59.5K
43

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 08

صفدر شاہ شیرازی اورمعظم شاہ شیرازی صبح سویرے الیکشن کیمپئین
کے نکلے تھے ابھی وہ پنڈال سے کچھ فاصلے پر تھے جب شاہ کو یہ خبر
ملی کہ پنڈال تک جانے والی سڑک کو مظاہرین نے بلاک کیا ہوا ہے
جو ان کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے جمع ہوئے ہیں ۔
شاہ کی کشادہ پیشانی پر اس خبر سے تفکر کی لکیریں نمایاں ہوئیں ۔اس
نے صفدر شاہ کو اس خبر سے آگاہ کیا جو دوسری گاڑی میں سوار تھے اور ساتھ ہی سب کچھ ہینڈل کر نے کی تسلی بھی دی ۔
تھوڑی دیر میں ان کا قافلہ پنڈال تک جانے والی سڑک کے نذدیک پہنچ
چکا تھا ۔ مظاہرین دھرنا لگائے بیٹھے تھے ۔ اس نے ڈرائیور کو گاڑی سائیڈ میں لگانے کا حکم دیا اور خود نیچے اتر آیا ۔
شاہ مضبوط قدم اٹھاتا ہوا مظاہرین تک پہنچا اسے دیکھتے ہی لوگوں نے
نارے بازی شروع کردی ۔
شاہ نے تحمل سے کام لیتے ہوئے ان لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی
جو بلا جواز دھرنا لگائے بیٹھے تھے ۔اور اس کی کوئی بات سننے کے لئے
بھی راضی نا تھے ۔انہوں نے ایک ہنگامہ برپا کیا ہوا تھا۔
شاہ نے اپنے اندر اٹھنے والی غصے کی لہر کو بڑی مشکل سے کنٹرول کیا۔
بالآخر اسے ان لوگوں کو منتشر کرنے کے لئے پولیس کی مدد لینا پڑی۔
وہ ایس ۔ پی آفس کال کرنے کے لئے واپس اپنی گاڑی کی جانب آگیا،
تبھی مظاہرین پر اچانک فائرنگ ہونے لگی ۔فائر ناجانے کس طرف سے
کئے گئے تھے ،بحرحال چاروں طرف بھگدڑ مچ گئی ۔
مظاہرین منتشر ہوچکے تھے اس نے ڈرائیور کو پنڈال لے جانے کا حکم
دیا اور کچھ دیر بعد وہ لوگ پنڈال پہنچ گئے پارٹی ورکرز نے بھرپور طریقے سے انہیں ویلکم کیا۔
صفدر شاہ ڈائس پر کھڑے تقریر کر رہے تھے جب شاہ کو ایس ۔پی کی
کال موصول ہوئی ۔
ایس ۔پی شاہ کو آگاہ کر رہا تھا کہ مسئلہ کافی پیچیدہ ہوگیا ہے ،مظاہرین
کا بیان ہے کہ ان پر حملہ معظم شاہ نے کروایا ہے ۔
شاہ نے اس کی بات تحمل سے سنی مگر اس کا دماغ بہت تیزی سے
کام کر رہا تھا ۔
اس نے اسے ایس۔پی کو یہاں سے فارغ ہونے کے بعد ایس ۔پی آفس پہنچ کر معاملے سے نمٹنے کی تسلی دی اور کال ڈسکنیکٹ کردی ۔
اس طرح کے مسئلوں سے نمٹنے کے ہر داؤ پیچ میں معظم شاہ ماہر تھا۔
اور وہ اچھی طرح جانتا تھا یہ حرکت کس کی ہے ۔اس نے پر سوچ
نگاہیں سامنے تقریر کرتے صفدر شاہ پر مرکوز کر دیں ۔

میر سبطین تین دن سے ذہنی کشمکش میں مبتلا تھا ۔عروش اسکی کزن
ہے اس بات کا انکشاف اس پر عروش کی ڈاکیومنٹس فائیل دیکھتے ہی ہو گیا تھاجب اس نےعروش کا پورا نام عروش مسرور غزینی پڑھاتھا ۔
مگر اس مے عروش پر یہ حقیقت باہر نہیں ہونے دی تھی کہ وہ اس
کے بارے میں جان گیا ہے ،لیکن اب معظم شاہ سے اسکی وابستگی
اسے حیران کر رہی تھی ۔سندس پھپو کی ڈیتھ کے بعد جس طرح مسرور
غزینی اپنی فیملی کو لے کر لاپتہ ہو گئے تھے ۔اس نے بچپن سے لے
کر آج تک یہی سنا تھا کہ دوبارہ انہوں نے گاؤں کے کسی بھی رشتے
دار سے رابطہ نہیں کیا ۔
رخسانہ شاہ نے اپنی بہن اور سبطین کے ڈیڈی اور چاچا جعفر نے اپنی بھانجی کو ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی لیکن ان کاکہیں کوئی سراغ نہیں مل سکا اور پھر سب اپنی کوششوں میں تھک ہار کر بیٹھ گئے ۔
تو کیا ثمینہ آنٹی معظم شاہ اور اس کی فیملی سے رابطے میں تھیں ۔یہ
سوچ اسے پریشان کئے دے رہی تھی ۔پھر معظم شاہ کا کھلے عام
عروش سے شادی کا اعلان عروش کی رضامندی کے بغیر تو ممکن
نہیں تھا ۔یقیناً عروش نے کوئی کمٹمنٹ کی ہوگی ۔
شاپنگ مال میں معظم شاہ کے ساتھ شادی کی شاپنگ کرتے ہوئے ٹکرانا ۔عروش کی بے وفائی کا منہ بولتا ثبوت تھا ۔
یہی بات میر سبطین کو عروش غزینی سے بدظن کر گئی تھی ۔
وہ اپنی سوچوں میں غلطاں تھا جب موبائل کی ٹون نے اسے چونکا
دیا ۔مکتوم شاہ کا نمبر دیکھ کر اس نے کال اٹینڈ کر لی۔
ہیلو ! میر سبطین یار کہاں گم ہو آجکل نا سلام نا دعا ۔میں نے سوچا
آج خود ہی کال کر کے خیریت دریافت کر لوں ۔
بس کچھ مصروفیت رہی پچھلے دنوں ۔سبطین نے سنجیدگی سے جواب دیا ۔
اچھا !کچھ خاص قسم کی مصروفیت تھیں ۔۔؟مکتوم شاہ نے خوشگوار موڈ میں بات شروع کی ۔اسکی کال کا مقصد کچھ اور تھا۔
کچھ خاص نہیں ،وہی آفس ورک لوڈ ۔تم بتاؤ کہاں ہو ۔کال کرنے
کے بجائے خود چلے آتے تو ہم ساتھ میں لنچ کر لیتے ۔
لنچ کا ارادہ تو میرا بھی ہے مگر مصروفیت نے اجازت نہیں دی اور
گاؤں سے نکلنے کا موقع بھی نہیں مل سکا۔
ہوں ۔۔جب فرصت ملے تب آجانا ۔سبطین نے مختصراً کہا ۔
یار ! تمھارے متعلق ایک خبر گردش کر رہی ہے کچھ دنوں سے کہ تم نے معظم شاہ کے قافلے پر حملہ کروایا ہے ۔
مجھے ایسے خرافات میں پڑنے کا کوئی شوق نہیں اور نا ہی میری معظم
شاہ سے کوئی ذاتی دشمنی ہے۔سبطین اسکی بات سے شاکڈ تو ہوا تھا۔
مگر اس نے مکتوم شاہ کو محسوس نہیں ہونے دیا تھا۔
لیکن اس نے ایف۔آئی ۔آر تو تمھارے خلاف درج کروائی ہے ؟
جبکہ معظم شاہ خود بھی یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ کام میر سجاول کی سوا اور کسی کا نہیں ہوسکتا ۔
مکتوم شاہ نے ایک بار پھر اسے حیران کر دیا تھا ۔
اس بات کی وضاحت معظم شاہ ہی بہتر طریقے سے کر سکتا ہے ،میں
نہیں جانتا اس نے ایسا کیوں کیا اور نا ہی جاننا چاہتا ہوں۔وہ سرد
مہری سے بولا ۔
لیکن میں جانتا ہوں ۔ مکتوم شاہ نے ڈرامائی انداز اپنایا۔
میر سبطین خاموشی سے اس کی اگلی بات کا منتظر تھا ۔
کہیں اس سب کے پیچھے وجہ مس عروش تو نہیں۔۔۔؟مکتوم شاہ صاف گوئی سے بولا۔
میرا مس عروش سے کوئی واسطہ نہیں ۔اور نا میں اتنا جذباتی اور بے
وقوف ہوں کے اس کے لئے یہ سب خرافات کرتا پھروں۔میر سبطین کے لہجے کی آنچ مکتوم شاہ پل بھر میں محسوس کر گیا لیکن اسے
جتانے کی کوشش نہیں کی ۔
کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں کر کے میر سبطین نے کال ڈسکنیکٹ کر دی۔اور خود تھکے تھکے انداز میں بیڈ پر دراز ہوگیا۔
سائیڈ ٹیبل پر پڑے کافی کے مگ میں موجود کافی ٹھنڈی ہوچکی تھی۔
*
معظم شاہ کو گئے تین دن ہو چکے تھے لیکن وہ پلٹ کر نہیں آیا تھا ۔
عروش نے موقع غنیمت جان کر آفس جانے کی تیاری کر لی ۔
تیار ہو کر وہ ثمینہ بیگم کے پاس کچن میں پہنچی ۔جو ایان کے لئے ناشتہ
بنا رہیں تھیں ۔
امی! میرے لئے بھی چائے بنا دیں ،آج میں آفس جارہی ہوں۔
پراٹھا پلٹتے ہوئے ثمینہ کا ہاتھ فضا میں ہی رک گیا ، انہوں نے بڑی حیران نظروں سے عروش کو دیکھا ۔
امی ! ہم معظم شاہ کی باتوں کو سیریس لیں گے تو ہمارا گزارہ کیسے ہوگا
تین دن ہوگئے وہ پلٹ کر واپس بھی نہیں آیا ۔اس کے خوف سے میں جاب تو نہیں چھوڑ سکتی ناں یہ جاب ہماری مجبوری ہے۔اس نے ماں کو سمجھانے کی کوشش کی۔
عروش بیٹا ! تمھاری بات اپنی جگہ ٹھیک ہے لیکن اگر اسے بھنک بھی
پڑ گئی تو وہ ہمارا جینا حرام کر دے گا۔ اس دن تم نے اسکا روپ
دیکھا نہیں تھا ۔۔۔کیسے بپھر رہا تھا وہ ۔میں تو اس سے بہت خوفزدہ
ہوگئی ہوں ۔میری غلطی ہے جو میں تم لوگوں کو وہاں لے پہنچی اور
ہم اس کی نظروں میں آگئے ۔ثمینہ اب اپنے گاؤں جانے کے فیصلے
پر پچھتا رہی تھیں ۔
امی !ڈرنے والوں کو دنیا اور ڈراتی ہے اور اب میں معظم شاہ سے
بلکل نہیں ڈروں گی ۔میں آج سے ہی آفس دوبارہ جوائن کرلوں گی ۔
آپ میرے لئے ناشتہ تیار کردیں ۔یہ کہہ کر عروش صحن میں پڑی چئیر
پر جا کر بیٹھ گئی۔ثمینہ ایان کی موجودگی کے خیال سے مزید کچھ نا کہہ سکیں۔

عروش نے میر سبطین کے آفس کے باہر پہنچ کر چند لمحے کھڑے رہ کر
کچھ سوچا پھر دھیرے سے ناک کیا اور ۔مے آئی کم ان سر کہتے ہوئے اندر چلی آئی ۔
اسے دیکھ کر اتنے دن سے تڑپتے سبطین کے دل کو قرار مل گیا اور
جذبات نے سر ابھارا لیکن فوراً ہی اس دن کا منظر اس کی نظروں
کے سامنے گھوم گیا تو اس نے اپنے چہرے پر زمانے بھر کی لاتعلقی
اور بے گانگی طاری کر لی۔
اپنے مومی ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسائے وہ انہیں
مسلسل مروڑ رہی تھی ۔ رائل بلیو کلر کے ڈریس میں اسکی دمکتی
رنگت آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی ۔ لیکن سبطین کو اس وقت کچھ
بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔وہ کھڑی تھی ،میر سبطین نے اسے بیٹھنے کے لئے بھی نہیں کہا تھا ۔
سر ! اس دن کے لئے میں بہت شرمندہ ہوں ،معظم شاہ نے اس دن
جو کچھ بھی کہا اس میں میری رضا مندی شامل نہیں تھی ۔عروش نے
بنا کسی تہمید کے بات شروع کی ۔میر سبطین اس کی بات کاٹتے ہوئے
فوراً سے پیشتر بولا۔
مس عروش ! میں پوچھنا چاہوں گا کہ آپ کے منگیتر نے آپ کو
آفس جوائن کرنے کی اجازت دی ہے یا آپ اسے بھی دھوکہ دینے
چلی آئی ہیں ۔۔؟ اس نے عروش کے کردار پر کاری ضرب کی ۔وہ چئیر سے اٹھ کر اس کے مقابل آگیا تھا ۔
عروش ! میں نے تم پر اپنے قیمتی جذبے نچھاور کر کے اپنی ذندگی کی
سب سے بڑی غلطی کی ہے ۔ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ اس معصوم چہرے کے پیچھے اتنا مکروہ اور دھوکے باز چہرہ چھپا ہے تو میں کبھی
تمھیں اپنی ذندگی میں شامل کرنے کے بارے میں سوچتا بھی نہیں۔
میر سبطین نے دونوں بازؤں سے پکڑ کر اسے جھنجوڑ ڈالا۔
سبطین ! میں نے ایسا کچھ نہیں کیا ،جس کے لئے آپ مجھ پر اتنا بڑا بہتان لگارہے ہیں ۔یکایک اس کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہو گئیں۔
مجھ پر اب تمھارے کسی جھوٹ اور مکاری کا کوئی اثر نہیں ہوگا میں
سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوں ۔
معظم شاہ کی تمھارے گھر میں موجودگی ،تم سے شادی کا دعوی ،تمھارا اس کے ساتھ شادی کی شاپنگ کرنا ۔یہ سب کچھ اس بات کا ثبوت
ہے کہ تم ایک دھوکے باز ہو ۔ایک ہی وقت میں تم یا تو معظم شاہ
کو بے وقوف بنا رہی تھیں یا پھر مجھے ۔میر سبطین کا چہرہ غصے سے
سرخ ہورہا تھا ۔
عروش نے بے یقینی سے اسکی طرف دیکھا ۔اسے میر سبطین سے
اس قدر بد گمانی کی امید نہیں تھی ۔ذلت کے احساس سے اور اپنے
اوپر لگنے والے بہتان سے وہ شرم کے مارے زمین میں گڑی جارہی
تھی۔اسکا دل چاہ رہا تھا وہ یہاں سے بھاگ جائے اور کبھی میر
سبطین کو اپنی صورت نا دکھائے لیکن وہ سبطین کو حقیقت سے آگاہ
کئے بنا جانا نہیں چاہتی تھی ،اس لئے بڑی ہمت کر کے اس نے
لب کشائی کی ۔
معظم شاہ سے میں نے کبھی کوئی عہد و پیماں نہیں کئے ، اس دن
اس نے جو کچھ بھی کہا وہ یکطرفہ تھا ۔اس میں میری کوئی رضامندی
شامل نہیں تھی اور نا ہی اس نے میری رضامندی جاننے کی کوئی
ضرورت محسوس کی ۔
وہ کس قسم کا انسان ہے یہ مجھ سے بہتر آپ جانتے ہیں ۔بابا کی ڈیتھ
کے بعد ہم نے چند دن کے لئے گاؤں میں ان کے گھر میں قیام کیا
تھا ،جس کے بعد وہ میرے گھر آنے لگا ۔میں نہیں جانتی تھی اس
کے دل میں کیا ہے ،وہ میرا کزن ہے بس یہی میری بد قسمتی ہے۔
عروش نے ہتھیلی کی پشت سے گالوں پر بہنے والے آنسو صاف کئے
اور دروازہ کھول کر روم سے باہر نکل گئی۔
میر سبطین اسکی طرف سے رخ موڑے کھڑا تھا ۔دروازہ کھلنے اور
بند ہونے کی آواز پر مڑ کر دیکھا پھر پلٹ کر اپنی چئیر پر آ بیٹھا اور
کہنیاں ٹیبل پر جما کر اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔
اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ عروش کی بات پر یقین کرے یا معظم
شاہ کے پراعتماد لہجے پر بحرحال اسوقت عروش کی باتوں نے اسے بے حد مضطرب کر دیا تھا۔

یار میر سجاول ! اب تم بھی شادی کر ہی لو ۔باقی کا سرور تمھاری شادی کی ڈانس پارٹی میں لیں گے۔اس کے دوست بلال ملک نے
نشے کا سرور لیتے ہوئے سامنے تھرکتی ہوئی ڈانسر کو نظروں میں بھر
کرجھومتے ہوئے کہا ۔وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑا ۔
ہنستی مسکراتی زرتاج نظروں کے سامنے آکھڑی ہوئی۔وہ خود بھی سرور
میں تھا۔
میر سجاول نے صفدر شاہ کی الیکشن کیمپئین بدمزہ کرنے کی خوشی میں
پارٹی دی تھی ۔
یار ! ان شیرازیوں کو ناک سے لکیر یں کھنچوا دوں اس کے بعد سب
سے پہلے شادی کروں گا ،بعد میں کوئی دوسرا کام لیکن میری شادی سے
ذیادہ ضروری شیرازیوں کی بربادی ہے ۔اس نے لہجے میں زمانے بھر
کی نفرت سمو کر کہا ۔
الیکشن کے بعد، میں شادی کرنے والا ہوں اور ایسی پارٹی دوں گا کہ تم سب ذندگی بھر یاد رکھو گے۔اس نے سب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔
اوئے ،ہوئے ۔اسکا مطلب ہے لڑکی بھی پسند کر لی ہے شہزادے
نے ۔خرم نے سیٹی بجائی ۔
ہاں ،لڑ کی تو دل میں رہتی ہے ہر پل ۔میر سجاول نے دل پر ہاتھ رکھا۔
یار پھر جلدی سے سہرا باندھنے کی تیاری کرو ،ہم بھی کچھ ہلہ گلہ کریں ۔بلال ڈانسر کو پکڑ کر ٹیبل کے پاس لے آیا اورمیر سجاول کے سر پر نوٹ لگانے لگا ۔ڈانسر نے خوش ہوکر میر سجاول کے گلے میں بانہیں ڈال دیں جنہیں اس نے ناگواری سے جھٹک دیا۔
وہ نشے میں بھی پورے ہوش و حواس میں تھا اور زرتاج اس وقت
بھی اس کے دل و دماغ پر سوار تھی ۔
اس کابس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اسی وقت سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر
گاؤں کے لئے روانہ ہوجائے اور اس رات کی طرح زرتاج کےگھر
کی دیوار پھلانگ کر اس سے ملاقات کرے ۔
ڈانسر نے میر سجاول کا اچھا بھلا موڈ بگاڑ دیا تھا ۔وہ یکدم ہی جانے
کے لئے اٹھ کھڑا ہوا ۔
اس نے دائیں بائیں کھڑے اپنے گارڈز کو اشارہ کیا ،وہ فوراً ہی اس کے پیچھے چل دئیے ۔
پہلے اس نے سوچا تھا کہ شہر میں ہی بنگلے پر جا کر سو جائیگا لیکن اب اس کے سر پر زرتاج سے ملاقات کی دھن سوار ہوچکی تھی ۔
دوست یار اسے روکتے رہ گئے لیکن اس نے کسی کی ایک بھی نا سنی
اور ڈرائیور کو گاؤں لے جانے کا حکم دے کر خود فرنٹ سیٹ پر بیٹھ کر آنکھیں موند لیں ۔اس وقت وہ حال سے بے حال ہو رہا تھا ۔
آنکھیں بند کرتے ہی ذہن کی اسکرین پر زرتاج کی تصویر نمودار ہوگئی ۔
وہ تصور میں اسے سامنے بٹھائے اس سے دل کی باتیں کر رہا تھا اور
وہ شرم و حیا کی لالی سے لال ہورہی تھی ۔
اچانک گاڑی سڑک پر بری طرح لہرانے لگی اور فائرنگ کی آواز اس
کے کانوں میں گونجی ۔
دو بڑی بڑی لینڈ کروزر سامنے کے رخ سے آگئیں تھیں اور ان میں
سے مصلح افراد اس کی گاڑی پر فائرنگ کررہے تھے ۔
ڈرائیور ایک طرف کو لڑھک گیا اسکا پورا بدن خون میں تر ہو رہا تھا
ناجانے کتنی گولیاں میر سجاول کے جسم میں بھی پیوست ہوگئیں ۔
زرتاج ہڑ بڑا کر نیند سے بیدار ہوئی ،اس کی دل کی دھڑکن بہت تیز چل رہی تھیں ۔ وہ سینے پر ہاتھ رکھ کر گہرے گہرے سانس لینے لگی ۔نجانےکیوں اسکا دل بیٹھا جارہا تھا ۔
میر سجاول نے پولیس کا سائرن اپنے بے حد نزدیک سناتھاپھر وہ ہوش سےبیگانہ ہوتا چلا گیا ۔
جاری ہے