Rate this Novel
Episode 13
پوری حویلی برقی قمقموں سے سجی دلہن بنی ہوئی تھی ۔آج میر پرویز کی
مہندی تھی ۔میر ظفر مہندی اور نکاح پر ہی سارے ارمان نکال لینا
چاہتے تھے ۔اس لئے حویلی کو بھی خوب سجوایا تھا ۔
ہر طرف رنگ و نور کا سیلاب امڈا ہوا تھا ۔سب لوگ مہندی لے کر
“شیرازی ولا “ جانے کے لئے تیار تھے ۔مسرور غزینی اور تیمور غزینی
لڑکے والوں کی طرف سے شامل تھے جبکہ ثمینہ بہن کی نند کی مہندی
میں شیرازیوں کی طرف سے شرکت کرنے کے لیے صبح سے ہی شیرازی ولا چلی گئیں تھیں ۔
تیمور غزینی کا گزر زنان خانے کی طرف سے ہوا تو اس کی نظر سجی سنوری سندس پر پڑی جو مکمل تیاری کے ساتھ بے حد حسین لگ رہی تھی۔وہ مبہوت رہ گیا ۔پورے ایک سال بعد اسے اسے دیکھ رہا تھا،
اور اس ایک سال میں اس نے سندس کو بہت مس کیا تھا مگر کبھی
بھی اس پر ظاہر نہیں ہونے دیا تھا حالانکہ اکثر وہ میر ظفرعلی کی خیریت
جاننے کے لئے حویلی فون کرتا رہتا تھا اور کئی بار یہ اتفاق بھی ہو کے
سندس نے خود کال اٹینڈ کی مگر اس نے کبھی بھی سندس پر اپنے جذبات عیاں نہیں ہونے دئیے تھے ۔
مگر آج وہ چند قدم کا فاصلہ طے کر کے سندس تک پہنچ گیا تھا۔
سندس ! کیسی ہیں آپ ۔۔؟تیمور نے سلام کے بعد اسے مخاطب کیا۔
سندس جو کسی کام سے وہاں کھڑی تھی اس کی آواز پر یکدم چونک گئی پھر سنبھل کر اس کے سلام کا جواب دیا ۔
ادا تیمور ! آپ کب پاکستان پہنچے ،ہمیں تو پتا ہی نہیں تھا آپ بھی شادی میں شرکت کرنے والے ہیں ۔۔۔؟اس نے خوشی اور قدرے
حیرانی سے استفسار کیا ۔
جی ! چند روز پہلے ہی آیا ہوں ۔۔۔میر پرویز نے بہت اسرار کیا تھا
اس لئے آنا ہی پڑا مگر اب سوچ رہا ہوں یہاں آنے کا فیصلہ بلکل
درست تھا ۔تیمور نے اس کے سراپے پر بھرپور نظر ڈالتے ہوئے
معنی خیزی سے کہا ۔اس کی بات کا مفہوم سندس کے سر سے گزر گیا
تھا ۔
بہت اچھا کیا آپ نے ،ثمینہ بھابی بھی آپ کو بہت یاد کر رہی تھیں
وہ اکثر ہی آپ کا ذکر کرتی رہتی ہیں ،ادا پرویز بھی آپ کو بہت مس کرتے اور انجوائے بھی نہیں کر پاتے ۔وہ سادگی سے بولی۔
تیمور غزینی اس کی سادہ لوحی پر مسکرا کر رہ گیا ۔
میر پرویز کو چھوڑ کر تقریباً پورا خاندان ہی شیرازی ولا جانے کے لئے
گاڑیوں میں سوار ہو رہا تھا ۔چند لمحوں بعد وہ لوگ روانہ ہوچکے تھے۔
“شیرازی “ولا پہنچنے پر ان کا زبردست استقبال کیا گیا۔ ڈھیروں ڈھیر پھولوں لی پتیاں نچھاور کی جا رہی تھیں ۔مگر اسد شاہ کو جس کا انتظار
تھا وہ اب تک نظر نہیں آئی تھی ۔اتنے دنوں سے بڑی بے صبری سے
اس نے آج کے دن کا انتظار کیا تھا کیونکہ اس کے علاوہ سندس کے
دیدار کی اور کوئی تدبیر بھی اس کے پاس نہیں تھی ۔
حیدر علی شاہ نے میر ظفر کو گلے لگایا پھر ان کے گلے میں شال پہنائی اسد شاہ نے بھی اسی طرح میر جعفر اور میر غضنفر کا استقبال کیا ۔
تبھی عورتوں کے جھرمٹ میں اسے سندس کی جھلک نظر آئی اور وقت جیسےتھم گیا ۔ سندس باٹل گرین کلر کی فراک اور تنگ پائجامے میں ملبوس بنا نقاب کے ڈیپ ریڈ لپ اسٹک لگائے قیامت ڈھا رہی تھی ۔
اسد شاہ بنا پلکیں چھپکائے اسے بے خودی کے عالم میں دیکھتارہ گیا۔
اسد شاہ ! یونہی کھڑے رہوگے یا اندر بھی چلوگے ۔ صفدر شاہ کے ٹوکنے پر وہ گڑبڑا گیا ۔سندس باقی سب کے ساتھ حویلی کے اندر جا چکی تھی۔
زرد جوڑے میں ملبوس ہاتھوں میں گجرے ، کانوں ،گلے اورما تھے پر پھولوں کے زیور پہنے زینب نظر لگنے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی ۔ مہر بانو بھابھی نے فوراً اس کی بلائیں لیں پھر اس کے ماتھے پر پیار کیا ۔جبکہ فائزہ نظرانداز کر کے ادھر ادھر دیکھنے لگی ۔وہ بھلا اپنی سوا کسی کی تعریف کیسے برداشت کر سکتی تھیں۔
زینب ! آج اگر بھائی تمھیں دیکھ لیں تو کل ہی رخصتی کروا کر دم لیں
گے ۔سندس جو اس کے پہلو سے چپکی بیٹھی تھی ،زینب کے کان میں
سرگوشی کی ۔زینب کے چہرے پر گلال بکھر گیا۔اس نے سندس کو کہنی سے ٹہوکا دیا۔سندس کھلاکھلا کر ہنس پڑی ۔
مہندی کی رسم اور کھانے سے فارغ ہونے کے بعد لڑکیاں ڈھولکی لئے
لہک لہک کر گانے گارہی تھیں ۔تبھی کچھ لڑکیاں کھڑی ہوکر ڈانس بھی
کرنے لگیں ۔ایک لڑکی نے ہاتھ پکڑ کر سندس کو بھی اٹھا لیا ۔ سندس پہلے تو زرا سا جھجکی پھر ان سب کے ساتھ شامل ہوگئی ۔اس کا نرم
گداز جسم ڈھولک کی تھاپ پر لچک رہا تھا۔تیمور کی نظریں بار بار بھٹک
کر سندس پر ہی جا رہی تھیں ۔
اوپر سے لان کا منظر بلکل صاف نظر آرہا تھا اور اسد شاہ اپنے کمرے میں کھڑا ،دونوں ہاتھ کھڑکی پر جمائے بڑی دلچسپی سے یہ سہانہ منظر دیکھ رہا تھا۔اسے پورے لان میں سندس کے سوا اور کوئی نظر نہیں آرہا تھا۔
اس نے انگلیوں میں دبے سگریٹ کو لبوں میں دبایا اور ایک گہرا کش
لیا ۔
بی بی جان اپنی جگہ سے کھڑی ہوئیں اور سندس پر نوٹ واری لگیں۔
سندس نے یکدم جھینپ کر چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا ۔اسد شاہ اس کی
اس معصوم سے انداز پر جی جان سے فدا ہو گیا ۔
سندس کو واش روم جانے کی ضرورت محسوس ہوئی تو وہ حویلی کے
اندرونی حصے کی طرف چلی آئی ۔وہ حویلی آتی رہتی تھی اس لئے اسے
واش روم کی سمت کا پتا تھا۔کچھ دیر بعد وہ واش روم سے نکلی اور
لان میں جانے والی راہداری کا رخ کیا تبھی کسی نے پیچھے سے اس کا ہاتھ پکڑا اور ایک ہاتھ اس کے منہ پر رکھ کر راہداری کے ساتھ بنے کمرے میں کھینچ لیا ۔
**
اس اچانک افتاد پر سندس کی سانسیں تھم گئیں تھیں،ہاتھ پاؤں ڈھیلے
پڑ گئے ۔بغیر کوئی مزاحمت کئے وہ کھینچی چلی گئی ۔
اسد شاہ شیرازی نے کمرے میں داخل ہوکر دروازہ بند کیا اور سندس
کو دروازے کے ساتھ لگا کر اس کے منہ سے ہاتھ ہٹا دیا۔
آپ۔۔۔۔؟سندس کھانستے ہوئے حیران اور قدرے خوف ذدہ ہو کر
گویا ہوئی ۔اسد شاہ اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے مسکرایا۔
اس کی بے حد خوبصورت مخمور آنکھیں سندس کے چہرے پر ٹہری ہوئی
تھیں ۔
یہ کیا حرکت ہے ۔۔۔آپ نے دروازہ کیوں بند کیا ہے ؟کھولیں ،
مجھے جانا ہے ۔اس نے اسد شاہ کی نظروں سے خائف ہو کر پلٹنے کی
کوشش کی مگر شاہ نے اس کی نازک کلائیاں مضبوطی سے تھام لیں۔
ہوں ۔۔۔اس کے جواب میں اسد شاہ نے ہنکارہ بھرا پھر بولا۔
واپس یہاں آنے کے لئے تمھارا جانا بہت ضروری ہے مگر میرے
دل میں جو آگ تم نے لگادی ہے ،جس میں مسلسل پچھلی دس راتوں اور نو دن سے سلگ رہا ہوں ، ان کا احوال کون سنے گا۔۔۔ ؟ میری بے چینی اور بے قراری کا حساب دئیے بنا تم کیسے جاسکتی ہو ؟ دل تو
کرتا ہے ، آج ہی تم سے سارے حساب بے باک کر ڈالوں مگر فی الحال میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ۔اسد شاہ نے اس کے غضب ڈھاتے
ہوئے سراپے پر نظر ڈال کر معنی خیزی سے کہا ۔
میں نے تو کچھ نہیں کیا ۔۔۔آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟ مجھے کچھ سمجھ نہیں
آرہا ۔اسد شاہ !مجھے جانے دیں ۔ سندس ناسجھی کی کیفیت میں نہایت
پریشانی سے بولی ۔اگر کسی کو پتا چل جاتا وہ اسد شاہ کے ساتھ تناہ اس
کمرے میں بند ہے تو ۔۔۔اس سے آگے سوچنے کی بھی ہمت اس میں
نہیں تھی ۔
سوہنی سونیا ! تمھارے سمجھنے کے لئے صرف اتنا کافی ہے کہ جس رات میں نے تمھیں پہلی بار دیکھا تھا ، اسی رات سے میرا دل تمھارا طلب گار ہو گیا ہے ۔میرے دل میں یہاں وہاں تمھارے نام کی ہلچل
مچی ہے ۔مجھ سے کوئی کام نہیں کیا جارہا ۔حتی کہ میں اپنی اکلوتی بہن
کی شادی میں بھی دلچسپی سے شامل نہیں ہوں ۔
تم جانتی ہو ۔۔۔یہ سب کیوں ہورہا ہے؟کیونکہ میری پوری توجہ اور
دلچسپی کا مرکز صرف تم بن گئی ہو ۔۔۔۔صرف تم ۔شاہ نے اس
کے ماتھے کو انگشت شہادت سے تھپ تھپایا۔سندس پوری آنکھیں
کھولے ،سانس روکے اسے سن رہی تھی ۔ شاہ کی آخری بات پر
اس کی پلکیں جھک گئیں ۔اس نے نچلا لب دانتوں تلے دبایا تو گال
میں پڑنے والا ڈمپل گہرا ہوگیا۔
اسد شاہ نے اس کے ڈمپل کو مبہوت سا ہو کر دیکھا پھر ڈمپل پرانگلی رکھ کر اس کی لرزتی پلکوں کو ہونٹوں سے چھولیا ۔ اس سےزرا فاصلے پر ہوکر پشت پر ہاتھ باندھ کرکھڑا ہوگیا۔ اس طرح جیسے اسے جانے کا راستہ دیا ہو۔
سندس کا دل اس کی گستاخی پر سینہ توڑ کر باہر نکلنے کو تھا ۔ اس نے جھٹ دروازے کا ہینڈل گھمایا تبھی پیچھے سے اسد شاہ کی بھاری گمبھیر آواز نے اس کے قدم روک لئے ۔
سونیا میڈم!ابھی تو جارہی ہو مگر بہت جلد رشتہ بھیجوں گا ۔اس کے
بعد ایک پل کے لئے بھی تمھیں خود سے جدا نہیں ہونے دوں گا ۔
پھر موت ہی مجھے تم سے دور لے جا سکتی ہے ۔ تب تک خود کو سنبھال کر رکھنا ،تم امانت ہو میری ۔ وہ پشت سے سندس کا آنچل تھامے کہہ رہا تھا ۔
اس کی خوبصورت آواز سندس کے کانوں میں رس گھول رہی تھی۔سندس نے اپنا دوپٹہ دھیرے سے کھینچا جو شاہ نے نرمی سے چھوڑ دیا۔وہ دھڑکتے دل کے ساتھ دروازہ کھول کر باہر نکل گئی ۔
کاریڈور سے گزرتے ہوئے اس نے اپنے سینے پر دونوں ہاتھ رکھ کر دھڑکنوں کا شور محسوس کیا جو بڑھتا ہی جا رہا تھا۔لان تک کا راستہ
طے کرتے ہوئے اس نے خود کو نارمل کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی۔پورا وقت تقریب میں وہ اسد شاہ کی شوخ نظروں چھپتی پھری تھی ۔
※
اسد شاہ نے اس کے سر پر آسمان ہلا کر رکھ دیا تھا۔آج سے پہلے کبھی
ایک دوسرے سے ہم کلام ہونا تو درکنار ان دونوں کا براہ راست سامنہ
بھی نہیں ہوا تھا ۔وہ جب بھی حویلی آتا مردانے سے ہی واپس لوٹ
جاتا تھا اور سندس جب بھی شیرازی ولا جاتی تھی ، مکمل نقاب کئے
ہوتی ۔یوں کبھی اسد شاہ نے اس کا سامنا بھی کرنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔آج اس کے اس اظہارِ محبت اور اس پر ایسے بے رحم انداز نے سندس کو دہلا کر رکھ دیا تھا۔
نکاح کی تقریب بڑی دھوم دھام سے جاری تھی ۔میر پرویز اور زینب
نکاح کے بندھن میں بندھ چکے تھے ۔دونوں کو اب ایک ساتھ بٹھا دیا گیا تھا ۔
دلہن بنی زینب پر خوب روپ آیا تھا ،وہ نظر لگ جانے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی ۔ میر پرویز بھی آف وائٹ شلوار سوٹ میں
ملبوس سر پر دستار باندھے شاندار لگ رہا تھا۔دونوں ہی بے حدخوش تھے ان کی محبت کو نکاح کی منزل جو مل گئی تھی ۔
سندس کا سجا سنورا روپ بہت دلکش تھا ۔اسد شاہ کی نظریں بار بار
اس کی طرف بھٹک رہی تھیں ۔ مگر آج اس نے سندس کو بد حواس کرنے یا اس کا راستہ روکنے کی کوشش نہیں کی تھی کیوں کہ وہ اپنے دل کی بات اس تک پہنچا کر مطمئین ہو چکا تھا ۔
وہ خود بھی وائیٹ شلوار سوٹ پرویسٹ کوٹ پہنے کسی ریاست کا شہزادہ لگ رہا تھا ۔سندس نے ایک بار چپکے سے اس کی سمت نظر کی ،وہ اسی کو دیکھ رہا تھا ۔سندس نےسٹپٹا کر نظر گھما لی ۔اسد شاہ کھل کر دلکشی سے مسکرایا ۔
سندس اپنی چوری پکڑے جانے پر بری طرح شرمندہ ہوگئی تھی ۔
شرمندگی اس کے چہرے سے عیاں تھی ۔
شیرازی ولا سے سب لوگوں کی واپسی ہو چکی تھی اور تقریباً سب ہی
تھکے ہارے اپنے کمروں میں جا چکے تھے ۔
سندس بیڈ پر لیٹی اپنی چوڑیاں اتار رہی تھی ۔ اس کے ذہن کے پردے پر اسد شاہ کا خوبصورت چہرہ ابھرا تو اس کا دل زور سے دھڑکا
اپنی اس کیفیت سے وہ خود ہی محفوظ ہوئی اور مسکرا دی ۔
سب لوگوں کے لئے جابر اور ظالم اسد شاہ کا انداز اس کے لئے چاہت کی شیرنی میں رچا بسا تھا ۔ناجانے اس کے لئے ہی ایسا تھا یا سب کی سوچ اس کے لئے غلط تھی بحرحال اسد شاہ کے اتنے کھلے انداز میں اظہارِ محبت نے اس کی ذندگی بدل دی تھی ۔وہ شاہ جیسے
شاندار مرد کی محبت پا کر خود پر بے حد نازاں تھی ۔اس کے خواب اپنی آنکھوں میں سجا ہے وہ ہواؤں میں اڑ رہی تھی۔
*※*
محترمہ ! پچھلے دو گھنٹوں سے آپ کی کال کے انتظار میں اپنے سارے
ضروری کام چھوڑ کر بیٹھا ہوں ۔کوئی احساس ہے آپ کو میری پریشانی
کا ؟دبی دبی آواز میں وہ نہایت غصے میں اس سے مخاطب تھا۔اس کے
غصے کے جواب میں سندس کی مترنم ہنسی ماؤتھ پیس میں ابھری۔
شاہ ! فائزہ بھابھی لاؤنج میں بیٹھی تھیں ، اگر میں ان کی موجودگی میں کال کرتی اور وہ باہر والے ایکسٹینشن کا ریسیور اٹھا کر سن لیتیں تو
مصیبت آجاتی ۔بھابھی کی فطرت سے تو آپ واقف ہیں۔سندس میر
پرویز کے روم میں لگے ایکسٹینشن پر اسد شاہ سے بات کر رہی تھی۔
اس کی وضاحت پر اسد شاہ نے گہری سانس کھینچی ۔
تمھاری یہ فائزہ بھابھی کسی دن میرے ہاتھوں ضائع ہوجائیں گی۔وہ
چڑتے ہوئے بولا ۔
کیوں ؟
یار! ہر وقت جو تمھارے ارد گرد منڈلاتی رہتی ہیں ۔تمھیں ہوا بھی چھو
کر گزرے تو میرے دل میں آگ لگ جاتی ہے اور پھر یہ فائزہ بھابی
ان کا تو کچھ کرنا پڑیگا ۔سندس کھلکھلا کر ہنسی ۔شاہ کی اس قدر جذباتیت
پر اس کے من میں گدگدی ہورہئ تھی ۔
سنو ! کچھ دنوں تک مجھے ملک سے باہر جانا ہے اور میں تم سے ملے بغیر
نہیں جانا چاہتا ،اس لئے تمھیں کل حویلی آنا پڑیگا اور میں کوئی بہانہ نہیں سنوں گا ۔شاہ نے حطمیہ انداز میں کہہ لر اسے تنبیہہ کردی۔
شاہ ! ایک ہفتے پہلے ہی تو ہم ملے تھے ،اتنی جلدی میں نہیں آسکتی کسی
کو شک نا ہوجائے ویسے بھی مجھے لگتا ہے فائزہ بھابھی کو شک ہوگیا ہے۔سندس پرسوچ انداز میں فکر مندی سے بولی۔
افففففف! پھر فائزہ بھابی اگر اب تم نے ان کا نام لیا تو میں کل ہی ان کو غائب کروا دوں گا ۔شاہ نے برہمی سے کہا ۔
مہربانو بھابھی سے اجازت لے کر آنے کی کوشش کرونگی ۔وہ آہستگی
سے بولی ۔
سونیا ! پلیز ! کوشش نہیں ، کل تم ہر حال میں مجھ سے ملوگی ورنہ میں
خود حویلی آجاؤں گا اور سب کے سامنے سے تمھیں اٹھا کر لے آؤنگا۔
وہ نہایت جذباتی ہورہا تھا ۔
شاہ ! ایسی باتیں تو مت کریں ،آپ کو میری قسم آپ کبھی ایسا کچھ
نہیں کریں گے ۔پوری عزت سے بابا سائیں سے میرا ہاتھ مانگیں گے۔
اس نے گھبرا کر دھڑکتے دل پر ہاتھ رکھ کر شاہ کو قسم دی ۔اس بگڑے
شہزادے سےکوئی امید نہیں وہ جو کہہ رہا تھا کر بھی گزرتا ۔
سونیا ! تمھاری عزت مجھے اپنی جان سے بھی ذیادہ پیاری ہے ،گھبراؤ
مت ، میں تمھیں پوری عزت سے اپنانا چاہتا ہوں ۔میرے دل نے خواہش کی ہے تمھارے ساتھ پوری عمر گزارنے کی ،تمھیں ذندگی بھر چاہنے کی ،تمھیں ہمیشہ اپنے دل سے لگائے رکھنی کی ۔اسے میں باعزت
طریقے سے ہی پوری کروں گا۔ بس تمھارے معاملے میں دل بہت جلدی بے قابو ہوجاتا ہے۔
وہ اس کی گھبراہٹ محسوس کر کےدھیمی مگر گمبھیر آواز میں سندس کے گرد اپنی چاہت کا حصار باندھ رہا تھا ۔سندس کے یا قوت لبوں پر بڑی خوبصورت مسکراہٹ ابھری تھی جس سے اس کے گال میں پڑنے والا ڈمپل گہرا ہوگیا تھا۔
میر پرویز کی واپسی پر پہلی فرصت میں بابا سائیں کو پیغام لے کر بھیجوں
گا اور ہمیشہ کے لئے تمھیں اپنے نام لکھوا لوں گا ۔کم از کم دس بچے
ہونگے ہمارے ،دس سے ایک بھی کم پر سمجھوتا نہیں کروں گا میں ۔کان کھول کر سن لو تم ۔یکدم اس نے مسکراہٹ دبا کر رعب دار
آواز میں کہا۔
شاہ کی اس فرمائش پر بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا تھا ۔جی ! سندس جو اس کی خوبصورت باتوں کے سحر میں کھوئی ہوئی تھی ،بری طرح گڑبڑا گئی ۔شرم سے اس کا چہرہ سرخ پڑ گیا تھا ۔
پوری رات وہ دونوں ایک دوسرے کی محبت کا یقین دلاتے رہے ۔
باتوں کا یہ سلسلہ اب چند گھنٹوں سے بڑھ کر پوری رات پر محیط ہوتا جارہا تھا ۔سندس کی آنکھیں جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھ رہی تھیں۔ملاقات اور ٹیلیفونک گفتگو پر ان کی محبت دن رات پروان چڑھ رہی تھی ۔
※
وقت پر لگا کر اڑ گیا ۔ میر پرویز اور تیمور غزینی تعلیم مکمل کر کے پاکستان واپس لوٹ چکے تھے ۔
مسرور علی غزینی نے تیمور کے رشتے کی بات اس کے لندن جانے کے کچھ دنوں بعد ہی کی تھی ۔ میر ظفر علی کے لئے تو جیسے من کی مراد پوری ہوگئی تھی مگر انہوں نے مسرور غزینی کو تیمور کی واپسی تک ان دونوں اس رشتے سے متعلق کسی کو بھی آگاہ کرنے سے منع کردیا تھا۔
وہ جہاندیدہ آدمی تھے ۔فائزہ کی حاسد فطرت سے واقف ہوچکے تھے ۔
اپنے بھائی کے لئے صاف لفظوں میں انکار پر ان کا تلملانا بھی گھر
والوں سے چھپا نہیں رہ سکا تھا ۔دنوں وہ اس انکار پر اکھڑی اکھڑی
رہیں تھی ۔ابھی سے یہ بات اس کے کان تک پہنچتی تو وہ ضرور کوئی
واویلا کرتی ،جبکہ تیمور کی واپسی میں ابھی پورا سال باقی تھا ۔
سندس رات کے کھانے کے بعد بھتیجا بھتیجی کو اپنے بیڈ پر لے کر بیٹھی کہانی سنا رہی تھی ، مہربانو بھابی دستک دئیے اندر چلئ آئیں۔
بھابی ! آپ نے کیوں تکلیف کی ،کوئی کام تھا تو مجھے بلا لیتیں ۔سندس
جو چھوٹی سی رانیہ کو گود میں لئے بیٹھی تھی ،مہربانوکو دیکھتے ہی اسے گود سے اتار کر اٹھ کھڑی ہوئی ۔
سندس ! مجھے تم سے ضروری بات کرنی تھی ،تمھیں نیند تو نہیں آرہی ؟
مہربانو نے اس کے بے آرامی کے خیال سے پوچھا ۔
سندس بہت چھوٹی سی تھی جب وہ اس گھر میں بیاہ کر آئیں تھیں ۔انہیں یہ چھوٹی سی گڑیا بہت پیاری لگی تھی ،جس پر ان کے شوہر میر غضنفر بھی جان چھڑکتے تھے ۔بن ماں کی بچی کو انہوں نے ماں بن کر سنبھالا اور پیار دیا تھا ۔اس لئے وہ انہیں بے حد عزیز تھی ۔
بچوں ! چلو بھاگو ۔۔۔باقی کی کہانی بابا سنائیں گے ۔مہربانو نے بچوں
کو وہاں سے ہٹانا چاہا کیوں کہ میر سبطین اور میر سجاول سمجھدار تھے ۔
جبکہ حنین اور رانیہ ابھی نا سمجھ تھے اس لئے رانیہ کو انہوں نے گود
میں لے لیا ۔
میر سجاول اور سبطین فوراً بیڈ سے اتر کر چلے گئے ،مہربانو نے کمرے کا
دروازہ بند کر دیا ۔
سندس ! ہم سب سوچ رہے ہیں کہ میر پرویز کے ساتھ ہی تمھاری شادی کا فرض بھی ادا کر دیا جائے ۔مہربانو نے تہمید باندھی ۔سندس
کیا جواب دیتی شرما کر سر جھکا گئی۔
تیمور بھی لندن سے واپس آگیا ہے ۔ ادا مسرور نے بابا سائیں سے
رشتے کی بات بہت دنوں پہلے ہی کرلی مگر بابا سائیں نے کسی کو بھی
بتانے سے منع کیا تھا ۔
تم تو جانتی ہو ،فائزہ کی فطرت کیسی ہے وہ ضرور بتنگڑ بناتی ۔لیکن اب
کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ بہت جلد بابا سائیں میر پرویز کے ساتھ ساتھ
تمھاری بھی شادی کی تاریخ طے کرنے والے ہیں ۔ مہربانو اس کے
چہرے کے بدلتے تاثرات پر غور کئے بغیر رانیہ کو گدگداتے ہوئےبولے چلی جا رہی تھیں ۔
رشتے کی بات تو اشاروں کنایوں میں چا چا حیدر شاہ نے بھی کی تھی اسدشاہ کے لئے مگر بابا سائیں نے نظر انداز کر دیا ۔وہ بھلا اسد شاہ کو
تمھارا ہاتھ کیسے دے سکتے ہیں ۔ اس کی گرم مزاجی اور سخت گیر
طبیعت سے سارا زمانہ واقف ہے ۔تم بہت خوش قسمت ہو سندس
جو تیمور جیسا ہیرا تمھارے نصیب میں آیا ہے ۔
سندس کے اندر چھنا کے کی آواز کے ساتھ کچھ ٹوٹا تھا ۔آنسو آنکھوں کے کناروں سےنکل کر گالوں پر بہنے لگے ۔ مہربانو نے سر اٹھا کر دیکھا تو ششدر رہ گئیں۔
گڑیا ! کیا ہوا بیٹا ۔۔۔تم رو کیوں رہی ہو ؟تمھیں تو خوش ہونا چاہئے
مہر بانو حیران پریشان سی گویا تھیں ۔
سندس اٹھ کر کھڑکی کے پاس چلی گئی ۔اس کا دم گھٹ رہا تھا ۔
کھڑکی سے ٹکرانے والا ٹھنڈی ہوا کا جھونکا بھی اسے جھلسائے دے
رہا تھا ۔مہربانو سینے پر ہاتھ رکھے اسے دور سے بیٹھی دیکھ رہی تھیں۔
انہیں کسی انہونی کا احساس ہورہا تھا ۔
مہربانو تیزی سے اٹھ کر اس کے پاس پہنچی تھیں اور بازو کھینچ کر اسکا
رخ اپنی جانب موڑا ۔تواتر سے بہتے آنسوؤں سے اس کی شربتی آنکھیں دھک رہی تھیں ۔
سندس میری گڑیا ! اس خوشی کے موقع پر ان آنسوؤں کا سبب مجھے
سمجھ نہیں آرہا۔تم مجھے جلدی بتاؤ ،آخر بات کیا ہے ۔ میرا دل بیٹھا
جا رہا ہے ۔
بھابی ! میں تیمور سے شادی نہیں کروں گی ،مجھے برباد ہونے سے بچالیں
آپ بابا سائیں سے بات کریں ،وہ اپنا فیصلہ بدل دیں یا پھر مجھے زہر
لا دیں ۔وہ مہربانو سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی ۔
سندس ! کیا نام ہے اس کا ،جس کے لئے تم باغی ہو رہی ہو ۔۔۔؟مہربانو سکتے کے عالم میں اسے خود سے لگائے کھڑی تھیں ۔انہیں اپنی ہی آواز اجنبی سی لگی ۔
اسد شاہ شیرازی ۔۔۔۔سندس نے ہچکیوں کے درمیان جواب دیا۔
مہر بانو کو جیسے کرنٹ لگا تھا۔انہوں نے ایک جھٹکا کھا کر اسے خود سے
دور ہٹایا ۔
سندس ! تمھارا دماغ خراب ہوگیا ہے ۔تم جانتی بھی ہو کیسا انسان
ہے وہ ۔۔۔آدمی کو آدمی نہیں بھیڑ بکری سمجھتا ہے ۔وہ اتنا بے رحم
مغرور اور اکھڑ مزاج ہے ۔تم کیسے اس سے دل لگا سکتی ہو ؟تم نے
سوچ بھی کیسے لیا ،بابا سائیں تمھیں اس کے ہاتھ سونپ دیں گے۔
بھابھی ! وہ بہت اچھا ہے ۔آپ سب اسے غلط سمجھتے ہیں ،وہ مجھے
بہت خوش رکھے گا ۔میری خوشی اسی کے ساتھ ہے ،تیمور کے ساتھ
میں نہیں ۔مہربانو سر تھامے اس کی باتیں سن رہی تھیں ۔انہیں سمجھ
نہیں آرہا تھا کب ان دونوں نے عہد و پیماں کئے ، کب بات یہاں تک پہنچ گئی اور اب اس مسئلے کا حل کیا ہے ۔
سندس میری گڑیا ! میری بات مانو اور بھول جاؤ اسے جو کچھ بھی ہوا
ہے سب بھول جاؤ ۔تمھاری تقدیر میں تیمور غزینی لکھا جا چکا ہے ۔
تمھاری بہتری بھی اسی میں ہے ۔
بابا سائیں مسرور غزینی کو زبان دے چکے ہیں اور تم یہ بات اچھی طرح جانتی ہو ہمارے جیسے خاندانوں میں زبان جان سے بڑھ کر ہوتی
ہے ۔بابا سائیں یا تمھارے بھائی ،تمھاری جان تو قربان کر دیں گے مگر
اپنی بات سے نہیں پھریں گے ۔
تم میرے لئے رانیہ جیسی ہو میں نے رانیہ میں اور تم میں کبھی فرق
نہیں سمجھا اگر تمھاری جگہ رانیہ بھی ہوتی تو میں اسے بھی یہی کہتی ۔
اپنے باپ اور بھائیوں کی لاج رکھو،انہیں سر جھکانے پر مجبور مت کرو
وہ سب تم سے بہت پیار کرتے ہیں ، تمھارے لئے غلط فیصلہ نہیں
کریں گے ۔اس بات کا احساس تمھیں آگے چل کر جلد ہی ہو جائے
گا۔انہوں نے نرمی سے اسے سمجھانے کی کوشش کی جو ابھی سے اپنے
دل کے ٹوٹنے کا ماتم منانے لگی تھی ۔
اس کی آنکھیں بین کر رہی تھیں مگر لبوں پر خاموشی کے قفل پڑ گئے تھے ۔
جاری ہے
