59.5K
43

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26

رک جائیں ۔۔۔۔۔فائزہ چاچی ۔۔۔۔ایک منٹ رک جائیں ۔پلیز!میرسبطین بلند آواز میں دھاڑا ۔
زرتاج سے شادی میں کروں گا ۔میر سبطین مستحکم لہجے میں بولا ۔
فائزہ بیگم کے ہاتھ جہاں کے تہاں رہ گئے ۔
فائزہ بیگم اور زرتاج کے والدین کھلے منہ سے میر سبطین کو دیکھ رہے تھے ۔میر غضنفر دو قدم چل کر سبطین کے نذدیک پہنچے اور اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ دیا ۔یہ فائزہ بیگم کو جتانے کا واضح اشارہ تھا کہ انہیں میر سبطین کے فیصلے سے کوئی اختلاف نہیں ہے ۔
میرے خاندان کے فرد نے اس معصوم کی ذندگی برباد کی ہے ،وہ ایک بے ہوش انسان ہے ،جس نے نہایت سفاکی اور بے رحمی سے کسی گناہ گار کے گناہ کا بدلہ ایک بے کس اور مجبور سے لیا ہے مگر مجھ میں اتنی انسانیت باقی ہے کہ میں کسی معصوم کو ذندہ درگور ہونے سے بچا سکوں ۔اس نے فائزہ بیگم کے فق چہرے پر نظریں گاڑتے ہوئے کہا ۔
میر سبطین بلکل صحیح کہہ رہا ہے ،مجھے اس کے فیصلے پر فخر ہے ۔میر غضنفر نے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے اسکا کاندھا تھپکا ۔
میر سبطین ! بچوں جیسی باتیں مت کرو ، جذبات میں آکر کوئی غلط قدم مت اٹھا لینا ۔میں تمھاری ماں کی جگہ ہوں ۔تمھیں اپنی زندگی خراب نہیں کرنے دوں گی ۔
ان جیسوں کا تو یہ پیشہ ہے ، خود ہی اپنی بیٹیوں کے ذریعے دولتمند لڑکوں کو ورغلاتے ہیں اور جب یہ لوگ اپنی سازش میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو زبردستی انہیں ہمارے سر تھوپ دیتے ہیں ۔فائزہ بیگم شاک سے باہر نکلتے ہی حکارت سے دونوں میاں بیوی کی طرف دیکھتے ہوئے بولیں۔
فائزہ ! اپنی حد میں رہو ، تمھیں کوئی حق نہیں ہے کسی کے کردار پر انگلی اٹھانے کا بیٹے کی محبت میں تم اندھی ہوچکی ہو ۔تم نےصحیح غلط کا فرق بھی مٹا دیا ہے ۔میر غظنفر نے انہیں بری طرح جھڑکا ۔
فائزہ چاچی ! میں آپ کی طرح بے حس نہیں ہوں کہ آنکھوں دیکھا جھٹلا دوں ۔آپ صرف اپنے بیٹے کے کرتو توں پر پردہ ڈالنے کے لئے ان شریفوں کی عزت پر کیچڑ اچھال رہی ہیں ۔
اس لڑکی کی حالت ، میر سجاول کی درندگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔میر سبطین کی آواز باوجود ضبط کے بھی بلند ہوگئی تھی ۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔تمھیں اس غلاظت کے ڈھیر کو اپنا نا ہے تو شوق سے اپناؤ مگر ان بدزاتوں سے کہہ دو ۔۔۔۔۔۔میرے بیٹے کو بدنام نہ کریں۔۔۔۔۔۔۔دوبارہ میر سائیں کا نام اپنی گندی زبان پرنہ لائیں ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔ فائزہ بیگم نے اپنی سبکی ہوتے دیکھی تو تململا کر پھنکاریں۔
ان کے لئے تو یہی بہت تھا کہ زرتاج نام کی بلا خود بخود ہی ان کے بیٹے کے سر سے ٹل گئی تھی ورنہ آنے والا وقت ان کی شان و عظمت پر گھڑوں پانی ڈال دیتا ،جب وہ زرتاج کو اپنے ہاتھوں سے بیاہ کر اس حویلی میں لے کر آتیں ۔انہوں نے من ہی من خوش ہوتے ہوئے ان سب کی تذلیل کرنا پھر بھی ضروری سمجھا تھا ۔
جو نام خود اپنی قسمت میں بدنامی و رسوائی لکھوا چکے ہوں ذلت بھی خود ہی ان تک پہنچنے کا راستہ بنا لیتی ہے ۔میر سبطین بر جستہ بولا ۔
بابا ! آپ زرتاج کو لے کر میرے ساتھ آئیں ، انہیں ہاسپٹلائز کروانے کی ضرورت ہے ۔اس نے زرتاج کے بے ہوش وجود پر ایک نظر ڈالی اور گاڑی کی طرف بڑھ گیا ۔
ہونہہ۔۔۔۔فائزہ بیگم نخوت سے سر جھٹک کر واپس پلٹ گئیں ۔

اس کا موبائل پچھلے کئی گھنٹوں سے مسلسل بج رہا تھا مگر ہر بار وہ اسکرین پر جگمگاتا نام دیکھ کر اذیت سے اگنور کر رہی تھی ۔مکتوم شاہ کی کالز کا سلسلہ رات سے جاری تھا ۔رانیہ نے کروٹ بدل کر کرب سے آنکھیں میچ لیں ۔ معظم شاہ نے اسے کڈنیپ کر کے اپنی ہی نظروں میں گرادیا تھا ۔اس کا اپنے گھروالوں سے بھی نظر ملانا دشوار ہوگیا تھا کجا کہ وہ مکتوم شاہ کا سامنا کیسے کرتی جو اس کے گناہ گار کا سگا بھائی ہے ۔وہ سب سے کٹ گئی تھی ۔اسے اپنا وجود بے معنی لگ رہا تھا ۔رو رو کر اس کی آنکھیں سوج گئیں تھیں ۔ میر غضنفر ، میر سبطین اور میر حنین غرض کہ سب نے ہی اسے بہت سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ اس سب میں اس کا کوئی قصور نہیں ہے ،وہ سازش کا نشانہ بنی ہے مگر رانیہ کے اندر کوئی مثبت سوچ پیدا نہیں ہو سکی تھی حتی کہ وہ نگین سے بھی کھنچ گئی تھی ۔ معاً اس نے موبائل ہاتھ میں لیا تواس کی نظر واٹس ایپ میسج کے نوٹیفکیشن پر پڑی جہاں مکتوم شاہ کے ڈھیروں مسجز میں سے ایک میسج یہ بھی تھا کہ “رانیہ تمھیں مجھ پر ٹرسٹ کرنا ہوگا ،میرے بھائی نے تمھارے وقار کو ٹھیس پہنچائی ہے مگر پوری دنیا کہ سامنے میں اس کا مداوا کروں گا “۔ رانیہ نے اپنے آنسو پونچھ کر جیسے مکتوم شاہ کی اس بات پر خود کو قدرے پر سکون محسوس کیا مگر ان دونوں کے رشتے کو اس واقع کی تپش بری طرح جھلسا گئی تھی ۔ چاہ کر بھی وہ خود کو مکتوم شاہ سے بات کرنے کے لئے راضی نہیں کر پائی تھی ۔ اس نے آہستگی سے موبائل واپس رکھ دیا ۔

ہلکے سے شورکی آواز پر شاہ کی آنکھ کھلی ۔اس نے کروٹ بدل کر دیکھا عروش بیڈ پر موجود نہیں تھی ،وہ فوراً اٹھ کر بیٹھ گیا تبھی عروش ٹاول سےمنہ پونچھتے ہوئے حال سے بے حال واش روم سے برآمد ہوئی ۔
اس کی رنگت زرد پڑ رہی تھی ۔متلی اور الٹیوں نے اس کا جینا محال کر دیا تھا ۔اس وجہ سے عروش کا کچھ بھی کھانے پینے کا دل نہیں کرتا تھا جس کی بدولت وہ دن بہ دن کمزور ہوتی جارہی تھی اور اس وقت تو اس پر شدید نقاہت طاری تھی ۔شاہ بیڈ سے اتر کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا اس تک پہنچا ۔
عروش ! تم ٹھیک ہو ناں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر کو بلواؤں ؟ وہ عروش کی عرق آلود پیشانی سے بال سمیٹتے ہوئے بے قراری سے بولا ۔
عروش نے گردن نفی میں دائیں بائیں ہلا کر منع کیا ۔شاہ اسے کاندھوں سے تھام کر بیڈ تک لے آیا پھر احتیاط سے لٹا کر اس کے پاس ہی بیٹھ گیا ۔اسے عروش کی حالت پر بے چینی ہورہی تھی ۔عروش کا مرجھایا ہوا چہرہ دیکھ کر اپنے پچھلے روئیوں پر افسوس ہوا ۔
ذیادہ طبیعت خراب ہو رہی ہے تو میں ڈاکٹر کو بلوا لیتا ہوں یاتمھیں شہر لے چلتا ہوں ۔وہ عروش کے زردچہرے پر اپنی بےقرار نگاہیں جماتے ہوئے بولا۔
نہیں ، میں اب ٹھیک ہوں ۔آپ پریشان مت ہوں ،یہ تو روز کا معمول ہے ۔آج آپ جلدی گھر آگئے ہیں اس لئے آپ کو محسوس ہورہا ہے ۔عروش نے شاہ کی بے توجہی دبے لفظوں میں جتا دی۔
شاہ بنا کچھ کہے وہاں سے اٹھ گیا اور دروازہ کھول کر باہر نکل گیا ۔
یا اللہ ! یہ میری زبان کو کیا ہوگیا ہے ،ایکدم ہی پھسل جاتی ہے ۔اب پتا نہیں یہ شخص میرے ساتھ کیا کرے گا ۔۔۔۔۔اللہ میاں !پلیز ! مجھے بچالیں ۔عروش کو وسوسوں نے گھیر لیا تھا ۔تبھی شاہ ہاتھ میں چھوٹی سی ٹرے تھامے کمرے میں داخل ہوا ۔
تم اٹھ کیوں گئیں ، لیٹی رہتیں ۔میں تمھارے لئے جوس لینے گیا تھا ۔
یہ پی لو ،اس سے تمھاری طبیعت کچھ سنبھل جائے گی ۔وہ جوس کا گلاس عروش کے لبوں سے لگاتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔
شاہ کے اس انوکھے روپ اور اتنی لگاوٹ پر عروش کی آنکھیں پھیل گئیں ۔اس نے چند گھونٹ بھر کر گلاس ہٹا دیا ۔
بس ۔۔۔۔۔۔مجھ سے نہیں پیا جارہا ۔پلیز ! اب اور نہیں ، میں بعد میں پی لوں گی ۔
ہر گز نہیں ،پورا گلاس ختم کرو ۔شاہ نے آنکھیں دکھائیں ۔
عروش نے بے دلی سے جوس پی کر گلاس اسے تھمایا مگر تھوڑی دیر پہلے والی نقاہت اور گھبراہٹ کا شائبہ بھی اس کے چہرے پر نہیں تھا شاید یہ شاہ کے بدلے ہوئے لہجے کا کمال تھا کیونکہ عروش کو ایسی حالت میں شاہ کی توجہ اور محبت کی اشد ضرورت تھی جسے پاتے ہی وہ پر سکون ہوگئی تھی ۔
ایسے کیا دیکھ رہی ہو ؟ شاہ نے اسے ٹکٹکی باندھے دیکھ کر ٹوکا ۔عروش نے جلدی سے نظروں کا زاویہ بدل دیا ۔
عروش ! مجھے بیٹی چاہئے ؟ میری کوئی بہن نہیں تھی اور اس کمی کو میں نے بہت شدت سے محسوس کیا ہے ۔شاہ اس کا سر سہلا رہا تھا ۔
لیکن مجھے بیٹیاں پسند نہیں ہیں ؟ وہ برجستہ بولی ۔
کیوں ۔۔۔؟ شاہ نے چونک کر اس کی طرف دیکھا ۔
بیٹیاں بہت تنگ کرتی ہیں ، ان کے نخرے بھی بہت ہوتے ہیں ۔عروش سوچتے ہوئے بولی ۔شاہ کا قہقہہ بے ساختہ تھا ۔
میں اپنی بیٹی کے نخرے خود اٹھا لوں گا ۔اس کی پوری زمیداری مجھ پر ہوگی ۔شاہ نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے برجستہ کہا ۔
آپ سے بیوی کے نخرے تو اٹھائے نہیں جاتے ،بیٹی کے نخرے کیسے اٹھائیں گے ۔۔۔۔؟
تم تو بہت ناشکری ہو ،ابھی تھوڑی دیر پہلے جو میں خود کچن میں جا کر تمھارے لئے جوس لے کر آیا ۔۔۔۔۔وہ کیا تھا ؟
وہ تو آپ کا فرض تھا اور یہ سب آپ نے میرے لئے نہیں اپنی بیٹی کے لئے کیا ہے کیونکہ آپ کو ابھی سے اس کی فکر ہورہی ہے ۔عروش نے صاف گوئی سے کہتے ہوئے حساب بے باق کیا ۔
سنو ! اگر مجھے تمھاری پرواہ نہیں ہوتی نا تو مجھے اس بچے کی بھی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کیونکہ میرے لئے تم سب سے ذیادہ اہم ہو ۔تمھاری وجہ سے اسے بھی اہمیت دے رہا ہوں ۔شاہ یکدم اس کا ہاتھ سختی سے دبا کر سرد لہجے میں بولا ۔
عروش نے اس کے بدلتے تیور بھانپ لئے تھے اسی لئے چپ رہنے میں عافیت جانی ۔
شاہ نے حسبِ عادت چند لمحے اسے کڑے تیوروں سے گھورنے کے بعد اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کیا اور خود سے بے حد نذدیک کر لیا۔
عروش آنکھیں میچے ہولے سے بڑبڑائی تھی ۔
“مغرور شاہ “
کیا کہا ۔۔۔؟ پھر سے بولو ۔شاہ نے سن لیا تھا مگر پھر سے سننا چاہتا تھا ۔عروش نے خوفذدہ ہوکر سانس کھینچ لی ۔
بولو ناں ۔۔۔شاہ نے اسے ہلکا سا جھٹکا دیا۔
مغرور شاہ ۔۔۔۔وہ منمنائی ۔
مغرور شاہ ۔۔۔۔۔۔شاہ نے زیرِ لب دہرایا ۔ہونٹوں پر مدھم سی دلکش مسکراہٹ دوڑ گئی ۔
اب تم میری نرمی کا اس طرح ناجائز فائدہ اٹھاؤ گی ۔میرے ایسے نام رکھوگی ۔شاہ نے اس کے بال مٹھی میں بھر کر دھیرے سے کھینچے ۔
ہوں ۔۔۔وہ ہنکارہ بھر کر بے ساختہ کھلکھلائی ۔
میرے سامنے گستاخی کرنے والوں کو میں بہت سخت سزا دیتا ہوں ۔وہ کہتے ہوئے عروش کے چہرے پر جھک گیا ۔
~~~
میر سجاول آدھی رات گزر جانے کے بعد بکھرا ہوا سا گھر پہنچا تھا ۔آنکھوں میں پھیلتی سرخی صرف رتجگے کی ہی نھیں تھی بلکہ ان میں ملال کی بھی آمیزش تھی ۔
اپنی برسوں پرانی محبت کے لٹ جانے کا ملال ، اپنے محبوب کو ساری دنیا کے سامنے دانستہ رسوا کرنے کا ملال اور نا جانے کیا کچھ تھا اس کی دلکش سرخ ڈوروں سے سجی آنکھوں میں جس نے اس کی روشن آنکھوں سے پھوٹتی روشنی کو مدھم کر دیا تھا ۔
پوری رات اس نے سڑکوں پر بے مقصد گاڑی دوڑائی تھی ۔زرتاج کا چہرہ ایک پل کے لئے بھی اس کے تصور سے محو نہیں ہورہا تھا ۔
کافی دیر تک وہ حویلی سے کچھ فاصلے پر گاڑی روکے ڈرائیونگ سیٹ کی پشت سے سر ٹکائے بیٹھا رہا تھا ۔۔۔۔۔ سوچ سوچ کر اس کی ذہنی حالت ابتر ہو رہی تھی ۔
آنکھوں میں بار بار نمی اتر رہی تھی مگر اس کی ضد اور انا نے ایک بار بھی پچھتاوے کو اس کے دل میں گھر نہیں کرنے دیا تھا ۔اس نے گھنٹوں وہاں بیٹھ کر اسموکنگ کرنے کے بعد بے دلی سے گاڑی اسٹارٹ کی اور گاڑی کا رخ حویلی کی جانب موڑدیا ۔
میر نے حویلی کے ڈرائیو وے پرپہنچ کر گاڑی پارک کرنے کی بھی زحمت نہیں کی تھی، دروازہ کھول کر باہر نکل آیا ۔ ملازم نے دوڑ کر ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی ۔
میر سجاول ! اب تک تم کہاں تھے ۔۔۔۔اتنی رات کو تمھارا گھر سے باہر رہنا مجھے بلکل پسند نہیں ہے ۔جانتے بھی ہو ہر وقت ہمارے دشمن گھات لگائے بیٹھے ہوتے ہیں پھر بھی تم زرا سی احتیاط نہیں کرتے ۔میر جعفر نے اس کے لاؤنج میں قدم رکھتے ہی سرزنش کی ۔
ادھر آؤ ۔۔۔۔۔میرے پاس بیٹھو ، مجھے تم سے بات کرنی ہے ۔میر جعفر علی لاؤنج میں ہی بیٹھے ہوئے تھے ۔
وہ سست قدموں سے چلتا ہوا میر جعفر کے عین سامنے والے صوفے پر سر جھکا کر بیٹھ گیا ۔
گاؤں میں جو خبر پھیلی ہوئی ہے ،کیا وہ سچ ہے ۔۔۔۔؟ میر جعفر نے بغیر کوئی تہمید باندھے استفسار کیا ۔
میر سجاول نے نظر اٹھا کر انہیں دیکھا مگر منہ سے ایک لفظ نہیں نکالا۔
میر سائیں ! میں تم سے پوچھ رہا ہوں ،جواب دو۔اس لڑکی کو اغوا تم نے کیا تھا ۔۔۔؟
جی ! اس نے مختصراً کہا ۔
کیوں ۔۔۔؟میر جعفر غصہ دبائے بمشکل بولے ۔
یہ آپ کہہ رہے ہیں۔۔۔؟اتنے انجان کیوں بن رہے ہیں ۔آپ اچھی طرح جانتے ہیں ، میں نے ایسا کیوں کیا ۔وہ نظروں کا رخ پھیرے قدرے ناراضگی سے گنبھیر آواز میں گویا ہوا ۔
ہاں جانتا ہوں ۔۔۔۔اس نے رانیہ کو اغوا کیا تھا مگر اس بات کا بدلہ ہم کسی اور طریقے سے بھی لے سکتے تھے لیکن تم نے جذباتیت اور جلد بازی میں خود کو سارے زمانے میں بدنام کروالیا ہے ۔میر جعفر سخت خفا ہورہے تھے ۔
خون کا بدلہ خون اور عزت کا بدلہ عزت ، اس نے ہماری عزت پر ہاتھ ڈالا تھا ،میں نے اس کی عزت کو تار تار کر دیا ۔حساب برابر ہوگیا
وہ سر پھرے لہجے میں بولا ۔یہ بات کہتے ہوئے اس کے اپنے دل کے کتنے ٹکڑے ہوئے تھے وہ اذیت اس کی آنکھوں میں نمایاں تھی ۔
ٹھیک ہے ، جو تمھیں بہتر لگا وہ تم نے کیا مگر اب جانتے ہو میر سبطین کیا کرنے والا ہے ۔۔۔۔۔؟ میر جعفر نے ناگواری سے کہتے ہوئے بیٹے
کو آگاہ کرنا چاہا ۔
اب وہ کیا کرنے والا ہے ۔۔۔؟ میر نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں سر میں چلاتے ہوئے بے زاری سے سوال کے بدلے سوال کیا ۔
تم نے جس لڑکی کے زریعے معظم شاہ سے بدلہ لیا ہے ، میر سبطین نے اسے اپنا کر عزت دینے کا بیڑہ اٹھایا ہے ۔۔۔۔۔وہ شہر سے آیا تو اس لڑکی کے ماں باپ حویلی میں تماشالگائے کھڑے تھے۔میر جعفر تنفر سے بولے۔
میرجعفر کے انکشاف پر میر سجاول کے چہرے کا رنگ اڑ گیا ۔دیواریں اس کے سر پر آرہی تھیں ۔اس نے اتنی سختی سے نچلا لب دانتوں تلے دبایا کہ خون چھلک پڑا ۔
یہ ناممکن ہے ۔۔۔۔۔میں ایسا نہیں ہونے دوں گا ۔میر سبطین ہوتا کون ہے اسے اپنانے والا ۔کم از کم میری ذندگی میں تو ایسا نہیں ہوسکتا ۔وہ ایک جھٹکے سے کھڑا ہو گیا ۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا خود کو گولی مارلے یا پورے سن پورہ کو آگ لگادے ۔
میر سجاول ! ہوش سے کام لو ۔اب تمھیں اس چکر میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے ۔پہلے ہی سب کچھ تہس نہس کر چکے ہو ۔۔۔۔۔معظم شاہ الگ تمھارے خون کا پیاسا ہو رہا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔کرنے دو میر سبطین کو جو کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمارا اس کے فیصلے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔وہ جلد بازی میں اسے آگاہ تو کر گئے مگر اس کے تیور دیکھ کر فوراً ہی اسے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی ۔
میر سجاول!تم میری جان ہو ۔۔۔تمھیں کچھ ہو گیا تو میں پاگل ہوجاؤں گا ۔۔۔۔۔ تم سوچ بھی نہیں سکتے تمھاری ذندگی ہی میری سانسوں کی ضمانت ہے ۔
یار ! تم میری اکلوتی اولاد ہو ۔۔۔۔مقصدِ حیات ہو ۔جو ہونا تھا ،ہوچکا
مٹی ڈالو سب پر ۔۔۔۔۔سب کچھ بھول جاؤ ۔جوانی میں اتنا جوش تو آ ہی جاتا ہے ،خیر ۔۔۔۔۔۔میں تمھاری انگلینڈ کی ٹکٹس کنفرم کروا رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔تم تیاری کرلو ۔
فی الحال تم کچھ دنوں کے لئے ملک سے باہر چلے جاؤ ، باقی سب میں سنبھال لوں گا ۔میر جعفر اس کی کیفیات سے بے خبر اسے مفید مشورہ دے رہے تھے ۔
میر سجاول نے ایک زخمی نظر ان پر ڈالی اور ان کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے تیزی سے سیڑھیوں کی جانب بڑھ گیا ۔
وہ آندھی طوفان کی طرح سیڑھیاں پھلانگتا ہوا میر سبطین کے کمرے کا دروازہ دھڑ دھڑا رہا تھا ۔
میر سبطین بری طرح دروازہ پیٹنے کی آواز پر ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا ۔پلکیں جھپک جھپک کر اس نے صورتِ حال سمجھ نے کی کوشش کی پھر تیزی سے بیڈ سے اتر کر دروازے کی طرف بڑھا اور لاک گھما کر دروازہ کھول دیا ۔
سامنے میر سجاول جارحانہ تیور لئے خون آشام نظروں سے میر سبطین کو گھور رہا تھا ۔
جاری ہے