Rate this Novel
Episode 21
سیڑھیوں کے آخری اسٹیپ پر قدم جمائے ایک ہاتھ سے ریلنگ پکڑے
نظر اٹھا کر وہ اوپر کی جانب دیکھ رہا تھا ۔اسے وہاں کھڑے کافی دیر گزر چکی تھی پھر کچھ سوچتے ہوئے دھیرے دھیرے قدم اٹھا تا سیڑھیاں چڑھ گیا ۔
اپنے بیڈروم کے باہر لاک پر ہاتھ رکھے چند لمحے کے توقف کے بعد اس نے ہینڈل گھمایا اور دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا ۔
عروش گلاس وال کے سامنے کھڑی لان میں برستی بارش کو دیکھ رہی تھی ۔دروازے کی آواز پر بھی اس نے پلٹ کر نہیں دیکھا تھا ۔وہ جانتی تھی آنے والا شاہ کے سوا کوئی اور نہیں ہو سکتا ۔
شاہ بے آواز قدموں سے چل کر اس کے برابر میں کھڑا ہو گیا ۔
کیا سوچ رہی ہو ۔۔۔؟
آپ کیوں پوچھ رہے ہیں ۔۔۔کیا اب میری سوچوں پر بھی پابندی لگائیں گے ۔۔۔؟عروش تنک کر بولی کیونکہ پہلے ہی وہ اس کے نیچے جانے پر پابندی لگا چکا تھا ۔
اگر میں چاہوں تو لگا بھی سکتا ہوں ،مگر لگاؤں گا نہیں ۔۔۔پوچھو کیوں ۔۔۔۔؟اس نے سوالیہ نظریں عروش کے چہرے پر جما دیں۔
پوچھو ناں ۔۔۔
کیوں ۔۔۔وہ مبہم سا بولی۔
کیونکہ میں چاہتا ہوں تم سوچو ۔۔۔لیکن صرف میرے بارے میں اور کسی کے بارے میں سوچوگی بھی تو بہت پچھتاؤ گی ۔اس کے ہونٹوں پر زہر خند مسکراہٹ تھی ۔عروش نظریں چرا گئی ۔
چھت پر چلتے ہیں ۔۔۔بہت عرصے بعد بارش میں بھیگنے کا دل چاہ رہا ہے وہ بھی تمھارے ساتھ ۔۔۔آجاؤ۔شاہ نے عروش کا ہاتھ تھام کر کہا تو عروش کا ہاتھ کپکپا گیا ۔
لیکن میرا دل نہیں چاہ رہا ، میری طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہے ۔ناجانے کیوں آج عروش اس کی ہر بات سے نفی کر رہی تھی ۔شاہ نے لب بھینچ کر اس کی طرف دیکھا اور پھر اس کا ہاتھ کھینچ کرتقریباً گھسیٹتے ہوئے اسے چھت پر لے آیا ۔
شاہ عروش کا ہاتھ پکڑے بہت دیر تک اس کے ساتھ بارش میں بھیگتا رہا ۔وہ گہری نظروں سے عروش کے بھیگے سراپے کو تک رہا تھا۔عروش کو اس کی نظر عجیب سے خوف میں مبتلا کر رہی تھی ،وہ شاہ کے اس طرح دیکھنے سے بری طرح کنفیوز ہو رہی تھی ۔
عروش ! تم سے پہلے برسات مجھے اتنی بھی پسند نہیں تھی مگر آج تمھارے ساتھ یہ موسم بلکل نیا ، بہت خوبصورت لگ رہا ہے ،شام اتنی گہری نہیں ہوتی تو ہم لانگ ڈرائیو پر چلتے لیکن اس وقت اس موسم میں لانگ ڈرائیو موضوع نہیں ہے ۔
وہ بے حد خوشگوار موڈ میں تھا ، اس کا انداز عام دنوں کے با نسبت یکسر بدلا ہوا تھا ۔وہ یوں بات کر رہا تھا جیسے ان دونوں کے مابین تعلقات ہمیشہ سے ہی خوشگوار رہے ہوں ، اس کی باتوں میں گزری تلخیوں کا شائبہ تک نہیں تھا ۔
آپ کا موڈ تھا موسم انجوائے کرنے کا تو جلدی گھر آجاتے ، بارش تو صبح سے ہی ہو رہی ہے ۔عروش نے اس کے موڈ کو دیکھ کر تعلقات بہتر بنانے کے لئے نرمی سے کہا ۔
ہوں۔۔۔موڈ تو تھا مگر کچھ ضروری گیسٹ آئے ہوئے تھے ، نکلنے کا تو بہت دیر سے سوچ رہا تھا مگر نکل نہیں سکا ۔ کوئی بات نہیں ۔۔۔دو چار دن موسم ایسا ہی رہیگا ، تمھیں لانگ ڈرائیو پر کل لے چلوں گا ۔
شاہ نے فوراً ہی پروگرام بتایا ۔عروش سر ہلا کر رہ گئی ۔
ہماری شادی جن حالات میں ہوئی ہے اگر یہ سب نہیں ہوتا تو میں نے
ہنی مون بھی پلینڈ کیا تھا ۔ہم آؤٹ آف کنٹری جاتے وہاں کا موسم یہاں سے بھی ذیادہ دلکش ہوتا ہے ۔وہ ہاتھ پشت پر باندھےتاسف سے بولا ۔
شاہ ! اللہ کی مرضی میں بہتری ہوتی ہے ،یہ سب اسی طرح ہونا تھا اس لئے افسوس کرنے کا کیا فائدہ مگر ہم اب تو نارمل لائف گزار سکتے ہیں ۔آپ سب کچھ بھول بھی تو سکتے ہیں ناں۔۔۔ذندگی میں ہمیشہ آگے دیکھ کر چلنے سے ہی آسانیاں پیدا ہوتی ہیں ،پیچھے مڑ کر دیکھنے سے
تکلیف ہی ہوتی ہے ۔
آپ کب تک مجھے اور خود کو بھی یوں تکلیف دیتے رہتے رہیں گے ؟
میں قسم کھا کر کہتی ہوں میری سوچ میں بھی آپ کے سوا کوئی اور نہیں ، میری سوچ آپ سے شروع ہو کر آپ پر ہی ختم ہوتی ہے ۔
وہ نم لہجے میں شاہ کے دل سے اپنے لئے بدگمانی دور کرنے کی کوشش کر رہی تھی شاہ کے بدلے ہوئے لہجے نے اس کے اندر ہمت پیدا کی تھی مگر وہ بھول گئی تھی کہ وہ معظم شاہ تھا ۔۔۔جس کی سوچ تک اس کی ماں کی بھی پہنچ نہیں تھی ۔وہ کب کیا سوچے گا اور کب کیا کرے گا یہ کسی کوئی بھی نہیں جانتا تھا ۔اس کے دماغ بیٹھا شک کا کیڑا یکدم کلبلایا ۔
عروش ! تم حرف بہ حرف بلکل ٹھیک کہہ رہی ہو مگر میں یہ کیسے بھول جاؤں کے مجھ سے پہلے تم اپنے دل کے سنگہاسن پر کسی اور کو بٹھا چکی تھی ۔
میرے ساتھ پر اس موسم میں تمھارے چہرے پر خوشی کے وہ رنگ کیوں نہیں جو رنگ ساحلِ سمندر پر میر سبطین کے ہاتھوں میں اپنا ہاتھ دئیے تمھارے چہرے پر تھے ۔وہ دلفریب مسکراہٹ کیوں نہیں جو اس کی گاڑی سے اترتے وقت تمھارے چہرے پر تھی ۔۔۔۔؟میرے ساتھ ہونے پرتمھاری آواز میں پژمردگی کیوں ہے۔۔۔؟یہ آنکھوں میں نمی کیوں ۔۔۔؟چہرہ مانند کیوں پڑ گیا ہے ۔۔۔؟ وہ عروش کو بازؤں سے پکڑے جھنجھوڑ رہا تھا ،شاہ کی انگلیاں اس کے بازوؤں میں پیوست ہو رہی تھیں مگر شاہ پر وحشت سوار ہو چکی تھی ۔
میں کوشش کروں تب بھی اپنے دل میں تمھیں وہ مقام نہیں دے سکتا جو پہلی نظر میں دیا تھا ۔۔۔سچ تو یہ ہے تم اس کی حق دار ہی نہیں تھیں ۔۔۔مجھے افسوس تو اس بات کا ہے کہ معظم شاہ شیرازی پہلی بار کسی کو پہچاننے میں غلطی کر گیا اور اب اس غلطی کی سزا تم ذندگی بھر بھگتوگی ۔۔۔عروش غزینی !
وہ نفرت سے کہتے ہوئے اپنا نام تک عروش کے نام سے الگ کر گیا تھا ۔۔۔یہ شاہ کا عروش کے لئے نفرت کا واضح اشارہ تھا ۔عروش اس کے اس قدر کٹھور پن پر سرد پڑ گئی تھی ۔۔۔۔وہ ناجانے کب تک قسمت کی اس ستم ظریفی پر سن کھڑی آنسو بہاتی رہی ۔شاہ اسے چھوڑ کر کب کا جا چکا تھا مگر عروش میں اس کے پیچھے جانے کی ہمت
باقی نہیں رہی تھی ۔
“””””””””””””””
کیا بکواس کر رہے ہو ، تم کیا سمجھتے ہو گاؤں میں دو ٹکے کے لوگوں کے لئے ہسپتال کھول کر بیٹھ جاؤ گے اور میں خاموش رہوں گا تو تم مجھ سے ہر وہ بات منوالو گے جس میں میرے خاندان کی اور میری شان گھٹ جائے ،ہماری ناک کٹ جائے ۔
نہیں مکتوم شاہ ،ہر گز نہیں ۔۔۔یہ تمھاری بھول ہے کہ میں تمھارا رشتہ لے کر میر غضنفر علی کی دہلیز پر جاؤں گا ،اس سے اس کی بیٹی کا ہاتھ مانگوں گا ۔
میں تمھیں گولی مار دوں گا مگر یہ کام نا خود کروں گا نا تمھیں کرنے دوں گا ۔اس خاندان سے قیامت تک بھی صلح نہیں ہو سکتی جس نے میرا
شہزادے جیسا بھائی مجھ سے چھین لیا ۔صفدر شاہ کف اڑا رہے تھے۔
بابا سائیں ! اس میں غلط کیا ہے اگر ہم اس دشمنی کو بھلا کر پرانی دوستی کا آغاز پھر سے کریں ۔ہمارے اس اقدام سے جانے والوں کی روح بھی پر سکون ہوجائیں گی اور مزید جانیں ضائع ہونے سے بھی بچ جائیں گی ۔یہ کوئی گھاٹے کا سودا نہیں ہے ،اس میں ہم سب کی بھلائی
ہے ۔
جانتی ہو اس سب کی وجہ تم ہو ،تمھاری دی ہوئی سیکھ ہے یہ جو آج یہ میرے سامنے کھڑا ہوگیا ہے ۔تم نے ہی درس دئیے ہیں ۔تم نے ہی معظم شاہ کو میرے خلاف کر دیا ۔۔۔۔۔میری اجازت کے بغیر وہ میرے دشمن کی بیٹی کو گھر بیاہ لایا اور اب یہ بھی اس کے ہی نقشِ قدم پر چل رہا ہے ۔مجھے جھکانا چاہتا ہے ،میرے دشمنوں کے سامنے
تمھاری شہہ پر ۔
نہ تم ایک اچھی بیوی بن سکیں ، نہ اچھی ماں بن کر بچوں کی تربیت کرسکیں ۔ صفدر شاہ یکدم ہی رخسانہ بیگم پر الٹ پڑے جو سائیڈ پر کھڑی تھر تھر کانپ رہی تھیں ۔مکتوم شاہ کی حمایت کے لئے وہ اپنے شوہر کی کمرہ عدالت میں آ ئی تو تھیں مگر ایک لفظ نا کہہ سکیں الٹا مجرم
ٹہرا دی گئیں ۔
اماں کا اس بات میں کوئی عمل دخل نہیں ، یہ سراسر میرا ذاتی فیصلہ ہے ۔آپ ان کو کیوں بیچ میں گھسیٹ رہے ہیں ۔آپ ہمیشہ ان کو ہی کیوں موردِ الزام ٹہراتے ہیں ، جبکہ ان کا اس بات سے کوئی لینا دینا نہیں ۔مکتوم شاہ ماں کو صفدر شاہ کے عتاب کا نشانہ بنتے دیکھ کر تڑپ اٹھا ۔
تم دونوں ماں بیٹے کی محبت رنگ لانی تھی ۔ معلوم تھا مجھےایک دن تم دونوں مجھے رسوا کرواؤگے ۔مجھے تم سے امید تو پہلے بھی کبھی نہیں تھی مگر تمھاری اس بات نے تو مجھے مایوسی کی آخری حدود پر لا کھڑا کیا ہے ،تمھیں شادی کے لئے پوری دنیا کی لڑکیاں چھوڑ کر میر غضنفر کی ہی بیٹی ملی تھی ۔۔۔؟صفدر شاہ تاسف سے سر ہلانے لگے ۔
معظم شاہ کو پتہ چلے گا تووہ الگ ایک ہنگامہ کھڑا کر دیگا۔
اس لڑکی کا خیال اپنے دل سے نکال دو ،سوچنا بھی مت کہ میں تمھیں اس خاندان سے رشتہ جوڑنے دوں گا ۔ انہوں نے انگلی اٹھا کر اسے تنبیہہ کی۔
اب دفع ہوجاؤ تم دونوں اس کمرے سے اور مکتوم شاہ اب تم مجھے اپنی شکل مت دکھانا ورنہ میں تمھیں عاق کردوں گا پھراپنے ساتھ اپنی ماں کو بھی یہاں سے لے جانا اور پھرکبھی اس حویلی میں قدم مت رکھنا ۔میں سمجھ لوں گا میرا صرف ایک ہی بیٹا تھا ۔وہ ان دونوں کو شعلہ بار نظروں سے گھورتے ہوئے پشت کر گئے ۔
مکتوم شاہ نے مزید ان سے بحث کا ارادہ ترک کردیا ،وہ جانتا تھا اس وقت وہ اس کی کوئی بات نہیں سنیں گے۔
وہ شکستہ قدموں سے ماں کو تھامے ان کے بیڈروم سے نکل گیا ۔
“””””””””””””””
معظم شاہ کے خاص کارندے نے ڈیرے سے کچھ دور جھاڑیوں میں سے چھپ کر ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھا تھا۔اس نے جلد سے جلد یہ خبر بڑھا چڑھا کرمعظم شاہ تک پہنچانا اپنا اولین فرض سمجھا ۔
شاہ سائیں ! میں حویلی سے کام ختم کر کے گھر جا رہا تھا تب راستے میں
میر سجاول ہمارے گاؤں کی ایک چھوکری کا راستہ روکے کھڑا تھا ۔وہ بے چاری رو رہی تھی گڑگڑا رہی تھی مگر میر سجاول اس کے ساتھ بہت بدتمیزی کر رہا تھا ۔
مجھے تو بہت غصہ آیا مگر میں نے سوچا پہلے شاہ سائیں کو خبر کر دوں ،وہ
خود ہی اسے لگام ڈالیں گے ۔اس نے ہاتھ باندھے مکاری سے یوں بات بیان کی کہ شاہ یکدم ہی بھڑک ہی اٹھا ۔
اس حرامزادے کی اتنی جرأت ہوگئی کہ وہ میرے علاقے کی لڑکی کو
راہ میں روکے کھڑا تھا ۔اس خبر پر شاہ بری طرح بلبلا گیا تھا ۔اس
نے کال ملائی اور فون کان سے لگائے ادھر سے ادھر ٹہلنے لگا۔
افف ! آج لگتا ہے اپنی موت کو یاد کررہے تھے ،اس لئے مجھے کال
کی ہے ۔ویسے اپنی موت اور قبر کو یاد کرتے رہنا چاہئے ،وہ کیا ہے
نا اس سے موت کی سختی سے ڈر نہیں لگتا ۔میر سجاول نے کال اٹینڈ
کرتے ہی تیر برسانا شروع کر دئیے ۔
میر سجاول ! موت کو تو تم اپنی یاد کرلو بلکہ دن گننا شروع کردو ،پچھلی
بار تو بچ گئے تھے اس بار موت کو بھی موقع نہیں دینے دوں گا ۔تم نے میرے گاؤں کی عزت پر میلی نگاہ ڈالی ہے ۔اس حرکت کا خمیازہ تمھیں بھگتنا پڑیگا ۔شاہ نے دانت پیس کر کہا ۔
ہاہا،ہا۔۔۔اس معاملے میں میری قسمت بڑی زور ہے ،مگر اس بار تم
بچ کے رہنا کیونکہ میرا داؤ کبھی خالی نہیں جاتا ۔الیکشن کیمپئین والا
واقع تم اتنی جلدی بھولے تو نہیں ہوگے ۔میر نے زبردست قہقہہ
لگا کر اسے مزید سلگایا۔
میر سجاول ! میں نے تمھاری بکواس سننے کے لئے کال نہیں کی ہے ،
میری بات کان کھول کر سن لو،اگر اب میرے علاقے کی لڑکی کا
راستہ روکنے کی جرأت کی یا آس پاس بھی نظر آئے تو میں تمھیں
ذندہ زمین میں گاڑ دوں گا ۔
میرے علاقے کی ہر لڑکی کی عزت میری عزت کے برابر ہے اور اگر اس کی عزت پر زرا سی بھی آنچ آئی تو میں برسوں پرانی کہانی دہرانے میں ایک منٹ نہیں لگاؤں گا اور تم سمیت تمھارے پورے خاندان کو غرق کر دوں گا ۔شاہ نے غضبناک لہجے میں اسے وارننگ دی ۔
شاہ ! تم بھی میری بات ذہن نشین کرلو کہ “وہ “تو صرف میری ہے ۔اسےمیں تمھاری ناک کے نیچے سے لے جاؤں گا چاہے اس کے لئے مجھےتمھاری جان ہی کیوں نا لینی پڑے ۔
اب تمھیں پتا چل ہی گیا ہے تویوں ہی سہی ،مگر میرے اور اس کے بیچ میں آنے کی غلطی بھی مت کرنا ورنہ تمھارے آبائی قبرستان میں حویلی کے ایک اور لاڈلے شاہ کی قبر کا اضافہ ہوجائے گا ۔میر نے اسے تپانے کے لئے بات کے اختتام پر زبردست قہقہہ لگایا۔
تم صرف رات کے اندھیرے میں چھپ کر مجھ پر وار کر سکتے ہو ،سامنے سے میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔جس دن میں تمھارے سامنے آگیا ، کلمہ پڑھنے کی بھی مہلت نہیں دوں گا اس لئے پھر یاددہانی کروارہا ہوں میرے راستے میں آنے کی ہرگز کوشش مت کرنا زرتاج میرا عشق ہے اسے میں حاصل کر کے رہوں گا ۔میر نے سرد لہجے میں کہا اور کال ڈسکنکٹ کردی ۔
شاہ بری طرح تلملا گیا ۔میر سجاول نے اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا ۔
خادم حسین ! نظر رکھو اس پر ،اب یہ اس لڑکی کے قریب
نظر نا آئے اور کیا نام بتایا اس لڑکی کا ۔۔۔؟شاہ نے رک کر استفسار
کیا ۔
سائیں ! زرتاج۔۔۔
ہاں زرتاج۔۔۔اس کے باپ سے کہو شاہ کا حکم ہے جلد سے جلد کوئی
لڑکا دیکھے اور اس کا بیاہ کرنے کی تیاری کرے ۔ میں اس معاملے میں ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں چاہتا ۔اس کے لئے شادی کی تیاری میں خرچ ہونے والی رقم کا بھی انتظام کر دینا ۔
بس جلد سے جلد اس کی شادی ہوجانی چاہئے ۔تب تک تم اس کے گھر میں ہونے والے تمام معاملات سے مکمل با خبر رہوگے ۔تمھاری ایک لمحے کی بھی غفلت مجھے بڑے نقصان سے دوچار کروا سکتی ہے ۔
جی سائیں ! خادم حسین نے فوراً تائید میں سر ہلایا ۔
میں پندرہ دن کے لئے ملک سے باہر جا رہا تھا مگر اب لگتا ہے مجھے یہ ٹرپ بھی کینسل کرنا پڑیگا ۔اس کمینے کا کوئی بھروسا نہیں ، میرے پیچھے یہ کوئی گل کھلا دے گا ۔ مکتوم شاہ تو بلکل بیکار انسان ہے اور آج کل وہ اس خاندان کا بہت ہمدرد بھی بنا ہوا ہے اگر میر سجاول نے کوئی مسئلہ کری ایٹ کر دیا تو بابا سائیں اکیلے ہینڈل نہیں کر سکیں گے ۔میرا یہاں موجود رہنا بہت ضروری ہے ۔
جی سائیں ! آپ بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں ، وہ کچھ نا کچھ ضرور کرے گا ۔آپ کی طرف سے ہونے والے حملے پر بھی وہ اب تک خاموش ہے ۔اس کی یہ خاموشی خطرناک ہے ۔ہمیں احتیاط کرنی ہوگی ۔
آپ بلکل بے فکر ہوجائیں میں سب کچھ سنبھال لوں گا ۔کل صبح ہی زرتاج کے باپ کو پکڑتا ہوں ۔درحقیقت خادم حسین معظم شاہ سے بھی ذیادہ فکر مند تھا اگر میر سجاول کوئی جوابی کروائی کرے گا تو خادم حسین بھی اس کی زد میں آئے گا کیونکہ وہ ہر وقت شاہ کے ساتھ سائے
کی طرح رہتا تھا ۔
ہوں ۔۔۔شاہ نے سگریٹ سلگاتے ہوئے ہنکارہ بھرا ۔اسےاپنے ہنی مون ٹرپ کینسل کرنے کا افسوس تھا۔اس کے چہرے پر گہری سوچ کی پرچھائیاں تھیں ۔
جاری ہے
