش نے گھبرا کر پلکیں جھکا لیں ۔شاہ کی گہری نظریں اس کےسراپے پر جم کر رہ گئیں ۔ عروش اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گئی ۔
عروش ! تم ٹھیک ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ تمھیں ہماری آمد کی خبر نہیں ہوئی یا جان بوجھ کر چھپی ہوئی تھی ۔ معظم شاہ نے براہّ راست اسے مخاطب کیا ۔
میں ٹھیک ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچن میں کام دیکھ رہی تھی ۔ عروش گڑبڑا گئی ۔ شاہ اس کی گھبراہٹ سے محفوط ہوا ۔
اماں کھانا تیار ہے ، لگوادوں ۔۔۔۔۔۔عروش نے بلاوجہ اپنا دوپٹہ درست کیا ۔ معظم شاہ کی بولتی آنکھیں اسے کنفیوز کر رہی تھیں ۔
ہاں لگواؤ ناں ، بچے سفر سے آئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔تھکے ہوئے ہیں ۔بھوک لگ رہی ہوگی ۔ رخسانہ بیگم نے اس کی مشکل آسان کی ۔
※
خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا گیا پھر شاہ نیپکن سے ہاتھ صاف کرتا ہوا جھک کر سرگوشی میں اسے جلدی بیڈروم میں پہنچنے کی تنبیہہ کرتا ہوا اٹھ گیا ۔ ایک ایک کرکے سبھی اٹھ گئے ۔ عروش بھی بچے کو سنبھالتی ہوئی کھڑی ہوگئی ۔
بھابھی ! آپ اسے مجھے دے دیں ، ابھی تو میں نے اس سے بہت ساری باتیں کرنی ہیں اور آپ اسے لے جا رہی ہیں ۔ مکتوم شاہ نے زعیم کو گود میں لیا ۔
آپ کی باتیں ابھی اسے سمجھ نہیں آئیں گی اور جب یہ بولنے لگے گا تو آپ کانوں کو ہاتھ لگائیں گے ۔ عروش کھلکھلائی ۔اس کا اشارہ بے بی کے چیخ چیخ کر رونے کی طرف تھا ۔
ارے آپ بے فکر ہوجائیں ۔ ہمیں سنبھالنا آتا ہے ۔اس کے باپ کو راہِ راست پر لے آئے تو یہ کیا چیز ہے ۔ اس نے عروش کو چھیڑا۔
عروش کی مسکراہٹ گہری ہوگئی ۔
عروش نے دروازہ کھول کر اندر جھانکا ، شاہ بیڈ پر نیم دراز تھا ۔ وہ دروازہ بند کرتی اندر آگئی ۔ شاہ فوراً بیڈ سے اٹھا اور آگے بڑھ کر اسے کھینچ کر گلے لگایا ۔
مائے ڈمپل گرل ! کیسے میں اتنے عرصے تک تم سے دور رہا ، اب سوچ رہا ہوں تو وحشت ہو رہی ہے ۔ شاہ اسے گلے سے لگائے کھڑا تھا ۔
آپ کے جانے سے میں بہت اداس ہوگئی تھی ۔ عروش نے دھیرے سے کہا ۔
اسی معصومیت پر تو میں قربان ہوں اگر ایسے کہو گی تو میں مجبوری میں بھی کبھی کہیں نہیں جا سکوں گا ۔شاہ اس کے انداز پر فدا ہوگیا ۔
اللہ نا کرے اب کوئی مجبوری آپ کو مجھ سے دور کرے ۔ عروش نے سر اٹھا کر اسے دیکھا ۔
میں تم سے بہت ناراض ہوں ۔ شاہ کے لہجے میں شرارت تھی بظاہر سنجیدگی سے بولا ۔
کیوں ۔۔۔۔۔۔ عروش لرز گئی ۔
تم نے مجھے بیٹی نہیں دی ، مجھے کتنا ارمان تھا کہ بلکل تمھارے جیسی بیٹی ہو ۔شاہ نے اس کی ناک کو چھوا ۔
میرے بس میں ہوتا تو میں آپ کی خواہش پوری کردیتی مگر یہ سب تو اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ عروش نے آہستگی سے جواب دیا ۔
کوئی بات نہیں ہم پھر سے ٹرائے کرلیتے ہیں ، مجھے یقین ہے اس بار بیٹی ضرور ہوگی ۔شاہ شرارت سے اس کے چہرے پر جھکا ۔
خدا کو مانیں ، ابھی تو زعیم اتنا چھوٹا ساہے ۔ مجھے تو سوچ کر بھی گھبراہٹ ہورہی ہے ۔عروش نے دونوں ہاتھوں سے اسے دھکا دیا۔
جب تک میری بیٹی آئے گی زعیم بھی تھوڑا بڑا ہوجائے گا ۔تم ٹینشن مت لو ، میں دونوں کو سنبھال لوں گا ۔ وہ مخمور لہجے میں بولا ۔
آپ تو گھر سے باہر چلے جائیں پھر پہروں مڑ کر بھی نہیں دیکھتے ۔ میں آپ کی باتوں میں آنے والی نہیں ہوں ۔
اب سدھر گیا ہوں ناں، اب ایسا نہیں کروں گا ۔ شاہ نے اسے خود سے قریب کیا ۔
میرے شہزادے کو کہاں چھوڑ آئی ہو ؟ شاہ کو زعیم کا خیال آیا۔
وہ مکتوم بھائی کے پاس ہے ، انہوں نے لانے ہی نہیں دیا ۔
میرا بھائی بہت سمجھدار ہے ، ہمیں پرائیوسی دینا چاہتا ہے ۔ آج ویسے بھی ہمیں پرائیوسی کی سخت ضرورت ہے ۔ شاہ بھاری آواز میں بولا ۔
——————※——————
زرتاج حویلی کے دالان میں کھڑی تھی ، سرد ہوا کا تیز جھونکا اس سے ٹکرایا تو پورے بدن پر کپکپی طاری ہو گئی ۔ اس نے شال کو اپنے گرد اچھی طرح لپیٹا اور خارجی راستے کی طرف قدم بڑھائے ۔
وہ لان کی طرف نکل آئی تھی ، حفاظت پر معمور گارڈز باتوں میں مصروف تھے ۔ وہ دور کھڑی ہوگئی ۔ ساجد کی نظر اس پر پڑی تو وہ دوڑتا ہوا آیا ۔
زرتاج بی بی ! آپ اس وقت یہاں کیا کررہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔چھوٹے میر سائیں کو پتا چلا توبہت غصہ کریں گے ۔ساجد خوف ذدہ ہوگیا۔
مجھے کچھ کام تھا ۔ زرتاج ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بولی ۔
تو آپ انٹرکام کردیتیں ، میں اندر آجاتا ۔خیر بتائیے کیا کام ہے ؟ ساجد ہاتھ باندھے کھڑا تھا ۔
میر سائیں کہاں ہیں ؟
وہ تو جی وہ۔۔۔۔۔ فارم ہاؤس پر ہیں ۔ ساجد جھجکتے ہوئے بولا ۔
وہاں کیا کررہے ہیں ؟ شام کو تو یہیں تھے ۔زرتاج نے حیرت سے استفسار کیا ۔
دن میں تو آتے ہیں ۔ آج بھی شام تک مردانے میں مہمانوں کے ساتھ تھے مگر رات کو فارم ہاؤس چلے جاتے ہیں ۔ آپ کو تو معلوم ہے کہ وہ بہت ذیادہ پیتے ہیں مگر آج کل تو حد ہوگئی ہے ۔دن رات نشے میں ڈوبے رہتے ہیں ۔ساجد نے تفصیل بیان کی ۔
ٹھیک ہے ، تم مجھے فارم ہاؤس لے چلو ۔ اس نے فیصلہ کن لہجے میں کہا ۔
مگر اب تو بہت رات ہوگئی ہے ، تین بجے سے اوپر کا ٹائم ہے ۔آپ صبح مل لیجئے گا ۔ وہ دن میں آئیں گے تو میں آپ کو فوراً اطلاع کر دوں گا ۔ساجد گھبرا گیا ۔
مجھے ابھی جانا ہے ، تم مشورے مت دو بس لے چلو ۔ زرتاج نے لہجے کو سخت بنایا ۔
جی بہتر ، وہ کہہ کر پورچ سے گاڑی نکالنے چلا گیا ۔
زرتاج گاڑی میں سوار مسلسل میر سجاول کے بارے میں سوچ رہی تھی جو اپنی تمام تر ذیادتیوں کے باوجود اس کے دل میں بہت اونچے مقام پر فائز ہوچکا تھا ۔ ذندگی کے لئے اتنا ضروری ہوگیا تھا کہ اس کی تین دن کی لاتعلقی نے زرتاج کو تپتے صحرا میں لاکھڑا کیا تھا ۔ وہ میر سجاول کی والہانہ محبت اس کے عشق کے برملا اظہار کی عادی ہوچکی تھی ۔ اس کے بنا جینے کا تصور بھی محال تھا۔
گاڑی فارم ہاؤس کے وسیع و عریض احاطے میں رکی ، وہ چادر سے خود کو ڈھانپ کر باہر نکلی اور اندرونی حصے کی طرف بڑھ گئی ۔
اس نے میر سجاول کے بیڈروم کا دروازہ کھولا ، اندر قدم رکھتے ہی ناگواربدبو کے بھبکے سے اسے چکر آگیا۔پورے کمرے میں اس قدر ناگوار بدبو پھیلی ہوئی تھی کہ زرتاج کو ابکائی آنے لگی ۔
میر سجاول شرٹ سے بے نیاز آنکھوں پر بازو رکھے بیڈ پر بے سدھ سورہا تھا ۔دو بوتلیں سائیڈ ٹیبل پر رکھی ہوئی تھیں ، جن میں سے ایک خالی تھی ایک میں مشروب کی تھوڑی مقدار موجود تھی ۔باقی بوتلوں کا ڈھیر ٹیبل پر تھا ۔جس سے اندازہ ہو رہا تھا کہ یار دوست بھی ساتھ ہی شغل فرما رہے تھے ۔
خاصی ٹھنڈ کے باوجود بھی اے سی فل تھا ۔کمرہ یخ ٹھنڈا ہورہا تھا مگر میر سجاول ٹھنڈ سے بے نیاز پڑا تھا ۔ کمفرٹر آدھا بیڈ پر آدھا زمین پر لٹکا ہوا تھا ۔وہ چلتی ہوئی بیڈ تک آئی اور میر سجاول کا بازو پکڑ کر ہلایا ۔
میر سائیں ۔۔۔۔۔۔۔میر ٹس سے مس نا ہوا ۔
میر سائیں ! اٹھ جائیں ، گھر چلیں ۔ وہ اس بار اسے جھنجھوڑ کر بولی ۔
میر نے زرا سا بازو ہٹا کر بمشکل آنکھیں کھول کر اسے چند لمحے دیکھنے کے بعد دوبارہ آنکھیں موند لیں۔نشے میں دھت اسے زرتاج بھی دھندلائی ہوئی نظر آئی تھی ۔
میر سائیں ! پلیز اٹھ جائیں ۔ کیوں مجھے ستا رہے ہیں ۔زرتاج نے پھر اس کا بازو زور سے ہلایا۔وہ رو دینے کو تھی ۔
میر سجاول نے اس کی کلائی پکڑ کر زور سے جھٹکا دیا اور اپنے پہلو میں گرالیا ۔وہ جاگ چکا تھا ۔ آگئیں تم ، میر سجاول کا عشق اتنا بھی کمزور نہیں ، آخر تمھیں کھینچ ہی لایا ۔وہ خمار آلود لہجے میں بولا۔
آپ اتنے دنوں سے گھر نہیں آرہے ، اس لئے مجھے یہاں آنا پڑا ۔ وہ روہانسی ہوکر بولی ۔
کیوں آؤں میں گھر ، کیوں ہاتھ لگا رہی ہو مجھے ؟ تمھیں تو نفرت ہے نا مجھ سے ، میرے وجود سے گھن آتی ہے پھر میرے پاس کیوں آئی ہو ؟ میر سجاول اس پر جھکا اس کی گردن دبوچ کرغرایا۔
سوری ! غلطی ہوگئی ، معاف کردیں ۔ وہ آنکھوں میں آنسو بھر کر بمشکل بولی ۔میر کے ہاتھ کا دباؤ سخت تھا ۔
اب معاف نہیں کروں گا ، تم نے مجھے بہت ستایا ہے ۔ ہر وقت لڑتی رہتی ہو ۔ میرا قصور بھی نہیں بتاتی ہو ۔ اس نے زرتاج کا ہاتھ چوم کر شکوہ کیا ۔
مگر آپ نے تو کہا تھا پوری ذندگی میرے نخرے اٹھائیں گے ، آپ تو اتنے میں ہی روٹھ کر بیٹھ گئے ۔ زرتاج منہ بسور کر بولی ۔ میر کا قہقہہ برجستہ تھا ۔
اچھا تو یہ پلان تھا ، نخرے اٹھوانے تھے تو بول دیتی میں جی جان سے جی حضوری کرتا مگر غصہ تو نہیں کرتی ۔ اتنا معصوم سا ہوں یار ڈر جاتا ہوں ۔ وہ شرارت سے بولا ۔
اتنے بھی معصوم نہیں ہیں ، بہت ظالم ہیں ۔اتنے دن سے مجھے کتنی بے دردی سے اگنور کررہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی بہن سے تو بڑی محبت جھاڑ رہے تھے ، میں نظر نہیں آئی ۔میں ہوں کون آپ کی جو میرا خیال آئے گا ۔زرتاج دل کی بات زبان پر لے آئی ۔
تم تو میری جان ہو ، میری دلبر ہو ۔ہر طرف بس تم ہی تو ہو مگر تمھاری بے رخی جگر چھلنی کر کے رکھ دیتی ہے ۔میر سجاول کو اس پر ٹوٹ کر پیار آیا ۔ وہ بے اختیار زرتاج پر جھکا ۔
اچھا اب اٹھ جائیں ، گھر چلیں ۔ زرتاج نے اٹھنے کی کوشش کی ۔
اب ہنی مون سیزن ٹو منا کر صبح چلیں گے ۔ میر سجاول نے شوخی سے کہا ۔ اس نے اٹھ کر بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائی اور گلاس بھرنے لگا ۔
اب کیا ضرورت ہے پینے کی ، اتنی پی ہے کافی نہیں ہے ۔ زرتاج نے ناگواری سے کہہ کر اس کا ہاتھ روکا ۔
دلبر سائیں ! بس تھوڑی سی اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میر نے التجا کی ۔
ہرگزنہیں۔اب آپ بلکل نہیں پہیں گےبلکہ کبھی بھی نہیں پئیں گے ۔
پابندی لگا رہی ہو ۔۔۔۔۔؟ میر کے ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ ابھری ۔
جی بلکل !
اچھا تو پھر فلم ایکٹریس اور ناولز کی ہیروئن کی طرح میرا ہاتھ اپنے سر پر رکھ کر قسم اٹھواؤ ناں ۔ وہ بلکل بھی سیریس نہیں تھا ہنوز شرارت سے بولا ۔ زرتاج دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپاکر ہنس پڑی ۔
قسم نہیں لینی ؟ میر سجاول نے اس کی کلائیاں پکڑ چہرے سے ہاتھ ہٹائے ۔
نہیں ۔۔۔۔۔۔۔
آپ کا عشق کمزور نہیں ہے تو میری محبت بھی بہت با اختیار ہے ۔مجھے آپ سے اپنی بات منوانے کے لئے کسی قسم کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔زرتاج پراعتماد لہجے میں بولی ۔
اس کے اعتماد سے کہنے پر میر سجاول کی خوشی دیدنی تھی ۔اس نے زرتاج کے دونوں رخساروں پر بے تحاشہ پیار کی مہر ثبت کیں ۔ میر اسے بازؤوں میں سمیٹے ہواؤں میں اڑ رہا تھا۔
جاری ہے
