59.7K
43

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 33

یہ بتاؤ ، اپنی ہونے والی مسز کو ہنی مون کے لئے کہاں لے جارہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔کچھ پلان کیا ہے ؟میر سبطین نے اس کا دیہان دوسری جانب موڑا ۔
نہیں ۔۔۔۔۔ابھی کچھ نہیں سوچا ۔ ابھی وہ بہت ناراض ہے ۔جب راضی ہوجائے گی تب سوچوں گا ۔میر سجاول نے گہری سانس لی ۔
جب بچے ہوجائیں گے تب سوچو گے ۔بے وقوف ۔ہنی مون شادی کے اولین دنوں میں ہی اچھا لگتا ہے ۔بالی لے جاؤ ۔بہت خوبصورت ہے ۔وہ بھی خوش ہوجائیگی ۔میر سبطین نے مشورہ دیا ۔
جاچکا ہوں ۔ میر سجاول نے آف موڈ میں مختصراً کہا ۔
میں نے تمھارے سیٹ کنفرم کروا دی ہے ۔ ولیمے کے فوراً بعد روانگی ہے ۔ماحول بدلے گا تو زرتاج بھی نارمل ہوجائے گی ۔سب سے دور جاؤگے توتم دونوں کوقریب ہونے کا موقع مل جائیگا۔میر سبطین مسلسل اس کا آف موڈ خوشگواری میں بدلنے کی کوشش کر رہا تھا ۔
ہوں ۔۔۔۔۔میر نے ہنکارہ بھر کر سگریٹ سلگائی ۔
وہ تو بے حد قریب تھی ، اسے خود سے دور کرنے والا بد نصیب میں خود ہوں۔اس نے سگریٹ لبوں میں دبائے تلخی سے سوچا ۔میر سجاول کی دلکش ڈارک براؤن آنکھوں کے کنارے سرخ ہونے لگے تھے ۔
یار ! وہ کچھ بھی سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ وہ سمجھتی ہی نہیں کہ میں نے جو کچھ کیا غصے میں کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔اسے میری کسی بات پر اعتبار نہیں ہے ۔ میر سجاول بے بسی سے بول پڑا ۔
اسی لئے کہتے ہیں غصہ حرام ہے ، تم اگر ہوش سے کام لیتے تو اس گلٹ میں مبتلا نہیں ہوتے مگر تمھیں کون سمجھائے ۔
ارے یار ،اب تو سمجھ گیا ہوں نا لیکن وہ کچھ نہیں سمجھ رہی ۔ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ منانے کی ہر ممکن کوشش کر لی ۔
مگر اس پر تو کوئی اثر ہی نہیں ہورہا ۔ وہ پتھر بن گئی ہے ۔
وہ میری محبت پر شک کررہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کا اعتبار اٹھ گیا ہے۔میں اس کی ناراضگی مزید برداشت نہیں کر سکتا ۔ وہ اسی طرح روٹھی رہی تو میں بہت جلد پاگل ہوجاؤں گا ۔
وہ مجھے پاگل کر دیگی ۔۔۔۔۔۔اس کی بے رخی مجھے مار ڈالے گی ۔میر نے بے بسی سے کہتے ہوئے اپنا ہاتھ بالوں میں پھنسایا ۔
جتنا بگاڑ تم کرچکے ہو ، سب کچھ ٹھیک ہونے میں تھوڑا وقت تو لگے گا ۔ایک دم تو سب کچھ پہلے کی طرح نہیں ہوسکتا ۔تمھیں صبر سے کام لینا ہوگا ۔جلد بازی میں پھر نقصان کر بیٹھو گے ۔
اسے کچھ وقت دو ، ابھی وہ ناراض ہے ، سب کچھ نظر انداز کر کے صرف اسے منانے پر توجہ دو ۔ دوبارہ اعتماد بحال ہوجائے گا تو حالات خود بخود سدھرنے لگیں گے ۔ میر مدبرانہ بولا ۔
میر سجاول بغور اسے سن رہا تھا ۔ اس نے غصے سے انگلیوں میں دبا سگریٹ توڑ مروڑ دیا ۔
“””””””””””❤️”””””””””””
زرتاج کی ذندگی کے لئے روشن تر و تازہ صبح روشنیاں بکھیر چکی تھی ۔ہر طرف گہما گہمی تھی ۔پورے گاؤں میں ہلچل سی مچی ہوئی تھی ،آخر یہ میرسجاول کی بارات کا دن تھا ۔
سبھی گاؤں والے خوش بھی تھے اور متجسس بھی کیونکہ کچھ لوگوں کو تو اب بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ میر سجاول پوری شان و شوکت سے زرتاج کو بیاہنے آرہا ہے ۔گاؤں والے آتے جاتے گراؤنڈ کی سجاوٹ سے مرعوب ہورہے تھے۔تقریباً پورے سن پورہ کو رات کا بے صبری سے انتظار تھا ۔
بارات کا ارینجمنٹ گاؤں سے کچھ فاصلے پر ایک بہت بڑے گراؤنڈ میں کیا گیاتھا ، گراؤنڈ کو پندرہ دنوں کی محنت سے بڑی مہارت اور خوبصورتی کے ساتھ ڈیکوریٹ کیا گیا تھا جو کہ اب کسی فائیو اسٹار ہوٹل کا منظر پیش کر رہا تھا ۔
زرتاج کو صبح سے ہی حویلی بلوایا لیا گیا تھا ۔ بیوٹیشن مسلسل اس کے سر پر سوار تھی ۔ زرتاج بے زاری سے خود پر ہونے والی اس کی ہر کاروائی کو برداشت کررہی تھی ۔اسے سارے تماشے سے کوئی دلچسپی محسوس نہیں ہورہی تھی ۔
میر سجاول کے حکم پر وقفے وقفے سے زرتاج کی خاطر مدارات کے لئے کبھی جوس ، کبھی فروٹس ، کبھی چائے اور دیگر لوازمات لائے جارہے تھے ۔فا ئزہ بیگم نے ایک بار بھی نہیں جھانکا تھا ۔
مجھے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ آپ کی اور میر سائیں کی لو میرج ہے اور آپ انہیں بہت ذیادہ پسند ہیں اسی لئے اتنی چاہت جتارہے ہیں ۔ بیوٹیشن نے مرعوب ہو کر اس پر رشک کیا۔
زرتاج نے مسکرانے پر اکتفا کیا ۔اس تعریف پر آنسؤوں کا گولا اس کے حلق میں اٹکنے لگا ۔وہ دل ہی دل میں خود پر ہنس پڑی ۔
جس کو تم چاہت کا نام دے رہی ہو ، وہ میر سجاول کے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کی کوشش ہے۔جسے میں کامیاب نہیں ہونے دوں گی۔زرتاج نے تلخی سے سوچا ۔
“””””””””””❤️”””””””””””
شاہ ! آپ وہاں اپنا بہت خیال رکھیں گے ، ڈاکٹرز اور مکتوم بھائی جو بھی ہدایات دیں ان پر سختی سے عمل کرنا ہے ۔۔۔۔۔۔یہ نا ہو کہ آپ بے احتیاطی کریں ۔ عروش نے تنبیہہ کی ۔
معظم شاہ ہولے سے مسکرا دیا ۔ وہ لوگ ائیر پورٹ جارہے تھے ۔ آج رات معظم اور مکتوم شاہ کی فلائیٹ تھی ۔عروش اور اور شاہ ایک ہی گاڑی میں سوار تھے ۔
تم میری فکر چھوڑ دو ۔ میں کوئی نا سمجھ بچہ نہیں ہوں ۔اپنا خیال رکھ سکتا ہوں ۔
مجھے تمھاری فکر ہو رہی ہے۔ناجانے میرے پیچھےتم اپنا کیا حال کروگی۔
تم تو میری موجودگی میں کھانے پینے ، میڈیسن ہر چیز سے جان چھوڑاتی ہو ۔میرے جانے کے بعد تو بلکل لاپرواہ ہوجاؤگی ۔ شاہ عروش کا ہاتھ تھامے پریشانی سے گویا تھا ۔
آپ پریشان نہ ہوں ، اس لئے میں بھی لاپرواہی نہیں برتوں گی ۔عروش نے مسکراتے ہوئے تسلی دی ۔شاہ نے مطمئین ہو کر ونڈوسے باہر نظر کی ۔
عروش ! اگر میں تمھیں کچھ کرنے کے لئے کہوں ، تو کیا تم میری بات مانو گی ۔ شاہ نے شاہ نے ونڈو سے باہر نظر جمائے گنبھیر آواز میں سوال کیا ۔
جی ضرور ، بلکہ اس میں پوچھنے والی کیا بات ہے ۔۔۔۔۔آپ کو یقین ہونا چاہئے کہ میں آپ کی کسی بات کی نفی نہیں کروں گی ۔
تم بڑی حویلی نہیں جاؤگی ۔شاہ کی بھاری آواز گونجی ۔
تم اسے میرا حکم مت سمجھنا ، یہ میری التجا ہے ۔شاہ رخ موڑ کر اس کی آنکھوں میں جھنکتے ہوئے بولا ۔
یہ بھی مت سمجھنا کہ میں اب بھی تم پر شک کرتا ہوں اس لئے پابندی لگا رہا ہوں ۔
میں برداشت نہیں کر سکتا عروش کہ تم پر کسی کا سایہ بھی پڑے ۔میں جب ٹھیک ہوجاؤں گا ، تب خود تمھیں وہاں لے جاؤں گا ۔ شاہ نے سنجیدگی سے کہتے ہوئے اس کا ہاتھ اپنے سینے پر رکھا ۔
شاہ کے لہجے میں جو درد تھا ، اس نے عروش کی پلکیں نم کردیں ۔
آپ کی یہی خواہش ہے تو میں کبھی وہاں جانے کے لئے اسرار نہیں کروں گی ۔ وہ پرنم لہجے میں بولی ۔
تھینک یو مائی لو ۔ شاہ نے اپنا گال اس کے گال سے ٹچ کیا ۔
وہ لوگ ائیر پورٹ پہنچ چکے تھے ۔ ڈرائیور اور مکتوم شاہ کی مدد سے معظم شاہ کو نیچے اتارا گیا پھر وہیل چئیر پر بٹھا دیا ۔
مکتوم شاہ وہیل چئیر دھکیلتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا ۔ عروش بھی اس کے قدم سے قدم ملارہی تھی ۔ وہ لوگ ڈیپارچیور لاؤنج میں پہنچ گئے تھے ۔
وہ لوگ امیگریشن کاؤنٹر سے فارغ ہونے کے بعد ویٹنگ ایریا میں آگئے تھے ۔معظم شاہ اور مکتوم شاہ کے نام کی لاسٹ پیسینجر اناؤنسمنٹ ہورہی تھی ۔
ہمیشہ کی طرح آج بھی معظم شاہ لاسٹ کال پرڈیپارچیورلاؤنج پہنچا تھا۔
میری دعا ہے ، آپ واپسی پر وہیل چئیر کے سہارے نہیں بلکہ اپنے پیروں پر چل کر آئیں ۔ انشا اللہ ، میری دعا ضرور قبول ہوگی ۔عروش نے بھیگی پلکوں سے صدقِ دل سے دعا دی ۔
شاہ نے مشکور ہوکر اس کی طرف دیکھا پھر اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھ دیا ۔
پانی کے قطرے عروش کی آنکھوں سے بے ساختہ ٹپکے ۔
بھابھی ! آپ ان کی فکر چھوڑ دیں ۔۔۔۔۔ ان کے لئے میں ہوں ۔
بس آپ اپنا اور ہماری گڑیا کا خیال رکھئیے گا۔باقی میں سنبھال لوں گا۔
مکتوم شاہ جو کسی کام سے اسٹور تک گیا تھا واپس آیا تو ان دونوں کے جذباتی منظر دیکھ کر آگے بڑھا اور عجلت میں عروش کے سر پر ہاتھ رکھ کر الوداع کیا ۔
ڈمپل گرل ! نا ، نا ۔رونا نہیں ہے ، تمھارے آنسو مجھے کمزور کر دیں گے ۔ شاہ نے اس کی آنکھوں میں مچلتے آنسو دیکھ کر انگلی کے اشارے سے رونے کے لئے منع کیا ۔
دل چھوٹا مت کرو ، جلد واپس آجاؤں گا ۔اس کا رونہ شاہ کو بے چین کر گیا تھا ۔
عروش ڈبڈبائی نظروں سے انہیں جاتا دیکھتی رہی پھر ان کے نظروں سے اوجھل ہوجانے پر تھکے ہوئے قدموں سے واپس پلٹ گئی۔
“””””””””””❤️””””””””””
بیوٹیشن نے شام ڈھلے زرتاج کو فائنل ٹچ دینے کے بعد رخصت ہونے کی اجازت دی ۔
وہ رانیہ اور فائزہ بیگم کی ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر وہاں پہنچی تھی ۔وہ دونوں زرتاج کو اسٹیج پر بٹھا کر سارے انتظامات زرینہ اور نگین کے سپرد کرتی واپس چلی گئیں تھیں چونکہ انہیں بارات کے ساتھ انٹری کرنی تھی ۔
ہال میں مہمانوں کی آمد شروع ہوچکی تھی ۔خاص مہمانوں کے ساتھ گاؤں کے غریب عوام بھی مدعو کئے گئے تھے ، جنہیں میر جعفر کسی بھی موقع پر نہیں بھولتے تھے ۔
زرتاج سر جھکائے بیٹھی سوچوں میں گم تھی ۔ڈیپ ریڈ کلر کے انتہائی قیمتی اور نفیس شرارے میں جو میر سجاول نے خود پسند کیا تھا ۔بیش قیمت جیولری سے لدی پھندی زرتاج ہوش اڑائے دے رہی تھی ۔
اس پر بیوٹیشن کے میجیکل برش نے اسے پریوں سا روپ دے دیا تھا ۔
اس کی چند قریبی بے تکلف دوستیں جھجکتے ہوئے اسٹیج پر آ گئیں ۔
زرتاج ! شادی بہت بہت مبارک ہو ۔اس کی سب سے پیاری دوست نازی نے خوشدلی سے مبارک باد دی ۔زرتاج نے مسکرا کر اس کا ہاتھ تھاما ۔
تم تو بہت خوش قسمت نکلیں ۔۔۔۔۔۔۔۔گاؤں کا سب سے سوہنا شہزادہ تمھیں مل گیا ۔جس کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔وہ بے تکلفی سے گویا تھی ۔زرتاج نے پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا اور پھر سے نظریں جھکا لیں ۔
ارے چھوڑو یار ۔۔۔۔۔ جو کچھ اس کے ساتھ ہوا ہے ، اس سے ذیادہ بد قسمت کون ہوگا ۔ ایسے انسان سے شادی کرنے سے بہتر ہے ہم سب کنواری ہی بیٹھی رہیں ۔
شکر کرو میر سائیں کی نظر ہم میں سے کسی پر نہیں پڑی ورنہ ہمارا منہ بھی شادی کے دن زرتاج کی طرح اترا ہوا ہوتا ۔ایک لڑکی جو حسد میں نیندیں اڑائے بیٹھی تھی جل کر بولی ۔
چپ کرو ، یہ وقت ایسی بے ہودہ باتوں کا نہیں ہے ۔نازی نے اسے جھڑک دیا ۔زرتاج کا چہرہ بے عزتی سے دھواں دھواں ہو رہا تھا ۔
تبھی بارات آنے کا شور اٹھ گیا۔ساری لڑکیاں اٹھ کرانٹرینس کی طرف بھاگیں ۔
آف وائٹ شلوار سوٹ میں ملبوس، ہاتھ خوبصورت گھڑی سے سجا ہوا،بازو پر امام ضامن جو فائزہ بیگم نے باندھتے ہوئے کئی دعائیں پڑھ کر پھونکی تھیں ۔سر پر دستار بندھی تھی ۔ میر سجاول شاندار دولہا کے روپ میں غضب ڈھا رہا تھا ۔
بھر پور آتش بازی کرنے کے بعد سب لوگ اندر آچکے تھے ۔لیڈیز اینڈ جینٹس کے پورشن علیحدہ ہونے کی وجہ سے میر سجاول سب کے ساتھ جینٹس کے پورشن میں چلا گیا تھا ۔
رانیہ اسٹیج پر پہنچ کر زرتاج کے سر پر نکاح کے لئے سرخ شیفون کا دوپٹہ سیٹ کرنے لگی ۔ اتنے میں میر جعفر سمیت کافی سارے مرد حضرات قاضی صاحب کو لے کر اسٹیج پر آگئے ۔
قاضی صاحب نکاح کےلئے زرتاج کے ساتھ والےصوفے پربیٹھ گئے۔
زرتاج بنتِ دین محمد آپ کو سکہ رائج الوقت پچاس لاکھ روپے حق مہر میر سجاول علی ولد میر جعفر علی کے نکاح میں دیا جاتا ہے ۔
کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟ قاضی صاحب نے ٹہر ٹہر کر بولتے ہوئے مائیک منہ کے نذدیک کیا ۔ماحول پر سکوت طاری ہوگیا تھا ۔
زرتاج پر قاضی صاحب کے الفاظ سن کر سکتہ طاری ہو گیا ۔اس کی خاموشی طوالت اختیار کر گئی ۔
طویل خاموشی پر میر سجاول کے دل کی دھڑکنیں تیز ہونے لگیں ۔اس نے بے چینی سے پہلو بدلا ۔ اس کے کھلتے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو چکی تھی ۔اس کی جگہ اضطراب نے لے لی تھی ۔
قاضی صاحب نے ایک بار پھر دہرا یا ۔زرتاج بت بنی رہی ۔اس کی آنکھوں میں وحشت ذدہ رات کا منظر گھومنے لگا ۔ اس کا بدن کپکپا رہا تھا ۔میر سجاول کی درندگی اپنی تمام تر جزائیت سمیت یاد آنے لگی ۔
قاضی صاحب نے تعجب سے میر جعفر کی طرف دیکھا ۔ میر جعفر بھی زرتاج کا اقرار سننے کے منتظر تھے پریشانی سے دین محمد کو دیکھنے لگے جو زرتاج کے ساتھ لگا بیٹھا تھا ۔
دین محمد نے زرتاج کا یخ بستہ ہاتھ دھیرے سے دبایا مگر زرتاج کے جسم میں کوئی جنبش نہیں ہوئی ۔
قاضی صاحب نے آخری بار ایجاب و قبول کا سلسلہ جاری کیا مگر زرتاج کی چپ نہیں ٹوٹی ۔حاضرین میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی تھی ۔
وقت ساکت ہوگیا تھا ، میر سجاول کے اندر ایک طوفان برپا ہونے لگا ۔زرتاج کے اقرار کا منتظر اس کا پورا جسم سماعت بن گیا تھا ۔
جاری ہے